ایکزیما: علامات اور علاج
اسپیشل فیچر
ایکزیما (Eczema) یا چنبل جلد کی ایک ایسی غیر متعدی سوزش ہے جس میں سرخ داغ، دانے، چھلکے اور آبلے وغیرہ نمودار ہوتے ہیں۔ اس کے دانے آپس میں مل کر ایک زخم کی سی صورت بنا لیتے ہیں جس سے لیس دار رطوبتیں نکلتی رہتی ہیں۔ اس پر متعدد بار چھلکے آتے ہیں مگر مندمل نہیں ہوتے۔ چونکہ یہ جلد کی سطح پر زخم کی مانند ہوتا ہے اس لیے اس میں اکثر پیپ پڑ جاتی ہے اور درد کے ساتھ بخار بھی ہو سکتا ہے۔ ایکزیما میں فرد مسلسل خارش کرنے پر مجبور ہوتا ہے جس سے انفیکشن پھیل جاتی ہے۔
ایکزیما کی شدید (Acute) قسم کا مطلب یہ ہے کہ اس جسم کے مقام پر سرخی ہے، ورم کے ساتھ چھالے نکلے ہوئے ہیں، ان سے پانی بہتا ہے اور چھلکے آتے رہتے ہیں جبکہ پرانے (Chronic) ایکزیما میں ایک محدود دائرے میں کافی تعداد میں سرخ رنگ کے دانے نکلے ہوتے ہیں۔ ان میں شدید خارش ہوتی ہے اور کبھی جلن ہونے لگتی ہے۔ وہاں کی جلد کا رنگ بدل جاتا ہے اور وہ موٹی ہو جاتی ہے۔
ان دونوں قسموں کی درمیانی صورت یہ بھی ہے کہ دونوں شکلیں ایک ہی مریض میں بیک وقت پائی جائیں اور یہ Sub Acute قسم کہلاتی ہے۔
5 سال سے کم عمر بچوں میں ایکزیما کی شکایت عام ہے تاہم بلوغت کے بعد اس میں خاطر خواہ کمی آ جاتی ہے۔
ایکزیما کے لفظی معنی کسی چیز کے ابل جانے کے ہیں۔ مثال کے طور پر جب پانی ابلتا ہے تو اس میں چھوٹے چھوٹے بلبلے پیدا ہوتے ہیں۔ اس بیماری میں جلد سے اسی طرح کے ''بلبلے‘‘ چھالوں کی صورت میں نمودار ہوتے ہیں اور یہی اس نام کا باعث ہے۔ یہ بنیادی طور پر جلد کی سوزش ہے یعنی Dermatitis ہے، اس لحاظ سے اس کی ہر قسم کو جلد کی سوزش کہہ سکتے ہیں لیکن جلد کی ہر سوزش ایکزیما نہیں ہوتی۔ اس کو پیدا کرنے میں بیرونی اور اندرونی اسباب یکساں طور پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
ایکزیما کا مسئلہ دنیا بھر میں عام ہے۔ امریکا ہی کی مثال لیجیے جہاں ایک اندازے کے مطابق 3 کروڑ 16 لاکھ اس کی کسی نہ کسی قسم کا شکار ہو چکے ہیں جو کل آبادی کا 10 فیصد بنتا ہے۔
حساسیت کا ایکزیما
جب انسانی جلد پر کوئی ایسی چیز لگتی ہے جو اسے قبول نہ ہو تو اس سے حساسیت پیدا ہوتی ہے اور سوزش کی ایک شکل نمودار ہوتی ہے۔ ایک ہی چیز بعض اوقات ایک فرد کے لیے ٹھیک ہوتی ہے جبکہ دوسرا اس سے تکلیف میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ تعلق میں آنے والی ایسی اشیا بھی ہو سکتی ہیں جو جلد پر برے اثرات رکھتی ہیں جیسے مختلف قسم کے تیزاب کیونکہ یہ جلد کو براہ راست جلانے اور اس میں سوزش پیدا کرنے کا باعث ہو سکتے ہیں۔ حساسیت پیدا کرنے والی اشیا کا جلد کے ساتھ بار بار تعلق میں آنا ضروری ہے۔ یہ بھی درست ہے کہ بعض چیزوں کا ایک ہی مرتبہ لگ جانا بھی تکلیف کا باعث ہو سکتا ہے۔
حساسیت پیدا کرنے والے عناصر
مختلف لوگوں کو مختلف چیزوں سے حساسیت ہو سکتی ہے۔ سامانِ تزئین و آرائش خاص طور پر لپ سٹک، کریم، پاؤڈر، خضاب، خوشبوئیں، پسینے کی بدبو اڑانے والے Deodorants، خوشبودار صابن، ہینڈ لوشن، بال صفا صابن اور پاؤڈر وغیرہ میں سے کسی ایک یا زیادہ اشیا سے کسی فرد کو حساسیت ہو سکتی ہے۔ حساسیت پیدا کرنے والی دیگر اشیا میں پلاسٹک کی مصنوعات شامل ہیں مثلاً جوتے، دستانے، نائیلون یا سنتھیٹک فائبر سے بنی جرابیں۔ دھاتی مصنوعات میں نقلی زیورات، گھڑیاں، گھڑیوں کے فیتے، سکے، نِکل اور کرومیم سے بنی ہوئی چیزیں شامل ہیں۔ روزمرہ کے استعمال کی چیزوں میں صابن، کپڑے دھونے والے پاؤڈر، نائیلون کا لباس، کپڑوں کو رنگنے والے کیمیکل، رنگ روغن وغیرہ شامل ہیں۔
ادویات کی فہرست لمبی ہے اور غیر متوقع اشیا سے بھری پڑی ہے۔ عام طور پر جراثیم کش ادویات، جوڑوں کے درد کی دوائیں اور مرہم، سُن کرنے والی دوائیں، سانپ کے کاٹے کے علاج کا ٹیکہ اور دیگر اس میں شامل ہیں۔ گھر میں کام کاج کے دوران خواتین کو کپڑے دھونے اور برتن صاف کرنے کے لیے جن کیمیائی مرکبات کو استعمال کرنا پڑتا ہے وہ ان کے لیے مستقل مصیبت بھی بن سکتے ہیں۔
ہماری ہتھیلیوں اور انگلیوں کے درمیانی حصوں یا انگوٹھی کے نیچے اکثر اوقات ایکزیما شروع ہوتا ہے کیونکہ صابن اور پاؤڈر آسانی سے ان مقامات پر جم جاتے ہیں۔ شروع میں سرخی اور ورم ہونے کے بعد سفید جلد اترنے لگتی ہے۔ یہ شکایت رفتہ رفتہ پھیل کر ہتھیلی کی اندرونی جلد کے ساتھ ہاتھ کی بیرونی جلد کو بھی متاثر کرنے لگتی ہے۔ انگلیوں کے سرے اور ناخنوں کے اطراف کے حصے کو زیادہ نقصان پہنچتا ہے۔ بعد میں جلد خشک ہوکر موٹی ہو جاتی ہے اور اس میں شگاف یا دراڑیں سی پڑ جاتی ہیں اور وقتاً فوقتاً پانی سے بھرے باریک باریک آبلے بنتے رہتے ہیں جن میں ورم اور کھجلی ہوتی ہے۔ خارش کی شکایت پرانی ہونے کی صورت میں ناخنوں کے اطراف کی جلد کی رنگت بدلنے کے علاوہ ناخن بدشکل بھی ہوجاتے ہیں۔
گھر کے کام مختلف نوعیت کے ہوتے ہیں جن سے ایکزیما کی تکلیف کا براہِ راست اور گہرا تعلق ہے۔ برتن دھونے کا پاؤڈر اور سیال صابن کا اس شکایت سے براہِ راست تعلق ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ کپڑے نکھارنے والے بلیچ بھی کافی استعمال ہونے لگے ہیں۔ ان سے بھی ایکزیما کی تکلیف بڑھ جاتی ہے۔
بعض غذائیں نظام مدافعت کو کچھ طرح متاثر کرتی ہیں کہ جلد پر سرخ دانے نمودار ہونے لگتے ہیں۔
علامات
اگر کھجلی پیدا کرنے والا عنصر تیز ہو جیسے کہ کوئی تیزاب یا الکلی تو اس کے لگنے کے تھوڑی دیر بعد وہ جگہ سرخ ہو جاتی ہے جس میں بھورا رنگ جھلکتا ہے۔ پھر آبلے، درد، جلن اور خارش نمودار ہوتی ہے اور اگر یہ چیز دوبارہ نہ لگے تو تکلیف کی شدت کچھ عرصہ میں کم ہو کر ختم ہو جاتی ہے۔ عام طور پر جسم کے دوسرے حصوں پر کوئی اثر نہیں ہوتا لیکن یہ علامات اس صورت میں ہیں جب لگنے والی چیز مقدار میں تھوڑی ہو۔ اگر وہ زیادہ ہو جیسا کہ کسی پر تیزاب انڈیل دیا جائے تو جسم کے اس مقام پر علامات کے ساتھ تیزاب کے جلا دینے والے اثرات خطرناک صورت حال پیدا کر دیتے ہیں۔
عموماً حساسیت اس جگہ پیدا ہوتی ہے جہاں الرجی پیدا کرنے والی چیز لگتی ہے۔ بسا اوقات ایسی چیز کا ایک مرتبہ لگنا ضرر رساں ہوتا ہے اور کبھی زیادہ مرتبہ مثلاً اگر گھڑی کے فیتے سے الرجی ہے تو وہ گھڑی کئی دن باندھنے کے بعد ہو گی۔ خاص طور پر گرمی کے موسم میں جب پسینے سے اس کی دھاتی ساخت کا کچھ حصہ حل ہو کر جسم کو لگے۔
ایک خاتون کو مصنوعی زیورات اور سنہری رنگت والی گھڑی سے ایکزیما ہو سکتا ہے لیکن یہ تکلیف زیادہ تر موسم گرما میں ہوتی ہے۔ کئی بار ایسا ہوتا ہے کہ حساسیت پیدا کرنے والی یہی چیز سردی کے موسم میں بڑے اطمینان سے پہنی جا سکتی ہے۔ جہاں پر تکلیف نمودار ہو اس سے خارش پیدا کرنے والی چیز کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے جیسا کہ کلائی پر خارش سے گھڑی، ہاتھ پر تکلیف سے صابن، بغلوں میں خارش سے پاؤڈر یا ہونٹوں پر تکلیف سے لپ سٹک۔ایک وقت آتا ہے کہ علامات ختم ہو جاتی ہیں اور پھر شدید ہو جاتی ہیں۔
شیرخواروں، بچوں اور بڑوں کی علامات میں قدرے فرق ہوتا ہے۔
2 سال سے کم عمر بچوں میں ایکزیما کی عام علامات یہ ہوتی ہیں؛ سر کی جلد اور تھوڑی پر سرخ دانے( ریشز)، ان میں آبلے بننا اور ان سے مائع کا باہر آنا۔ 2 سال سے زیادہ عمر کے بچوں میں یہ علامات ظاہر ہوتی ہیں۔ کہنی یا گھٹنے کی سلوٹوں پر سرخ دانے۔ اس کے علاوہ گردن، کلائی، ٹخنوں اور ٹانگوں پر سرخ دانے، جلد کا موٹا ہونا۔ بالغوں یا بڑوں میں سرخ دانے زیادہ تر کہنی، گھٹنے کی سلوٹ یا گردن پر نمودار ہوتے ہیں۔ بعض اوقات جسم کے بیشتر حصے پر پھیل جاتے ہیں۔ متاثرہ حصے کی جلد بہت خشک ہو جاتی ہے اور جلد کی انفیکشن ہو جاتی ہے۔
علاج
آسان سا طریقہ یہ ہے کہ جس چیز سے تکلیف ہوتی ہو اس سے اجتناب کیا جائے۔ مگر بدقسمتی یہ ہے کہ ایسا عام طور پر نہیں ہوتا۔ سینکڑوں مریض ایسے دیکھے گئے ہیں جن کو تنگ کرنے والے عناصر کا اتا پتا بھی معلوم نہیں ہوتا۔ ایک عام طریقہ ہے کہ ڈاکٹر یا طبیب انڈا اور مچھلی کھانے سے منع کر دیتے ہیں۔ حکیم حضرات اس فہرست میں بڑے گوشت کا اضافہ بھی کر دیتے ہیں۔ کئی بار ایسا ہوتا ہے کہ معالج روز استعمال میں آنے والے صابن، گھڑیوں، سامان آرائش جیسی چیزوں پر توجہ دینا یا ان کو منع کرنا بھول جاتے ہیں۔
بعض اوقات حقیقت تک پہنچنا دشوار ہوتا ہے ۔ ایک خاتون نے بڑے شوق سے سونے کا لاکٹ بنوایا۔ پہننے کے تین دن بعد اسے خارش شروع ہو گئی اور گردن سرخ ہو گئی۔ کہیں کہیں سے چھلکے پھوٹنے لگے۔ ہار اتارنے پر مسئلہ حل ہو گیا لیکن انہوں نے سونے کی چوڑیاں ایک عرصے سے پہن رکھی تھیں۔ حساسیت اگر ان کو سونے سے تھی تو چوڑیوں سے بھی ہوئی ہوتی!
