خوشاب (ضلع سرگودھا)
اسپیشل فیچر
کلر کہار سے خوشاب 59میل ہے دو تین میل کا ٹکڑا کچا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ شیر شاہ سوری جب یہاںسے گزرا تو پانی کے ذائقے اور مٹھاس کو مِدنظر رکھتے ہوئے اس ٹائون کا نام خوش آب رکھا۔یہاں لوگ شادی بیاہ کے موقعوں پر دھریس ناچتے ہیں، کوئی بھی خوشی کا موقع ہو گوجرانوالہ، سیالکوٹ، گجرات اور گرد و نواح کے علاقوں میں لوگ بے خود ہوکر بھنگڑا ناچنا شروع کردیتے ہیں، مگر خوشاب، جھنگ اور ارد گرد کے علاقوں میں دھریس ناچا جاتا ہے۔ بھنگڑا ناچنے والے بھی موجود ہیں۔پاکستان کے تقریباً سبھی رقص ایسے ہیں جن میں گیت، ماہیے یا ڈھولے ضرور گائے جاتے ہیں۔ بھنگڑے میں بھی ڈھولے اور ماہیے ضرور گائے جاتے تھے لیکن اب یہ روایت ختم ہوتی جارہی ہے۔ اب بھنگڑے کے ساتھ گیت یا ماہیے کی آواز شاذ ہی سنائی دیتی ہے اس کی وجہ یہ کہ وہ علاقے جن کا تعلق خاص طور پر بھنگڑے سے ہے شہری رویوں کی زد میں ہیں اس لیے بھنگڑے کے ساتھ گانے کی روایت کم ہوتی جارہی ہے۔خوشاب میں گتے کا گھوڑا بنا کر اُن میں ایک آدمی کھڑا ہو کر ناچتا ہے۔ گتے کے گھوڑے بنانا اور نچانا بھی یہاں کی اہم اور پرانی روایت ہے۔خوشاب میں حضرت سخی سید احمد شاہ (المعروف دربار بادشاہاں) کا مزار ہے۔ ہر سال عید کے چاند کی گیارہویں تاریخ کا عرس ہوتا ہے۔ آپ کے متعلق مشہور ہے کہ آپ مشکیں بھر بھر کر لوگوں کو پانی پلایا کرتے تھے۔ آپ کو پانی سے بہت محبت تھی۔ آپ نے فرمایا تھا کہ جو بھی پانی بھرے گا۔ اس کی دُعا جلد منظور ہوگی اسی لیے لوگ آپ کے مزار پر نلکے سے پانی بھر بھر کر ٹنکی میں ڈالتے ہیں جس سے لوگ وضو کرتے اور نہاتے ہیں۔ آپ کے مزار کے ساتھ ایک مسجد بھی ہے۔ یہ بھی سننے میں آیا ہے کہ حضرت باہو آپ کے بزرگوں کے مُرید تھے اور انہوں نے مزار کے قریب ہی ایک جگہ چلّہ بھی کاٹا۔ یہاں کے لوگ یہ کہتے ہیں کہ حضرت باہو کا حکم ہے کہ حضرت سیّد احمد شاہ کے پاس حاضری دے کر آئیں۔ ساتھ ہی ایک احاطے میں حضرت سیّد احمد شاہ کے مالی کا مزار ہے جہاں لوگ جانوروں کے گلے میں ڈالنے والی گھنٹیاں چڑھاتے ہیں، سننے میں آیا ہے کہ یہ مالی آپ کے مزار کی حفاظت کیا کرتے تھے اور پھول چڑھاتے تھے۔ حضرت سیّد احمد شاہ کے دربار پر لوگ بکروں کے چڑھاوے بھی دیتے ہیں، نمک بھی چڑھاتے ہیں۔ اب بھی صحن میں نمک کا پیالہ پڑا رہتا ہے اور لوگ نمک کی ایک چٹکی ضرور کھاتے ہیں چوں کہ جوانی ہی میں وصال کرگئے اس لیے آپ کے مزار پر سر کی طرف خوب صورت اور چمک دار پگڑی ضرور رکھی جاتی ہے۔یہاں حضرت سیّد معروف شاہ کی آخری آرام گاہ بھی ہے جن کا عرس بھی ہوتا ہے۔خوشاب سے چھ میل کے فاصلہ پر شاہ پور میں شاہ شمس شیرازی کا مزار ہے چیتر کی 20 (مارچ، اپریل) میں یہاں بہت بڑا میلہ لگتا ہے۔حافظ دیوان کا مزار بھی ہے جہاں 31؍مارچ کو میلہ لگتا ہے۔میاں سلطان علی ننگیانہ کے مزار پر ماہِ رمضان کے ختم ہوتے ہی یعنی عید کو میلہ لگتا ہے۔نبی شاہ ہاڑ کی پانچ تاریخ کو میلہ لگتا ہے۔ آپ کا مزار بھیرے سے اس طرف چھ میل اور جھوریاں سے گیارہ میل کے فاصلہ پر ہے میلہ میں دوڑیں اور نیزہ بازی ہوتی ہے، ناچنے والیاں بھی آتی ہیں۔