مولانا سید مودودی اور جماعت اسلامی
اسپیشل فیچر
برصغیر بھر سے آنے والے ان لوگوں میں بڑے پائے کے علماء نہیں تھے البتہ ان میں سے چند ایک جید علماء اپنے علم اور تقویٰ میں ممتاز تھے*****26اگست 1941ء کو لاہور میں پورے برصغیر پاک و ہند سے کچھ لوگ جو پہلے ہی مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کی تحریروں سے متاثر تھے اور ماہنامہ’’ ترجما ن القرآن ‘‘کے ذریعے ان کے افکار و نظریات اور ان کی ذات گرامی سے بخوبی واقفیت بھی رکھتے تھے ٗ ان کی دعوت پر جمع ہوئے اور ایک مختصر سی نئی جماعت وجود میں لائے جو’’ جماعت اسلامی‘‘ کے نام سے قائم کی گئی ۔ اس جماعت کی پشت پر وہ فکری رہنمائی تھی جو کئی سال سے مولانا مودودیؒ انفرادی طور پر فراہم کر رہے تھے اور جس میں خود علامہ اقبال مرحوم کے مشورے بھی شامل تھے ۔ یہ بات کہ مولانا مودودیؒ اور علامہ اقبال ؒ کے درمیان کتنا تعلق تھا وہ اس امر سے واضح ہوجاتا ہے کہ جماعت اسلامی کا پہلا مرکز مشرقی پنجاب میں پٹھانکوٹ کے نزدیک ایک ’’دارالاسلام ‘‘نام کی اس بستی میں قائم ہوا جو مولانا مودودیؒ نے اس زمین پر بسائی تھی ۔جو زمین علامہ اقبال ؒ کو پنجاب کے ایک زمیندار چوہدری نیاز علی صاحب مرحوم نے پیش کی تھی کہ اس پر وہ دین کا کام کرنے کے لئے کوئی مرکز بنائیں ۔ علامہ اقبال ؒ نے مولانا مودودیؒ کو دعوت دی کہ وہ اس پر ایسا مرکز بنالیں ۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے جس کو نہ تو کوئی جھٹلا سکتا ہے اور نہ ہی اس کا کوئی انکار کرسکتا ہے ۔ یہ تاریخی حقیقت ان تمام اعتراضات اور الزامات کی بھی تردید کردیتی ہے جو پاکستان کی مخالفت کے سلسلے میں مولانا مودودیؒ پر لگائے جاتے ہیں ۔ مفکر پاکستان حضرت علامہ اقبال ؒ نے خود پورے برصغیرہند و پاک میں مولانا مودودیؒ کو اس قابل سمجھا کہ وہ ایک ایسی بستی اور مرکز کی بنیاد رکھیں جہاں سے برصغیر ہند و پاک کے مسلمانوں کی ٹھیک اور درست رہنمائی ہوسکے ۔جماعت اسلامی کی تنظیم کیوں قائم کی گئی ۔ اس کی کیا ضرورت تھی جبکہ اس وقت مسلم لیگ اور مسلمانوں کی دیگر جماعتیں پہلے ہی سے موجود تھیں ۔ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کوئی ایسے آدمی نہیں تھے کہ محض ایک اضافی جماعت بنانے کے لئے یا اپنی لیڈر شپ چمکانے کے لئے ان کو کسی جماعت کی یا کسی نئی جماعت کی ضرورت پڑتی ۔ انہوں نے ترجمان القرآن میں تفصیل کے ساتھ وہ وجوہات اور اسباب بیان کردیئے تھے جس کے نتیجے میں وہ اس فیصلے پر پہنچے کہ ایک ایسی نئی جماعت کی ضرورت ہے جو ان مقاصد کی حامل ہو اور اسی طریق کار پر کاربند ہو جو اللہ کے حکم پر حضور نبی کریم ﷺنے صحابہ کرامؓ کی معیت میں بنائی تھی ٗجس کے نتیجے میں ایک انقلاب برپا ہوا تھا۔ قرآن و حدیث میں بیان کردہ مقاصد کے حصول کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسنون طریق کار کے مطابق عمل کرنے والی ایک جماعت کی ضرورت تھی۔ حدیث میں ہے کہ اس امت کے آخر میں بھی اصلاح اسی طریقے پر ہوگی جس طریقے سے اس امت کی اصلاح ابتداء میں ہوئی تھی ۔ حضورنبی کریم ﷺنے جن مقاصد کے لئے اور جس طریق کار کی بنیاد پر جماعت بنائی تھی آج انہی مقاصد کے لیے اور اسی طریقہ کار کی بنیاد پرجو جماعت بنے گی تو امت کی اصلاح ہوسکے گی ۔ اللہ اور اس کے رسول ﷺنے امت کی جو ذمے داری بیان کی ہے اس کے لئے امت کو دوبارہ مجتمع اور متحد کرنا ناگزیر ہے اور اس کے لئے ایک منظم جماعت کی ضرورت ہے جس کی وضاحت مولانا مودودیؒ نے قرآن و سنت کی روشنی میں تاسیس جماعت سے پہلے کردی تھی ۔ یہ بات واضح ہونی چاہیے کہ مولانا مودودیؒنے اپنی طرف سے کوئی نئی فقہ نہیں دی ہے بلکہ قرآن و سنت کی رہنمائی میں امت مسلمہ کو ایک مقصد کی طرف متوجہ کیا ہے ۔پورے برصغیر ہندو پاک سے72-70آدمی اکٹھے ہوئے ۔ یہ لوگ کوئی بڑے پائے کے علماء نہیں تھے البتہ ان میں سے چند ایک جید علماء تھے جو اپنے علم اور تقویٰ میں ممتاز تھے ۔ چند ایک اچھے اور مخلص لوگ تھے اور کچھ ان میں عام لوگ بھی تھے جو مولانا مودودیؒکی تحریروں سے متاثر ہو کر آئے تھے لیکن ان تھوڑے سے لوگوں نے جو غریب تھے انتہائی قلیل سرمائے سے ایک نئی جماعت کی بنیاد رکھی ۔ انہوں نے اس جماعت کا کوئی عقیدہ اور کوئی مقصد اپنی طرف سے پیش نہیں کیا بلکہ کتاب و سنت کی روشنی میں جماعت کے عقیدے اور مقصد کا تعین کیا جو جماعت اسلامی کے دستور میں پوری تشریح کے ساتھ بیان کردیا گیا ہے کہ ہمارا عقیدہ لاالہ الااللہ محمدرسول اللہ ہوگا۔ یہ وہ عقیدہ ہے جو اللہ رب العالمین نے سکھایا ہے اور حضورنبی کریم ﷺنے امت کے ہرفرد کو اس کی تعلیم دی ہے ۔ مولانا مودودی نے اپنے عقیدے کے بارے میں وہی بتایا جس پر تمام امت کو مجتمع اور متحد کیا جاسکتا ہے ۔ کوئی بھی انکار نہیں کرسکتا کہ امت کا بنیادی عقیدہ صرف لاالہ الااللہ محمدرسول اللہ ہے جس پر پوری امت کو اکٹھا کیا جاسکتا ہے ۔ اس کی تشریح وہی معتبر اور درست ہے جو قرآن اور سنت میں کردی گئی ہے۔ عقیدے کی من مانی تشریحات ہی کے نتیجے میں اختلافات رونما ہوئے ہیں ۔کتاب و سنت کے مطابق عقیدے کی تفصیلی تشریح کے ساتھ ساتھ مولانا مودودیؒنے یہ بھی بتایا کہ جماعت اسلامی کا مقصد حقیقی کیا ہے؟انہوں نے واضح کیا کہ ہمارا مقصد صر ف اللہ رب العالمین کی رضا کا حصول ہے ۔ ہماری ساری جدوجہد اس لئے ہے کہ اللہ ہم سے راضی ہوجائے اور آخرت میں ہمیں فلاح اور کامیابی نصیب ہو ۔اللہ تعالیٰ کی رضا اور آخرت کی فلاح کے حصول کے لئے وہی طریق کار اپنا نا ہوگا جو حضورنبی کریم ﷺ نے اپنایا تھا ۔ اس طریق کار کی نشاندہی جماعت اسلامی نے واضح طور پر کردی ہے کہ دعوت صرف دعوت الی اللہ ہوگی ۔ لوگوں کو اللہ کی طرف بلائیں گے ۔ مولانا مودودیؒجماعت اسلامی یا کسی بھی حزب ‘ امیرجماعت یا کسی بھی شخصیت کی طرف نہیں بلائیں گے ۔ قرآن حکیم نے بھی اسی طریق کار کو درست قرار دیتے ہوئے دوٹوک طریقے سے بیان کردیا ہے۔’’اے نبی ﷺ ! آپ کہہ دیجیئے کہ میرا راستہ تو یہ ہے کہ میں اللہ کی طرف دعوت دیتا ہوں ۔ میں اور میری پیروی کرنے والے پوری روشنی میں اپنا راستہ دیکھ رہے ہیں۔‘‘(سورہ یوسف آیت ۱۰۸)ہم نے بنیادی طور پر دعوت الی اللہ کے لئے یہ جماعت بنائی ہے جماعت بذات خود مقصود نہیں ہے بلکہ دعوت الی اللہ کے اصل مقصود کے لئے ایک ذریعہ ہے ۔ علمائے کرام کے درمیان اس موضوع پر بڑی بحث و تمحیص ہوئی ہے کہ دعوت الی اللہ کے لئے کوئی جماعت بنانی درست ہے یا امت کا ہر فرد اس کام کو انفرادی طور پر انجام دے ۔ آخر وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ کسی گروہ کو منظم کئے بغیر دعوت کا یہ کام موثر نہیں ہوسکے گا ۔ اس کے لئے بہرحال ایک گروہ کومنظم اور تیار کرنا ناگزیر ہے لیکن ساتھ یہ بھی واضح طور پر کہا گیا کہ دعوت الی اللہ کے کام کے لئے تشکیل پانے والی کوئی بھی جماعت یہ دعویٰ نہیں کرے گی کہ اس میں شامل نہ ہونے والے لوگ غلط راستے پر ہیں ۔ چونکہ ایک منظم جماعت کی شکل میں دعوت الی اللہ کا کام کرنا حضورنبی کریم ﷺ کا طریقہ ہے چنانچہ اسی طریقے سے امت کی اصلاح کے لئے ہم جماعت کی صورت میں اکٹھے ہوئے ہیں ۔جن کو ہم سے اتفاق ہو وہ ہمارے ساتھ مل کر کام کریں اور جن کو ہم سے اتفاق نہ ہو انہیں چاہیے کہ وہ دعوت الی اللہ کے کام کو انجام دینے کے لئے بہرحال ایک اجتماعی اور منظم طریقہ اختیار کریں ۔ حضورنبی کریم ﷺ کے سوا کوئی بھی یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کہ جو میری اتباع نہ کرے وہ گمراہ ہے ۔ یہ بات صرف خدا کا نبی ہی کہہ سکتا ہے حضورنبی کریم ﷺ کے بعد کوئی دوسرا نبی آنے والا نہیں ہے اور کوئی امتی یہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ اس کا ساتھ دینے سے انکار کرنے والا گمراہ ہے ۔ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒنے کوئی نیامذہب ایجاد نہیں کیا ہے اور نہ کوئی نیا فرقہ بنایا ہے اور نہ لوگوں سے یہ کہا ہے کہ جو ہمارے ساتھ نہیں آئے گا وہ غلط یا گمراہ ہے۔جماعت اسلامی نے کتاب و سنت کی تعلیمات کے مطابق جو عقیدہ ‘ مقصد اور طریق کار اختیار کیا ہے اسی کے تحت وہ لوگوں کو اللہ کی طرف بلاتی ہے ۔ جو لوگ اس دعوت کو قبول کرلیتے ہیں حضورنبی کریم ﷺ کے طریقے کے مطابق جماعت ان کی فکری اور عملی تربیت اور ان کا تزکیہ نفس کرکے ان کے اندر سے نفاق ‘ تناقص اور دورنگی کو ختم کرنے اور اسلام کے انسان مطلوب کے اوصاف پیدا کرنے کی کوشش کرتی ہے ۔ اس طرح ان کی سیرت سازی کرکے انہیں ایک ایسے منظم گروہ میں ڈھال دیتی ہے جو معاشرے کی اصلاح کے لئے سرگرم عمل ہوجاتا ہے ۔ اسی منظم گروہ کے ذریعے اسلامی حکومت کے قیام کے لئے جدوجہد بھی جاری رکھی گئی ہے تاکہ اقتدار کی باگ ڈور غلط لوگوں سے اچھے لوگوں کی طرف منتقل ہوجائے ۔ حضورنبی کریم ﷺ نے ایک اسلامی حکومت بنائی تھی ۔ حکومت کی اصلاح بھی کی تھی اور قیادت غلط لوگوں سے لے کراچھے لوگوں کی طرف منتقل بھی کردی تھی تاکہ حکومت اچھے لوگوں کے ہاتھ میں ہو۔مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ ہمیشہ کوشاں رہے کہ امت متحد ہوجائے ۔ جو لوگ ان کے ساتھ نہ آسکے ان کے بارے میں کبھی انہوں نے یہ نہیں کہا کہ وہ غلط راستے پر ہیں ۔ جماعت اسلامی امت کو متحد کرنے کی ایک تحریک ہے جسے مولانا مودودیؒ نے شروع کیا تھا ۔ اگر جماعت اسلامی کوئی فرقہ ہوتی اور ہم کوئی مکتب فکر ہوتے تو ہم اتحاد اور اتفاق کے لئے کوئی خدمت انجام نہ دے سکتے ۔ یہ خدمت اسی لئے سرانجام دینے کے قابل ہیں کہ ہم نے کسی خاص مکتب فکر کے ساتھ اپنے آپ کو وابستہ نہیں کیا ہے۔اس وقت امت مسلمہ کو جو چیلنج درپیش ہے وہ یہ ہے کہ امریکہ نے پورے عالم اسلام کے خلاف ایک اعلان جنگ کر رکھا ہے۔وہ دنیا اور اس پر بسنے والی انسانیت پر اپنی مرضی اور استحصالی نظام مسلط کرنا چاہتا ہے۔ اس کے مقابلے میں مسلمانوں کے پاس اللہ رب العالمین کا عطا کردہ اسلام کا نظام رحمت موجود ہے۔ اس نظام کے قیام کے لیے مسلمانوں کو اتفاق اور اتحاد کی ضرورت ہے اس چیلنج کو قبول کرنے کے لیے امت مسلمہ کو یکجا اور یکسو کرنے کی ضرورت ہے۔ جماعت اسلامی اسی اتحاد کی داعی ہے۔ اسی لیے جماعت اسلامی نے کوئی الگ مذہب اور فرقہ نہیں بنایا تاکہ وہ امت سے الگ تھلگ ہو کر نہ رہ جائے بلکہ امت کے درمیان رہ کر مسلمانوں کو کلمہ توحید پر جمع کرکے حضور نبی کریم ﷺ کے طریق کار کے مطابق انہیں دعوت الی اللہ کے کام پر مامور کر دے تاکہ کرہ ارضی پر دوبارہ خلافت علیٰ منہاج النبوۃ قائم ہو سکے۔ وہی اسلامی حکومت جو صحابہ کرام ؓ کے مبارک دور میں خود رسول اللہ ﷺ اور ان کے بعد خلفائے راشدین نے قائم کی تھی ۔ ٭…٭…٭