رمضان المبارک نیکیوں کا موسم بہار

تحریر : ڈاکٹر فرحت ہاشمی


یہ گنتی کے چند دن ہیں زیادہ وقت عبادات اور باعث اجر کاموں پر لگائیں

شعبان کا چاند طلوع ہوتے ہی رمضان کی خوشبو آنے لگتی ہے۔ دل میں خوشی کے جذبات امڈنے لگتے ہیں اور ایساکیوں نہ ہو ایک معزز مہمان کی آمد آمد ہے، جوسب کیلئے رحمتوں، برکتوں اور سعادتوں کے خزانے لیے آ رہا ہے۔ کتنے ہی لوگ ہیں جو ہمارے ساتھ گزشتہ رمضان میں عبادت کر رہے تھے مگر! آج وہ دنیا میں موجود نہیں،آج وہ مساجد میں نہیں، قبرستانوں میں ہیں۔کتنے ہی لوگ ہیں جو جسمانی یا ذہنی بیماری، بڑھاپے یا کسی اور عذر کی وجہ سے روزہ رکھنے سے عاجز ہیں۔

پس وہ خوش نصیب جنہیں اس رمضان سے استفادہ کا موقع مل رہا ہے۔ انہیں چاہیے کہ پوری محبت سے رمضان کو خوش آمدید کہیں، نیکی کے تمام مواقع سے خوب فائدہ اٹھانے کیلئے پورے جوش و خروش سے تیاری شروع کر دیں اور رمضان کی آمد کے ساتھ ہی نیکیوں میں آگے بڑھنے کی پکار پر دل و جان سے لبیک کہیں۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ’’اور ایک پکارنے والا پکار کر کہتا ہے، اے نیکیوں کے طالب! آگے بڑھ اور اے برائیوں کے طالب! باز آجا‘‘ (سنن الترمذی:  682)۔ یاد رکھیں! کہ یہ گنتی کے چند دن ہیں لہٰذا زیادہ وقت عبادات اور باعثِ اجر کاموں پر لگائیں، مباح اور ذاتی ضروریات کی تگ و دو پرکم وقت لگائیں اور غیر ضروری مصروفیات ترک کر دیں۔

رمضان اسلامی سال کا نواں مہینہ ہے، اسے رمضان المبارک کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ مسلمانوں پر اللہ تعالیٰ نے اس مہینے کے روزے فرض کیے ہیں۔ یہ نزول قرآن کا بھی مہینہ ہے اور قرآن سے بہت زیادہ لگاؤ کے سبب اسے قرآن کا مہینہ بھی کہا جاتا ہے۔ اسی مہینہ میں ایک ایسی رات ہے جس کی عبادت ہزار مہینوں کی عبادت سے افضل ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’تم میں سے جو شخص بھی اس مہینے کو پائے وہ اس کے روزے رکھے‘‘ (سورۃ البقرہ: 185)۔

 حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’جب رمضان کا مہینہ آتا ہے تو آسمان کے دروازے کھول دیئے جا تے ہیں، (دوسری روایت میں ہے) جنت کے دروازے کھو ل دیئے جاتے ہے)، جہنم کے دروازے بند کر دیئے جا تے ہیں‘‘ (صحیح بخاری 1800، صحیح مسلم 1069)

ا ستقبال رمضان دُعاؤں کیساتھ 

رمضان کا چاند دیکھنے کا اہتمام کریں کیونکہ آمد رمضان کا فیصلہ چاند دیکھنے پر ہوتا ہے نبی اکرمﷺ نے فرمایا: ’’جب تم  (رمضان کا)چاند دیکھو توروزہ رکھو اور جب (شوّال کا) چاند دیکھو تو افطار کرو اور اگر مطلع ابر آلود ہو تو تیس روزے پورے کر لو (صحیح مسلم: 2514)۔  رمضان کا استقبال خوشی اور دعا کے ساتھ کریں اور چاند دیکھ کر یہ دُعا کریں ’’یا اللہ! ہم پر یہ چاند امن، ایمان، سلامتی اور اسلام کے ساتھ طلوع فرما، (اے چاند!) میرا اور تیرا رب اللہ ہے (جامع ترمذی: 3451)

رحمت و برکت کا مہینہ 

رمضان وہ مبارک مہینہ ہے جس میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر خصوصی رحمتیں اور برکتیں نازل فرماتا ہے۔ شیاطین کو قید کر کے اپنے بندوں کو نیکی کے کاموں کی رغبت دلاتا ہے تاکہ بھلائی کے کام کرنا ان کیلئے آسان ہو جائیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جب رمضان کا مہینہ آتا ہے تو رحمت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں‘‘(صحیح مسلم: 2496)۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جب رمضان کی پہلی رات آتی ہے تو شیطانوں اور سرکش جنوں کو جکڑ دیا جاتا ہے ۔ جہنم کے دروازے بند کردیے جاتے ہیں، ان میں سے ایک دروازہ بھی کھلا نہیں ہوتا اور جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، ان میں سے ایک دروازہ بھی بند نہیں ہوتا‘‘ ( ابن ماجہ: 1642)۔

ایک اور روایت میں آ تا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تمہارے پاس رمضان آیا ہے۔ یہ برکتوں والا مہینہ ہے۔اللہ تعالیٰ نے اس کے روزے تم پر فرض کیے ہیں۔ اس میں جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور شیاطین جکڑ دیے جاتے ہیں۔ اس میں ایک رات ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے ۔جو اس کی بھلائی سے محروم رہا توتحقیق وہ محروم ہی رہا‘‘(مسند احمد:71481)

روزوں کا مہینہ

 روزہ اس ماہ کی خصوصی عبادت ہے،ارشاد باری تعالیٰ ہے ’’اے لوگو! جو ایمان لائے ہو! تم پر روزے اس طرح فرض کیے گئے جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے تاکہ تم متقی بن جاؤ‘‘(البقرہ:183)۔ دوسری جگہ فرمایا ’’پس تم میں سے جو اس مہینے کو پائے تو چاہیے کہ وہ اس کے روزے رکھے‘‘(البقرہ : 185)۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے، گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، نماز قائم کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا، بیت اللہ کاحج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا‘‘ (صحیح مسلم:113)۔ 

روزہ فرض عبادت ہونے کے ساتھ ساتھ بے شمار فائدوں کا حامل اور اجر و ثواب کمانے کا ذریعہ بھی ہے۔جیسا کہ درج ذیل احادیث سے پتہ چلتا ہے۔ روز ہ جنت میں داخلے کا ذریعہ ہے۔ ابو اُمامہؓ نے رسول اللہ ﷺ سے ایسے عمل کی بابت سوال کیا جو انہیں جنت میں داخل کرے تو آپﷺنے فرمایا ’’تم روزہ کو لازم پکڑ لوکہ اس کی مانند کوئی چیز نہیں‘‘ ( النسائی:  2222)۔

 جنت میں خصوصی دروازہ 

نبی اکرم ﷺ نے فرمایا ’’جنت میں ایک دروازہ ہے جسے ریّان کہا جاتا ہے۔ قیامت کے دن پکارا جائے گا روزے رکھنے والے کہاں ہیں؟ چنانچہ جو شخص روزہ رکھنے والوں میں سے ہو گا وہ اس میں داخل ہو جائے گا اور جو اس میں داخل ہو گیا اسے کبھی پیاس نہیں لگے گی‘‘(ابن ماجہ : 1640)۔ 

 آگ سے بچاؤ 

 نبی اکرم ﷺ نے فرمایا ’’جو شخص اللہ کے راستے میں ایک دن کا روزہ رکھے گا، اللہ تعالیٰ اس کے بدلے اس کے چہرے کو آگ سے ستر سال کی مسافت پر رکھے گا(صحیح مسلم: 2711)۔

منہ کی بِساند

نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ’’قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمدﷺکی جان ہے، روزہ دار کے منہ کی بساند اللہ تعالیٰ کو مشک کی خوشبو سے زیادہ پسندیدہ ہے‘‘(صحیح بخاری : 1894)۔ 

روزے کی جزا

 رسول اللہﷺ نے فرمایا:اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ’’ابن آدم کے تمام اعمال اس کیلئے ہیں سوائے روزہ کے، بے شک وہ میرے لیے ہے اور میں خود اس کا بدلہ دوں گا(صحیح بخاری: 1904 )۔ یہ ایک بہت بڑے شرف کی بات ہے کہ جہاں باقی عبادات کا اجر دس سے سات سو گنا بتا یا وہاں روزے کا اجر مخفی رکھا گیا ہے کیونکہ درحقیقت یہ خود ایک مخفی عبادت ہے ۔

روزہ ڈھال ہے 

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’روزہ آگ سے ڈھال ہے جس طرح لڑائی میں تم میں سے کسی کی ڈھال ہوتی ہے‘‘( ابن ماجہ: 1639)۔ یعنی روزے کی وجہ سے انسان بہت سے ان گناہوں سے بچ جاتا ہے جن کے ارتکاب کی صورت میں وہ جہنم میں جا سکتا تھا۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

ماہ صیام اور حضور اکرم ﷺ کے معمولات

’’تم رمضان کا استقبال کر رہے ہو، جس کی پہلی رات تمام اہل قبلہ کو معاف کردیا جاتا ہے‘‘ (الترغیب والترہیب) ’’اے اللہ! ہمارے لئے رجب اور شعبان بابرکت بنا دے اور ہمیں رمضان نصیب فرما‘‘(المعجم الاوسط) ’’جس نے ایمان و احتساب کی نیت سے رمضان کے روزے رکھے اور راتوں کو قیام کیا وہ گناہوں سے اس دن کی طرح پاک ہو جاتا ہے، جس دن وہ پیدا ہوا تھا‘‘ (النسائی)

حیا:ایمان کی روح، کردار کی بنیاد

انسانی سیرت کی وہ خوبی اور خصلت جو اسے ایسی باتوں سے محفوظ رکھے جو اللہ کی ناراضی کا سبب بننے والی ہو اور ان کاموں پر آمادہ کرے جو رب کی رضا کے باعث ہوں اسے حیا کہتے ہیں۔

رمضان کی تیاری

نیت، عمل اور اخلاق، رمضان کا مکمل سبق

مسائل اور ان کا حل

قضا ء نمازکس وقت ادا کی جائے ؟ سوال: جو نماز قضاء ہوجائے وہ کس وقت ادا کی جاسکتی ہے۔ کیا مستقبل میں اسی نماز کے وقت میں اداکرنا لازمی ہے؟ (نصیر عالم، فیصل آباد )

نئی سولر پالیسی نے بجلی گرا دی !

پاکستان میں سولر سسٹم کے نظام میں تبدیلی کا فیصلہ ایوانِ سیاست میں بحث کا موضوع بن چکا ہے کیونکہ پاور ڈویژن اور نیپرا کی جانب سے جاری کئے گئے نئے ریگولیشنز نے سولر صارفین پربجلی گرا دی ہے۔

پی ٹی آئی کا احتجاج کیوں کارگر نہیں؟

حکومت نے تمام تر تحفظات کے باوجود لاہور میں بسنت کی تقریبات منعقد کر کے صوبائی دارالحکومت کو پنجاب کے ثقافتی رنگوں سے رونق بخشی۔