مولانا سید مودودی اور جماعت اسلامی

مولانا سید مودودی اور جماعت اسلامی

اسپیشل فیچر

تحریر : قاضی حسین احمد


برصغیر بھر سے آنے والے ان لوگوں میں بڑے پائے کے علماء نہیں تھے البتہ ان میں سے چند ایک جید علماء اپنے علم اور تقویٰ میں ممتاز تھے*****26اگست 1941ء کو لاہور میں پورے برصغیر پاک و ہند سے کچھ لوگ جو پہلے ہی مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کی تحریروں سے متاثر تھے اور ماہنامہ’’ ترجما ن القرآن ‘‘کے ذریعے ان کے افکار و نظریات اور ان کی ذات گرامی سے بخوبی واقفیت بھی رکھتے تھے ٗ ان کی دعوت پر جمع ہوئے اور ایک مختصر سی نئی جماعت وجود میں لائے جو’’ جماعت اسلامی‘‘ کے نام سے قائم کی گئی ۔ اس جماعت کی پشت پر وہ فکری رہنمائی تھی جو کئی سال سے مولانا مودودیؒ انفرادی طور پر فراہم کر رہے تھے اور جس میں خود علامہ اقبال مرحوم کے مشورے بھی شامل تھے ۔ یہ بات کہ مولانا مودودیؒ اور علامہ اقبال ؒ کے درمیان کتنا تعلق تھا وہ اس امر سے واضح ہوجاتا ہے کہ جماعت اسلامی کا پہلا مرکز مشرقی پنجاب میں پٹھانکوٹ کے نزدیک ایک ’’دارالاسلام ‘‘نام کی اس بستی میں قائم ہوا جو مولانا مودودیؒ نے اس زمین پر بسائی تھی ۔جو زمین علامہ اقبال ؒ کو پنجاب کے ایک زمیندار چوہدری نیاز علی صاحب مرحوم نے پیش کی تھی کہ اس پر وہ دین کا کام کرنے کے لئے کوئی مرکز بنائیں ۔ علامہ اقبال ؒ نے مولانا مودودیؒ کو دعوت دی کہ وہ اس پر ایسا مرکز بنالیں ۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے جس کو نہ تو کوئی جھٹلا سکتا ہے اور نہ ہی اس کا کوئی انکار کرسکتا ہے ۔ یہ تاریخی حقیقت ان تمام اعتراضات اور الزامات کی بھی تردید کردیتی ہے جو پاکستان کی مخالفت کے سلسلے میں مولانا مودودیؒ پر لگائے جاتے ہیں ۔ مفکر پاکستان حضرت علامہ اقبال ؒ نے خود پورے برصغیرہند و پاک میں مولانا مودودیؒ کو اس قابل سمجھا کہ وہ ایک ایسی بستی اور مرکز کی بنیاد رکھیں جہاں سے برصغیر ہند و پاک کے مسلمانوں کی ٹھیک اور درست رہنمائی ہوسکے ۔جماعت اسلامی کی تنظیم کیوں قائم کی گئی ۔ اس کی کیا ضرورت تھی جبکہ اس وقت مسلم لیگ اور مسلمانوں کی دیگر جماعتیں پہلے ہی سے موجود تھیں ۔ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کوئی ایسے آدمی نہیں تھے کہ محض ایک اضافی جماعت بنانے کے لئے یا اپنی لیڈر شپ چمکانے کے لئے ان کو کسی جماعت کی یا کسی نئی جماعت کی ضرورت پڑتی ۔ انہوں نے ترجمان القرآن میں تفصیل کے ساتھ وہ وجوہات اور اسباب بیان کردیئے تھے جس کے نتیجے میں وہ اس فیصلے پر پہنچے کہ ایک ایسی نئی جماعت کی ضرورت ہے جو ان مقاصد کی حامل ہو اور اسی طریق کار پر کاربند ہو جو اللہ کے حکم پر حضور نبی کریم ﷺنے صحابہ کرامؓ کی معیت میں بنائی تھی ٗجس کے نتیجے میں ایک انقلاب برپا ہوا تھا۔ قرآن و حدیث میں بیان کردہ مقاصد کے حصول کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسنون طریق کار کے مطابق عمل کرنے والی ایک جماعت کی ضرورت تھی۔ حدیث میں ہے کہ اس امت کے آخر میں بھی اصلاح اسی طریقے پر ہوگی جس طریقے سے اس امت کی اصلاح ابتداء میں ہوئی تھی ۔ حضورنبی کریم ﷺنے جن مقاصد کے لئے اور جس طریق کار کی بنیاد پر جماعت بنائی تھی آج انہی مقاصد کے لیے اور اسی طریقہ کار کی بنیاد پرجو جماعت بنے گی تو امت کی اصلاح ہوسکے گی ۔ اللہ اور اس کے رسول ﷺنے امت کی جو ذمے داری بیان کی ہے اس کے لئے امت کو دوبارہ مجتمع اور متحد کرنا ناگزیر ہے اور اس کے لئے ایک منظم جماعت کی ضرورت ہے جس کی وضاحت مولانا مودودیؒ نے قرآن و سنت کی روشنی میں تاسیس جماعت سے پہلے کردی تھی ۔ یہ بات واضح ہونی چاہیے کہ مولانا مودودیؒنے اپنی طرف سے کوئی نئی فقہ نہیں دی ہے بلکہ قرآن و سنت کی رہنمائی میں امت مسلمہ کو ایک مقصد کی طرف متوجہ کیا ہے ۔پورے برصغیر ہندو پاک سے72-70آدمی اکٹھے ہوئے ۔ یہ لوگ کوئی بڑے پائے کے علماء نہیں تھے البتہ ان میں سے چند ایک جید علماء تھے جو اپنے علم اور تقویٰ میں ممتاز تھے ۔ چند ایک اچھے اور مخلص لوگ تھے اور کچھ ان میں عام لوگ بھی تھے جو مولانا مودودیؒکی تحریروں سے متاثر ہو کر آئے تھے لیکن ان تھوڑے سے لوگوں نے جو غریب تھے انتہائی قلیل سرمائے سے ایک نئی جماعت کی بنیاد رکھی ۔ انہوں نے اس جماعت کا کوئی عقیدہ اور کوئی مقصد اپنی طرف سے پیش نہیں کیا بلکہ کتاب و سنت کی روشنی میں جماعت کے عقیدے اور مقصد کا تعین کیا جو جماعت اسلامی کے دستور میں پوری تشریح کے ساتھ بیان کردیا گیا ہے کہ ہمارا عقیدہ لاالہ الااللہ محمدرسول اللہ ہوگا۔ یہ وہ عقیدہ ہے جو اللہ رب العالمین نے سکھایا ہے اور حضورنبی کریم ﷺنے امت کے ہرفرد کو اس کی تعلیم دی ہے ۔ مولانا مودودی نے اپنے عقیدے کے بارے میں وہی بتایا جس پر تمام امت کو مجتمع اور متحد کیا جاسکتا ہے ۔ کوئی بھی انکار نہیں کرسکتا کہ امت کا بنیادی عقیدہ صرف لاالہ الااللہ محمدرسول اللہ ہے جس پر پوری امت کو اکٹھا کیا جاسکتا ہے ۔ اس کی تشریح وہی معتبر اور درست ہے جو قرآن اور سنت میں کردی گئی ہے۔ عقیدے کی من مانی تشریحات ہی کے نتیجے میں اختلافات رونما ہوئے ہیں ۔کتاب و سنت کے مطابق عقیدے کی تفصیلی تشریح کے ساتھ ساتھ مولانا مودودیؒنے یہ بھی بتایا کہ جماعت اسلامی کا مقصد حقیقی کیا ہے؟انہوں نے واضح کیا کہ ہمارا مقصد صر ف اللہ رب العالمین کی رضا کا حصول ہے ۔ ہماری ساری جدوجہد اس لئے ہے کہ اللہ ہم سے راضی ہوجائے اور آخرت میں ہمیں فلاح اور کامیابی نصیب ہو ۔اللہ تعالیٰ کی رضا اور آخرت کی فلاح کے حصول کے لئے وہی طریق کار اپنا نا ہوگا جو حضورنبی کریم ﷺ نے اپنایا تھا ۔ اس طریق کار کی نشاندہی جماعت اسلامی نے واضح طور پر کردی ہے کہ دعوت صرف دعوت الی اللہ ہوگی ۔ لوگوں کو اللہ کی طرف بلائیں گے ۔ مولانا مودودیؒجماعت اسلامی یا کسی بھی حزب ‘ امیرجماعت یا کسی بھی شخصیت کی طرف نہیں بلائیں گے ۔ قرآن حکیم نے بھی اسی طریق کار کو درست قرار دیتے ہوئے دوٹوک طریقے سے بیان کردیا ہے۔’’اے نبی ﷺ ! آپ کہہ دیجیئے کہ میرا راستہ تو یہ ہے کہ میں اللہ کی طرف دعوت دیتا ہوں ۔ میں اور میری پیروی کرنے والے پوری روشنی میں اپنا راستہ دیکھ رہے ہیں۔‘‘(سورہ یوسف آیت ۱۰۸)ہم نے بنیادی طور پر دعوت الی اللہ کے لئے یہ جماعت بنائی ہے جماعت بذات خود مقصود نہیں ہے بلکہ دعوت الی اللہ کے اصل مقصود کے لئے ایک ذریعہ ہے ۔ علمائے کرام کے درمیان اس موضوع پر بڑی بحث و تمحیص ہوئی ہے کہ دعوت الی اللہ کے لئے کوئی جماعت بنانی درست ہے یا امت کا ہر فرد اس کام کو انفرادی طور پر انجام دے ۔ آخر وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ کسی گروہ کو منظم کئے بغیر دعوت کا یہ کام موثر نہیں ہوسکے گا ۔ اس کے لئے بہرحال ایک گروہ کومنظم اور تیار کرنا ناگزیر ہے لیکن ساتھ یہ بھی واضح طور پر کہا گیا کہ دعوت الی اللہ کے کام کے لئے تشکیل پانے والی کوئی بھی جماعت یہ دعویٰ نہیں کرے گی کہ اس میں شامل نہ ہونے والے لوگ غلط راستے پر ہیں ۔ چونکہ ایک منظم جماعت کی شکل میں دعوت الی اللہ کا کام کرنا حضورنبی کریم ﷺ کا طریقہ ہے چنانچہ اسی طریقے سے امت کی اصلاح کے لئے ہم جماعت کی صورت میں اکٹھے ہوئے ہیں ۔جن کو ہم سے اتفاق ہو وہ ہمارے ساتھ مل کر کام کریں اور جن کو ہم سے اتفاق نہ ہو انہیں چاہیے کہ وہ دعوت الی اللہ کے کام کو انجام دینے کے لئے بہرحال ایک اجتماعی اور منظم طریقہ اختیار کریں ۔ حضورنبی کریم ﷺ کے سوا کوئی بھی یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کہ جو میری اتباع نہ کرے وہ گمراہ ہے ۔ یہ بات صرف خدا کا نبی ہی کہہ سکتا ہے حضورنبی کریم ﷺ کے بعد کوئی دوسرا نبی آنے والا نہیں ہے اور کوئی امتی یہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ اس کا ساتھ دینے سے انکار کرنے والا گمراہ ہے ۔ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒنے کوئی نیامذہب ایجاد نہیں کیا ہے اور نہ کوئی نیا فرقہ بنایا ہے اور نہ لوگوں سے یہ کہا ہے کہ جو ہمارے ساتھ نہیں آئے گا وہ غلط یا گمراہ ہے۔جماعت اسلامی نے کتاب و سنت کی تعلیمات کے مطابق جو عقیدہ ‘ مقصد اور طریق کار اختیار کیا ہے اسی کے تحت وہ لوگوں کو اللہ کی طرف بلاتی ہے ۔ جو لوگ اس دعوت کو قبول کرلیتے ہیں حضورنبی کریم ﷺ کے طریقے کے مطابق جماعت ان کی فکری اور عملی تربیت اور ان کا تزکیہ نفس کرکے ان کے اندر سے نفاق ‘ تناقص اور دورنگی کو ختم کرنے اور اسلام کے انسان مطلوب کے اوصاف پیدا کرنے کی کوشش کرتی ہے ۔ اس طرح ان کی سیرت سازی کرکے انہیں ایک ایسے منظم گروہ میں ڈھال دیتی ہے جو معاشرے کی اصلاح کے لئے سرگرم عمل ہوجاتا ہے ۔ اسی منظم گروہ کے ذریعے اسلامی حکومت کے قیام کے لئے جدوجہد بھی جاری رکھی گئی ہے تاکہ اقتدار کی باگ ڈور غلط لوگوں سے اچھے لوگوں کی طرف منتقل ہوجائے ۔ حضورنبی کریم ﷺ نے ایک اسلامی حکومت بنائی تھی ۔ حکومت کی اصلاح بھی کی تھی اور قیادت غلط لوگوں سے لے کراچھے لوگوں کی طرف منتقل بھی کردی تھی تاکہ حکومت اچھے لوگوں کے ہاتھ میں ہو۔مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ ہمیشہ کوشاں رہے کہ امت متحد ہوجائے ۔ جو لوگ ان کے ساتھ نہ آسکے ان کے بارے میں کبھی انہوں نے یہ نہیں کہا کہ وہ غلط راستے پر ہیں ۔ جماعت اسلامی امت کو متحد کرنے کی ایک تحریک ہے جسے مولانا مودودیؒ نے شروع کیا تھا ۔ اگر جماعت اسلامی کوئی فرقہ ہوتی اور ہم کوئی مکتب فکر ہوتے تو ہم اتحاد اور اتفاق کے لئے کوئی خدمت انجام نہ دے سکتے ۔ یہ خدمت اسی لئے سرانجام دینے کے قابل ہیں کہ ہم نے کسی خاص مکتب فکر کے ساتھ اپنے آپ کو وابستہ نہیں کیا ہے۔اس وقت امت مسلمہ کو جو چیلنج درپیش ہے وہ یہ ہے کہ امریکہ نے پورے عالم اسلام کے خلاف ایک اعلان جنگ کر رکھا ہے۔وہ دنیا اور اس پر بسنے والی انسانیت پر اپنی مرضی اور استحصالی نظام مسلط کرنا چاہتا ہے۔ اس کے مقابلے میں مسلمانوں کے پاس اللہ رب العالمین کا عطا کردہ اسلام کا نظام رحمت موجود ہے۔ اس نظام کے قیام کے لیے مسلمانوں کو اتفاق اور اتحاد کی ضرورت ہے اس چیلنج کو قبول کرنے کے لیے امت مسلمہ کو یکجا اور یکسو کرنے کی ضرورت ہے۔ جماعت اسلامی اسی اتحاد کی داعی ہے۔ اسی لیے جماعت اسلامی نے کوئی الگ مذہب اور فرقہ نہیں بنایا تاکہ وہ امت سے الگ تھلگ ہو کر نہ رہ جائے بلکہ امت کے درمیان رہ کر مسلمانوں کو کلمہ توحید پر جمع کرکے حضور نبی کریم ﷺ کے طریق کار کے مطابق انہیں دعوت الی اللہ کے کام پر مامور کر دے تاکہ کرہ ارضی پر دوبارہ خلافت علیٰ منہاج النبوۃ قائم ہو سکے۔ وہی اسلامی حکومت جو صحابہ کرام ؓ کے مبارک دور میں خود رسول اللہ ﷺ اور ان کے بعد خلفائے راشدین نے قائم کی تھی ۔ ٭…٭…٭

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
عمر رسیدہ ونگ واکر 98 سالہ جنگی ہیرو کا حیرت انگیز کارنامہ

عمر رسیدہ ونگ واکر 98 سالہ جنگی ہیرو کا حیرت انگیز کارنامہ

زندگی کی آخری دہائیوں میں بھی حوصلہ اور عزم کی مثال قائم کرتے ہوئے دوسری عالمی جنگ کے ایک 98 سالہ سابق فوجی نے ایسا کارنامہ انجام دیا ہے جس نے دنیا بھر کے لوگوں کو حیران اور متاثر کیا ہے۔ انہوں نے کینسر کے مریضوں کی مدد کیلئے فنڈ اکٹھا کرنے کی خاطر ایک خطرناک وِنگ واکنگ (ہوائی جہاز کے پروں پر چلنے) کا مظاہرہ کیا اور اس عمل کے ذریعے ہزاروں پاؤنڈ جمع کرنے میں کامیاب رہے۔یہ بزرگ جنگی ہیرو نہ صرف اپنی طویل عمر کے باوجود غیر معمولی جسمانی جرات کا مظاہرہ کر رہے ہیں بلکہ انسانیت کی خدمت کے جذبے کو بھی زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ ان کا یہ اقدام اس بات کی روشن مثال ہے کہ عمر کسی بھی انسان کے عزم، ہمت اور نیک مقاصد کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتی۔98 سالہ شخص نے اپنی زندگی کا دیرینہ خواب پورا کیا کہ وہ ایک اڑتے ہوئے جہاز کے اوپر کھڑے ہو سکیں اور ساتھ ہی انہوں نے ایک عالمی ریکارڈ بھی قائم کر دیا۔ برطانیہ سے تعلق رکھنے والے ہیری ہیزمین نے آسمانوں کا سفر کیا اور تاریخ کے معمر ترین مرد وِنگ واکر بن گئے۔بے خوف بزرگ شہری نے یہ سنسنی خیز چیلنج اپنی مرحوم بیوی اور بیٹے کی یاد میں لیا، جو دونوں کینسر کے باعث وفات پا گئے تھے، اور اس کے ذریعے وہ ''لینوکس چلڈرنز کینسر فنڈ‘‘ کیلئے عطیات جمع کر رہے ہیں۔دوسری عالمی جنگ کے سابق فوجی ہیری، جنہیں جہاز کے اوپر مضبوطی سے باندھا گیا تھا، کے ساتھ طیارہ ایک ہزار فٹ سے زیادہ بلندی تک جا پہنچا اور برطانیہ کے دیہی علاقوں کے اوپر پرواز کرتا رہا۔ اس دوران ہیری نے نہ صرف دلکش مناظر سے لطف اٹھایا بلکہ تاریخ کے معمر ترین مرد وِنگ واکر بننے کا اعزاز بھی حاصل کیا۔انہوں نے کہا کہ میں خود کو پہلے سے ایک ہزار گنا مختلف اور 100 گنا بہتر محسوس کر رہا ہوں۔ یہ میری زندگی کا سب سے حیرت انگیز تجربہ تھا اور اگر ممکن ہو تو میں بغیر کسی ہچکچاہٹ کے اسے دوبارہ کرنا چاہوں گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ میں بچپن سے اس خواب کو دیکھ رہا تھا اور 98 سال کی عمر میں اسے حقیقت بنانا اور گنیز ورلڈ ریکارڈ ہولڈر بننا میرے وہم و گمان سے بھی بڑھ کر ہے۔گنیز ورلڈ ریکارڈز کے جج پروین پٹیل، جو اس کوشش کی نگرانی کیلئے موجود تھے، نے کہا کہ ہیری واقعی ایک متاثر کن شخصیت ہیں۔ وِنگ واکنگ جیسے جسمانی طور پر مشکل کام کو انجام دینا آسان نہیں، اور پھر ذہنی طور پر اتنی مضبوطی کہ آپ اس چیلنج کو پورا کر سکیں، یہ واقعی حیرت انگیز ہے۔ ہیری کو اس فضائی سفر کا خیال اس وقت آیا جب ان کے کیئر ہوم کی منیجر کیرولن سِسٹو نے ان سے اپنی خواہشات لکھنے کو کہا۔ جب اس نے دیکھا کہ وہ فلاحی کام کیلئے وِنگ واکنگ کرنا چاہتے ہیں تو اس نے ان کا خواب پورا کرنے کیلئے عملی اقدامات شروع کر دیئے۔ہیری نے اپنے بڑے دن کیلئے خود کو تیار کرنے کیلئے فزیو تھراپسٹ ریف کوول کے ساتھ کام کیا اور تقریباً 11 ماہ تک سخت محنت کرتے ہوئے اپنی جسمانی فٹنس کو بہتر بنایا۔ کیئر ہوم ایسٹ ہیم کیئر ہوم سے تعلق رکھنے والی کیرولن نے کہا کہ ہیری نے صرف وِنگ واک مکمل نہیں کیا بلکہ دنیا کی اس سوچ کو بدل دیا کہ 98 سال کی عمر میں کیا کچھ ممکن ہے۔ہیری نے اپنے اس خطرناک اور دلیرانہ اقدام کے ذریعے 5ہزار پاؤنڈ جمع کرنے کا ہدف رکھا تھا، لیکن انہوں نے یہ ہدف پہلے ہی عبور کر لیاتھا۔ لینزی بِڈویل، جو ''لینوکس چلڈرنز کینسر فنڈ‘‘ سے وابستہ ہیں، نے کہا کہ ہیری اس بات کا ثبوت ہیں کہ خوابوں کے پیچھے دوڑنے کیلئے کبھی بھی دیر نہیں ہوتی۔ 98 سال کی عمر میں انہوں نے جو کچھ حاصل کیا ہے وہ غیر معمولی سے کم نہیں۔ گزشتہ چند مہینوں میں مجھے انہیں جاننے اور اس چیلنج کے پیچھے ان کے عزم کو دیکھنے کا موقع ملا ہے۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ کینسر میں مبتلا بچوں کی مدد کیلئے رقم جمع کرتے ہوئے یہ کارنامہ انجام دینا اسے اور بھی خاص بنا دیتا ہے۔ ہیری واقعی ایک قومی سرمایہ ہیں، اور ہماری ٹیم اور وہ خاندان جن کیلئے وہ یہ رقم اکٹھا کر رہے ہیں، ہمیشہ ان کے شکر گزار رہیں گے۔98 سالہ جنگی ہیرو کا یہ حیرت انگیز کارنامہ اس حقیقت کا زندہ ثبوت ہے کہ حوصلہ، عزم اور جذبہ زندگی عمر کی قید سے آزاد ہوتے ہیں۔ ونگ واکنگ جیسے خطرناک اور سنسنی خیز مظاہرے میں حصہ لے کر انہوں نے نہ صرف ایک نئی مثال قائم کی بلکہ دنیا بھر کے لوگوں، خصوصاً بزرگ افراد کو یہ پیغام بھی دیا کہ خوابوں کی تکمیل اور نئی بلندیوں کو چھونے کیلئے عمر کوئی رکاوٹ نہیں۔ اُن کی جرات اور خود اعتمادی آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہے اور یہ سبق دیتی ہے کہ انسان اگر ارادہ مضبوط کر لے تو زندگی کے کسی بھی مرحلے میں غیر معمولی کامیابیاں حاصل کر سکتا ہے۔ 

گمشدہ بستیاں

گمشدہ بستیاں

خیال کیا جاتا تھا پاک و ہند میں تمدن کی بنیاد آریاؤں نے 1500 قبل مسیح میں ڈالی تھی۔ موہنجودڑو اور ہڑپہ کے آثار اور سندھ کی قدیم تہذیب کے بارے میں بہت سی معلومات حاصل ہوئیں۔1921ء میں رائے بہادر دیا رام ساہنی نے ہڑپہ کے مقام پر قدیم تہذیب کے چند آثار پائے۔ اس کے ایک سال بعد اسی طرح کے آثار مسٹر آر ڈی بینر جی کو موہنجودڑو کی سر زمین میں دستیاب ہوئے۔ اس کی اطلاع ہندوستانی محکمہ آثار قدیمہ کو ملی۔ محکمہ کے ڈائریکٹر جنرل سر جان مارشل نے دلچسپی کا اظہار کرتے ہوئے دونوں مقامات کی طرف توجہ دی؛ چنانچہ دیا رام ساہنی، ارنسٹ جے میکے اور محکمہ آثارقدیمہ کے دیگر حکام کے تحت کھدائی کا کام شروع ہوا۔ 1931ء میں فنڈ کی کمی کی وجہ سے کام روک دیا گیا۔ اس اثنا میں محکمہ نے دوسرے مقامات پر تلاش شروع کی جس میں بڑی کامیابی ہوئی اور پتہ چلا کہ یہ قدیم تہذیب موہنجودڑو اور ہڑپہ تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ صوبہ سندھ میں چنہودڑو ، جھوکر ، علی مراد اور آمری اور صوبہ پنجاب میں روپڑ اور بلوچستان میں نال اور کلی کے مقام پر بھی قدیم تہذیب کے آثار موجود ہیں۔ اس تہذیب کی وسعت اور معنویت کو 1922ء میں موہنجودڑو کی کھدائی سے پہلے سمجھا نہ جاسکا۔ 1950ء میں ڈاکٹر ایف اے خان نے کوٹ ڈیجی کی کھدائی کی۔ اس سے نئی چیزیں سامنے آئیں اور پرانے تصورات میں تبدیلی واقع ہوئی۔ کوٹ ڈیجی میں ہڑپہ کے پختہ دور سے بہت پہلے کی مدفون آبادی ملی۔ اس کی تہذیب کے زمانے کا تعین ریڈیو کاربن کے ذریعے کیا گیا تو پتہ چلا کہ یہ آبادی ہڑپہ سے بھی 800 سال پرانی ثقافت ہے۔ اس کے بعد پے درپے کھدائیاں ہوئیں جس سے یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچ چکی ہے کہ اس تہذیب کے سرچشمے اسی سر زمین میں تھے۔ اس کا دائرہ اثر شمال میں شمالی افغانستان کے علاقہ بدخشاں سے لے کر جنوب میں ساحل سمندر تک تھا۔ جہاں یہ بلوچستان کے ساحل سے لے کر کاٹھیاواڑ تک محیط ہے۔ پرانی کھدائیوں میں اس تہذیب سے وابستہ شہروں اور قصبوں کی تعداد بیالیس تھی۔ اب ان کی تعداد میں سینکڑوں کا اضافہ ہوچکا ہے۔ صرف چولستان میں ڈاکٹر رفیق مغل نے 363 مدفون بستیاں ڈھونڈی ہیں۔ جن کا تعلق اس تہذیب سے ہے۔ اس کے علاوہ سرائے کھولا ، جھنگ ، بٹھیال اور وادی سوات میں غالاگئی، وادی گومل کے کئی مقامات اور بلوچستان کے علاقہ کچھی میں مہر گڑھ میں اس تہذیب کے اثرات ملے ہیں۔ بھارت میں دریائے گھگھر (ہاکڑہ )اور اس کے معاون دریاؤں کے طاس کا علاقہ ان آثار سے پُر ہے۔ اس کے علاوہ جن مقامات سے اس تہذیب کے آثار ملے ہیں ان میں کالی بنگن ، سیسوال ، بانے والی منڈا اور دوسری بہت سی جگہیں شامل ہیں۔ ساحل کے قریب لوتھل اور رنگ پور بڑے شہر تھے۔ ان کے علاوہ چھوٹی بستیاں بہت زیادہ ہیں۔ اس تہذیب کا سب سے پہلے ملنے والا شہر ہڑپہ تھا اور اس وجہ سے اسے ہڑپہ سویلائزیشن بھی کہا جاتا ہے۔ دوسرا بڑا شہر موہنجودڑو تھا۔ بعد میں اب گنویری والا ملا ہے۔ جو ہڑپہ سے بڑا شہر ہے لیکن ماہرین زیادہ اہمیت ہڑپہ اور موہنجودڑو کو دیتے ہیں۔ اس تہذہب کے نمایاں شہر وں میں موہنجو دڑو، ہڑپہ کے علاوہ چنھودڑو ، ستکگن دڑو ، بالاکوٹ ، سوتکا کوہ ، ٹوچی ، مزینہ دمب ، سیاہ دمب ، جھائی ، علی مراد ، گنویری والا اور معتدد شہر شامل ہیں۔ان تہذیبوں میں برتن اور مہروں پر جانوروں کی شکلیں اور دفینوں پر ان کی ہڈیاں جانوروں کی کثرت سے موجودگی اور دوسرے لفظوں میں جنگلوں کی کثرت ان کے رہن سہن کے طریقوں کو آشکار کرتے ہیں۔ جانوروں میں گینڈے ، شیر ، دریائی بھینس اور ہاتھی کثیر تھے۔ ان کے علاوہ گھڑیال کا ثبوت ملا ہے۔ ریچھ کی بعض نسلیں ، بندر ، گلہری اور طوطا بھی ملا ہے۔ بارہ سنگھا اور ہرن بھی ملے ہیں۔ ہڑپہ اور موہنجو دڑو ہم عصر شہر تھے ، جو یقناً جڑواں دارالحکومت تھے۔ ان دونوں شہروں کے اندر بلند و بالا قلعے تھے۔ جو باقی ماندہ آبادی پر غالب نظر آتے تھے۔ ہر علاقے میں اوزان یکساں تھے۔ کانسی کی کلہاڑی کی بناوٹ اور بھالے کی شکل ایک جیسی تھی۔ اینٹوں کا سائز ، مکانوں کا نقشہ ، بڑی گلیوں کی ترتیب ، الغرض پورے شہر کی ٹاون پلاننگ ایک سی تھی۔ اس پر مستزاد یہ کہ صدیوں تک پرانی عمارتوں پر نئی عمارتیں ہو بہو ویسی کی ویسی بنتی رہیں۔ ایک گھر کی خارجی چار دیواری کئی صدیوں تک نہیں بدلی تھی۔ موہنجوداڑو میں کل نو رہائشی پرتیں نکالی گئیں۔ ان میں کئی جگہ سیلاب کی تباہ کاریوں کا ثبوت بھی ملتا ہے۔  

