ماہ صیام اور حضور اکرم ﷺ کے معمولات

تحریر : صاحبزادہ ذیشان کلیم


’’تم رمضان کا استقبال کر رہے ہو، جس کی پہلی رات تمام اہل قبلہ کو معاف کردیا جاتا ہے‘‘ (الترغیب والترہیب) ’’اے اللہ! ہمارے لئے رجب اور شعبان بابرکت بنا دے اور ہمیں رمضان نصیب فرما‘‘(المعجم الاوسط) ’’جس نے ایمان و احتساب کی نیت سے رمضان کے روزے رکھے اور راتوں کو قیام کیا وہ گناہوں سے اس دن کی طرح پاک ہو جاتا ہے، جس دن وہ پیدا ہوا تھا‘‘ (النسائی)

رمضان المبارک میں حضور نبی کریم ﷺ کے معمولاتِ عبادت و ریاضت میں عام دنوں کی نسبت کافی اضافہ ہو جاتا تھا۔ اس مہینے میں اللہ تعالیٰ کی خشیت اور محبت اپنے عروج پر ہوتی۔ اسی شوق اور محبت میں آپﷺ راتوں کے قیام کو بھی بڑھا دیتے۔ 

حضور نبی کریمﷺ رمضان المبارک سے اتنی زیادہ محبت فرمایا کرتے تھے کہ اس کے پانے کی دعا اکثر کیا کرتے تھے اور رمضان المبارک کا اہتمام ماہ شعبان میں ہی روزوں کی کثرت کے ساتھ ہو جاتا تھا۔نبی کریم ﷺ ماہ رجب کے آغاز کے ساتھ ہی یہ دعا اکثر فرمایا کرتے تھے۔ حضرت انس بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ جب رجب المرجب کا مہینہ شروع ہوتا تو حضور ﷺ یہ دعا فرمایا کرتے تھے، ’’اے اللہ! ہمارے لئے رجب اور شعبان بابرکت بنا دے اور ہمیں رمضان نصیب فرما‘‘(المعجم الاوسط: 3951، مسند احمد بن حنبل، 1: 259)

رمضان کا چاند دیکھنے پر دعا

نبی کریم ﷺ رمضان المبارک کا چاند دیکھتے تو فرماتے: ’’یہ چاند خیر و برکت کا ہے، میں اس ذات پر ایمان رکھتا ہوں جس نے تجھے پیدا فرمایا‘‘ (مصنف ابن ابی شیبہ: 9798)

رمضان المبارک کو خوش آمدید کہنا

حضور نبی کریم ﷺ اس مبارک مہینے کا خوش آمدید کہہ کر استقبال کرتے۔جب رمضان المبارک کا مہینہ آتا تو حضور ﷺ صحابہ کرام سے دریافت کرتے: ’’تم کس کا استقبال کر رہے ہو اور تمہارا کون استقبال کر رہا ہے؟‘‘(یہ الفاظ آپ نے3 دفعہ فرمائے)،(الترغیب والترہیب2: 105)۔ اس پر حضرت عمرؓ  نے عرض کیا: یا رسول اللہ ﷺ کیا کوئی وحی اترنے والی ہے یا دشمن سے جنگ ہونے والی ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہے، تم رمضان کا استقبال کر رہے ہو، جس کی پہلی رات تمام اہل قبلہ کو معاف کردیا جاتا ہے‘‘ (الترغیب والترہیب، 2: 105)

 سحر ی و افطاری کی برکات

رمضان المبارک میں پابندی کے ساتھ سحری و افطاری بے شمار فوائد اور فیوض و برکات کی حامل ہے۔ حضور ﷺ بالالتزام روزے کا آغاز سحری کے کھانے سے فرمایا کرتے تھے۔ اس سلسلے میں آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا، حضرت انس بن مالکؓ  سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا: ’’سحری کھایا کرو کیونکہ سحری میں برکت ہے‘‘ (صحیح بخاری: 1823)

ایک دوسری حدیث میں حضور ﷺ نے اہل کتاب اور مسلمانوں کے روزے کے درمیان فرق کی وجہ بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: حضرت ابوقیسؓ نے حضرت عمرو بن العاصؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ہمارے اور اہل کتاب کے روزوں میں سحری کھانے کا فرق ہے‘‘ (صحیح مسلم: 1096)۔ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’سحری سراپا برکت ہے اسے ترک نہ کیا کرو‘‘ (مسند احمد بن حنبل‘ 3: 12)

حضور ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ سحری کرنے والے پر اللہ کی رحمتیں ہوتی ہیں۔ ’’اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے سحری کرنے والوں پر اپنی رحمتیں ناز ل کرتے ہیں‘‘ (مسند احمد بن حنبل، 3: 12)

روزے میں سحری کو بلاشبہ بہت اہم مقام حاصل ہے۔ حضور ﷺ نے امت کو تلقین فرمائی ہے کہ سحری ضرور کھایا کرو، خواہ وہ پانی کا ایک گھونٹ ہی کیوں نہ ہو۔ آپﷺ کا یہ معمول تھا کہ سحری آخری وقت میں تناول فرمایا کرتے تھے۔ گویا سحری کا آخری لمحات میں کھانا حضور ﷺ کی سنت ہے۔دن کو قیلولہ کرکے رات کی نماز کیلئے مدد حاصل کرو اور سحری کھا کر دن کے روزے کی قوت حاصل کرو‘‘( ابن ماجہ: 1693)

امام نووی رحمہ اللہ علیہ سحری میں برکت کے فوائد کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ سحری میں برکت کی وجوہات ظاہر ہیں جیسا کہ یہ روزے کو تقویت دیتی ہے اور اسے مضبوط کرتی ہے۔ اس کی وجہ سے روزے میں زیادہ کام کرنے کی رغبت پیدا ہوتی ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس کا تعلق رات کو جاگنے کے ساتھ ہے اور یہ وقت ذکر اور دُعا کا ہوتا ہے جس میں اللہ کی رحمتیں نازل ہوتی ہیں اور دُعا اور استغفار کی قبولیت کا وقت ہوتا ہے۔

سحری کرنے میں تاخیر اور افطاری کرنے میں جلدی آنحضور ﷺ کا زندگی بھر معمول رہا۔ جس کے راوی حضرت سہل بن سعدؓ ہیں، وہ فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’میری امت کے لوگ بھلائی پر رہیں گے جب تک وہ روزہ جلد افطار کرتے رہیں گے‘‘(صحیح مسلم: 1098)۔ 

حدیث قدسی ہے کہ: ’’اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میرے بندوں میں مجھے پیارے وہ ہیں جو افطار میں جلدی کریں (جامع ترمذی: 700)، اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جب تک اس امت کے لوگوں میں یہ دونوں باتیں  یعنی افطار میں جلدی اور سحری میں تاخیر کرنا رہیں گی تو اس وقت تک وہ بھلائی پر قائم رہیں گے۔

سحری میں تاخیر

نبی کریم ﷺ سحری تناول فرمانے میں تاخیر کرتے یعنی طلوع فجر کے قریب سحری کرتے تھے۔ حضرت ابن عباسؓ سے مروی ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا ’’مجھے روزہ جلدی افطار کرنے اورسحری میں تاخیر کا حکم دیا گیا ہے‘‘ (السنن الکبری، 4: 238)۔آپﷺ کا یہ عمل یہودیوں کے برعکس تھا، جن کے ہاں سحری کرنے کا کوئی تصور نہیں تھا ۔ 

نبی کریم ﷺ کی افطاری

حضورﷺ اکثر اوقات کھجوروں سے روزہ افطار فرمایا کرتے تھے۔ اگر وہ میسر نہ ہوتیں تو پانی سے افطار فرما لیتے تھے۔ حضرت سلیمان بن عامرؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’جب تم میں سے کوئی روزہ افطار کرے تو اسے چاہئے کہ کھجور سے کرے کیونکہ اس میں برکت ہے، اگر کھجور میسر نہ ہو تو پانی سے کیونکہ پانی پاک ہوتا ہے‘‘ (جامع الترمذی: 658)

معمول قیامِ رمضان

نبی کریم ﷺ کا دوسرا مبارک معمول رمضان کی راتوں میں تواتر و کثرت کے ساتھ کھڑے رہنے اور نماز، تسبیح و تہلیل اور ذکر الٰہی میں محویت سے عبارت ہے۔ نماز کی اجتماعی صورت جو ہمیں تراویح میں دکھائی دیتی ہے، اسی معمول کا حصہ تھی۔ حضور ﷺ نے رمضان المبارک میں قیام کرنے کی فضیلت بارے ارشاد فرمایا: ’’جس نے ایمان و احتساب کی نیت سے رمضان کے روزے رکھے اور راتوں کو قیام کیا، وہ گناہوں سے اس دن کی طرح پاک ہو جاتا ہے، جس دن وہ بطن مادر سے پیدا ہوتے وقت بے گناہ تھا‘‘ (نسائی: 2208)

تراویح کی شرعی حیثیت

نماز تراویح کا سنت مؤکدہ ہونا حدیث سے ثابت ہے۔نبی کریم ﷺ نے نماز تراویح مسجد میں باجماعت اور انفرادی طور پر گھر میں بھی ادا فرمائی۔ اس کا باجماعت ادا کرنا سنت کفایہ کے ذیل میں آتا ہے۔ نماز تراویح خلفائے راشدین کی سنت بھی ہے۔

معمول ختم قرآن

نبی کریم ﷺ کا دورانِ رمضان المبارک ایک بارختم قرآن کا معمول تھا اور آپ ﷺ نے امت کو بھی اسی اعتدال پر چلنے کی تعلیم و تلقین فرمائی ہے۔ رمضان المبارک کے دوران نماز تراویح میں کم از کم ایک بار قرآن ختم کرنے کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ 

معمول تہجد

رمضان المبارک کے دوران حضور اکرمﷺ کی نماز تہجد کی ادائیگی کا معمول یہ تھا کہ آپ ﷺ نماز تہجد میں آٹھ رکعت ادا فرماتے۔ جس میں وتر شامل کر کے کل گیارہ رکعتیں بن جاتیں۔ تہجد کا یہی مسنون طریقہ آپ ﷺ سے منسوب ہے۔آنحضور ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’تم پر رات کا قیام (نماز تہجد) لازمی ہے کیونکہ تم سے صالحین کا یہ عمل رہا ہے‘‘(سنن الترمذی: 3549)۔نماز تہجد کیلئے نماز عشاء کے بعد کچھ سونا شرط اور مسنون ہے۔

کثرتِ صدقات و خیرات

حضور نبی کریم ﷺ کی عادت مبارکہ یہ تھی کہ وہ صدقہ و خیرات کثرت کے ساتھ کیا کرتے تھے۔ کوئی سوالی ان کے در سے خالی نہیں لوٹتا تھا۔ رمضان المبارک میں صدقہ و خیرات کی مقدار باقی مہینوں کی نسبت اور زیادہ بڑھ جاتی۔حضرت ابن عباسؓ سے مروی ہے کہ ’’جب جبرائیل امین ؑآجاتے تو آپﷺ کی سخاوت کی برکات کا مقابلہ تیز ہوا نہ کرپاتی‘‘ (صحیح بخاری: 1803)

معمول اعتکاف

رمضان المبارک میں نبی کریمﷺ باقاعدگی کے ساتھ اعتکاف فرمایا کرتے تھے۔ زیادہ تر آپ ﷺ آخری عشرے کا اعتکاف فرماتے۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا آپﷺ کے معمولِ اعتکاف کا ذکر کرتے ہوئے فرماتی ہیں: حضور نبی کریم ﷺ رمضان المبارک کے آخری عشرے میں اعتکاف فرمایا کرتے تھے، یہاں تک کہ آپ اللہ تعالیٰ سے جا ملے‘‘(صحیح بخاری: 1922)

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

خلاصہ قرآن(پارہ 16)

واقعہ موسیٰ علیہ السلام:سولہویں پارے میں حضرت موسیٰ و حضرت خضر علیہما السّلام کے درمیان ہونے والی گفتگو بیان کی جا رہی تھی کہ حضرت خضر علیہ السّلام نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہا: جن اَسرار کا آپ کو علم نہیں، اُن کے بارے میں آپ صبر نہیں کر پائیں گے۔

خلاصہ قرآن(پارہ 16)

موسیٰ و خضر علیہ السلام:سولہویں پارے کا آغاز بھی سورۃ الکہف سے ہوتا ہے۔ پندرھویں پارے کے آخر میں جناب ِموسیٰ علیہ السّلام کی جنابِ خضر علیہ السّلام سے ملاقات کا ذکر ہوا تھا‘ جنابِ موسیٰ علیہ السّلام حضرت خضر علیہ السّلام کی جانب سے کشتی میں سوراخ کرنے اور پھر ایک بچے کو قتل کر دینے کے عمل پر بالکل مطمئن نہ تھے۔

خلاصہ قرآن(پارہ 15)

سورہ بنی اسرائیل: سورۂ بنی اسرائیل کی پہلی آیت میں رسول کریم ﷺ کے معجزۂ معراج کی پہلی منزل‘ مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک کا ذکر صراحت کے ساتھ ہے۔ یہ تاریخ نبوت‘ تاریخ ملائک اور تاریخ انسانیت میں سب سے حیرت انگیز اور عقلوں کو دنگ کرنے والا واقعہ ہے۔ اس کی مزید تفصیلات سورۃ النجم اور احادیث میں مذکور ہیں۔

خلاصہ قرآن(پارہ 15)

سفر اسراء:پندرھویں پارے کا آغاز سورۂ بنی اسرائیل سے ہوتا ہے۔ سورہ بنی اسرائیل کے شروع میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں ’’پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے کو رات کے وقت مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک لے گئی‘ جس کے گرد ہم نے برکتیں رکھی ہیں تاکہ ہم انہیں اپنی نشانیاں دکھائیں‘ بے شک وہ خوب سننے والا اور دیکھنے والا ہے۔

خلاصہ قرآن(پارہ 14)

اہل جہنم:چودھویں پارے کی پہلی آیت کا شانِ نزول حدیث میں آیا کہ اہل جہنم جب جہنم میں جمع ہوں گے تو جہنمی ان گناہگار مسلمانوں پر طعن کریں گے کہ تم تو مسلمان تھے‘ پھر بھی ہمارے ساتھ جہنم میں جل رہے ہو۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنے کرم سے گناہگار مسلمانوں کو جہنم سے نکال کر جنت میں لے جائے گا تو کفار تمنا کریں گے کہ کاش! ہم بھی مسلمان ہوتے اور اس مرحلے پر نجات پا لیتے۔

خلاصہ قرآن(پارہ 14)

فرشتوں کا اتارنا:چودھویں پارے کا آغاز سورۃ الحجر سے ہوتا ہے۔ چودھویں پارے کے شروع میں اللہ تعالیٰ نے اس امر کا ذکر کیا ہے کہ کافر رسول اللہﷺ کی ذاتِ اقدس کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہتے کہ اگر آپ سچے ہیں تو ہمارے لیے فرشتوں کو کیوں لے کر نہیں آتے تو اللہ تعالیٰ نے ان کے اعتراض کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ فرشتوں کو تو ہم عذاب دینے کیلئے اتارتے ہیں اور جب فرشتوں کا نزول ہو جاتا ہے تو پھر اقوام کو مہلت نہیں دی جاتی۔