کشور ناہید ( دبنگ عورت)
اسپیشل فیچر
کشور ناہید نے عورت ہونے کے باوجود زندگی کو مردانگی سے بسر کیا ہے، اسی لئے وہ ’کھڑکے دھڑکے‘ والی دبنگ عورت کے طور پر جانی جاتی ہیں۔ اُنہوں نے ایک بُری عورت کی کتھالکھ ماری۔ میں آج تک کسی ایسے مرد کی تلاش میں ہوں، جو بُرے مرد کی کتھا لکھ سکے۔ بُرے مردحضرات کے بارے میں جب بھی لکھا کسی دوسرے نے ہی لکھا یا پھر ان کی بیویوں نے لکھا۔ کشور ناہید ادب میں آئیں تو ادب پر قبضہ کئے ہوئے مردوں نے اُنہیں خوش آمدید نہیں کہا، اُلٹا تنقید کے نشتر برساتے رہے۔ اُنہوں نے عورت ہونے کے باوجود ان نشتروں کی پروا نہیں کی اور اپنا سفر جاری رکھا۔ نظم کہی، نثر لکھی۔ تقریریں کیں، مشتعل ہوئی، اشتعال دلایا اور وہ سب کچھ کر دکھایا ،جو اس سے پہلے کوئی عورت کرنے کی ہمت نہیں کرتی تھی۔ دیگر عورتوں نے مردوں کو ان کی جگہ پر رکھنااُنہی سے سیکھا۔ مردوں نے بھی جواباً اُن کے ساتھ کچھ کم نہیں کیا اوراُن پر ایسے ایسے الزامات لگائے کہ کوئی عورت بھی دوسری عورت پر ایسے الزامات نہیں لگاتی۔منیر نیازی کے حوالے سے کہا جاتا تھا کہ اُن کے پاس جب کوئی مرد مہمان جاتا ،تو وہ اس کا تعارف اپنی اہلیہ سے ضرور کراتے، لیکن جب ’وہ‘ جاتیں تو وہ اپنی بیوی سے کہتے پردہ کر لو۔الغرض اردو ادب کے مشاہیر نے اُنہیں کبھی کچھ کہا تو کبھی کچھ،لیکن آفرین ہے اُن پر کہ ان سب باتوں نے اُن کے حوصلے پست نہیں کئے بلکہ انہوں نے اپنا سفر اور بھی دبنگ انداز میں جاری رکھا اور وہ آج جہاں ہیں وہاں کبھی نہ ہوتیں اگر لوگوں کی چھوٹی موٹی تنقید کی بدولت اپنا سفر روک دیتیں یا کم ازکم راستہ ہی تبدیل کر لیتیں۔ یہ اُن کی استقامت ہی تھی کہ وہ آج ایک نام نہیں بلکہ ایک حوالہ بن چکی ہیں ۔میں 1984میں لاہور کے ایک کالج میںفرسٹ ائیر کا طالب علم تھا۔ اجمل نیازی میرے استاد تھے (اُن دنوں وہ ڈاکٹر اجمل نیازی نہیں تھے) میں نے کچھ غزلیں اور نظمیں، لکھیں تو انہوں نے کہا آپ کی نظمیں نثری نظمیں ہیں۔ آپ نیشنل سنٹر ،لاہور میں کشور ناہید کو دکھائیں ،وہ ان دنوں نیشنل سنٹر کی انچارج تھیں۔ میں اپنے دوستوں کے ساتھ اپنی شاعری لے کر گیا اور بتایا کہ اجمل نیازی صاحب نے بھیجا ہے،تو کہنے لگیں کیوں اجمل نیازی کو اپنی شاعری پر اعتماد نہیں رہا۔ انہوں نے وہ چیزیں رکھ لیں اور مجھے کہا کہ آپ کچھ دنوں بعد آئیں میں دوبارہ گیا، تو کہنے لگیں آپ غزل کی جانب طبع آزمائی بھلے نہ کریں، لیکن نثری نظم ضرور لکھیں۔ سمجھ دار کے لئے اشارہ کافی ہوتا ہے۔ پھر میں نے اردو غزل کا پیچھا کرنے کی بجائے اردو نثر کی جانب توجہ مبذول کر لی۔ ادبی ذوق پیدا ہوا، تو کبھی کبھار نیشنل سنٹر کسی ادبی تقریب میں شرکت کرنے چلے جایا کرتے۔ ایک دن میں اپنے کلاس فیلوز کے ہمراہ کشور ناہید کے دفتر میں بیٹھا ہوا تھا ،تو ایک باریش نوجوان اندر داخل ہوا، کشور نے اٹھ کر اس کی پیشانی پر بوسہ دیا۔ ہم یہ منظر دیکھ کر ذرا شرما سے گئے، تو اس پر کشور نے تعارف کراتے ہوئے بتایا کہ یہ میرا بیٹا ہے، جس پر ہماری حیرت ندامت میں تبدیل ہو گئی۔کہنے کا مقصد یہ ہے کہ کشور ناہید کو آزاد خیال اور ماڈرن عورت تصور کرتے ہوئے نجانے کیا سے کیا کہا گیا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ کشور ناہید بہت ویلیوز والی خاتون ہیں۔ ادیب شاعر زاہد مسعود نے اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ صوفی تبسم سے بہت سے لوگوں نے فیض حاصل کیا ،لیکن کبھی اس کا اقرار نہیں کیا۔ کشورناہید وہ واحد فرد ہے، جو اس امر کا اظہار کرتی ہیں کہ وہ آج جو کچھ ہیں، اس میں صوفی تبسم کا بہت بڑا کردار ہے۔ اُن کا ایک نظریہ ہے، وہ جو سوچتی ہیں خود سوچتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کشور علامت اور ملامت دونوں کا شکار رہیں، جو کھلم کھلا ملامت نہ کر سکے، انہوں نے علامتوں اور استعاروں کا سہارا لے کر کشور کو ہدف بنایا، لیکن وہ کشور کا قد چھوٹا نہ کر سکے۔ کشور اپنی منفرد سوچ اور فکر کی بناء پر اپنے گھر میں اکیلی تھیں ہی وہ معاشرے میں بھی ’اکیلی‘ ہی رہیں، لیکن ثابت قدم رہیں۔ کشور ناہید ہمیشہ سے ’ون مین آرمی‘ رہیں۔ اُنہوں نے نہ صرف اپنانام اور مقام خود بنایا بلکہ اپنی جنگ بھی خود ہی لڑی۔ اس میں بہت سی جنگیں ایسی تھیں ،جو اُنہوں نے خود نہیں چھیڑی تھیں ،لیکن پھر بھی انتہائی چابکدستی سے اپنے دفاع کو یقینی بناتی رہیں کیونکہ اُن کے دفاع کے لئے کوئی ڈاکٹر انورسدید موجود نہیں تھا کہ جو اﷲ نے ڈاکٹر وزیرآغا کو مہیا کر رکھا تھا۔ انور سدید بہرطور ایک ایسا باوقار شخص ہے کہ آخر دم تک ڈاکٹر وزیرآغا کے ساتھ رہا بلکہ مرنے کے بعد بھی انور سدید نے انہیں نہیں چھوڑا جبکہ احمدندیم قاسمی نہ رہے تو خالداحمد نے انہیں یاد رکھا۔ اب ’بیاض ‘ کے عمران منظور اور نعمان منظور دونوںبھائی، احمد ندیم قاسمی اور خالد احمد کے سفر کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ادیبوں میں ادبی نوک جھونک بہرکیف چلتی رہتی ہے ،جو اس نوک جھونک کو سینے سے لگا کر وہیں رُک جائے ،اس کا ادبی سفر بھی وہیں رُک جاتا ہے ۔