سہیل آفریدی کی مشکلات
وزیراعلیٰ خیبرپختونخواگھر جارہے ہیں؟یہ وہ سوال ہے جو آج کل زبان زد عام ہے ۔وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کیسے جائیں گے؟ اس کے دو طریقہ کار ہو سکتے ہیں۔
ایک تو یہ کہ وہ خود مستعفی ہوجائیں اور دوسرا یہ کہ عدالتی فیصلے سے نااہل قرار پائیں۔ ان کے خلاف ابھی تک دو کیسز انتہائی اہم ہیں ، ایک نومئی ریڈیو پاکستان کے حوالے سے ہے جبکہ دوسرا شیرافضل مروت نے آئینی عدالت میں دائر کر رکھاہے ۔ ریڈیو پاکستان والے کیس میں پولیس کی جانب سے چالان پیش کئے جانے میں تاخیری حربے استعمال کئے جارہے ہیں لیکن اگر پولیس پر عدالتی دباؤ پڑتا ہے اور چالان پیش کردیاجاتا ہے جس کے بعد فرد جرم عائد ہوتی ہے، تو وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نااہل ہوسکتے ہیں ۔وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور علی امین گنڈاپور کے مابین گزشتہ روز ہونے والی ملاقات کو بھی اسی تناظرمیں دیکھاجارہا ہے۔ اس تمام منظرنامے میں علی امین گنڈاپور کی اہمیت بھی بڑھ گئی ہے۔ اس سے قبل کہاجارہاتھا کہ 27ستمبر کو لانگ مارچ کی تاریخ ملتوی کردی جائے گی ،اب موجودہ حالات میں چار اکتوبر کی تاریخ پر بھی شکوک وشبہات پائے جاتے ہیں ۔مقتدرہ اور وفاقی حکومت کا اس حوالے سے رویہ انتہائی غیرلچکدار اور سخت ہے۔ وفاقی حکومت میں موجود انتہائی اہم ذرائع کے مطابق گلوبل ٹیررازم انڈیکس میں پاکستان کے پہلے نمبر پر آنے کے بعد نرمی کے تمام امکانات ختم ہوگئے ہیں۔
دہشت گردی کے واقعات میں پاکستان صومالیہ اور دیگر ممالک سے بھی اوپر ہے اور اب یہ سوچ پختہ ہوگئی ہے کہ موجودہ سیاسی حالات میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابی ممکن نہیں ۔ایسے حالات میں اسلام آباد پر بار بار چڑھائی ، ملک کو مفلوج کرنے اورلانگ مارچ جیسی احتجاجی سیاست سے حکومت اور اداروں کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں یکسوئی متاثر ہورہی ہے ۔شنید ہے کہ پی ٹی آئی کی قیادت کو ساری صورتحال بتادی گئی ہے اور27 ستمبرکو لانگ مارچ ملتوی کرنے کی بڑی وجہ یہی ہے ۔وفاق میں یہ سوچ پائی جاتی ہے کہ ایسے میں جب خیبرپختونخوا میں دہشت گردی زوروں پر ہے صوبائی حکومت امن وامان کی صورتحال کو نظرانداز کرکے اسلام آباد پر چڑھائی کیسے کرسکتی ہے ۔دوسری طرف خیبرپختونخوا حکومت میں یہ سوچ پائی جاتی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف انہوں نے وفاق کو جو پلان دیا ہے وہ اس پر عملدرآمد کرنے کے لیے تیار نہیں اور صوبے کے ساتھ تعاون نہیں کیاجارہا۔
صوبے میں ایمرجنسی یاگورنر راج لگانے کے حوالے سے بھی غور کیاجارہا ہے اور اس حوالے سے خبریں گرم ہیں لیکن اس سے قبل پیپلزپارٹی گورنرراج کی مخالفت کرتی آئی ہے ۔ اب اگر وفاقی حکومت اس حوالے سے پراعتماد ہے تو کیا پیپلزپارٹی کو اعتماد میں لے لیاگیاہے ؟ہمارے ذرائع کاکہنا ہے کہ سکیورٹی کی موجودہ صورتحال میں پیپلزپارٹی بھی گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ کی راہ ہموار کرنے پر راضی ہوسکتی ہے بلکہ انہیں راضی کرلیاگیا ہے۔ پی ٹی آئی کے بعد جے یو آئی اس صوبے کی دوسری بڑی سیاسی سٹیک ہولڈر ہے ۔(ن) لیگ کے ذرائع کا دعویٰ ہے کہ جے یو آئی کو بھی اس پر راضی کرلیاگیا ہے، تاہم جے یوآئی سے اس بات کی تصدیق ہونا باقی ہے۔ اگرچہ موجودہ حالات میں یہ بات بعید ازقیاس لگتی ہے لیکن جو صورتحال خیبرپختونخوامیں بنی ہوئی ہے اس کے تناظرمیں اس امکان کو نظرانداز نہیں کیاجاسکتا۔گورنر راج میں کئی قانونی مسائل ہو سکتے ہیں لیکن اگر وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی ڈٹ جاتے ہیں جیسا کہ انہوں نے گزشتہ دنوں عندیہ دیا ہے تو پھر انہیں ہٹانے کا آپشن موجود ہے۔ لیکن یہاں یہ سوال پیدا ہوتاہے کہ اگر انہیں ہٹا دیاجائے تو ان کا متبادل کیا ہوگا؟کیا پھر کسی غیر معروف ایم پی اے کو منتخب کیاجائے گااورکیا اس سے احتجاجی سیاست کا سلسلہ رک جائے گا؟آخری سوال کا جواب نفی میں ہے۔
وزیر اعلیٰ کی تبدیلی سے یہ معاملہ نہیں رک سکتا بلکہ ہوسکتاہے اس بار کسی زیادہ سخت گیر شخصیت کاوزیراعلیٰ کی حیثیت سے انتخاب ہو۔اگر وفاقی آئینی عدالت کے فیصلے کے بعد علی امین گنڈاپور دوبار وزیراعلیٰ کی حیثیت سے آجاتے ہیں تو کیا پارٹی کے اندر ان کی پرانی حیثیت بحال ہوجائے گی؟کیابانی پی ٹی آئی انہیں تسلیم کرلیں گے ؟اگرایسا ہوتا ہے توپی ٹی آئی کے اندر ایک اورکشمکش شروع ہوجائے گی،مزید دھڑے بندیاں ہوں گے اور پارٹی پہلے سے زیادہ اختلافات کا شکار ہوجائے گی۔وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے مطابق انہوں نے صوبہ بھر میں بالخصوص پشاورمیں ترقیاتی منصوبے شروع کررکھے ہیں۔ ان منصوبوں کی لاگت 60 ارب روپے تک ہے اور آنے والے چند ماہ میں پشاور کا نقشہ بدل کر رکھ دیاجائے گا۔اس ملاقات میں ایک تاثر جو ابھر کر سامنے آیا وہ یہ تھا کہ بیوروکریسی کے رویے سے وہ خود بھی کچھ پریشان نظرآئے ۔ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ ہفتے اچانک سول سیکرٹریٹ کو سکیورٹی تھریٹ کے نام پر جیسے خالی کروایاگیا اس کی وہ تحقیقات کروارہے ہیں۔ دیکھاجارہاہے کہ یہ کس کی جانب سے کیاگیا۔اس بات سے ان کی بیوروکریسی پر کمزور گرفت کی تائید ہوئی ۔پشاور کے ایک پولیس افسر کانام لے کر انہوں نے یہ بھی کہاکہ وہ ابھی تک وزرا اور ایم پی ایز پر حملوں اور اغوا میں ملوث ملزمان کو نہیں پکڑ سکے۔ دیکھاجائے تو یہ بھی ان کی حکومت کی کمزوری ہے کہ دن دیہاڑے وزرا اور ارکان اسمبلی کو اٹھالیاجاتا ہے۔
اس حوالے سے انہوں نے کیااقدامات کئے؟کم سے کم یہ تو کیاجاسکتا تھا کہ پولیس افسروں سے باز پرس کی جاتی جنہوں نے بقول ان کے غفلت برتی ہے، لیکن ایسا کچھ نہیں کیاجاسکا۔صوبے میں حالات یہ ہیں کہ سپیکر کے طلب کرنے پر آئی جی خیبرپختونخوا پیش نہیں ہوتے اور ابھی انتظار پولیس ایکٹ میں ترامیم کی منظوری کا کیاجارہا ہے جسے کابینہ نے منظور کرلیاہے تاہم ابھی صوبائی اسمبلی سے اس کی منظوری لینی باقی ہے۔ یہ بات واضح ہے کہ بیوروکریسی پر حکومتی گرفت انتہائی کمزور ہو چکی ہے۔ جس طریقے سے مختلف اضلاع میں پی ٹی آئی کے جھنڈے سرکاری گاڑیوں کے ذریعے اتارے گئے وہ اس حکومت کی بے بسی کی واضح مثال ہے۔لیکن اس صورتحال میں ان سرکاری افسروں پر شدید دباؤ ہے جو غیر جانبدار رہنا چاہتے ہیں لیکن حالات انہیں کسی ایک پلڑے میں اپنا وزن ڈال کر جانداری اختیار کرنے پر مجبور کررہے ہیں۔
آنے والے چند دن نہ صرف خیبرپختونخوا بلکہ ملکی سیاست کے لیے بھی انتہائی اہم ہیں۔ صوبائی یاوفاقی حکومت کے کسی بھی انتہائی اقدام کی صورت میں اس کے اثرات پورے ملک کے سیاسی منظر نامے پر مرتب ہوں گے۔یہ بات بھی واضح رہے کہ گورنر راج یا ایمرجنسی کو صوبے کے عوام کسی بھی صورت منظورنہیں کریں گے، لہٰذا اس حوالے سے سوچ سمجھ کر قدم اٹھانا ہوگا۔اس بات کا قوی امکان ہے کہ ڈیڈلاک برقرار رہنے ،درمیانی رستہ نہ ہونے اور چار اکتوبرکونکلنے کی صورت میں پی ٹی آئی کو سیاسی قربانی دینی پڑے گی۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments