موائی کے پراسرار مجسمے
دنیا میں بہت سی ایسی تاریخی جگہیں ہیں جو اپنی خوبصورتی اور پراسرار تاریخ کی وجہ سے لوگوں کو حیران کر دیتی ہیں۔ ایسی ہی ایک دلچسپ جگہ جنوبی بحرالکاہل میں واقع ایسٹر آئی لینڈ ہے، جو ملک چلی کا حصہ ہے۔
یہاں موجود دیوقامت پتھریلے مجسموں کو’’ موائی‘‘ (Moai) کہا جاتا ہے۔ یہ مجسمے دنیا کے سب سے منفرد اور پراسرار آثارِ قدیمہ میں شمار ہوتے ہیں۔
موائی مجسمے تقریباً 800 سال پہلے جزیرے کے مقامی لوگوں نے آتش فشانی چٹانوں کو تراش کر بنائے تھے۔ ان میں سے بعض مجسمے چار سے پانچ میٹر بلند ہیں، جبکہ چند کا وزن کئی ٹن تک پہنچ جاتا ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اس زمانے میں نہ تو جدید مشینیں تھیں اور نہ ہی کرینیں، اس کے باوجود اتنے بڑے مجسمے تیار کیے گئے اور انہیں کئی کلومیٹر دور مختلف مقامات تک پہنچایا گیا۔
زیادہ تر موائی مجسموں کے چہرے سمندر کی طرف نہیں بلکہ جزیرے کی آبادی کی جانب ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ ان کا مقصد اپنے آباؤ اجداد کی یاد کو زندہ رکھنا اور لوگوں کی حفاظت کی علامت بننا تھا۔ ان مجسموں کے بارے میں کئی سوالات آج بھی تحقیق کا موضوع ہیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments