14 اگست: ایک خواب کی تعبیر، ایک قوم کی تشکیل

تحریر : پروفیسر شریف المجاہد


شاید ہی دنیا کی کسی اور قوم نے اپنی زندگی کے سفر کا آغاز اس قدر محدود وسائل کے ساتھ کیا ہو

اس میں کوئی شبہ نہیں کہ دنیا کی شاید ہی کسی اور قوم نے اپنی زندگی کے سفر کا آغاز اس قدر محدود وسائل کے ساتھ اور ایسے سنگین حالات میں کیا ہو۔ اس نوزائیدہ قوم کو ورثے میں نہ کوئی مرکزی حکومت ملی تھی نہ اس کا کوئی دارالحکومت تھا، نہ اس کا کوئی انتظامی ادارہ تھا، نہ کوئی منظم دفاعی فوج، اس کے سماجی اور انتظامی وسائل بھی بے حد قلیل تھے۔ ضروری سازو سامان مفقود تھا۔ جب کہ اعداد و شمار کا تو کوئی تذکرہ ہی بے سود ہے۔ تقسیم ہند کے خلاف پنجاب میں آگ اور خون، ہلاکت اور بربادی کا جو ہولناک کھیل سکھ مورچے کی خوں آشامی نے کھیلا تھا اس کی وجہ سے پنجاب کا وسیع علاقہ ویران کھنڈر بن چکا تھا۔ مواصلاتی نظام درہم برہم ہو چکا تھا۔ علاوہ ازیں ہندو اور سکھ تاجروں اور انتظامی عملے کی مکمل نقل مکانی نے معیشت کو تقریباً اجاڑ کر رکھ دیا تھا۔ خزانہ خالی تھا۔ کیونکہ ہندوستان نے پاکستان کو زر مبادلہ کے بقایا جات کا وہ حصہ دینے سے انکار کر دیا تھا جو اس کا حق تھا۔ ان سب سے بڑھ کر اس نوزائیدہ قوم پر ان آٹھ لاکھ مہاجروں کی کفالت کا بوجھ بھی آن پڑا تھا جو ہجرت کرکے پاکستان آئے تھے۔ اگر ان تمام مسائل نے پاکستان کی انتظامی اور اقتصادی کمزوریوں کو ظاہر کردیا تھا تو نومبر 1947ء میں ریاست جونا گڑھ (جس نے بنیادی طور پر پاکستان میں شامل ہونے کے حق میں فیصلہ دیا تھا) پر بھارت کی فوج کشی اور اکتوبر 1947ء سے دسمبر 1948ء کے درمیان انضمام کشمیر کے مسئلہ پر ہونے والی جنگ سے اس نوزائیدہ مملکت کی وہ کمزوریاں بھی عیاں ہو گئی تھیں جو اس کو ورثے میں ملی تھیں۔

 ان تمام حالات میں بھی پاکستان کا زندہ سلامت رہنا ایک معجزے سے کم نہ تھا۔ اور یہ معجزہ صرف ایک فرد واحد کے دستِ کرشمہ ساز کا نتیجہ تھا اور وہ شخص تھے قائداعظم محمد علی جناحؒ۔ امر واقعہ یہی ہے کہ صرف قائداعظمؒ ہی یہ معجزہ نماکام کر سکتے تھے۔ کیونکہ بقول لندن ٹائمز’’وہ ان لوگوں کیلئے، اس قوم کیلئے جو ان کی رہنمائی میں یہاں تک آئی تھی، قائداعظمؒ سے بھی بڑھ کر سربراہ مملکت سے بھی زیادہ سر بلند اور اس اسلامی مملکت کے، جس کی بنیاد خود انہوں نے رکھی تھی، معمار سے بھی کچھ زیادہ ہی حیثیت رکھتے تھے‘‘۔

تمام حالات و واقعات کا دیانت داری سے تجزیہ کیا جائے تو یہی نتیجہ برآمد ہو گا کہ یہ نوزائیدہ قوم اپنی ہنگامہ خیز پیدائش کے بعد ہی پیش آنے والے ایسے ہولناک بحران میں بھی محض اس لئے زندہ سلامت رہی کہ اس دور میں قائداعظمؒ امور مملکت کے نگران تھے۔ پاکستان کے عوام کو ان پر جو بے پناہ اعتماد تھا، لوگوں کے دلوں میں ان کیلئے جو زبردست عقیدت و محبت تھی، قائداعظم ؒ نے اسی کو بروئے کار لا کر اس قوم کو درپیش مشکلات اور مصائب سے نمٹنے کیلئے حوصلہ عطا کیا۔ آزادی نے ان کے سینوں میں حب الوطنی کے جن جذبات کو بھڑکایا تھاان کی خدمات و حرارت اور توانائی کا رخ تعمیری سرگرمیوں کی سمت موڑ دیا۔

بلاشبہ یہ وہ دور تھا جب قائداعظم ؒ بہت تھک چکے تھے۔ 46ء کے موسم گرما سے ہی ان کی صحت جواب دے گئی تھی اور اب وہ ہڈیوں کا پنجرہ ہو کر رہ گئے تھے۔ اس علالت، اس کمزوری اور اس شدید تھکن کے باوجود انہوں نے اس نئے ملک اور نئی مملکت کی زندگی کے پہلے انتہائی اہم اور نازک سال میں ذمہ داریوں کا بیشتر بھاری بوجھ اپنے کاندھوں پر اٹھائے رکھا۔ انہوں نے نئی مملکت کی پالیسیاں وضع کیں، قوم کو درپیش  مسائل  کی  واضح نشاندہی کی اور انہیں حل کرنے کیلئے انتھک کام کیا۔ انہوں نے آئین ساز اسمبلی، سرکاری ملازمین اور مسلح افواج کو نہ صرف ان کے فرائض سے آگاہ کیا بلکہ انہیں یہ بھی بتایا کہ قوم نے ان سے کیا توقعات وابستہ کر رکھی ہیں۔

اس کے باوجود کہ شمالی ہندوستان میں ہونے والے فسادات خاصے اشتعال انگیز تھے۔ قائداعظمؒ نے بہر قیمت نظم و نسق برقرار رکھنے اور امن و امان مستحکم کرنے کیلئے موثر طریقے اختیار کئے۔ اکتوبر1947ء میں وہ کچھ عرصے کیلئے لاہور منتقل ہو گئے تھے تاکہ وہاں مہاجرین کے آنے والے مسلسل اور زبردست سیلاب سے پیدا ہونے والی صورتحال کا موقع پر قریب سے جائزہ لے سکیں۔ ان لٹے پٹے بے سہارا افراد کی رہائش اور خوراک کا بندوبست کرنے کیلئے منصوبہ بندی کر سکیں۔ ان کی آباد کاری کیلئے، ان کو نئی قوم کا جز ولانیفک بنانے کیلئے حکمت عملی تیار کر سکیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ان شکستہ حال بے گھر اور بے در لوگوں میں نئے وطن سے وابستگی کا والہانہ جذبہ اور احساس زیادہ شدید کر سکیں۔ یہ وہ دورتھا جب براعظم ہندوستان کے طول و عرض میں جذبات انتہائی مشتعل تھے، لیکن انہوں نے کبھی ہوشمندی اور توازن کو ہاتھ سے نہ جانے دیا، تمام اشتعال انگیزیوں کے باوجود انہوں نے ہمیشہ سنجیدگی، بردباری، متانت اور ثابت قدمی سے کام لیا۔ ان اشتعال انگیزیوں کے پس منظر میں انہوں نے اہالیان لاہور کو انتقامی کارروائی سے باز رکھا۔ انہیں صبر و ضبط کی تلقین کی اور اقلیتوں کی حفاظت کرنے کی ذمہ داریوں سے آگاہ کرتے ہوئے مہاجرین کی آباد کاری کی طرف پوری توجہ اور انہماک  سے کام  کیا۔ انہوں نے اقلیتوں کوو اضح اور قطعی انداز میں تحفظ کی ضمانت دی۔ ان میں اعتماد اور تحفظ کا احساس پیدا کیا۔ ان کی دلجوئی کی، انہیں دلاسہ دیا۔ ان کے مجروح جذبات  و احساسات کو مندمل کرنے کیلئے مسیحائی سے کام لیا۔

ساتھ ہی قائداعظمؒ نے مختلف صوبوں کا دورہ کیا، ان کے مسائل پر توجہ دی۔ان صوبوں کے عوام کو ایک نئی امید سے ہمکنار کیا۔ پاکستان سے وابستگی کے جذبات کو تیز تر کیا اور انہیں نئی ذمہ داریوں سے آگاہ کیا۔ انہوں نے صوبہ سرحد میں برطانیہ کی فارورڈ پالیسی کو ختم کردیا اور وزیرستان ایجنسی سے فوجیں ہٹا کر پٹھانوں کو یہ احساس دلایا کہ وہ بھی پاکستان کے جسد سیاست کا لازمی جزو ہیں۔ انہوں نے ریاستوں اور سرحدی علاقوں کی ایک نئی وزارت قائم کی اور بلوچستان میں ایک نئے دور کا آغاز کرنے کی ذمہ داری بھی قبول کی۔ انہوں نے کراچی کی حیثیت کے متنازعہ مسئلہ کو حل کیا۔ ریاستوں کے پاکستان میں انضمام کو یقینی بنایا۔ بالخصوص قلات کی ریاست کے انضمام کو یقینی بنایا جو اس وقت کے حالات میں بہت پیچیدہ مسئلہ دکھائی دیتا تھا۔ علاوہ ازیں انہوں نے مائونٹ بیٹن سے مسئلہ کشمیر حل کرنے کیلئے کٹھن مذاکرات بھی جاری رکھے اور برطانوی حکومت کے دفتر دولت مشترکہ سے مسلسل مراسلت بھی کرتے رہے۔ ان کی کوشش یہی تھی کہ مشرقی پنجاب میں ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات کو روکنے کیلئے دولت مشترکہ کے دفتر کو مجبور کیا جائے اور دونوں مملکتوں میں پائی جانے والی کشیدگی کو کم کرنے کی تدابیر اختیار کی جائیں۔

انہوں نے مختلف صوبوں کے گورنروں سے مراسلت کی، وزراء اور سیاست دانوں سے مسلسل ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رکھا۔ مختلف صوبوں کی صورتحال سے گہرے طور پر آگاہ رہے اور جہاں کہیں ضروری سمجھا متعلقہ افراد کو مشورہ بھی دیا۔ اپنے منصب کی تمام تفصیلات اور ذمہ داریوں پر توجہ دی ۔ انہوں نے مہاجرین کی آباد کاری کیلئے قائداعظم ریلیف فنڈ کمیٹی کے اجلاسوں کی گھنٹوں صدارت بھی کی۔ اس کے باوجود کہ مہلک بیماری ان کی تمام تر توانائیوں کو چاٹ چکی تھی۔ وہ اسٹیٹ بنک آف پاکستان کا افتتاح کرنے کیلئے ایک تکلیف دہ سفرکرکے کوئٹہ سے کراچی پہنچے کیونکہ اسٹیٹ بنک آف پاکستان، پاکستان کی مالیاتی آزادی کا نشان تھا۔

ان سب کے علاوہ اس دور کے گوناگوں اور پیچیدہ مسائل سے نمٹنے اور انتظامیہ کا ایک موثر نظام اور ادارہ قائم کرنے، مسلح افواج کی تنظیم نو کرنے اور ایک ترقی پسند اور فلاحی مملکت کی ٹھوس بنیادیں ڈالنے کے لئے وہ ان فعال افراد پر مشتمل جماعت کی رہنمائی کرتے رہے انہیں نئی راہیں دکھاتے اور حوصلہ دلاتے رہے جو انہوں نے اپنے گرد جمع کی تھیں۔ جناح نے اپنے مشن کی تکمیل پر کلی اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے 14اگست 1948ء کو قوم کے نام آخری پیغام میں کہا تھا ’’ آپ کی مملکت کی بنیادیں رکھ دی گئی ہیں۔ اب یہ آپ کا فرض ہے کہ آپ اس کی تعمیر کریں اور جس قدر جلد ممکن ہو سکے اس کی تعمیر کریں‘‘۔

پروفیسر شریف المجاہد پاکستان کے ممتاز ماہر تعلیم، مورخ اور تحریک پاکستان پر متعدد کتابوں کے مصنف تھے

 

یوم آزادی

برسوں کی تگ و دو کا صلہ آج کا دن ہے

ملت کے لئے لطف خدا آج کا دن ہے

اک باب درخشندہ ہے تاریخ اُمم کا

تہذیب کے چہرے کی ضیا آج کا دن ہے

                       

اک ولولۂ تازہ سے آغاز ہوئی تھی

تزئین چمن زار کی، تعمیر وطن کی

منزل کی طرف قافلہ شوق چلا تھا

جاگ اٹھی تھی سوئی ہوئی تقدیر وطن کی

 

چھلکائی گئی تھی مئے آزادی افکار

جذبات سے ملت مری سرشار ہوئی تھی

کہتے ہیں جسے لوگ حمیت بھی انا بھی

سینوں میں وہی آگ سی بیدار ہوئی تھی

 

وہ عہد کہ جو آج کے دن ہم نے کیا تھا

لازم ہے کہ اُس عہد کی تجدید ہو ہر آن

اک جذبہ تابندہ ہو بیدار دلوں میں

افسردگی زبست کی تردید ہو ہر آن

(حفیظ تائب )

 

پاکستان کا مطلب کیا؟

قرآں سے ہے اس کی بِنا

ایماں سے ہے نشو و نما

پاکستان ہے ملکِ خُدا

پوچھے اگر دُنیا تو بتا

پاکستان کا مطلب کیا

لا الٰہ الا اللہ

شب ظلمت میں گزاری ہے

اُٹھ وقتِ بیداری ہے

جنگِ شجاعت جاری ہے

مرد بن میدان میں آ

پاکستان کا مطلب کیا

لا الٰہ الا اللہ

تجھ میں ہے خالد کا لہو 

تجھ میں ہے طارق کی نمو

شیر کے بیٹے شیر ہے تو

شیر بن میدان میں آ

پاکستان کا مطلب کیا

لا الٰہ الا اللہ

پنجابی ہو یا کہ پٹھان

مِل جانا شرطِ ایمان

ایک ہی جسم ہیں ایک ہی جان

ایک رسولؐ اور ایک خدا

پاکستان کا مطلب کیا

لا الٰہ الا اللہ

مرد و زن اور پیر و جواں

لے کے اُٹھے ہیں عزمِ گراں

بن کے رہے گا پاکستان 

ایک اک کے لب پر ہے صدا

پاکستان کا مطلب کیا

لا الٰہ الا اللہ

اے اصغر ! اللہ کرے

ننھی کلی پروان چڑھے

پھول بنے خوشبو مہکے

وقتِ دُعا ہے ہاتھ اُٹھا

پاکستان کا مطلب کیا

لا الٰہ الا اللہ

 

 

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...

ہاکی ورلڈ کپ: سارے خواب چکناچور

پاکستان ہاکی ٹیم کی مایوس کن واپسی:پاکستان ہاکی کا زوال محض ایک یا دو میچوں کی ناکامی نہیں بلکہ جدید ہاکی کے تقاضوں سے بے خبر ہونے کا نتیجہ ہ:گرین شرٹس تینوں پول میچوں میں ایک بھی فتح حاصل کرنے میں ناکام رہی، اور محض ایک پوائنٹ کے ساتھ ٹورنامنٹ سے باہر ہو گئی

قیادت کی تبدیلی کے باوجود قومی ٹیم کا زوال جاری

پاکستان بمقابلہ انگلینڈ :ٹیسٹ سیریز2026ء:غیر ملکی سر زمین پر پاکستان کی غیر معیاری کارکردگی ،دس بیرونِ ملک ٹیسٹ میچوں میں نویں شکست:دوسرے ٹیسٹ سے قبل پاکستانی ٹیم کو اپنی غلطیوں کا باریک بینی سے جائزہ لینا ہو گا، غیر ملکی دوروں پر مسلسل شکستوں کے سلسلہ کو توڑنے کیلئے ٹاپ آرڈر کوکریز پر وقت گزارناہوگا

جشن سے آگے !

دیواروں پر لٹکی ہوئی کاغذ کی جھنڈیاں فر فر کی آوازیں پیدا کر رہی تھیں مگر زمین کا منظر کچھ اور ہی تھا۔عارف کے قدم اپنی جگہ منجمد ہو چکے تھے۔

ماں کی شان

حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے حضور پاکﷺ سے دریافت کیا کہ رشتہ داروں میں سے میرے حسن سلوک کا سب سے زیادہ مستحق کون ہے؟

ہُد ہُد: قدرت کا حسین اور منفرد پرندہ

ہدہد ایک نہایت خوبصورت، منفرد اور دلکش پرندہ ہے، جس کا ذکر قرآنِ کریم میں بھی حضرت سلیمان ؑکے واقعے کے حوالے سے ملتا ہے۔

وطن پیارا پیارا ، ہے آنکھوں کا تارا

وطن پیارا پیارا ، ہے آنکھوں کا تارا،وطن کے لیے ہم ، وطن ہے ہمارا