پاکستان میں بیس بال کابڑھتا ہوا رجحان
27واں خاور شاہ مینز بیس بال چیمپئن شاہ کا میلہ 2تا 8نومبر قاسم باغ سٹیڈیم میں سجے گا:پاکستان ویمنز بیس بال ٹیم 20سے 23نومبر تک ملائشیا کے شہر کوالالمپور میں ملائشیا 2026ویمنز بیس بال چیمپئن شپ‘‘ میں شرکت کرے گی
وطن عزیز پاکستان میں کرکٹ کا کھیل جس تیزی سے مقبول ہوا، اب اسی تیزی سے کرکٹرز نے بیس بال کے میدانوں کا رخ کر لیا ہے، خصوصاً خواتین کھلاڑیوں کو کرکٹ میں زیادہ مواقع نہ ملنا بھی بیس بال کے فروغ کی ایک وجہ قرار دی جا سکتی ہے۔سابق ڈائریکٹر جنرل سپورٹس بورڈ پنجاب سید خاور شاہ (مرحوم) کو پاکستان میں بیس بال کا بانی کہا جاتا ہے ،جنہوں نے نہ صرف ملک میں دنیا کے اس مقبول ترین اولمپک کھیل کو شروع کیا بلکہ دنیا بھر کے میدانوں میں سبز ہلالی پرچم سربلند کرنے کیلئے اپنی ساری زندگی وقف کی۔ سرزمین اولیاء ملتان میں انہی کی خدمات کے اعتراف میں 27ویں خاور شاہ مینز بیس بال چیمپئن شپ کا میلہ کل 2نومبر 2026ء سے شروع ہو رہا ہے جو 8نومبر تک قاسم باغ سٹیڈیم میں جاری رہے گا۔ پاکستان فیڈریشن بیس بال(پی ایف بی) کے زیراہتمام اس اہم قومی ٹورنامنٹ کا انعقاد پنجاب بیس بال ایسوسی ایشن کررہی ہے۔ ملک بھر سے دفاعی چیمپئن پاکستان آرمی سمیت 10بہترین ٹیمیں کل سے ٹرافی کی جنگ کیلئے میدان میں اتریں گی۔ جن میں آرمی، واپڈا، ایچ ای سی، پولیس، پنجاب، سندھ، بلوچستان، خیبرپختونخوا، اسلام آباد اور گلگت بلتستان کی ٹیمیں شامل ہیں۔
بیس بال دنیا کے مقبول ترین بلے اور گیند (بیٹ اینڈ بال)کے کھیلوں میں سے ایک ہے جو نو، نو کھلاڑیوں پر مشتمل دو ٹیموں کے درمیان کھیلا جاتا ہے۔ اس کھیل کا بنیادی محور فیلڈنگ کرنے والی ٹیم کے پچر کی جانب سے مخالف ٹیم کے بیٹر کو گیند پھینکنا ہے، جسے بیٹر میدانِ عمل میں ہٹ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ کامیاب ہٹ کی صورت میں بیٹنگ کرنے والی ٹیم کے کھلاڑی چار بیسز کے دائرے پر دوڑ کر رنز اسکور کرتے ہیں، جبکہ فیلڈنگ کرنے والی ٹیم کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ بیٹرز اور بیس رنرز کو آئوٹ کرکے انہیں کھیل سے باہر کرے اور رنز بنانے سے روکے۔ جب فیلڈنگ ٹیم تین آئوٹ مکمل کر لیتی ہے تو دونوں ٹیمیں اپنے کردار تبدیل کر لیتی ہیں (یعنی فیلڈنگ کرنے والی ٹیم بیٹنگ پر اور بیٹنگ کرنے والی ٹیم فیلڈنگ پر آ جاتی ہے)اور یہ سلسلہ طے شدہ اننگز کے اختتام تک جاری رہتا ہے، جس کے آخر میں سب سے زیادہ رنز بنانے والی ٹیم کو فاتح قرار دیا جاتا ہے۔
بیس بال اٹھارویں صدی کے وسط میں انگلینڈ میں ارتقا پذیر ہوئی، جسے تارکین وطن شمالی امریکہ لے کر آئے، جہاں انیسویں صدی کے وسط تک منظم کلبوں اور طے شدہ قواعد و ضوابط کے تحت جدید بیس بال کی شروعات ہوئی۔ انیسویں صدی کے آخر سے اسے غیر سرکاری طور پر امریکہ کا قومی کھیل تسلیم کیا جاتا ہے۔ شمالی امریکہ کے علاوہ انیسویں اور بیسویں صدی کے دوران یہ کھیل باقی امریکہ اور ایشیا پیسفک خطے میں پھیلا اور اب یہ وسطی و جنوبی امریکہ، کیریبین اور مشرقی ایشیا بالخصوص جاپان، جنوبی کوریا اور تائیوان کے خطوں میں مقبول ترین کھیلوں میں شمار ہوتا ہے۔
پاکستان میں یوتھ ایجوکیشن اینڈ سپورٹس ویلفیئر سوسائٹی بیس بال میں خواتین کھلاڑیوں کی تربیت کر رہی ہے۔ حال ہی میں اس تنظیم نے ملک بھر سے باصلاحیت خواتین کھلاڑیوں کاانتخاب کر کے ایک ٹیم بنائی ہے جو 20سے 23نومبر تک ملائشیا کے شہر کوالالمپور میں ہونے والی ’’ملائشیا 2026ء ویمنز بیس بال چیمپئن شپ‘‘ میں شرکت کرے گی۔4نومبر سے راولپنڈی میں پاکستان فیڈریشن بیس (پی ایف بی) کے سیکرٹری جنرل طاہر محمود کی زیرنگرانی ان کے ٹریننگ کیمپ کا آغاز ہو رہا ہے۔
پاکستان میں کسی بھی کھیل کے ٹیلنٹ کی کمی نہیں ،تاہم سہولیات کافقدان کھلاڑیوں کی صلاحیتوں کو متاثر کرتا ہے، ایک طرف موجودہ وزیراعظم محمد شہبازشریف کئی بارملک میں کھیلوں کے فروغ اور ڈیپارٹمنٹل سپورٹس کی بحالی کے عزم کااظہار کرچکے ہیں تو دوسری طرف پاکستان واپڈا سپورٹس بورڈ کے حکام نے بیس بال کی ٹیم ختم کرنے کا اعلان کرکے کھلاڑیوں میں تشویش پیدا کردی ہے۔ اگر کھلاڑیوں سے روزگار چھین لیاگیا تو پھر فکر معاش انہیں کھیل کے میدانوں سے نکال سکتی ہے اور ایک نیا بحران پیدا ہوسکتا ہے۔ لہٰذا اب بھی وقت ہے کہ وزیراعظم، چیئرمین واپڈا اور دیگرحکام نوٹس لیں اور قومی کھلاڑیوں کو بیروزگار ہونے سے بچائیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments