مسائل اور ان کا حل
بچے کی ولادت کے بعد پاکی کی مدت سوال :بچے کی ولادت کے بعد عورت کتنے دن بعد پاک ہوتی ہے؟( محمد جمیل، لاہور) جواب:نفاس(بچے کی ولادت کے بعد ناپاکی کے خون ) کی زیادہ سے زیادہ مدت چالیس دن ہے ، اور کم ازکم مدت کی حد نہیں ہے، لہٰذا اگر بچہ کی ولادت کے بعدچالیس دن سے پہلے خون بند ہو جائے تو عورت پر غسل کرکے نماز پڑھنا فرض ہو گا۔
وضو کے بغیر بچے کے کان
میں اذان و اقامت
سوال:کیا وضوکے بغیربچے کے کان میں اذان و تکبیرپڑھ سکتے ہیں؟(زبیر ظہیر،کراچی )
جواب:پڑھ سکتے ہیں تاہم وضو کے ساتھ اذان دینا افضل ہے (طحطاویٰ علی مراقی الفلاح، ص:197)۔
سرکاری نوکری پر اپنی
جگہ کسی اور کو مقرر کرنا
سوال :اگر افسران سے مل کر اپنی سرکاری نوکری پر اپنی جگہ کسی اورکو مقرر کیا جائے اور خود کام پر نہ جائے تو شرعاً یہ کیسا ہے ؟
جواب :افسران بالاکی چشم پوشی یاان سے ملی بھگت کے ذریعے ڈیوٹی سے بالکل غیر حاضر رہنا یا ان کے کہنے یارضامندی پرکسی کواپنانائب بنا کر بھیجنا بھی شرعاً جائز نہیں،البتہ اگرسرکاری قانون میں نائب مقررکرنے کی اجازت ہو تو ایسا کرنادرست ہوگا ورنہ ہرگز جائز نہیں ۔
نمازِجنازہ کیلئے تیمم کرنا
سوال:اگر نمازِجنازہ کا وقت ہو جائے اور تین چار دفعہ وضوکیالیکن پھربھی وضوقائم نہ رہے توکیا نمازِ جنازہ اسی حالت میں پڑھے یا چھوڑ دے؟ (فرحان ،میانوالی)
جواب:نمازجنازہ کیلئے بھی طہارت ضروری ہے، اس لئے اگروضوکرنے میں نمازجنازہ کے فوت ہونے کا اندیشہ ہوتوآپ تیمم کرکے بھی شریک ہوسکتے ہیں ،بشرطیکہ آپ میت کے ولی نہ ہوں کیونکہ ولی کیلئے وضوکرکے ہی نمازجنازہ پڑھنے کاحکم ہے۔(درالمختار، 1؍305)
شوہر کے مرنے کے بعد
بیوی کیلئے چہرہ دیکھنا
سوال :کیابیوی شوہر کے مرنے کے بعد اس کا چہرہ دیکھ سکتی ہے؟نیز غسل دینے کا بھی بتا دیں کہ کیا بیوی اپنے شوہر کی میت کو غسل دے سکتی ہے ؟(جنید نعیم ،کراچی)
جواب :دیکھ سکتی ہے اور اسے غسل بھی دے سکتی ہے ۔(وفی الدرالمختار)
نماز کے بعد سر پر
ہاتھ رکھ کر دعا پڑھنا
سوال:۔کیانمازکے بعدسرپرہاتھ رکھ کر اذکار کرنا کسی حدیث سے ثابت ہے؟ (عمر عزیز)
جواب:حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ جب آنبی کریمﷺ نمازسے فارغ ہوتے تھے تواپنے داہنے ہاتھ سے اپنی پیشانی پرمسح فرماتے اوریہ الفاظ پڑھتے تھے:’’اشھدان لاالہ الااللہ ھوالرحمن الرحیم اللھم اذھب عنی الھم والحزن‘‘۔ (کتاب الاذکارللنووی ص:35)، (فتاویٰ عثمانی 263/1)
ملازم کا پورا وقت ملازمت پر لگانا
سوال :گزارش ہے کہ اگر کوئی شخص کسی جگہ ملازم ہو اور وہاں صبح 8 سے شام6 تک کا وقت مقرر ہو مگر کسی وقت کام نہ ہو تو کیا اتنا وقت دینا پھر بھی ضروری ہے؟ورنہ تنخواہ کا کیا مسئلہ ہو گا؟ (اویس علی ،کراچی)
جواب :ملازم پرشرعاًلازم ہے کہ وہ مقررکردہ وقت ادارے کو دے اور کام دیانتداری سے سر انجام دے۔ اگر کوئی کام سپردنہ کیاجائے تب بھی وہاں موجود رہنا ضروری ہے، مقررہ وقت دیئے بغیرتنخواہ لینا شرعاً جائز نہیں(فی الھدایۃ، 3؍292)۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments