حمید اختر کا عوام دوست ترقیاتی ماڈل
اسپیشل فیچر
بالائی طبقے سے تعلق رکھنے اور سول سروس میں شمولیت کے باوجود ڈاکٹر حمید اختر خان نے لاکھوں انسانوں کی زندگیاں بدل کر رکھ دیں، ان پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے اور شاید بہت کچھ لکھا جانا باقی ہے کیونکہ ان کی میراث ان کی زندگی سے بڑی ہے۔ انہوں نے شاندار کام کیا اور ان کے خیالات طویل عرصہ تک لوگوں کو متاثر کرتے رہیں گے۔ انہوں نے وہی کیا جو کہا اور انہوں نے وہی کہا جس کی 1960ء سے 1990ء کی دہائی میں ترقیاتی شعبے کو ضرورت تھی۔ ان کے خیالات کا نچوڑ یہ ہے: تاریخ اور ترقی کا پہیہ عوام چلاتے ہیں ، اورجدید تعلیم یافتہ افراد کو عام لوگوں سے سیکھنا چاہیے۔ وہ بہت حساس انسان تھے ۔ برطانوی راج کے دوران اور نوآبادیاتی نظام کے خاتمے کے بعد پاکستان میں غریب عوام کی زندگیوں کے مشاہدے نے انہیں تمام عمر کے لیے ان کا دوست بنا دیا۔ سرسید احمد خان جیسے سماجی جان کاری رکھنے والے اور بے لوث خاندان سے ان کی قربت تھی۔جس طبقے سے ان کا میل ملاپ تھا اس کے برعکس اختر حمید خاں نے سادہ زندگی بسر کی۔ ان کے ہاں مشرق اور مغرب دونوں کا فلسفہ یکجا ہوتا نظر آتا ہے۔ انہوں نے مشرقی یورپ کے کمیونز سے لے کر امریکی فلسفیوں اورعہد وسطیٰ کے مسلم صوفیوں تک سب کے خیالات کو اپنے اندر سمو لیا۔ ان کی جامع شخصیت میں یہ سب رنگ نظر آتے ہیں۔ جب 1980ء میں وہ کراچی کے علاقے اورنگی آئے تو لوگوں کی زندگیوں کا مشاہدہ کرنے کے بعد انہوں نے کم خرچ اور اپنی مدد آپ کے تحت بننے والا ترقیاتی ماڈل متعارف کروایا۔ انہوں نے مشاہدہ کیا کہ اورنگی کے عوام بہت سے کام امداد باہمی کے تحت کرتے ہیں اور اپنے متعدد مسائل حکومتی مدد کے بغیر حل کرتے ہیں۔ نیز وہ اپنے ارد گرد کو بہتر بنانا چاہتے ہیں۔ اس کی بنیاد پر ڈاکٹر حمید اختر نے ایک عوام دوست ترقیاتی ماڈل تشکیل دیا جس کا مرکزی نکتہ یہ تھا: لوگ جوکر رہے ہیں اسی کی حوصلہ افزائی کرو۔ مرحومہ پروین رحمان نے ان کے ساتھ طویل عرصہ کام کیا۔ چند سال قبل جب انہیں قتل کیا گیا تو وہ اورنگی پائلٹ پراجیکٹ کی ڈائریکٹر تھیں۔ وہ اکثر کہا کرتی تھیں کمیونٹی میں جاؤ، ان کی روزمرہ زندگی میں شامل ہو جاؤ، کمیونٹی کو ترقیاتی پروگرامز بنا کر پیش کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ ترقیاتی کام کرنے والوں کو چاہیے کہ وہ کمیونٹی کی زندگی میں حصہ لیں۔ کم خرچ گھروں کی تعمیر کو عملی جامہ پہنانے والے تسنیم احمد صدیقی نے بھی اسی خیال پر عمل کیا۔ 1980ء کی دہائی میں اختر حمید خان نے پیٹر جان ویر لندن کی1979ء میں شائع ہونے والی کتابThe Bastis of Karachi: Types and Dynamics کا مطالعہ کیا اور اس حقیقت کو پایا کہ پاکستان میں اربنائزیشن کا عمل غیررسمی ہوگا یعنی منصوبہ بند نہیں ہوگا جس سے غیررسمی یا کچی آبادیاں وجود میں آئیں گی۔ اس حقیقت کا ادراک کرنے کے بعد انہوں نے ہمیشہ اربنائزیشن میں پائے جانے والے غیررسمی رجحان کو سمجھنے کی دعوت دی۔ بہت سے دیگر ماہرین ترقی کے برعکس وہ پاکستان کے مسائل کو معاشی کی بجائے اخلاقی سمجھتے تھے۔ انہوں نے ایک بار اس اخلاقی مسئلے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ جاپانیوں نے اعلیٰ اخلاق کا مظاہرہ کرتے ہوئے۔ جنگ عظیم دوم میں مارشل پلان کے تحت ملنے والے قرض کو تین سالوں کے اندر واپس کردیا جبکہ پاکستانی حکمران مزید مانگتے رہتے ہیں۔ اختر حمید نے مزید کہا کہ کفایت شعاری اس اخلاق کی بہترین شکل ہے اور ہمارے ترقیاتی مسائل کا حل ہے۔ 2000ء کی دہائی میں ان کے تشکیل کردہ ماڈل کو دنیا کے مختلف حصوں میں اپنایا گیا۔کراچی میں ان کے اورنگی پائلٹ پراجیکٹ کی کامیابی کو دیکھتے ہوئے اس جیسے منصوبے جنوبی افریقہ، ازبکستان ، تاجکستان، سری لنکا، انڈیا، فلپائن، کمبوڈیا اور ویت نام میں بنائے گئے۔ حیران کن طور پر ان کے پیش کردہ تصورات کو جاپان اور امریکا جیسے ممالک میں بھی اپنایا کیا گیا۔ ڈاکٹر حمید اختر کا نظریہ جامد نہیں تھا اور نہ ہیں انہوں نے اپنے خیالات کی پیروی کرنے کی تاکید کی۔ اس کی بجائے انہوں تحقیق اور توسیع کی بنیاد پر مشاہدے اور سوچ بچار کی دعوت دی۔ انہوں نے سیکھنے کا جو طریقہ کار وضع کیا وہ تعلیم یافتہ پیشہ ور اور ناخواندہ دونوں افرادکے لیے کارآمد ہے۔ 1950ء اور 1960ء کی دہائی میں دنیا بڑے بڑے منصوبوں کی تعمیر کے پیچھے دیوانہ وار پڑی تھی ۔ بڑے ڈیموں، بڑی صنعتوں اور بڑی شاہراہوں کو ترقی کاراستہ سمجھا جاتا تھا۔ حمیداختر کے خیال میں بڑے منصوبوں کی بجائے محلے اور گاؤں کی سطح پر ترقی پر توجہ دینی چاہیے۔ 1959ء ہی میں انہوں نے دیہاتوں میں کواپریٹوز کی تشکیل کا آغاز کیا اور مائیکرو فنانس اور مائیکرو سیونگ کی شروعات کی جس سے ان ہزاروں کسانوں کی زندگیاں بدل گئیں جنہوں نے روزانہ اور ہفتہ وار بنیادوں پر چندروپوں کی بچت شروع کی اور اس بچت کو کارآمد منصوبوں کے لیے استعمال کیا۔ اسے ’کومیلا ماڈل‘ کا نام دیا گیا جس میں ترقی کے عمل اور غربت کے خاتمے کے لیے لوگوں کی شمولیت پر توجہ دی گئی ۔ اس ماڈل کو بعد ازاں دنیاکے مختلف حصوں میں آزمایا گیا۔ بنگلہ دیش نے اس ماڈل کو اپنا کر 63ہزار کو اپریٹوز بنائیں ۔ 1980ء میں حمید اختر نے کراچی کے علاقے اورنگی آنا جانا شروع کیا تاکہ یہاں کے لوگوں سے سیکھ سکیں اور انہیں اپنے ترقیاتی نظریے سے مستفید کرسکیں۔ اس سال انہوں نے اورنگی پائلٹ پراجیکٹ کا آغاز کیا تاکہ اورنگی کے عوام کو تکنیکی مدد فراہم کی جاسکے اور وہ روز مرہ کے مسائل حل کرنے کے قابل ہوسکیں۔ ان کی رہنمائی میں سات ہزار گلیوں میں ایک لاکھ گھروں کے لیے لیٹرینوں اور سیوریج کا نظام تعمیر کیا گیا۔ انہوں نے سیوریج کی تعمیر کو ارزاں اور اپنی مدد آپ کے تحت کرنا سکھایا۔ڈاکٹر حمید اختر کا نظریہ ترقی یہ تھا: اگر غریب عوام کو کم خرچ ترقیاتی ماڈل اور تکنیکی امداد فراہم کردی جائے تو وہ اس ترقی کو اپنی ترقی سمجھیں گے۔ ڈاکٹر حمید اختر کی سب سے بڑی کامیابی یہ کر کے دکھانا تھا کہ ترقی تکنیکی ماہرین کی ملکیت نہیں بلکہ اس میں عوام کی شمولیت شرط ہے۔ ٭…٭…٭