ڈاکٹر وزیر آغا: اردو زبان کے خدمت گزار
اسپیشل فیچر
عالمی شہرت کے حامل مایہ ناز پاکستانی ادیب، دانشور، نقاد، محقق اور انشائیہ نگار ڈاکٹر وزیر آغا18 مئی 1922کو پنجاب کے ایک ضلع سرگودھا کے گاؤں وزیر کوٹ میں پیدا ہوئے۔ وہ ایک کثیر الجہتی شخصیت تھے۔انھوں نے اردو نثر، اردو شاعری، اردو انشائیہ، سوانح نگاری، تحقیق، تنقید اور تاریخ میں وہ کارہائے نمایاں انجام دیئے کہ دنیا بھر میں ان کی خدمات کا اعتراف کیا گیا۔
ڈاکٹر وزیر آغا کا تعلق فارسی بولنے والے ایرانی النسل قزلباش خاندان سے تھا۔ ان کے والد کا آبائی پیشہ تجارت تھا اور وہ گھوڑوں کی تجارت سے روزی کماتے تھے جب پورا برصغیر برطانیہ کی نو آبادی تھا تو اس دوران میں ڈاکٹر وزیر آغا کے والد کو بر صغیر کے برطانوی حکمرانوں کی طرف سے 750 ایکڑ پر مشتمل ایک جاگیر عطا کی گئی یہ جاگیر ضلع سرگودھا میں وزیر کوٹ قصبہ میں اب بھی ان کے ورثا کی تحویل میں ہے اور یہاں کھیتی باڑی کی جاتی ہے۔ ڈاکٹر وزیر آغا نے فارسی زبان اپنے والد سے سیکھی اور پنجابی اِن کی مادری زبان تھی۔ جہاں تک انگریزی زبان کا تعلق ہے انھوں نے انگریزی زبان کی استعداد اپنے انگریز ی بولنے والے احباب سے گہرے ربط اور تبادلہ خیال اور وسیع مطالعہ کے ذریعے حاصل کی۔ انھوں نے دریدا، رولاں بارتھ، سوسیئر اور لاکاں کا عمیق مطالعہ کیا اور ان کے خیالات پر اپنے مدلل دلائل سے اردو تنقید کا دامن متنوع نظریات سے مالا مال کر دیا۔
زمانہ طالب علمی ہی سے انھیں عالمی ادبیات اور شاعری سے گہری دلچسپی تھی۔ انھوں نے عالمی کلاسک کا تفصیلی مطالعہ کیا اور ان کے خیالات سے بھر پور استفادہ کر کے اردو ادب کو دھنک رنگ مناظر سے مزین کر دیا۔ پنجابی کلاسیکی شاعری سے انھیں گہری دلچسپی تھی۔ جھنگ میں قیام کے دوران میں انھیں حضرت سلطان باہوؒ کی شاعری سے دلچسپی پیدا ہوئی۔
اپنے آبائی گاؤں سے ابتدائی تعلیم مکمل کرنے کے بعد ڈاکٹر وزیر آغا نے تاریخی مادر علمی گورنمنٹ کالج جھنگ میں انٹرمیڈیٹ میں داخلہ لیا۔ وہ اکثر کہا کرتے تھے کہ گورنمنٹ کالج جھنگ محض درسگاہ نہیں بلکہ یہ تو ایک درگاہ ہے جہاں قسمت نوع بشر تبدیل ہو تی ہے۔ گورنمنٹ کالج جھنگ میں ڈاکٹر وزیر آغا کو نابغہ روزگار اساتذہ سے استفادہ کا موقع ملا۔ وہ اپنے اساتذہ کا نام بڑی عزت و احترام سے لیتے تھے ان میں رانا عبدالحمید خان، سی۔ ایم صادق، ایم۔ اے خان، غلام رسول شوق اور ڈاکٹر نذیر احمد کے نام قابل ذکر ہیں۔ گورنمنٹ کالج جھنگ میں ڈاکٹر وزیر آغا کے ہم جماعت پروفیسر ڈاکٹر عبدالسلام (نوبل انعام یافتہ پاکستانی سائنس دان) بھی تھے۔ سردار باقر علی خان بھی ان کے ہم جماعت تھے۔ سردار باقر علی خان بعد میں انڈین سول سروس کے امتحان میں اول آئے اور ملتان کے کمشنر مقرر ہوئے۔
گورنمنٹ کالج جھنگ کے علمی ادبی ماحول نے ڈاکٹر وزیر آغا کے ادبی ذوق کو صیقل کیا اور وہ اس کالج کے علمی و ادبی مجلے چناب کے مدیر متعلم منتخب ہو گئے۔ یہ انتخاب وہ مضمون نویسی میں اول آنے کی بدولت جیتے۔ ڈاکٹر وزیر آغا کی ادارت میں "چناب" نے یاد گار اشاعتوں کا اہتمام کیا۔ گورنمنٹ کالج جھنگ میں ڈاکٹر وزیر آغا نے ادبی نشستوں کا اہتمام کیا۔ وزیر آغا ان ادبی محفلوں کے روح رواں تھے۔ گورنمنٹ کالج جھنگ سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد ڈاکٹر وزیر آغا گورنمنٹ کالج لاہور پہنچے اور معاشیات میں ایم۔ اے کی ڈگری حاصل کی۔ 1953 میں ان کی کتاب ''مسرت کی تلاش میں‘‘ منظر عام پر آئی۔ 1956 میں انھوں نے ''اردو ادب میں طنز و مزاح‘‘ کے موضوع پر تحقیقی مقالہ لکھ کر پی ایچ۔ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ 1960میں ان کی ادبی زندگی کا درخشاں دور شروع ہوا جب وہ مولانا صلاح الدین احمد کے رجحان ساز ادبی مجلے ''ادبی دنیا‘‘ کے مدیر معاون مقرر ہوئے۔ وہ مسلسل تین سال تک اس ادبی مجلے کے ساتھ وابستہ رہے اور مولانا صلاح الدین احمد سے اکتساب فیض کیا۔ 1965 میں ڈاکٹر وزیر آغا نے اپنا الگ ادبی مجلہ ''اوراق‘‘ شائع کیا۔اس ادبی مجلے کو عالمی سطح پر خوب پذیرا ئی نصیب ہوئی۔ ڈاکٹر وزیر آغا کی وفات سے چند برس قبل اس مجلے کی اشاعت تعطل کا شکار ہو گئی تھی۔ ڈاکٹر وزیر آغا کی ابتدائی نظمیں 1948 میں جب مولانا صلاح الدین کے ادبی مجلے ''ادبی دنیا‘‘ میں شائع ہوئیں تو ممتاز ادیبوں نے انھیں بہت سراہا اور ان کے کلام کو بہت پذیرائی حاصل ہوئی۔ ڈاکٹر وزیر آغا کی ساٹھ کے قریب تصانیف ہیں۔ انھوں نے تمام عمر علم و ادب کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنائے رکھا۔ اپنے آبائی پیشہ زراعت کے علاوہ باقی وقت کتابیں ان کا چمن ہوتی تھیں۔
ڈاکٹر وزیر آغا کی نظم نگاری سے اردو نظم کی ثروت میں بے پناہ اضافہ ہوا۔ ان کی بات دل سے نکلتی اور سیدھی دل میں اتر جاتی ہے۔ڈاکٹر وزیر آغا نے اردو نظم کو نئے امکانات سے آشنا کیا۔ ان کی نظم ''دن ڈھل چکا تھا‘‘ غزل کی ہیئت میں لکھی گئی ہے یہ نظم اسلوب اور ڈسکورس کے اعتبار سے اپنی مثال آپ ہے۔
دن ڈھل چکا تھا اور پرندہ سفر میں تھا
سارا بدن لہو کا رواں مشت پر میں تھا
جاتے کہاں کہ رات کی باہیں تھیں مشتعل
چھپتے کہاں کہ سارا جہاں اپنے گھر میں تھا
حد افق پہ شام تھی خیمے میں منتظر
آنسو کا اک پہاڑ سا حائل نظر میں تھا
لو وہ بھی خشک ریت کے ٹیلے میں ڈھل گیا
کل تک جو ایک کوہ گراں رہگزر میں تھا
پاگل سی اک صدا کسی اجڑے مکاں میں تھی
کھڑکی میں اک چراغ بھری دوپہر میں تھا
اس کا بدن تھا خون کی حدت میں شعلہ پوش
سورج کا اک گلاب سا طشت سحر میں تھا
ان کے اعتراف میں حکومت پاکستان نے انھیں 1995 میں اکادمی ادبیات پاکستان کا تا حیات رکن مقر رکیا۔ 7 ستمبر 2010 کی شام جب ڈاکٹر وزیر آغا نے لاہور میں داعی اجل کو لبیک کہا اور ان کو آبائی گاؤ ں وزیر کوٹ میں دفنایا گیا۔