کشمیر کونسل انتخابات اور 16ویں آئینی ترمیم

تحریر : محمد اسلم میر


آزاد جموں وکشمیر میں نئی حکومت کے قیام کے بعد سیاسی سرگرمیوں میں تیزی ہے۔

 ایک طرف کشمیر کونسل کی چار خالی  نشستوں کے لیے مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے اپنے امیدوار میدان میں اتار دیے ہیں تو دوسری جانب وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر افتخار گیلانی نے ضلع بھمبر کا اپنا پہلا دورہ مکمل کر کے حکومت کے100 روزہ پروگرام کا آغاز بھی کر دیا ہے۔ کشمیر کونسل کی چار نشستوں پر 12 اکتوبر کو انتخاب ہوگا۔ مسلم لیگ (ن) نے پونچھ ڈویژن سے راجہ مشتاق احمد منہاس، میرپور ڈویژن سے چودھری محمد سعید اور مظفرآباد ڈویژن سے چودھری منظور احمد کو امیدوار نامزد کیا ہے جبکہ پیپلزپارٹی نے سابق سپیکر چودھری لطیف اکبر کو امیدوار بنایا ہے۔ کشمیر کونسل کا انتخاب عام انتخابات سے مختلف نوعیت کا ہوتا ہے۔ یہاں فیصلہ براہ راست عوام کے ووٹ سے نہیں بلکہ قانون ساز اسمبلی کے ارکان کے ذریعے ہوگا۔ اس لیے آئندہ چند روز میں سیاسی رابطے، جماعتی حکمت عملی اور اسمبلی ارکان کی حمایت خاص اہمیت اختیار کرے گی۔مسلم لیگ (ن) کی جانب سے تینوں ڈویژنوں سے امیدوار سامنے لانا بھی قابل توجہ ہے۔ پارٹی نے حالیہ عام انتخابات میں کامیاب نہ ہونے والے بعض اہم رہنماؤں کو کشمیر کونسل کے ذریعے سیاسی کردار دینے کا ارادہ کیا ہے۔ دوسری طرف پیپلز پارٹی نے چودھری لطیف اکبر کو میدان میں اتارا ہے۔ اب اصل سوال یہ ہے کہ اسمبلی کے اندر سیاسی جماعتیں اپنے امیدواروں کے لیے کتنی حمایت حاصل کر پاتی ہیں۔انتخابی عمل کا باقاعدہ آغاز یکم اکتوبر کو کاغذات نامزدگی جمع کرانے سے ہوگا جبکہ 12 اکتوبر کو ووٹنگ ہوگی۔ یوں آنے والے دنوں میں قانون ساز اسمبلی آزاد کشمیر کی سیاست کا مرکز بننے جا رہی ہے۔ادھر وزیراعظم آزاد کشمیر افتخار  گیلانی کے بھمبر دورے نے حکومت کے انتظامی ایجنڈے کو نمایاں کیا ہے۔ 

وزیراعظم نے مختلف ترقیاتی اور فلاحی منصوبوں  کا جائزہ لیا، دانش سکول اور فری ڈائیلاسز سینٹر کا معائنہ کیا اور ضلع میں جاری منصوبوں کے بارے میں بریفنگ لی۔ حکومت نے سو روزہ پروگرام میں تعلیم، صحت، انفراسٹرکچر، شہری سہولیات، سیاحت اور عوامی ریلیف کو ترجیحات قرار دیا ہے۔ بھمبر میں گرین بس سروس، صحت کی سہولیات، سڑکوں کی بہتری اور دیگر ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ اس پروگرام کا حصہ ہے۔ وزیراعظم نے کلری کو سب ڈویژن کا درجہ دینے اور پانچ سالہ ترقیاتی منصوبہ بنانے کے حوالے سے بھی حکومتی ارادے کا اظہار کیا  ہے۔ 

اب ان اعلانات کی عملی صورت اور مقررہ مدت میں تکمیل حکومت کی کارکردگی جانچنے کا اہم پیمانہ ہوگی۔بھمبر کا دورہ  اس لیے بھی اہم ہے کہ نئی حکومت اپنے ابتدائی مرحلے میں دارالحکومت سے نکل کر اضلاع کی طرف متوجہ ہو رہی ہے۔ آزاد کشمیر کے عوام کی بنیادی توقع یہی ہے کہ حکومت کے اعلانات کا اثر سرکاری فائلوں سے نکل کر سڑک، ہسپتال، سکول اور روزگار کے میدان میں نظر آئے۔حکومت کے لیے سیاسی اور انتظامی دونوں محاذ اہم ہیں۔ کشمیر کونسل کا انتخاب اسمبلی کے  اندر جماعتی صف بندی کا امتحان ہوگا جبکہ سو روزہ پروگرام حکومتی کارکردگی کا۔ ایک طرف سیاسی جماعتیں ووٹوں کی گنتی میں مصروف ہوں گی اور دوسری طرف حکومت سے وعدوں کی تکمیل کا حساب مانگا جائے گا۔ آزاد کشمیر کی موجودہ سیاست کا اگلا مرحلہ اسی دہری پیش رفت سے تشکیل پائے گا۔ کشمیر کونسل کے انتخابات سیاسی صف بندی واضح کریں گے جبکہ حکومت کی ابتدائی کارکردگی اس کی انتظامی سمت متعین کرے گی۔

ادھرآزادکشمیر کے نومنتخب صدر ڈاکٹر محمد نجیب نقی خان نے 24 ستمبر کو اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا۔ چیف جسٹس آزاد کشمیر سپریم کورٹ جسٹس راجہ سعید اکرم خان نے ایوان صدر میں منعقدہ تقریب میں ان سے حلف لیا۔ ڈاکٹر محمد نجیب نقی خان  حلف سے قبل آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے اجلاس میں 32 ووٹ حاصل کر کے 23 ویں صدرمنتخب ہوئے تھے  جبکہ ان کے مدمقابل پیپلز پارٹی کے امیدوار چوہدری لطیف اکبر نے 13 ووٹ حاصل کیے۔ میاں نواز شریف نے آزاد کشمیر کے نومنتخب صدر کو ٹیلی فون کرکے منصب صدارت سنبھالنے پر مبارکباد دی اور کہا ہے کہ ان کا صدر آزاد کشمیر منتخب ہونا علاقے کے لیے نیک شگون ہے۔

مسلم لیگ(ن) کی حکومت نے 2016 سے 2021 کے دوران جو 13 ویں آئینی ترمیم منظور  کی تھی اب اس میں دوبارہ ترمیم کر کے ایک اور 16ویں آئینی ترمیم کو لانے کی تیاری جاری ہے۔ اس سلسلے میں محکمہ قانون نے ابتدائی مسودہ تیار کر لیا ہے۔ اس 16 ویں آئینی ترمیم سے کشمیر کونسل کو قانون سازی کے اختیار کی بحالی ، ممبران کشمیر  کونسل کی اسمبلی کے مشترکہ اجلاس میں شرکت لازمی جبکہ صدر کے انتخاب کے لیے کشمیر کونسل کے ممبرز کو ووٹ دینے کی اجازت اور کشمیر کونسل کے ممبرز کو وزارتیں دینے کے حوالے سے بھی مسودہ تیار کیا جا رہا ہے۔ تیرہویں آئینی ترمیم کی وجہ سے سب سے زیادہ نقصان حکومت آزاد کشمیر اور وفاق کے ساتھ اس کے تعلقات کو ہوا تھا ، اب ان میں بہتری لانے کے لیے 16 ویں آئینی ترمیم کا مسودہ اسمبلی میں پیش کر دیا گیا ہے اور اس پر بحث ہو گی اور پھر اسے کثرت رائے سے منظور کیا جائے گا۔ اس 16 ویں آئینی ترمیم کے ذریعے حکومت کے مشیران و معاونین خصوصی کی تعداد میں بھی اضافہ کیا جائے گا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...

کیاخیبر پختونخوا میں گورنر راج لگے گا؟

پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے اسلام آباد لانگ مارچ کی تاریخ 27ستمبر سے بڑھا کر چار اکتوبر کیے جانے کے بعد سیاسی صورتحال میں وقتی طور پر کسی حد تک تبدیلی ضرور آئی لیکن اس کے ساتھ ہی ایک نئی اور زیادہ پیچیدہ بحث بھی شروع ہو گئی ہے۔

بیرونی محاذ پر پذیرائی، اندرونی استحکام کب آئے گا؟

چاراکتوبر کے لانگ مارچ کے حوالہ سے پی ٹی آئی میں یکسوئی کا فقدان ہے اس لیے یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ پی ٹی آئی چار مارچ کو بھی لانگ مارچ کر سکے گی۔

سندھ کی سیاست میں کئی محاذ

نئے صوبوں کے معاملے پر سندھ کی سیاسی صورتحال میں ان دنوں کچھ ٹھنڈ نظر آرہی ہے لیکن چٹ پٹے بیانات پھر بھی آ ہی جاتے ہیں۔

سہیل آفریدی کی مشکلات

وزیراعلیٰ خیبرپختونخواگھر جارہے ہیں؟یہ وہ سوال ہے جو آج کل زبان زد عام ہے ۔وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کیسے جائیں گے؟ اس کے دو طریقہ کار ہو سکتے ہیں۔

بلوچستان : امن، ترقی اور عوامی حقوق

ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل، عوامی حقوق کا تحفظ، سیاسی اعتماد کی بحالی، امن و امان کا قیام اور معاشی سرگرمیوں کا فروغ ایک دوسرے سے الگ نہیں؛چنانچہ کوئٹہ میں جناح پیپلز میٹرو ٹرین سروس کا افتتاح صوبے کے کشیدہ حالات میں تازہ ہوا کا جھونکا سمجھا جارہا ہے۔

ڈیجیٹل لٹریسی، ہر خاتون کیلئے ضروری

آج کا دور ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل ذرائع کا دور ہے۔ موبائل فون، انٹرنیٹ، سوشل میڈیا، آن لائن بینکنگ، ڈیجیٹل تعلیم اور آن لائن خریداری ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکے ہیں۔