پہیلیاں
مٹھی میں وہ لاکھوں آئیںگن کر ہم کیسے سمجھائیں
(ریت کے ذرات)
جب دیکھو پانی میں پڑا ہے
پانی بہتا ہے وہ کھڑا ہے
(پانی میں عکس)
تن کی لمبی سر کی چھوٹی
کر دے سب کی بوٹی بوٹی
(چھری)
جس نے بھی وہ ساز بجایا
خود نہ سنا اوروں کو سنایا
(خراٹے)
کالا گھر سے جاتا دیکھا
جلدی جلدی جائے
اپنے گھر کو ایسا چھوڑے
پھر واپس نہ آئے
(دھواں)
مخمل کے پردے، خوشبو کا گھر
صبح سویرے کھلتا ہے در
(گلاب کا پھول)