قرار داد مقاصد:قائد اعظم ؒ اور علامہ اقبالؒ کے افکار
بانی پاکستان آزاد اسلامی ریاست کے خواہاں تھے اور اس میں اسلام کا نظام چاہتے تھے
پاکستان کا قیام محض ایک خطۂ زمین کے حصول کی داستان نہیں بلکہ ایک ایسے نظریے کی عملی تعبیر تھا جس کی فکری بنیاد برصغیر کے مسلمانوں کی جداگانہ تہذیبی، مذہبی اور سیاسی شناخت پر استوار ہوئی۔ اس عظیم جدوجہد کے فکری افق پر دو شخصیات سب سے نمایاں دکھائی دیتی ہیں۔ شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبالؒ، جنہوں نے مسلمانوں کو ایک الگ سیاسی تشخص اور خودمختار وطن کا تصور دیا، اور قائداعظم محمد علی جناحؒ، جنہوں نے اس تصور کو اپنی بے مثال سیاسی بصیرت، اصول پسندی اور انتھک جدوجہد کے ذریعے حقیقت کا روپ عطا کیا۔قائداعظمؒ اور علامہ اقبالؒ کے افکار میں اسلامی اصولِ حیات، عدل و مساوات، انسانی وقار، جمہوریت، آزادی فکر اور قانون کی حکمرانی کو بنیادی اہمیت حاصل تھی۔ یہی فکری عناصر آگے چل کر ریاست پاکستان کے تصور کی بنیاد بنے۔ چند تاریخی حقائق پیش ہیں ۔
قائد اعظمؒ کے افکار
17فروری 1938ء کو علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی میں فرمایا : ’’مجھے اپنے اسلامی کلچر اور تہذیب سے بہت محبت ہے۔ میں ہرگز نہیں چاہتا کہ ہماری آنے والی نسلیں اسلامی تمدن اور فلسفہ سے بالکل بیگانہ ہو جائیں‘‘۔
14 دسمبر 1942ء کوکراچی میں آل انڈیا مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا : ’’پاکستان کا مقصد اس کے سوا اور کیا ہے کہ پاکستان میں اللہ کے دین کا نظام قائم ہوگا‘‘۔
19 مارچ 1944ء کو پنجاب اسٹوڈنٹس فیڈریشن لاہور کی سالانہ کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے فرمایا: ’’ ہمیں ہلالی پرچم کے علاوہ کوئی اور پرچم درکار نہیں۔ اسلام ہمارا رہنما ہے جو ہماری زندگی کا مکمل ضابطہ حیات ہے‘‘۔
21 نومبر 1945ء کو سرحد مسلم لیگ کانفرنس پشاورمیں دوران خطاب فرمایا: ’’مسلمان پاکستان کا مطالبہ کرتے ہیں جہاں وہ اپنے ضابطہ حیات، اپنے تمدنی ارتقاء ، روایات اور اسلامی قوانین کے مطابق حکومت کر سکیں‘‘۔
24 نومبر1945ء کومردان کے جلسہ عام سے خطاب کے دوران فرمایا: ’’پاکستان کی آزاد مسلم مملکت کے حصول میں بھی اپنا کردار ادا کریں جہاں مسلمان اسلامی فرمانروائی کا نظریہ پیش کر سکیں گے‘‘۔
26 نومبر 1946ء کو سید بدرالدین احمد کو اپنی قیام گاہ پر انٹرویو دیتے ہوئے کہا: ’’دنیا کی تمام مشکلات کا حل اسلامی حکومت کے قیام میں ہے۔ اسی کی خاطر میں لندن کی پر سکون زندگی کو رد کر کے علامہ اقبالؒ کے اصرار پر واپس آگیا۔ ان شاء اللہ پاکستان کے نظام حکومت کی بنیاد لا الہ الا اللہ ہی ہو گی اور اس پر ایسی فلاحی اور مثالی سٹیٹ قائم ہوگی کہ دنیا اس کی تقلید پر محبور ہو جائے گی‘‘۔
7 جولائی 1947ء کو لندن مسلم لیگ کے نام پیغام میں فرماتے ہیں: ’’خدا کے فضل سے ہم دنیا میں اس نئی عظیم خود مختار اسلامی ریاست کی تعمیر مکمل اتحاد، تنظیم اورایمان کے ساتھ کر سکیں گے ‘‘۔
19 دسمبر 1946ء کو مصری ریڈیوپر خطاب کے دوران فرمایا: ’’ہم چاہتے ہیں کہ ایک آزاد خودمختار قوم کی حیثیت سے اپنی زندگی بسر کریں اور ان تمام اقدار کا تحفظ کریں جن کا اسلام علمبردار ہے‘‘۔
14اگست 1947ء کو دستور ساز اسمبلی کے افتتاح کے موقع پر ماؤنٹ بیٹن کی تقریر کا جواب دیتے ہوئے کہا : ’’اکبر بادشاہ نے جس فراخ دلی کا مظاہرہ کیا وہ ہمارے لیے کوئی نئی بات نہیں۔ اس کا آغاز 1300 برس پہلے ہوگیا تھا جب ہمارے نبی کریم ﷺنے فتح کے بعد نہ صرف زبانی طورپر بلکہ عملی طور پر یہودیوں اور عیسائیوں سے فراخدلانہ سلوک کیا مسلمانوں کی تاریخ ایسی مثالوں سے بھری پڑی ہے ‘‘ ۔
30اکتوبر 1947ء کو لاہور میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: ’’اگر ہم قرآن حکیم سے رہنمائی حاصل کریں تو بالآخر فتح ہماری ہوگی۔ میرا آپ تمام لوگوں سے یہی مطالبہ ہے کہ پاکستان کو اسلام کا قلعہ بنانے کیلئے بڑی سے بڑی قربانی سے دریغ نہ کریں ‘‘۔
14 دسمبر 1947ء کو آل انڈیا مسلم لیگ کونسل سے دوران خطاب فرمایا : ’’میں صاف طور پر واضح کر دوں کہ پاکستان اسلامی نظریات پر مبنی ایک مملکت ہوگی‘‘۔
21فروری 1948ء کو افواج پاکستان سے خطاب کرتے ہوئے: ’’ اب آپ کو اپنے ہی وطن عزیز کی سرزمین پر اسلامی جمہوریت، اسلامی معاشرتی عدل اور مساوات انسانی کے اصولوں کی پاسبانی کرنی ہے‘‘۔
علامہ اقبالؒ کے افکار
حضرت قائد اعظم ؒکی طرح علامہ محمد اقبالؒ کے ذہن میں پاکستان کا جو نقشہ تھا اس میں اسلام کو بنیادی حیثیت حاصل تھی۔ 29دسمبر 1930ء کو الہ آباد میں آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس میں خطبہ صدارت پیش کرتے ہوئے فرمایا: ’’برصغیر ہندوستان میں بھانت بھانت کے لوگ اور مختلف مذاہب کے ماننے والے بستے ہیں چنانچہ مسلمان اپنے لیے مسلم انڈیا کے قیام کے مطالبے میں پورے پورے حق بجانب ہیں ‘‘۔
28مئی 1937ء کو علامہ اقبالؒ نے قائد اعظم ؒ کو تفصیلی خط لکھا جس میں انہوں نے کہا کہ ’’ہماری خوش قسمتی ہے کہ ہمارے قانون اور اسلامی شریعت میں اس مسئلے کا حل خود موجود ہے مگر شریعت کے نفاذ اور ترقی کیلئے ہندوستان میں ایک آزاد مسلم ریاست یا ریاستوں کے قیام کی ضرورت ہے‘‘۔
٭…٭…٭
’’ حصول پاکستان زندگی اور موت کا مسئلہ ‘‘
27 اکتوبر 1945ء کو احمد آباد میں ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے قائد اعظمؒ نے حصول پاکستان کو زندگی اور موت کا مسئلہ قرار دیا۔ وہ مسلمان عوام جنہوں نے انتخابی مہم کیلئے مسلم لیگ کو چندہ میں چاندی کی گولیاں دی تھیں قائداعظمؒ نے ان کا شکریہ ادا کیا اور کہا ’’آج ہمارے لئے پاکستان زندگی اور موت کا سوال ہے۔ میں پاکستان کیلئے زندہ رہوں گا اور پاکستان کیلئے مروں گا۔ میں نے آپ لوگوں سے انتخابی مہم کو کامیابی سے لڑنے کیلئے چاندی کی گولیاں دینے کیلئے کہا تھا۔ مجھے یقین ہے کہ جب قربانی دینے کا وقت آیا یہ لوگ پاکستان کیلئے ہر چیز قربان کردیں گے۔ پاکستان کا چاند جگمگا رہا ہے اور ہم ضرور اس تک پہنچیں گے‘‘۔
قائداعظمؒ نے صرف انتخابات کے دوران ہی پاکستان کے مطالبہ کو زندگی اور موت کے سوال کی صورت میں پیش نہیں کیا بلکہ الیکشن جیتنے کے بعد بھی وہ اپنے اس موقف پر ڈٹے رہے اور بار بار مسلمانوں کو متنبہ کرتے رہے کہ پاکستان کے بغیر برصغیر میں ان کا وجود ختم ہو جائے گا۔
ہمیں یاد ہیں
وہ تمام دن وہ تمام غم جو گزر گئے
ہمیں یاد ہیں
وہ رہِ وفا کے تمام زخم جو بھر گئے
ہمیں یاد ہیں
وہ لُٹے سہاگ وہ عصمتیں
جو فسانہ ہیں وہ حقیقتیں
وہ تمام گھر جو اُجڑ گئے
وہ عزیز سب جو بچھڑ گئے
ہمیں یاد ہیں
وہ عجیب لوگ وہ قافلے
جو نہ رُک سکے نہ بھٹک سکے
جو چمن سجا کے چلے گئے
جو وطن بنا کے چلے گئے
ہمیں یاد ہیں
وہ تمام دن وہ تمام غم جو زر گئے
ہمیں یاد ہیں
وہ رہِ وفا کے تمام زخم جو بھر گئے
ہمیں یاد ہیں
(جمیل الدین عالی)
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments