قائد اعظم محمد علی جناحؒ تاریخ کی وہ عظیم شخصیت جس نے نقشۂ عالم بدل دیا
قائد اعظم محمد علی جناح کے کردار اور پختہ شخصیت سے کون واقف نہیں ! ان کے کردار کی مثالیں انگریز اور ہندوں بھی دیا کرتے تھے ۔ایک امریکی مصنف سٹینلے الپرٹ قائد اعظم ؒ کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’’بہت کم لوگ تاریخ کا دھارا بدل کر دکھاتے ہیں ۔
دنیا کا نقشہ بدلنے والے معدودے چندہی دکھائی دیتے ہیں شاید ہی ایسی کوئی شخصیت ہو جس نے ایک مملکت تخلیق کی ہو۔محمد علی جناح ؒ نے یہ تینوں کارنامے انجام دئیے۔اس دور کے معروضی حالات میں پاکستان کا حصول گویاناممکن کو ممکن بنانااور ظلمتوں کا سینہ چیر کر روشنی حاصل کرنا تھا ۔حصول پاکستان کی جدوجہد کے دوران قائداعظم کو مغرور،خود پسند ،بھارت کا درہم برہم کنندہ، خودبین،بے لچک،مصالحت ناپسند،برطانیہ کا ایجنٹ اور نہ جانے کیا کیا کہا گیا۔لیکن اس کے باوجود کہ سیاست کو گندہ کھیل کہا جاتا ہے، قائداعظمؒ کے مخالف بلکہ ان کے بدترین دشمن بھی یہ تسلیم کرنے پر مجبور ہوئے کہ ’’He is Incorruptible‘‘ ’’ He is unpurchaseable‘‘ یعنی قائداعظم محمد علی جناحؒ کو نہ تو لالچ یا ترغیب سے رام کیا جاسکتا ہے نہ ہی خریدا جاسکتا ہے ۔
زیڈ اے سلہری نے اپنی ایک کتاب ’’مائی لیڈر‘‘ میں لکھا کہ جس انسان کو طرح طرح کے منفی القابات دیئے جاتے آخر اس کی وجہ کیا ہے!اس کا سبب یہ ہے کہ محمد علی جناحؒ کہتے تھے کہ مسلمانوں کو ہندوستان میں بحیثیت مسلمان جینے کا حق ہے نہ کہ ہندوئوں کے غلام بن کر‘‘
قائداعظم ؒکا کردار
ابتدائی تعلیمی دور میں دیر تک پڑھتے خوب محنت کر تے ۔جب سمجھایا گیا کہ اپنی صحت کا خیال رکھو اور حد سے زیادہ محنت نہ کرو تو فرمایا کہ اگر میں محنت نہیں کروں گا تو بڑا آدمی کیسے بنوں گا۔نوجوانی میں والدہ کے اصرار پر شادی کی اور اطاعت والدین کی مثال قائم کی ۔نوجوانی میں انگلستان میں قیام کے دوران والدہ کی وفات کا صدمہ حوصلے اور ہمت کے ساتھ برداشت کیااور تعلیم مکمل کر کے ہی انگلستان سے واپس آئے۔وکالت کے ابتدائی کٹھن سالوں میں انتہائی ثابت قدمی اور بردباری کا مظاہرہ کیا۔بطور وکیل محض فیس کی خاطر کبھی کوئی جھو ٹا مقدمہ قبول نہ کیا۔ ایک موکل کی دس ہزار میں سے ساڑھے چھ ہزار روپے فیس اس لئے واپس کر دی کہ فائل کا مطالعہ کم وقت میں کر لیا تھا۔ مقدمے کے سلسلے میں بھوپال گئے عدالت میں تاخیر سے پہنچے تو جونئیر وکیل کو بحث جاری رکھنے کی ہدایت کی۔ اسی دن مقدمے کا فیصلہ ہو گیا۔ آپ نے موکل کو فیس واپس کر دی۔ 1903ء میں ممبئی ہائی کورٹ میں ممبئی کارپوریشن کے صدر مسٹر میکڈونلڈ کی دھمکیوں کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے اسے اس کرسی پر سے اٹھا دیا جو وکیل کیلئے مختص تھی۔ ممبئی لارڈ ولنگٹن کے اعزاز میں منعقدہ استقبالیہ تقریب کو اس لئے ناکام بنا دیا کہ ان کے خیا ل میں مسٹر ولنگٹن ایسے اعزاز کا مستحق نہیں تھا۔انگلستان کے پریوی کونسل نے 1894ء میں وقف علے الاولاد کا قانون منسوخ کر دیا تھا ۔آپ نے امپیریل کونسل آف انڈیاکے رکن کی حیثیت سے وقف علے الاولاد بل کونسل میں پیش کیا اور منظور کروا لیااس سے پورے ہندستان میں آپ کی قابلیت کی دھاک بیٹھ گئی۔ 25فروری 1910 ء کو امپیریل کونسل کے اجلاس میں اپنی پہلی ہی تقریر کے دوران وائسرائے لارڈ منٹو سے ٹکرا گئے۔جنوبی افیریقہ میں ہندوستانی مزدوروں پر ہونے والے ظلم پر بحث ہو رہی تھی۔قائداعظمؒ نے سخت الفاظ میں مظالم کی مذمت کی وائسرائے نے کہا کہ حکومت ہند کی دوست حکومت کے بارے میں سخت الفاظ استعمال نہ کئے جائیں ۔قائد اعظمؒ نے فرمایا کہ کونسل کے ضوابط اجازت دیتے تو وہ اوربھی زیادہ سخت الفاظ استعمال کرتے۔پوری زندگی ہر سطح پر نہایت بیباکی سے گفتگو کی اور اس امر کی پرواہ نہیں کی کہ مخاطب وائسرائے ہے ، گورنر جنرل ہے یا کوئی اور؟
عدالت میں انگریز مجسٹریٹ نے کہہ دیا کہ مسٹر جناح آپ کسی ٹھرڈ کلاس مجسٹریٹ کے سامنے دلائل نہیں دے رہے آپ نے ترکی بہ ترکی جواب دیا کہ جناب آپ کے سامنے بھی کوئی ٹھرڈ کلاس وکیل دلائل نہیں دے رہا۔آپ پر قاتلانہ حملہ ہوا ہمت کر کے قاتل کو خود ہی قابو کر لیا اور بعد ازاں اسے معاف کردیا ۔کام کی زیادتی نے آپ کی صحت پر اثر ڈالا تھا ۔تقسیم ہند کے آخری مراحل میں کام اور بھی بڑھ گیا۔فیملی ڈاکٹر نے ٹی بی کے مہلک مرض کی نشاندہی کی آپ نے ڈاکٹر سے کہا کہ وہ بیماری کو صیغہ راز رکھیں۔بالآخر انہوں نے پاکستان کا معرکہ سر کر لیا ۔نوزائیدہ پاکستان کی گاڑی چلانے کے لیے پہلے سے بھی زیادہ محنت کی ضرورت تھی۔ڈاکٹر آرام کا مشورہ دیتے تھے مگر آپ نے پاکستان کو اپنی صحت بلکہ اپنی زندگی پر ترجیح دی ۔اعلیٰ کردار کی ایسی تابناک مثالیں تاریخ میں کم ہی ملتی ہیں۔
جمہوریت پسندی
مخالفین سے اور تو کچھ بن نہیں پڑتا تھا چنانچہ ان کے رویے کو ہدف تنقید بنا تے تھے۔سرمحمد یامین خان لکھتے ہیں 22مارچ 1940ء کو سجیکٹس کمیٹی کے اجلاس میں قرارداد لاہور پر غور ہو رہا تھا تو ایک رکن خان صاحب شیخ رشید احمد نے قائداعظمؒ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’’ ہم تو آپ کو لیڈر مان چکے ہیں اب آپ جو کہیں گے اسے آنکھیں بند کر کے منظور کر لیں گے ــ‘‘ قائداعظم نے اس پر ناراضگی کا اظہار کیا اورفرمایا کہ آپ لوگ تمام ہندوستان سے اس لئے آئیں ہیں کہ اپنی اپنی رائے دیں ۔اس لئے نہیں کہ میں جو کہوں اسے آنکھیں بند کر کے منطور کر لیں۔اگر ایسا کرنا ہوتا تو میں اپنی رائے اخبار میں شائع کروا دیتا‘‘ ایک اجلا س میں آپ کو مسلم لیگ کا تا حیات صدر بنا نے کی تجویز پیش کی گئی مگر آپ نے اسے منظور نہ کیا۔
بصیرت
کرپس مشن کی ناکامی اور دوسری عالمگیر جنگ کے بعد میں برطانیہ کی حالت دیکھ کر گاندھی جی کے اصرار پر کانگرس نے ہندوستان چھوڑ دو تحریک شروع کر دی اور مطا لبہ کیا کہ بر طانیہ اقتدار کانگرس کو منتقل کرکے ہندوستان سے نکل جائے۔ 1942ء تک گاندھی جی سارا زور ’’ آزادی سے پہلے ہندو مسلم اتحاد‘‘ پر دیتے رہے اب انہوں نے پہلے آزادی بعد میں اتحاد کا مؤقف اپنا لیا۔قائد اعظم نے 31جولائی 1942ء کو ممبئی سے غیر ملکی پریس کے نام جاری کردہ بیان میں کہا ’’ کانگرس کی ورکنگ کمیٹی کی یہ قرارداد کہ برطانیہ ہندوستان چھوڑ دے ورنہ عوامی تحریک چلائی جائے گی انگریزوں کو بلیک میل کر کے ہندو راج قائم کرنے کی سازش ہے ۔ قرارداد کا مطلب یہ ہے کہ انگریز اقتدار ایسی حکومت کو دینے پر مجبور ہو جائیں جو بر طانوی سنگینوں کے سایہ میں ہندو راج قائم کر دے اور مسلمانوں اور دوسری اقلیتوں کو کانگرس کے رحم و کرم پر چھوڑ دے‘‘ یہ تھی قائد اعظم کی بصیرت جس نے کانگرس کے ہندو راج کے قیام کا منصوبہ ناکام بنا دیا اور اس دوران مسلم لیگ زیادہ منظم اور فعال جماعت کے طور پر ابھری۔
’’قائداعظم‘‘ کا لقب
قائداعظم محمد علی جناحؒ کو ’’قائد اعظم‘‘ کا لقب جن شخصیات نے دیا، اُن کی تفصیل درج ذیل ہے۔ انسائیکلو پیڈیا ’’پاکستانیکا‘‘ کے مطابق مولانا مظہر الدین نے جناح کو پہلی بار ’’قائداعظم‘‘ کالقب دیا تھا۔ دسمبر 1937ء میں مولانا نے محمد علی جناحؒ اور لیاقت علی خان کو دہلی میں استقبالیہ دیا اور اپنے ادارے کی جانب سے سپاس نامہ پیش کیا۔اس سپاسنامے میں جناح کو ’’قائد اعظم، فدائے ملک و ملت،رہنمائے ملت اور قائدملّت‘‘ جیسے خطابات سے نواز گیا۔ اس کے بعد تو مولانا نے جناح صاحب کے لقب ’’قائداعظم‘‘ کی باقاعدہ تشہیر شروع کردی تھی۔
مولانا مظہر الدین1888ء میں شیر کوٹ ضلع بجنور میں پیدا ہوئے اسی مناسبت سے ’’مولانا شیر کوٹی‘‘ کہلاتے تھے۔انہوں نے1920ء میں اپنا ہفتہ وار اخبار’’الامان‘‘ جاری کیا اور تحریک خلافت کی پُر زور حمایت کی بلکہ ضلع بجنور کی خلافت کمیٹی کے صدر بھی رہے۔1935ء میں مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی اور مسلم لیگ کی سرگرمیوں اور تحریک پاکستان کو گھر گھر پہنچانے کیلئے اپنا اخبار’’وحدت‘‘جاری کیا۔ 1937ء میں مولانا مظہر الدین نے محمد علی جناح کو ’’قائداعظم‘‘ کالقب دیا۔
اسی انسائیکلوپیڈیا کے صفحہ نمبر720کے مطابق میاں فیروز الدین نے سب سے پہلے قائداعظم زندہ باد کانعرہ لگوایا۔ آل انڈیا مسلم لیگ کا26واں سالانہ اجلاس 26تا 29دسمبر 1938ء پٹنہ میں ہوا۔ وہیں26دسمبرکو جلسہ عام میں لاہورموچی گیٹ کے میاں فیروز الدین نے قائداعظم زندہ باد کانعرہ بلند کیا۔
اس کے بعد محمد علی جناحؒ کا عوامی اور مقبول نام’’قائداعظم‘‘ہی ہو گیا۔ آل انڈیا مسلم لیگ کے سابق آفس سیکرٹری مرحوم سید شمس الحسن اپنی تالیف ’’صرف مسٹر جناح‘‘ میں لکھتے ہیں:اگرچہ قائداعظم کسی قسم کے اعزاز کو ناپسند کرتے تھے لیکن جب برصغیر کے مسلمانوں نے انہیں قائداعظمؒکے خطاب سے پکارا تو وہ انہیں اس امر سے نہ روک سکے۔
ملا واحدی کے نزدیک محمد علی جناحؒ کو قائداعظم کا خطاب سب سے پہلے خواجہ حسن نظامی نے دیا۔اس ضمن میں وہ’’میرے زمانہ کی دلی‘‘، مطبوعہ 1958ء کے صفحہ پر لکھتے ہیں: ’’قائد اعظم کا لفظ سب سے پہلے خواجہ صاحب نے لکھا‘‘۔ قائد اعظم ہی ان کا نام بن گیا۔ یہ طے ہے کہ1940ء سے پہلے قائداعظم کا خطاب برصغیر میں اپنی گونج پیدا کرچکا تھا اور اس لقب کے سلسلے میں قیام پاکستان سے متعلق کتابوں میں مولانامظہر اور مولانا فیروز کا نام ہی آتا ہے۔
فرمان قائد
مجھے اس میں کوئی شک نہیں کہ اتحاد، یقینِ محکم اورتنظیم ہی وہ بنیادی نکات ہیں جو نہ صرف یہ کہ ہمیں دنیا کی پانچویں بڑی قوم بنائے رکھیں گے بلکہ دنیا کی کسی بھی قوم سے بہتر قوم بنائیں گے۔
(کراچی 28 دسمبر، 1947ء)
یہ آپ کا اختیار ہے کہ کسی حکومت کو طاقت عطاکریں یا برطرف کردیں لیکن اس کیلئے ہجوم کا طریقہ استعمال کرنا ہرگز درست نہیں ہے۔ آپ کو اپنی طاقت کا استعمال سیکھنے کیلئے نظام کو سمجھنا ہوگا۔ اگر آپ کسی حکومت سے مطمئن نہیں ہیں تو آئین آپ کو مذکورہ حکومت برطرف کرنے کا اختیاردیتا ہے لہٰذا آئینی طریقے سے ہی یہ عمل انجام پذیردیا جاناچاہئے۔
(ڈھاکا 21 مارچ، 1948ء)
ہم سب پاکستانی ہیں اور ہم میں سے کوئی بھی سندھی ، بلوچی ، بنگالی ، پٹھان یا پنجابی نہیں ہے۔ ہمیں صرف اور صرف اپنے پاکستانی ہونے پر فخر ہونا چاہئے۔
(جون 15، 1948ء)
انصاف اور مساوات میرے رہنما اصول ہیں، مجھے یقین ہے آپ کی حمایت اور تعاون سے ان اصولوں پر عمل پیرا ہوکر ہم پاکستان کو دنیا کی عظیم قوم بنا سکتے ہیں۔
(قانون ساز اسمبلی، 11 اگست 1947)
دنیا کی کوئی قوم اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتی جب تک اس کی خواتین مردوں کے شانہ بشانہ معاشرے کی تعمیر و ترقی میں حصہ نہ لیں۔ عورتوں کو گھر کی چار دیواری میں بند کرنے والے انسانیت کے مجرم ہیں۔
(مسلم یونیورسٹی یونین 1944ء)
پاکستان کی داستان، اس کیلئے کی گئی جدوجہد اور اس کا حصول،رہتی دنیا تک انسانوں کیلئے رہنما رہے گی کہ کیسے عظیم مشکلات سے نبرد آزما ہوا جاتا ہے۔
(چٹاگانگ 23 مارچ ، 1948ء)
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments