کھانا پکانا اور باورچی خانہ
اسپیشل فیچر
خاندان کے سب افراد کی تندرستی کا انحصار متوازن غذا پر ہوتا ہے۔ اس لیے یہ بات اچھی طرح ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ کھانا پکانا اور کھانا کھلانا دونوں بہت اہم کام ہیں۔ کھانا پکاتے وقت اس بات کا لحاظ رکھنا ضروری ہے کہ کھانا اس طرح پکایا جائے کہ اس کے غذائی اجزا محفوظ رہیں اور کھانے والوں کو متوازن غذا فراہم ہو سکے۔ اس کے علاوہ کھانا دیکھنے میں خوش نما اور ذائقے میں لذیذ ہو۔ کھانا پکاتے وقت گوشت اور انڈے کو دھیمی آنچ پر پکانا چاہیے۔ سبزیوں کو کاٹ کر پھر سے پانی میں دھونے اور دیر تک ابالنے یا پکانے سے ان کے نمکیات اور وٹامن ضائع ہوجاتے ہیں۔ لہٰذا انہیں پکاتے وقت اس بات کا خاص خیال رکھنا چاہیے کہ جوں ہی سبزیاں گل جائیں انہیں فوراً چولہے سے اتار لیا جائے، اگر سبزیوں کو ابالا جائے تو انہیں کم پانی میں ڈال کر ابالا جائے۔کھانا پکانے میں باورچی خانے کو بھی بے حد اہمیت حاصل ہے۔ باورچی خانہ میں مناسب ترمیم کر کے اسے حسبِ منشا بنایا جا سکتا ہے۔ باورچی خانہ ایسا ہونا چاہیے کہ اس میں اچھی طرح روشنی اور ہوا آ سکے۔ اس کی الماریاں چولہا اور سنک (Sink)اس ترتیب سے بنائے جائیں کہ وہ انگریزی حرف یو (U )یا انگریزی حرف ایل (L) کی طرح ہوں۔ اس سے کام کرنے میں آسانی ہوتی ہے۔ چولہے کے قریب کھانا پکانے کے برتن، چمچے، کڑاہی، فرائینگ پین، نمک، مرچ اور مصالحہ وغیرہ کے رکھنے کے لیے جگہ بنائی جاتی ہے۔ نلکے کے نیچے برتن دھونے کی جگہ پختہ بنائی جاتی ہے۔ اسی کے قریب برتن دھونے کا سامان مثلاً صابن، راکھ یا پاؤڈر رکھا جاتا ہے تاکہ کام کرنے کے دوران زیادہ اٹھنا بیٹھنا نہ پڑے۔ چیزوں کو اگر اس ترتیب کے ساتھ مناسب اور مقررہ جگہوں پر رکھا جائے تو انہیں تلاش کرنے میں وقت ضائع نہیں کرنا پڑتا۔ باورچی خانے میں برتنوں کو مانجھنے کے بعد سکھانے اور رکھنے کی جگہ بھی الگ ہونی چاہیے۔ جب برتن سوکھ جائیں تو انہیں الماری یا نعمت خانہ میں رکھ دینا چاہیے۔ الماری یا نعمت خانہ اس قسم کا ہونا چاہیے کہ اس کے خانوں میں کھانا پکانے کے برتن اور دوسری چیزیں ترتیب سے رکھی جائیں۔کھانا جن برتنوں میں نکال کررکھنا چاہیے انہیں کھانے کے کمرے میں کسی الماری میں رکھنا چاہیے تاکہ ضرورت کے وقت انہیں نکال کر میز یا دستر خوان پر رکھا جا سکے۔ چمچے اور کانٹے ایک الگ خانے میں رکھنے چاہئیں تاکہ نکالتے وقت ہاتھ زخمی نہ ہوجائے۔ برتن دھوتے وقت چھریوں کو بھی دھو کر احتیاط کے ساتھ علیحدہ رکھنا چاہیے۔باورچی خانے کی صفائی:باورچی خانے میں ہوا اور روشنی کے لیے روشن دان اور کھڑکیاں ہونی چاہئیں تاکہ صاف ہوا آتی جاتی رہے اور روشنی بھی اتنی ہو کہ کھانا پکاتے وقت دقت محسوس نہ ہو۔ باورچی خانے کا فرش پختہ اور صاف ستھرا ہونا چاہیے۔ بہتر تو یہ ہے کہ باورچی خانے کی دیواروں اور فرش پر ٹائل لگے ہوئے ہوں تاکہ انہیں آسانی سے صاف کیا جا سکے۔ اگر یہ ممکن نہ ہو تو فرش کو روزانہ دھو کر صاف کیا جائے۔ اگر فرش پر پانی یا کھانے کی کوئی چیز گر جائے تو اسے فوراً صاف کر دیا جائے۔باورچی خانہ اور کیڑے مکوڑے:باورچی خانے میں رکھی ہوئی چیزوں کو کیڑے مکوڑوں سے محفوظ رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ ضرورت کے وقت رات کو کیڑے مکوڑوں کو مارنے والی ’’دوا‘‘ باورچی خانے میں چھڑک کر دروازہ بند کر دیا جائے اور صبح کو ہر چیز اچھی طرح پونچھ کر رکھ دی جائے۔ جو برتن ڈھکنوں کے بغیر ہوں انہیں اچھی طرح دھونا بے حد ضروری ہے۔ ہفتے میں ایک بار باورچی خانے کی دیواروں اور الماریوں کو اچھی طرح صاف کرنا چاہیے۔ تاکہ ان پر مکڑی کا جالا اور گردوغبار جمنے نہ پائے۔ باورچی خانے کا کوڑا کرکٹ نکالنے کے بعد اسے اچھی طرح دھو کر صاف کر دینا چاہیے۔ باورچی خانے میں کام کرنے والے کو خود بھی صاف ستھرا رہنا چاہیے۔ وہ جب باورچی خانے میں داخل ہو تو کام شروع کرنے سے پہلے اپنے ہاتھ صابن سے دھو لے۔ اس کے علاوہ اس کے ناخن تراشے ہوئے اور میل کچیل سے پاک صاف ہونے چاہئیں۔ اسے نہ تو باورچی خانے میں کنگھی کرنی چاہیے اور نہ کھلے سر کھانا پکانا چاہیے۔ کھانا پکاتے وقت اگر پیش بند (Aporn) استعمال کیا جائے تو اس کے پہننے پر کپڑوں پر دھبے نہیں پڑتے۔باورچی خانے میں حفظان صحت کے اصول:۱۔ کھانا پکانا شروع کرنے سے پہلے صابن سے ہاتھ دھو کر تولیے سے صاف کر لیے جائیں۔کوڑے کے ڈبوں کو ہاتھ لگانے، جھاڑو دینے یا بیت الخلا سے جانے کے بعد بھی ہاتھوں کو صابن سے دھو کر صاف کرنا ضروری ہے۔۲۔ اگر کسی جگہ کھانا گر جائے تو اسے فوراً صاف کر دینا چاہیے۔۳۔ کھانا صاف، دھلی ہوئی اور ’’سٹین لیس سٹیل‘‘ کی دیگچیو ں میں پکانا چاہیے۔۴۔ پیالیوں اور گلاسوں کو اس طرح پکڑا جائے کہ جس طرف منہ لگایا جائے وہ حصہ ہاتھ سے نہ چھوئے۔۵۔ اگر کھانا پکاتے وقت کسی چمچے سے نمک چکھا جائے تو اسے دھوئے بغیر دوبارہ پتیلی میں نہیں ڈالنا چاہیے۔۶۔ کھانا جس جگہ بھی رکھا جائے وہ صاف ستھری ہونی چاہیے۔ اگر گھر میں فریج ہے تو اسے ہر روز صاف کیا جائے اور ہفتے میں ایک بار اس کی پوری صفائی کی جائے۔آگ جلانا:کھانا پکانے کے لیے جو چیز بھی استعمال کی جائے مثلاً لکڑی، کوئلہ، تیل، گیس یا بجلی وغیرہ تو اس کے جلانے یا استعمال کرنے میں بڑی احتیاط سے کام لینا چاہیے۔ ماچس کی تیلی جلانے کے بعد فرش پر ہرگز نہ پھینکی جائے بلکہ جلی ہوئی تیلیاں کسی چیز میں الگ ڈالتے جائیں۔ کوئلوں کو باہر سے سلگا کر باورچی خانے میں لایا جائے تاکہ کوئلوں کی مضر صحت گیس باورچی خانے میں نہ پھیلے۔ اگر کھانا پکانے کے لیے گیس استعمال ہوتی ہو تو جونہی گیس کھولیں اسے ماچس دکھا دیں۔ اگر تیلی بجھ جائے تو گیس کو بند کر دیں اور پھر سے ماچس جلائیں اور گیس کھول کر اسے آگ لگا دیں۔ باورچی خانے میں کام کرتے وقت کبھی کبھی کام کرنے والا آگ سے جل جاتا ہے۔ اس لیے گھر میں ایسی کوئی دوا ضرورموجود ہونی چاہیے جسے جلے ہوئے مقام پر لگایا جا سکے۔ جب کھانا پک جائے تو آگ فوراً بجھا دینی چاہیے۔٭…٭…٭۔۔