بلوچستان : امن، ترقی اور عوامی حقوق

تحریر : عرفان سعید


ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل، عوامی حقوق کا تحفظ، سیاسی اعتماد کی بحالی، امن و امان کا قیام اور معاشی سرگرمیوں کا فروغ ایک دوسرے سے الگ نہیں؛چنانچہ کوئٹہ میں جناح پیپلز میٹرو ٹرین سروس کا افتتاح صوبے کے کشیدہ حالات میں تازہ ہوا کا جھونکا سمجھا جارہا ہے۔

تاہم بزنس کمیونٹی کے مسائل کے حل کے لیے حکومتی وعدے، سیاسی جماعتوں کی جانب سے جمہوری و  آئینی حقوق پر زور اور صوبے میں بڑھتے ہوئے سیاسی و معاشی مسائل اس حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بلوچستان کی ترقی کے لیے صرف منصوبوں کا اعلان کر دینا کافی نہیں بلکہ ایک ایسا جامع اور متفقہ طرزِ حکمرانی ناگزیر ہے جس میں حکومت کی عملی کارکردگی، سیاسی جماعتوں کی تعمیری جدوجہد اور عوامی مفادات کو یکساں اہمیت حاصل ہو۔ صوبے کا مستقبل اسی وقت روشن ہوسکتا ہے جب سیاسی اختلافات کو جمہوری مکالمے کے ذریعے حل کیا جائے، ترقیاتی منصوبوں کو عوام کی حقیقی ضروریات سے ہم آہنگ کیا جائے اور امن، انصاف، روزگار اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کو اجتماعی ترجیحات میں شامل  کیا جائے۔گزشتہ دنوں کوئٹہ میں جناح پیپلز میٹرو ٹرین سروس کا آغاز ایک خوش آئند اقدام ہے۔یہ منصوبہ کوئٹہ میں شہری سفری سہولیات کے فروغ کے حوالے سے اہم پیش رفت ہے۔ کوئٹہ جیسے شہر میں جہاں آبادی کے پھیلاؤ، ٹریفک کے دباؤ،مہنگے سفر اور روزمرہ آمدورفت کے مسائل نے عام شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے، وہاں کم لاگت اور محفوظ سفری سہولت کی فراہمی عوامی ضرورت بھی ہے اور شہری ترقی کا تقاضا بھی۔ تاہم اس منصوبے کی حقیقی کامیابی کا انحصار صرف افتتاحی تقریب پر نہیں بلکہ باقاعدہ آپریشن، محفوظ سفر، مقررہ اوقات کی پابندی، مناسب کرایوں اور مسلسل دیکھ بھال پر ہوگا۔

حکومت بلوچستان کی جانب سے میٹرو ٹرین سروس کو دو ٹرینوں تک وسعت دینے اور مستقبل میں پشین، بوستان اور مستونگ تک توسیع کے امکانات پر کام کرنے کا اعلان اس منصوبے کے وسیع تر تناظر کو ظاہر کرتا ہے۔ بوستان انڈسٹریل اسٹیٹ تک ریلوے ٹریک کی تعمیر سے صنعتی سرگرمیوں اور نقل و حمل کے درمیان رابطہ مضبوط بنانے کی گنجائش موجود ہے۔اس گاڑی کا انجن اور بوگیاں پاکستان میں تیار کی گئیں۔ وزیر اعلیٰ کے مطابق درآمدی منصوبے پر 50 سے 60 ارب روپے لاگت آتی اور تین سے چار سال درکار ہوتے جبکہ مقامی ادارے کے ذریعے کام کرنے سے وقت اور وسائل کی بچت ہوئی۔ ملکی اداروں کی تکنیکی صلاحیت، مقامی وسائل اور پیشہ ورانہ مہارت کو مؤ ثر انداز میں بروئے کار لانا ترقیاتی منصوبوں کی لاگت کم کرنے اور اداروں کو مستحکم بنانے میں مددگار ہے۔

بلوچستان کی ترقی کا دوسرا بنیادی ستون معاشی استحکام اور کاروباری سرگرمیوں کا فروغ ہے۔ گورنر بلوچستان شیخ جعفر خان مندوخیل نے ایوان صنعت و تجارت کوئٹہ کے سالانہ جنرل باڈی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بزنس کمیونٹی کے کردار کو سراہا اور شاہراہوں کے تحفظ، کاروباری مسائل کے حل اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ بہتر تجارتی تعلقات کی ضرورت پر زور دیا۔ کاروباری طبقہ نہ صرف معیشت کو متحرک رکھتا ہے بلکہ بڑی تعداد میں لوگوں کے لیے روزگار کے مواقع بھی پیدا کرتا ہے۔بلوچستان کی جغرافیائی حیثیت، وسیع سرحدیں، معدنی وسائل، ساحلی پٹی اور  علاقائی تجارتی راستے اسے معاشی ترقی کے وسیع امکانات فراہم کرتے ہیں۔ تاہم ان امکانات سے استفادہ اسی وقت ممکن ہے جب شاہراہیں محفوظ ہوں، تجارتی سامان کی نقل و حرکت میں غیر ضروری رکاوٹیں نہ ہوں، سرحدی تجارت کے معاملات واضح ہوں اور کاروباری افراد کو پالیسیوں میں تسلسل اور انتظامی تعاون حاصل ہو۔ امن و امان کی غیر یقینی صورتحال کاروبار، سرمایہ کاری اور روزگار کے لیے مشکلات پیدا کرتی ہے اس لیے شاہراہوں کا تحفظ اہم ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ہمسایہ ممالک کے ساتھ تجارتی تعلقات بھی بلوچستان کی معیشت کے لیے اہم ہیں۔ اس ضمن میں سکیورٹی تقاضوں، قومی مفادات اور قانونی ضابطوں کو برقرار رکھتے ہوئے تجارت کے لیے قابلِ اعتماد نظام تشکیل دینا ضروری ہے۔بلوچستان کے سیاسی حالات پر مختلف جماعتوں کے تحفظات بھی اسی وسیع تر قومی بحث کا حصہ ہیں۔ نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے سیاسی عمل میں رکاوٹوں، پارلیمنٹ کی بالادستی، آئین کی حکمرانی اور صوبے کے سیاسی و معاشی حقوق کے تحفظ پر زور دیا ہے۔گزشتہ دنوں پریس کلب میں میر غوث بخش بزنجو اور میر حاصل خان بزنجو کے تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں طاقت کے ذریعے سیاسی اور سماجی مسائل حل کرنے کی حکمتِ عملی مشکلات کو مزید پیچیدہ کرسکتی ہے۔ڈاکٹر مالک بلوچ کے خیالات کو ایک سیاسی مؤ قف کے طور پر دیکھتے ہوئے یہ امر تسلیم کرنا ضروری ہے کہ کسی بھی وفاقی اکائی میں سیاسی استحکام کے لیے عوامی اعتماد، مؤثر نمائندگی اور آئینی اداروں کی فعالیت بنیادی عناصر ہوتے ہیں۔

جمعیت علمائے اسلام بلوچستان کے صوبائی امیر سینیٹر مولانا عبدالواسع کی جانب سے توئی باتوزئی ڈیم کو زرعی ترقی اور معاشی بہتری کا اہم منصوبہ قرار دینا بھی صوبے کی ترقی کے ایک بنیادی شعبے کی طرف توجہ دلاتا ہے۔ بلوچستان میں پانی کی قلت، بنجر زمینوں، بارشوں پر انحصار اور زرعی وسائل کی محدود دستیابی کے باعث آبی ذخائر کی تعمیر اور موجودہ منصوبوں کی تکمیل خصوصی اہمیت رکھتی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ عوامی نمائندگی کا بنیادی سرچشمہ ووٹ اور حقیقی مینڈیٹ ہے جبکہ ریکوڈک، سیندک اور اٹھارہویں آئینی ترمیم جیسے معاملات صوبے کے حقوق اور وسائل سے متعلق اہمیت رکھتے ہیں۔ ان معاملات پر سیاسی اختلافات اپنی جگہ لیکن یہ اصول اہم ہے کہ صوبائی وسائل کے استعمال، معدنی منصوبوں، وفاقی و صوبائی اختیارات اور عوامی نمائندگی سے متعلق فیصلے آئینی تقاضوں، شفافیت اور متعلقہ فریقوں کی بامعنی مشاورت کے ساتھ کیے جائیں۔ بلوچستان کے عوام امن، ترقی اور خوشحالی کے خواہاں ہیں۔ ان کی یہ خواہش اسی وقت حقیقت کا روپ دھار سکتی ہے جب اختلافات کو تصادم کے بجائے مکالمے سے حل کیا جائے۔

سیاسی نمائندگی کو عوامی اعتماد سے جوڑا جائے اور ترقیاتی وعدوں کو عملی نتائج میں تبدیل کیا جائے۔ حکومت، سیاسی جماعتوں، کاروباری طبقے اور تمام متعلقہ اداروں کو مشترکہ ذمہ داری  کا احساس کرتے ہوئے ایسے اقدامات کرنا ہوں گے جو موجودہ نسل کے لیے بہتر زندگی اور آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ، پرامن اور خوشحال بلوچستان کی بنیاد رکھ سکیں۔ یہی وہ مشترکہ راستہ ہے جو صوبے میں سیاسی استحکام، معاشی خودمختاری اور حقیقی عوامی ترقی کی راہ ہموار کرسکتا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...

کیاخیبر پختونخوا میں گورنر راج لگے گا؟

پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے اسلام آباد لانگ مارچ کی تاریخ 27ستمبر سے بڑھا کر چار اکتوبر کیے جانے کے بعد سیاسی صورتحال میں وقتی طور پر کسی حد تک تبدیلی ضرور آئی لیکن اس کے ساتھ ہی ایک نئی اور زیادہ پیچیدہ بحث بھی شروع ہو گئی ہے۔

بیرونی محاذ پر پذیرائی، اندرونی استحکام کب آئے گا؟

چاراکتوبر کے لانگ مارچ کے حوالہ سے پی ٹی آئی میں یکسوئی کا فقدان ہے اس لیے یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ پی ٹی آئی چار مارچ کو بھی لانگ مارچ کر سکے گی۔

سندھ کی سیاست میں کئی محاذ

نئے صوبوں کے معاملے پر سندھ کی سیاسی صورتحال میں ان دنوں کچھ ٹھنڈ نظر آرہی ہے لیکن چٹ پٹے بیانات پھر بھی آ ہی جاتے ہیں۔

سہیل آفریدی کی مشکلات

وزیراعلیٰ خیبرپختونخواگھر جارہے ہیں؟یہ وہ سوال ہے جو آج کل زبان زد عام ہے ۔وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کیسے جائیں گے؟ اس کے دو طریقہ کار ہو سکتے ہیں۔

کشمیر کونسل انتخابات اور 16ویں آئینی ترمیم

آزاد جموں وکشمیر میں نئی حکومت کے قیام کے بعد سیاسی سرگرمیوں میں تیزی ہے۔

ڈیجیٹل لٹریسی، ہر خاتون کیلئے ضروری

آج کا دور ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل ذرائع کا دور ہے۔ موبائل فون، انٹرنیٹ، سوشل میڈیا، آن لائن بینکنگ، ڈیجیٹل تعلیم اور آن لائن خریداری ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکے ہیں۔