ادب کے میدانوں میں نشاۃ ثانیہ کا آغاز
اسپیشل فیچر
نشاۃ ثانیہ جیسے انگریزی میں RENAISSANCEکہا جاتا ہے قرونِ وسطیٰ کے بعد شروع ہوتا ہے۔تب مشہور اطالوی شہر قسطنطنیہ کی تباہی سے یونانی اور رومی سکالرز پورے یورپ میں پھیل گئے۔ ان کے پاس قدیم مصنفین کی بیش قیمت کتابوں کے مسودات بھی موجود تھے۔ یہ مسودات جیسے ہی یورپ کے ترقی یافتہ ممالک خاص کر برطانیہ پہنچے اور پھر چھاپہ خانہ ایجاد ہوا تو علم و ادب کی دنیا کے اندر ایک طوفان بپا ہو گیا۔ قریب قریب چار سو سال سے سویا ہوا انسان اچانک آنکھ ملتے ملتے اُٹھ بیٹھا اور اپنے پائوں پر کھڑا ہونے کی سعی کرنے لگا۔ نشاۃ ثانیہ یورپ خاص کر اٹلی یا اطالیہ سے اُٹھنے والی ایک ثقافتی تحریک تھی جو تین صدیوں پر محیط تھی اور چودھویں سے سترھویں صدی تک جاری رہی۔ اس دور کی خاص باتیں علم، ادب، سائنس، مذہب، مصوری اور جہاز رانی کے میدانوں میں نئی سمتوں کے سفر کا آغاز ہے۔ یہ دور درحقیقت یورپ کے گم گشتہ قدیم خیالات کی از سر نو پیدائش تھی۔ نشاۃ ثانیہ کو فی الحقیقت مغربی تہذیب و تمدن کے ایک نئے سفر کا آغاز بھی کہا جا سکتا ہے۔ اس دور میں مغربی تہذیب کو مسلمانوں کے ہاتھوں ملنے والے قدیم یونانی فلسفے اور جدید اسلامی فلسفے سے تحریک ملی۔ اسی دوران سقوطِ ہسپانیہ کے دوران عیسائیوں کو چار لاکھ کے قریب قیمتی کتابیں حاصل ہوئیں جو قرطبہ کے تاریخی کتب خانے سے لوٹی گئیں۔ ان کتابوں میں زیادہ تر قدیم یونانی فلسفے کے عربی تراجم تھے۔ ان کے ساتھ ساتھ مسلمان فلسفیوں کا کام بھی عیسائی دنیا میں لایا گیاجس سے یورپ کے علما اور مفکرین کو نیا دانشورانہ مواد حاصل ہوا۔ ان فلسفیوں میں ابن رشد کے فلسفے اور نظریات کو خاص مقام حاصل تھا۔نشاۃ ثانیہ دور جو اٹلی سے چلتا چلتا برطانیہ پہنچا کی خاص بات نئے چرچ کا قیام تھا۔ عیسائیت اب دو بڑے گروہوں یعنی کیتھولک اور پروٹسٹنٹ فرقوں میں بٹ چکی تھی۔ برطانیہ میں نئے چرچ کو خوش آمدید کہا گیا۔ اس دور میں ادب کے میدانوں میں بھی کئی عظیم ادیبوں کے کارہائے نمایاں دکھائی دیتے ہیں۔ شیکسپیئر،مارلو، سپینسر اور جان ڈن کی تحریروں نے انگریزی ادب میں جان ڈال دی۔ اس دور میں سابقہ عہد وسطیٰ کی ضد دکھائی دیتی ہے۔ اب معاشرے میں سابقہ دور کے برعکس خدا کی جگہ انسان کو مرکز کائنات سمجھا جانے لگا۔ دولت کے دیوتا کی پوجا شروع ہو گئی۔ طاقت، علم اور دولت کی لالچ عروج پر پہنچ گئی۔ خود غرضی نے اپنی آنکھیں کھولنا شروع کر دیں۔ اس دور کی سوچ کو کرسٹوفر مارلو نے اپنے یادگار ڈراموں خاص کر ڈاکٹر فاسٹس اور جیو آف مالٹا میں خوبصورتی کے ساتھ پیش کیا۔٭…٭…٭