بات یہ تھی کہ ہار بنانے میں سونے کے ساتھ کوئی اور دھات ملائی گئی، وہ اس سے حساس تھیں۔ اس لیے ان کو چوڑیوں سے تکلیف نہ ہوئی اور ہار اذیت کا باعث بن گیا۔ ایسی خواتین بھی دیکھی گئی ہیں جنہیں کانوں کے ساتھ چہرے پر بھی ایکزیما جیسی صورت پیدا ہو گئی تھی۔ ان کی بیماری کا باعث سنہری آویزوں (Pendants) میں کھوٹ تھا۔
بعض اوقات ایکزیما پر جب دوائیں لگتی ہیں تو اس کے ''غصے‘‘ میں اضافہ ہوتا ہے اور وہ پھیلنے لگتا ہے۔ بیماری جب اس مرحلہ پر آئے تو طبیب وہاں ادویہ کی بجائے نمک کے پانی میں کپڑے بھگو کر بار بار رکھنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ اکثر اوقات زخموں کو مندمل کرنے کے لیے اتنا ہی کافی ہوتا ہے۔
زیتون انتہائی کارآمد تیل ہے۔ اس کی طبی صفات میں اہم خوبی یہ ہے کہ اس سے حساسیت نہیں ہوتی۔ یہ کھجلی کو رفع کرتا ہے۔ ان صلاحیتوں کو سامنے رکھ کر آسان ترکیب یہ دیکھی گئی کہ برگ حنا 15 گرام اور روغن زیتون 100 گرام ملا کر تھوڑا گرم کر لیا جائے اور اس کے بعد اس تیل میں کپڑا بھگو کر زخم پر رکھا جائے۔ مریضوں کی کافی تعداد اتنے ہی میں ٹھیک ہو گئی۔
اس کے علاج میں سرکہ بھی شامل ہے۔ اس کا ایک سادہ نسخہ یہ ہے۔
برگ حنا 25 گرام، کلونجی 10 گرام، سنامکی 10 گرام، فروٹ کا سرکہ 500 گرام۔ ان کو 5 منٹ ابال کر چھان لیں۔ زخموں پر اگر چھلکے زیادہ نہ ہوں تو یہ لوشن دن میں دو مرتبہ لگانا مفید ثابت ہوتا ہے۔
ایکزیما کے لیے سیب کا سرکہ بھی مؤثر ثابت ہوا ہے۔ اس سرکے میں پانی ملا کر مرہم کی طرح زخموں پر لگانے سے جلد کی تیزابیت کو کم کیا جا سکتا ہے جس سے زخم ٹھیک ہوتا ہے۔ خیال رہے کہ پانی ملائے بغیر سرکہ جلد پر مت لگائیں کیونکہ یہ جلد کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔
ایکزیما میں نیم گرم پانی سے نہانا مفید ہے۔ نہانے سے تقریباً 3 منٹ قبل جسم پر موائسچر لگا لینا چاہیے۔ کاٹن سے بنے یا نرم کپڑے پہننے چاہئیں۔ نہانے کے بعد متاثرہ حصے کو از خود خشک ہونے دیں یا تولیہ آرام سے لگائیں۔ایسی سرگرمیوں کو ملتوی کردیں جن سے پسینہ آتا ہو۔ یہ جاننے کی کوشش کرتے رہیں کہ کون سی چیزیں ایکزیما کا سبب بن رہی ہیں۔ مرض بڑھنے کی صورت میں ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