عرش صدیقی پر تصوف کا اثر
اسپیشل فیچر
آپ ڈاکٹر عرش صدیقی کے نام سے اردو ادب میں شناخت رکھتے ہیں۔ شاعر‘ نقاد اور افسانہ نگار تھے۔ آپ کی پیدائش ضلع گورداسپور (مشرقی پنجاب) میں 21جنوری 1927ء میں ہوئی۔ ابتدائی تعلیم وہیں حاصل کی۔ ایم اے انگلش کی ڈگری لی۔قیامِ پاکستان کے بعد ترک وطن کر کے پہلے لاہور میں قیام کیا اور پھر مستقل طور پر ملتان میں سکونت اختیار کر لی۔ گورنمنٹ کالج ملتان میں ایک عرصہ تک انگریزی پڑھاتے رہے۔ پھر ملتان یونیورسٹی سے منسلک ہو گئے۔ آپ کی تصانیف میں ’’میرزا ادیب کے بہترین افسانے‘‘ ’’دیدۂ یعقوب‘‘ ’’سب رنگ‘‘ ’’سونا آنگن‘‘ ’’محبت لفظ تھا میرا‘‘ ’’باہر کفن سے پائوں‘‘اور ’’ہر موج ہوا تیز‘‘ شامل ہیں۔ ’’باہر کفن سے پائوں‘‘ پر آپ کو آدم جی ادبی انعام ملا۔ آپ کے والد کا نام بشیرالرحمن‘ جبکہ آپ کا اصل نام ارشادالرحمن تھا۔ آپ کی تاریخ وفات 18اپریل 1997ء درج ہے۔دیگر تصانیف میں ’’محاکمات‘ ارتقا اور تکون‘‘ شامل ہیں۔ عرش صدیقی صاحب کے دوہوں کا مجموعہ ’’کملی میں بارات‘‘ کے نام سے شائع ہوا۔ عرش صدیقی نے جو اپنے لیے عادل فقیر کا نام منتخب کیا تھا‘ تو اس سے بھی ان کے ذہن اور طبع کے خاص رجحان کی وضاحت ہوتی ہے۔ پھر ان کی دوہابیتی کا بڑا حصہ ہے بھی مذہبی رنگ میں۔ جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ انہوں نے فکری اعتبار سے اسی رنگ سے قربت رکھی۔ یہاں دوہے کے روایتی مضامین سے ان کا اختلاف بھی سمجھ میں آتا ہے۔ جیسے انہوں نے ایک مقام پر کہا:’’میں بہاری سمیت دوسرے شعرا کے اس عاشقانہ کلام کو زیادہ اہمیت نہیں دیتا‘ جو حسن کے حوالے سے ہوس کا اظہار کرتا ہے‘‘۔عرش صدیقی صاحب کا اردو دوہے کے حوالے سے بڑا کارنامہ ان کا طویل مضمون ’’پاکستان میں اردو دوہے کا ارتقا‘‘ ہے۔ اس مضمون کا اصل محرک تو جمیل الدین عالی صاحب کی رائج کردہ بحر کا تحفظ کرنا ہے لیکن اس کے اثرات بہت خوش کن اور توجہ طلب برآمد ہوئے۔ دوہے کی زبان‘ دوہے کی مروجہ بحور‘ کلاسیکی عہد کے شاعروں کا سرسری جائزہ اور عصری دوہانگاروں کا مختصراً تذکرہ‘ دوہے کی مخصوص فضا‘ رنگ و آہنگ اور روایت سے آشنا کرتا ہے۔ یہ طویل مضمون 98صفحات پر محیط ہے اور ’’کملی میں بارات میں‘‘ میں ہی شامل ہے۔ ایک طرح سے یہ اس کتاب کا دیباچہ بھی بن گیا ہے‘ اور اس کی الگ سے بھی وہی شان ہے‘ جو الطاف حسین حالی کے مقدمۂ شعرو شاعری کی ہے۔اس مضمون کا بڑا حصہ توجمیل الدین عالی کے حق میں اور ان کے مخالفین کے نظریات کی رد میں ہے۔البتہ بعض باتیں ایسی بھی بیان ہوئی ہیں‘ جن کا عمومی فائدہ ہے۔ خصوصاً دوہے کی زبان کے متعلق انہوںنے جو روایات اکٹھی کی ہیں‘ اس سے جہاں ان کے موقف کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے‘ وہاں اردو کی بنیاد گزاری کے کچھ قرینے بھی جھلک دکھا جاتے ہیں۔ پھر دوہے کے رائج اوزان کی نشان دہی بجائے خود ایک کام ہے۔ اس مضمون کی ایک خوبی یہ بھی ہے‘ کہ اس میں ان شخصیات کے نام شامل کر لیے گئے ہیں‘ جنہوں نے دوہانگاری پر بحث کی ہے۔ وہ لوگ بھی نشان زد کئے گئے ہیں۔ جنہوں نے عالی چال کو اپنایا اور وہ بھی جنہوں نے اس چال کی مخالفت کی اور دوہا چھند کو اختیار کیا۔ اس مضمون کا ایک خاص وصف یہ بھی ہے کہ اس میں نقدو نظر کی کسوٹی سے بعض شاعروںکو بھی گزارا گیا۔ جیسے پاکستان میں اردو دوہے کے بنیاد گزار خواجہ دل محمد ہیں۔ ان کے علاوہ الیاس عشقی سمیت کئی ایک دوسرے لوگوں کا بھی بیان ہوا ہے۔ عالی جی کا مطالعہ اگرچہ موضوع کے اعتبار سے نہیں ہے‘ مگر ان کی بحر کے حوالے سے بہت زیادہ مواد جمع کیا گیا ہے۔ اس طرح عالی جی کو پسند کرنے والوں کے لیے اس میں بہت زیادہ خوبیاں ہیں۔ پھر عرش صدیقی صاحب کے نظریات اور ان کی نفسیات کی مکمل تشریح بھی بخوبی ہو جاتی ہے۔عرش صدیقی کا مزاج صوفیانہ ہے جس کا اظہار خود انہوں نے بھی کیا ہے اور ان کے کلام سے بھی واضح ہے۔ ان کی اسی روش کے بارے میں عاصی کرنالی صاحب کا اظہاریہ اہم ہے:’’کملی میں بارات‘‘ کے دوہوں میں تصوف کا ذوق رچا ہوا ہے اور خدا اور رسولِ خداؐ سے محبت، شیفتگی اور شعور آمیز والہانہ پن کا رنگ چھایا ہے۔ ’’کملی میں بارات‘‘ کے عنوان تلے شائع ہونے والے دوہے ملاحظہ کیجیے:حاکم اور محکوم سبھی کو، ہے اس گھر کی تلاشجس پر سایہ افگن ہو، غم خواری کا آکاشمیرے پاس علاج ہے اس کا، سنو فقیر کی باتکالی کملی اوڑھ لو سارے، کملی میں باراتعادل میرا فخر محبت، عجز، لحاظ، نیازتیرا فخر حقارت، عہدہ، کرسی، کبر، مجازکیا کیا زریں تخت سجے، اور کیا کیا پھیلے راجایک شاہی ان سب سے اونچی، بن کرسی، بن تاج٭…٭…٭