آج کا دن

آج کا دن

کلاک ٹاور1859ء میں برطانیہ کی پارلیمنٹ کی عمارت، ہاؤسز آف پارلیمنٹ، میں موجود مشہور کلاک ٹاور نے باقاعدہ طور پر وقت بتانا شروع کیا۔ اسی ٹاور میں دنیا کی معروف گھنٹی ''بگ بین‘‘ نصب ہے، جو آج لندن کی ایک اہم علامت سمجھی جاتی ہے۔ بگ بین دراصل گھنٹی کا نام ہے، لیکن عام طور پر پورے ٹاور کو اسی نام سے پکارا جاتا ہے۔ یہ گھڑی اپنی درستگی، خوبصورت تعمیر اور گونج دار آواز کے باعث دنیا بھر میں مشہور ہوئی۔ کوئٹہ زلزلہ31مئی 1935ء کو کوئٹہ جو اس وقت سلطنت برطانیہ کا حصہ تھا میں رات 2 سے 3بجے کے درمیان ایک خوفناک زلزلہ آیاجس نے پورے شہر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ زلزلے کی شدت7.7تھی۔ رپورٹس کے مطابق اس زلزلے کے نتیجے میں تقریباً60 ہزار افراد جاں بحق ہوئے۔ یہ 2005ء میں کشمیر میں آنے والے زلزلے تک جنوبی ایشیا میں آنے والے زلزلوں میں سب سے زیادہ خطرناک تھا۔ زلزلے کا مرکز علی جان، بلوچستان اس وقت کے برطانوی ہندوستان سے 4 کلومیٹر جنوب مغرب میں تھا۔کولڈ ہاربر کی جنگامریکی خانہ جنگی کے دوران ورجینیا میں 31 مئی 1864ء کو ایک جنگ لڑی گئی جسے '' کولڈ ہاربر‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔اس جنگ کے دوران سب سے اہم لڑائی 3جون کو لڑی گئی اور یہ یونین لیفٹیننٹ جنرل یولیسز کی آخری لڑائیوں میں سے ایک تھی۔جنگ کے دوران ایس گرانٹ کی اوور لینڈ مہم کو امریکی تاریخ کی سب سے خونریز، خطرناک اور یکطرفہ لڑائیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ کنفیڈریٹ جنرل رابرٹ ای لی کی فوج کی مضبوط حکمت عملی اور پوزیشن کی وجہ سے اتحادی افواج کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ امریکہ :بدترین سیلاب31مئی1889ء کو امریکہ کے علاقے پنسلوینیا کے قصبے میں ڈیم میں شگاف پڑ جانے کی وجہ سے سیلاب آیا۔ڈیم کئی دن کی مسلسل بارش کی وجہ سے دباؤ برداشت نہیں کر سکا اور پھٹ گیا۔پانی کے شدید بہاؤ کی وجہ سے سیلاب آگیا جس کی وجہ سے 2209افراد لقمۂ اجل بنے۔اس سیلاب کے نتیجے میں 513ملین ڈالر کا نقصان ہوا۔اس واقع کو امریکہ کی تاریخ میں پیش آنے والی بدترین آفات میں شمار کیا جاتا ہے۔کنکورڈ سروس کا اختتامکنکورڑ جہاز کو اب تک دنیا کا تیز ترین مسافر جہاز تصور کیا جاتا ہے۔ کنکورڈ نے اپنی پہلی فلائٹ2مارچ1969ء کو بھری جو کامیاب رہی ۔ کنکورڈ سروس شروع ہونے کے کچھ ہی عرصہ بعد اس جہاز کے ساتھ ایک خوفناک حادثہ پیش آیا جس کے نتیجے میں جہاز ائیرپورٹ سے کچھ فاصلے پر گر کر تباہ ہو گیا۔ اس حادثے کے بعد انتظامیہ کیلئے کنکورڈ سروس کو جاری رکھنا ناممکن ہوگیا اور 31 مئی2003ء کو اس سروس کا اختتام کر دیا گیا۔یوسین بولٹ کا ریکارڈ2008ء میں جمیکا کے شہرہ آفاق ایتھلیٹ یوسین بولٹ نے 100 میٹر دوڑ میں نیا عالمی ریکارڈ قائم کر کے دنیا کو حیران کر دیا۔ انہوں نے یہ فاصلہ صرف 9.72 سیکنڈ میں طے کیا۔ اس شاندار کارکردگی نے انہیں دنیا کا تیز ترین انسان بنا دیا۔ یوسین بولٹ اپنی برق رفتار دوڑ، منفرد انداز اور مسلسل کامیابیوں کے باعث عالمی شہرت حاصل کر چکے ہیں۔ ان کا یہ ریکارڈ ایتھلیٹکس کی تاریخ کا ایک یادگار لمحہ سمجھا جاتا ہے۔

ایئر فرائیر کے پوشیدہ نقصانات

ایئر فرائیر کے پوشیدہ نقصانات

کچھ غذائیں ایسی ہیں جنہیں ایئر فرائیر میں پکانا خطرناک ہو سکتا ہےایئر فرائیر آج کے دور کا ایک مقبول کچن اپلائنس بن چکا ہے، جس نے کم تیل میں تلی ہوئی اشیاء بنانے کو نہایت آسان اور صحت بخش بنا دیا ہے۔ گھروں میں لوگ تیزی سے اس جدید مشین کو اپنا رہے ہیں، تاہم ہر کھانے کی چیز اس میں پکانا مناسب نہیں ہوتا۔ ماہرین خوراک کے مطابق کچھ ایسی غذائیں بھی ہیں جو ایئر فرائیر میں پکانے سے نہ صرف ذائقہ اور ساخت خراب ہو جاتی ہے بلکہ صحت کیلئے بھی نقصاندہ ثابت ہو سکتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین بارہا اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ایئر فرائیر کے درست اور محفوظ استعمال کیلئے اس میں پکنے والی اور نہ پکنے والی غذاؤں کا واضح علم ہونا ضروری ہے۔آپ ایئر فرائیر میں تقریباً ہر چیز پکا سکتے ہیں۔ لیکن اگرچہ یہ زیادہ تر کھانوں کیلئے اچھا کام کرتا ہے، ماہرین کے مطابق کچھ ایسی غذائیں بھی ہیں جنہیں آپ کو اس میں ہرگز نہیں ڈالنا چاہیے۔ محقق جیمی ڈارو کے مطابق کچھ غذائیں ضرورت سے زیادہ گندگی پیدا کرتی ہیں اور بعض اوقات حفاظتی خطرہ بھی بن سکتی ہیں۔ پاپ کارناس فہرست میں سب سے اوپر پاپ کارن (popcorn) آتا ہے۔ اگر آپ فلم نائٹ کی تیاری کر رہے ہیں تو آپ شاید کچھ مکئی کے دانے ایئر فرائیر میں ڈالنے کا سوچیں۔ تاہم مسٹر ڈارو مشورہ دیتے ہیں کہ اس کیلئے مائیکروویو استعمال کیا جائے، ورنہ آپ کو کافی دیر انتظار کرنا پڑ سکتا ہے۔انہوں نے کہاکہ ایئر فرائیر میں پاپ کارن پکانا اکثر کامیاب نہیں ہوتا کیونکہ زیادہ تر ایئر فرائیر اتنا زیادہ درجہ حرارت حاصل نہیں کر پاتے کہ دانے پھٹ سکیں۔ مائیکروویو اس کام کو کہیں بہتر طریقے سے کرتا ہے۔ یہاں وہ مزید بتاتے ہیں کہ اور کون سی غذائیں ہیں جنہیں آپ کو اپنے ایئر فرائر میں ہرگز نہیں پکانا چاہیے۔پاستا اور پاستہ ساسیہ بات حیران کن نہیں کہ آپ ایئر فرائر میں کچا پاستا نہیں پکا سکتے، کیونکہ اسے پکانے کیئے اُبلتے ہوئے پانی میں ڈالنا ضروری ہوتا ہے۔اور اگرچہ پاستا کی چٹنی (Pasta Sauces) پکانا ناممکن نہیں ہے، لیکن یہ کافی گندا اور پیچیدہ عمل ہوتا ہے، اس لیے شاید یہ جھنجھٹ کے قابل نہیں۔ ڈارو کے مطابق آپ ایئر فرائر میں پہلے سے پکی ہوئی پاستا اور سوس کو دوبارہ گرم (reheat) کر سکتے ہیں، لیکن اس کام کیلئے مائیکروویو زیادہ مؤثر اور بہتر طریقہ ہے۔ٹوسٹ (Toast)پاستا سوس کی طرح، ایئر فرائر میں ٹوسٹ بنانا ناممکن نہیں ہے، تاہم نتائج ''ٹوسٹر کے مقابلے میں ممکنہ طور پر مایوس کن‘‘ ہو سکتے ہیں۔ڈاروکے مطابق ایئر فرائیر روٹی کو خشک کر سکتا ہے اور بریڈ کے ٹکڑے (crumbs) پکانے کے دوران ہوا کے دباؤ کی وجہ سے باسکٹ کے نیچے پھنس سکتے ہیں۔آپ کو اسے درمیان میں پلٹنا بھی پڑے گا۔ یہ سب محنت اس کے قابل نہیں ہوتی۔چاول (Rice)پاستا کی طرح، چاول کو شروع سے پکانے کیلئے پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ڈارو کہتے ہیں کہ ایئر فرائر ابالنے (boiling) اور بھاپ دینے (steaming) کیلئے بنیادی آلہ نہیں ہے۔ اس کیلئے بہتر ہے کہ آپ سلو کُکر یا چولہے پر برتن استعمال کریں۔دیگر غذائیںاس سے پہلے ماہرین نے ایسی غذاؤں کی فہرست بھی دی ہے جو ایئر فرائیر میں بہترین نتائج دیتی ہیں۔ بلاگر لیانا گرین، جنہوں نے ایئر فرائیر پر متعدد گائیڈز لکھی ہیں، نے بتایا کہ ایئر فرائیر میں ''ہارڈ بوائلڈ‘‘ انڈے (Hard boiled eggs) بھی بہترین طریقے سے بنائے جا سکتے ہیں۔اگرچہ ایئر فرائیر میں اُبلے ہوئے انڈے بنانا غیر معمولی لگتا ہے، لیکن یہ مستقل درجہ حرارت فراہم کرتا ہے جس سے انڈے ہر بار بہتر طریقے سے پک جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ آپ کو پانی اُبالنے کی بھی ضرورت نہیں رہتی۔ گرین کے مطابق ایئر فرائر کو 150 ڈگری سینٹی گریڈ پر 8 منٹ تک چلانے سے زردی نرم رہتی ہے، جبکہ 12 منٹ تک پکانے سے سخت کیا جا سکتا ہے۔ایک اور غیر متوقع غذائی آئٹم راویولی (ravioli) ہے، جو اگرچہ پاستا کی ایک قسم ہے، لیکن ایئر فرائیر میں یہ کرسپ ہو جاتا ہے۔ ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ راویولی کو پہلے پھینٹے ہوئے انڈے اور بریڈ کرمز میں کوٹ کریں، پھر اسے ایئر فرائیر میں 175 ڈگری سینٹی گریڈ پر تقریباً 10 منٹ تک پکائیں اور درمیان میں ایک بار پلٹ دیں۔اگرچہ زیادہ تر تازہ پنیر (Fresh Cheeses) ایئر فرائر میں جلد جل جاتے ہیں، لیکن ہالوومی (halloumi) اس میں محفوظ طریقے سے پکایا جا سکتا ہے کیونکہ اس کا پگھلنے کا درجہ حرارت زیادہ ہوتا ہے۔ گرین کے مطابق ایئر فرائیر کی زیادہ حرارت ہالوومی کی بیرونی تہہ کو بہترین طریقے سے کرسپ کر دیتی ہے جبکہ اندر سے یہ نرم رہتا ہے۔مزیدار میڈیٹیرینین ذائقہ حاصل کرنے کیلئے اس پر تھوڑا سا شہد ڈال دیں۔ میں اسے 200 ڈگری سینٹی گریڈ پر 8 سے 10 منٹ تک ایئر فرائی کرتی ہوں۔ایئر فرائیر کے استعمال میں ہونے والی عام غلطیاںبرطانوی کمپنی ''وچ‘‘کی انرجی ایڈیٹر ایملی سیمور کہتی ہیں کہ ایئر فرائیر عموماً استعمال میں آسان ہوتے ہیں، لیکن بہت سے لوگ اسے استعمال کرتے ہوئے کچھ غلطیاں کرتے ہیں۔ اگر آپ مشین کو زیادہ بھر دیں یا اسے صحیح طریقے سے صاف نہ کریں تو اس کے نتیجے میں چکن اور چپس اچھی طرح نہیں پکتے یا پورا کچن دھوئیں سے بھر سکتا ہے۔ 

استنبول

استنبول

استنبول اپنے ملک کا دارالحکومت تو نہیں لیکن ترکی میں اس شہر کی اہمیت جسم میں ایک دل کی طرح ہے۔ جس طرح کسی جسم میں دل کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا،اسی طرح استنبول شہر نے اپنی اہمیت اور حیثیت کا لوہا منوایا ہے۔ 2010ء میں اس شہر کو یورپ کے کلچر کا دارالخلافہ قرار دیا گیا۔ استنبول ایک ایسا شہر ہے جس کی نظیر روئے زمین پر کہیں نظر نہیں آتی۔ یہاں ہر طرف مظاہر قدرت اپنے جوبن پر نظر آتے ہیں۔ حّد نگاہ تک پھیلے ہوئے پہاڑی سلسلے ہوں یا بحرمر مر اور آبنائے باسفورس کا بنا ہوا ہالا، سب نے اس شہر کے گلے میں اپنے بازو دراز کر رکھے ہیں۔ یہ ایک ایسا بے مثال شہر ہے جہاں مشرق و مغرب باہم بغلگیر ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔ استنبول کے ایک طرف یورپ ہے تو دوسری طرف ایشیا، مشرقی طرف بحرئہ اسود ہے تو مغربی سمت بحر ئہ مر مر اور درمیان میں ایک ملکہ کا روپ دھارے آبنائے باسفورس محو رقص ہے۔ غرضیکہ استنبول شہر کے اطراف فطرت اپنی پوری حشر سامانیوں کے ساتھ گلہائے رنگ بکھیرے اپنے عروج پر نظر آتی ہے۔ استنبول نہ صرف یورپ اور ایشیاکا گیٹ وے ہے بلکہ اسی مقام پر آبنائے باسفورس پورے مشرقی یورپ کے درجن بھر ممالک کیلئے ایک اہم رول ادا کر رہی ہے۔ یہ حقیقت اس بات سے عیاں ہوتی ہے کہ آبنائے باسفورس سے 48ہزار سے زائد جہاز سالانہ گرزتے ہیں۔اس حقیقت سے اس بات کااندازہ لگانا مشکل نہیں کہ مشرقی یورپ بشمول روس کی معیشت کا انحصار کس قدر آبنائے باسفورس پر ہے۔ گویا کہ آبنائے باسفورس ان بیسیوں ممالک کی ترقی میں ایک شہ رگ کی حیثیت رکھتی ہے۔ کیونکہ آبنائے باسفورس استنبول کے درمیان سے گزرتی ہوئی یورپ اور ایشیاکے درمیان ایک حّد فاصل کا کردار ادا کرتی ہے۔ ان مشرقی یورپ کے ممالک کے کھلے سمندروں میں جانے کا بحر اسود کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں۔ اس لیے ان کے بحری جہازوں کی گزر گاہ سے ترکی کو کروڑوں ڈالر کی آمدنی حاصل ہو رہی ہے اور آبنائے باسفورس کے تالے کی چابی کی ملکیت کا اعزاز الگ ہے۔ استنبول کا شہر دو حصوں میں منقسم ہے۔ ایک یورپی حصہ اور دوسرا ایشیائی۔ ایشائی حصے کو شاخ زریں (Golden Horn )مزید دو حصوں میں تقسیم کرتی ہے۔ شہر کا قدیمی حصہ اسی علاقے میں واقع ہے۔ جہاں پر استنبول کی 65فیصد آبادی رہائش پذیر ہے۔ جبکہ ترکی کی 18فیصد آبادی صرف استنبول شہر میں آباد ہے۔ کیونکہ استنبول کا شہر یورپی ایشیائی حصوں اور سمندر میں گھرا ہوا ہے۔ اس لیے استنبول شہر کو''اے کلچرل سٹی آف سی، سن اینڈ سینڈ‘‘ کہا جاتا ہے۔ گویا کہ یہ شہر بحرو بر کا جا مع ہے۔ اگر گھنی آبادی اور پہاڑوں سے جب کبھی جی بھر جائے تو آبنائے باسفورس کے ساحل پر آکر لطف اندوز ہوا جا سکتا ہے۔ بحیرۂ مرمر اور گولڈن ہارن ہی آبنائے باسفورس کا مقام آغاز ہے جو بحیرۂ مرمر اور بحیرۂ اسود کو آپس میں ملاتی ہے۔ استنبول کی زیادہ تر آبادی ایشیائی حصہ میں مقیم ہے اور یورپی حصہ میں کاروباری مراکز اور دفاتر قائم ہیں۔ تاریخی نوادرات ایشیائی حصہ میں موجود ہیں۔ روزانہ تقریباً20لاکھ افراد کاروبار اور ملازمت کی غرض سے ایشیائی حصہ سے یورپی حصے کی طرف جاتے ہیں اور شام کو واپس ایشیاآ جاتے ہیں۔ آبنائے باسفورس پر بنے ہوئے معلق پلوں کے علاوہ سیکڑوں کی تعداد میں کشتیاں اور فیری باسفورس کے دونوں اطراف لوگوں کو بہترین ٹرانسپورٹ کی سہولت مہیا کرتی ہیں۔ استنبول شہر کی کڑیاں گزشتہ اڑھائی ہزار سالوں تک پھیلی ہوئی ہیں۔ اس شہر نے یہاں تاریخ کو بنتے بھی دیکھا اور بگڑتے بھی۔ اس شہر پر دنیا کی عظیم طاقتوں اور تہذیبوں کا غلبہ رہا۔ جن کے آثار تاریخ کے اوراق کی صورت میں آج بھی شہر میں بکھرے ہوئے ہیں۔ اس شہر پر 300 ق م باز نطینوں کا کنٹرول رہا۔ بازنطینی حکمرانوں نے اس شہر کو باز نطیم کا نام دے کر اسے اپنا پائیہ تخت بنایا۔ ان کی حکومت کئی صدیوں تک رہی۔ اس کے بعد اہل روما ایک عقاب کی طرح اس شہر پر جھپٹے اور انھوں نے ایک ہزار سال تک حکمرانی کے مزے لوٹے۔ شہنشاہ کنسٹنٹائین (Constintine) نے اس شہر کا نام قسطنطنیہ رکھ دیا اور اسے روم کی طرح سات پہاڑوں پر نئے سرے سے تعمیر کیا اور اس شہر کو مشرقی روم کا دارالخلافہ بنایا۔ ایا صوفیہ جیسے مشہور زمانہ گرجاگھر کی تعمیر ہوئی جسے اس وقت کے معماروں نے دنیاکا ایک عجوبہ قرار دیا۔ اسے خلافت عثمانیہ کے دور میں مسجد میں تبدیل کر دیا گیا تھا۔ اس طرح یہ مسلما ن اور عیسائیوں، دونوں کی مشترکہ میراث ہے۔ اس میں بازنطینی طرز تعمیر کی جھلک نمایاں نظر آتی ہے۔ یہ پر شکوہ عمارت رومی سلطنت اور دبدبے کی مظہر ہے۔ جس میں عثمانی سلاطین کی مذہبی رواداری کی خوشبو آج بھی محسوس کی جا سکتی ہے۔ گو کہ ایا صوفیہ عثمانی دور سے ایک ہزار سال قبل تعمیر ہوئی تھی لیکن اُس کا نقشہ اور ڈیزائن مسجد سے ملتا جلتاہے۔ دور سے دیکھنے میں یہ مسجد ہی معلوم ہوتی ہے۔ اس لیے اس چرچ کو عثمانی سلاطین نے حقیقی معنوں میں مسجد میں تبدیل کر دیا اور چار میناروں کا اضافہ بھی کیا۔عثمانی حکمرانوں نے اپنے دور میں استنبول میں ایسی یادگار عمارتیں تعمیر کیں جن کی چمک دمک آج بھی آنکھوں کو خیرہ کر دیتی ہے۔ ان میں سلطان احمد مسجد، سلیمانیہ مسجد، ینئی مسجد، توپ کاپی محل (میوزیم)، آج بھی اپنے حکمرانوں کی استنبول شہر سے محبت کا منہ بولتا ثبوت ہیں اور یہ سب عمارتیں اس دور میں تعمیر کی گئیں جب سولھویں، سترھویں صدی میں سلطنت عثمانیہ اپنے عروج پر تھی۔ استنبول دُنیا کی چار عظیم سلطنتوں کا دارالخلافہ رہا:1۔ رومن سلطنت 330ء تا395ء تک 2۔بازنطین سلطنت 395ء سے1204ء اور 1261ء سے 1453ء تک3 ۔ لاطینی سلطنت 1204ء سے 1261ء4 ۔ عثمانی سلطنت 1453ء سے 1922ء تک  

آج کا دن

آج کا دن

یورپی خلائی ایجنسی کا قیام30مئی1975ء میں یورپی خلائی ایجنسی قائم کی گئی۔ یہ ادارہ یورپ کے مختلف ممالک کے اشتراک سے خلا اور سائنسی تحقیق کے فروغ کیلئے بنایا گیا۔ اس ایجنسی کا مقصد خلائی ٹیکنالوجی کو ترقی دینا، مصنوعی سیارے تیار کرنا، زمین اور خلا کے بارے میں تحقیق کرنا اور انسانیت کی بہتری کیلئے جدید سائنسی منصوبے مکمل کرنا ہے۔ یورپی خلائی ایجنسی نے موسمیاتی تبدیلی، مواصلاتی نظام، نیویگیشن اور خلائی مہمات میں نمایاں کامیابیاں حاصل کیں۔ آج یہ دنیا کے اہم خلائی اداروں میں شمار ہوتی ہے اور بین الاقوامی خلائی تحقیق میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔لندن معاہدہ1913 میں معاہدہ لندن پر دستخط کیے گئے، جس کے نتیجے میں پہلی بلقان جنگ اپنے اختتام کو پہنچی۔ یہ جنگ بلقان اتحادی ممالک اور سلطنت عثمانیہ کے درمیان لڑی گئی تھی۔ اس معاہدے کے تحت عثمانی سلطنت نے یورپ میں اپنی بیشتر سرزمین کھو دی اور اینوس سے میڈیا تک ایک فرضی لکیر کے مغرب میں واقع تمام علاقے چھوڑ دیے۔ اسی معاہدے کے نتیجے میں البانیہ کو ایک آزاد اور خودمختار ریاست کی حیثیت حاصل ہوئی۔ یہ معاہدہ یورپ کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم موڑ ثابت ہوا اور اس نے بلقان کے خطے کی سیاسی صورتحال کو نمایاں طور پر تبدیل کر دیا۔مزدور تحریکجمہوریہ چین کے درمیانی دور میں سامراج کی مخالفت میں مزدوروں کی ایک تحریک شروع ہوئی۔اس تحریک کو ''مئی30 تحریک‘‘ کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔اس کا آغاز اس وقت ہوا جب شنگھائی میونسپل پولیس نے 30 مئی 1925ء کومظاہرین پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں بہت بڑی تعداد میں لوگ جاں بحق ہوئے۔ بین الاقوامی سطح پر اس کی مذمت کی گئی اور ملک بھر میں اس آپریشن کے خلاف مظاہرے ہوئے جس میں مقامی لوگوں کے ساتھ غیرملکیوں نے بھی شرکت کی اور اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا۔ آکلینڈ ہاربر برج کا افتتاح1959 میں نیوزی لینڈ کے شہر آکلینڈ میں واقع آکلینڈ ہاربر برج کو باضابطہ طور پر عوام کیلئے کھول دیا گیا۔ یہ پل وائٹیماتا ہاربر کے اوپر تعمیر کیا گیا تھا اور اس نے شہر کے مختلف حصوں کے درمیان آمدورفت کو بہت آسان بنا دیا۔ اس تاریخی افتتاحی تقریب کے مہمان خصوصی نیوزی لینڈ کے گورنر جنرل چارلس لٹلٹن، دسویں وائسکاؤنٹ کوبھم نے افتتاحی تقریب انجام دی۔ یہ پل جدید انجینئرنگ کا ایک اہم شاہکار سمجھا جاتا ہے اور آج بھی آکلینڈ کی پہچان مانا جاتا ہے۔ اس کی تعمیر نے تجارت، سفر اور شہری ترقی میں اہم کردار ادا کیا اور ملکی معیشت کو بھی فائدہ پہنچایا۔ڈریگن ڈیمو22020 میں خلائی مشن ''ڈریگن ڈیمو 2‘‘ کو امریکا کے کینیڈی اسپیس سینٹر سے روانہ کیا گیا۔ یہ مشن اس لحاظ سے تاریخی اہمیت رکھتا ہے کہ 2011 ء کے بعد پہلی مرتبہ کسی انسان بردار خلائی جہاز نے امریکا کی سرزمین سے مدار میں پرواز کی۔ اس مشن کے ذریعے خلابازوں ڈگلس ہرلی اور رابرٹ بیہنکن کو بین الاقوامی خلائی سٹیشن تک پہنچایا گیا۔ یہ پہلا تجارتی خلائی مشن بھی تھا جس نے نجی کمپنی کی مدد سے انسانوں کو خلا میں پہنچایا۔ اس کامیابی نے خلائی تحقیق کے میدان میں ایک نئے دور کا آغاز کیا اور نجی خلائی کمپنیوں کے کردار کو مزید مضبوط بنایا۔ دنیا بھر میں اس مشن کو سائنسی ترقی کا عظیم کارنامہ قرار دیا گیا۔