نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- کئی ممالک نے امریکا اور عالمی برادری کے سامنے ہمارے حق میں آواز اٹھائی،ترجمان
  • بریکنگ :- 6روز قبل چین اور روس نے بھی ہماری حکومت کے حق میں بات کی،ذبیح اللہ مجاہد
  • بریکنگ :- قطر،ازبکستان اور دیگر ممالک نے بھی مثبت موقف اپنایا،ترجمان طالبان
  • بریکنگ :- پاکستان ہمارا ہمسایہ ملک ہے،ان کا موقف قابل تحسین ہے،ذبیح اللہ مجاہد
  • بریکنگ :- افغانستان کے ساتھ عالمی برادری کے روابط ضروری ہیں،ذبیح اللہ مجاہد
  • بریکنگ :- افغانستان کو تجارت اور اقتصادی امور میں ہمسایہ ممالک کی ضرورت ہے،ترجمان
  • بریکنگ :- توقع ہے ہمسایہ ممالک اپنا مثبت کردار جاری رکھیں گے،ترجمان طالبان
  • بریکنگ :- پنج شیر میں لڑائی ختم ہوچکی ہے،ترجمان طالبان ذبیح اللہ مجاہد
  • بریکنگ :- بیشترمقامی عمائدین ،علمائے کرام اور مجاہدین ہمارے ساتھ ہیں،ترجمان طالبان
  • بریکنگ :- ہم کسی کے ساتھ جنگ نہیں چاہتے،ترجمان طالبان ذبیح اللہ مجاہد
  • بریکنگ :- پوری دنیا کے ساتھ بہتر تعلقات چاہتےہیں،ترجمان طالبان ذبیح اللہ مجاہد
  • بریکنگ :- اگر کوئی لڑائی یا حملے کی خواہش رکھتاہے تو سخت جواب دیاجائےگا،ترجمان طالبان
  • بریکنگ :- افغانستان میں امن کے بعد ہماری ترجیح ہے کہ تجارت فروغ پائے،ذبیح اللہ مجاہد
  • بریکنگ :- افغانستان کو پشاور اور پاکستان کے دیگر علاقوں سے منسلک کیاجائےگا،ترجمان طالبان
  • بریکنگ :- سی پیک منصوبہ اہم ہے،تھوڑی تحقیق کی ضرورت ہے،ترجمان طالبان
  • بریکنگ :- چاہتے ہیں سی پیک میں شامل ہوں،ترجمان طالبان ذبیح اللہ مجاہد
  • بریکنگ :- پاکستان ہمارا پڑوسی ملک اور افغانوں کا دوسرا گھر ہے،ترجمان طالبان
  • بریکنگ :- لاکھوں افغان مہاجرین اب بھی پاکستان میں رہائش پذیر ہیں،ترجمان طالبان
  • بریکنگ :- ہماری زبان ،مذہب مشترکہ اور رسم ورواج بھی ایک جیسے ہیں،ترجمان طالبان
  • بریکنگ :- ہم ایک اسلامی ریاست قائم کرناچاہتےہیں،ترجمان طالبان
  • بریکنگ :- کشمیری ہمارے بھائی ہیں،ترجمان طالبان ذبیح اللہ مجاہد
  • بریکنگ :- عالمی برادری مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم بند کرائے،ترجمان طالبان
  • بریکنگ :- کشمیری،میانمار اور فلسطینی بھائیوں کی سیاسی وسفارتی حمایت کریں گے،ترجمان طالبان
Coronavirus Updates

میں بہادر ہوں مگر ہارے ہوئے لشکر میں ہوں ریاض مجید اردو غزل کے بڑے شاعر

میں بہادر ہوں مگر ہارے ہوئے لشکر میں ہوں ریاض مجید اردو غزل کے بڑے شاعر

اسپیشل فیچر

تحریر : عبدالحفیظ ظفر


جدید طرز احساس کے شعراء میں ریاض مجید کا نام بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے خوبصورت غزل کے معیارات کا خود ہی تعین کیا اور اپنی قوت متخیلہ کو بڑی نفاست اور عمدگی سے شعری لباس پہنایا۔ ان کی شاعری میں ہمیں شعری طرز احساس اور جدید طرز احساس کا وہ سنگم ملتا ہے جس کی جتنی توصیف کی جائے کم ہے۔ وہ جمالیاتی احساس کو بھی شاعری کا لازمی جزو سمجھتے ہیں۔ معروضی صداقتوں کی گونج بھی ان کے اشعار میں ہے اور معاشرتی کرب کی جھلکیاں بھی ہمیں ان کے اشعار میں ملتی ہیں۔ انہوں نے مضمون آفرینی کے ساتھ ساتھ جس چیز کو سب سے زیادہ اہمیت دی ہے وہ ہے شعر۔
ریاض مجید کا اصل نام ریاض الحق ہے۔ وہ 13 اکتوبر 1942 کو جالندھر میں پیدا ہوئے۔ پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد گورنمنٹ کالج فیصل آباد میں پروفیسر کے طورپر اپنی ذمہ داریاں نبھانے لگے۔ ان کی تصانیف میں گزرتے وقت کی عبادت ''پس منظر‘‘ ،''نئی آوازیں‘‘، 'رفحان میں ایک شام‘‘ شامل ہیں۔ اردو کے علاوہ مجید نے پنجابی زبان میں بھی اپنی شعری صلاحیتوں کے جوہر دکھائے۔
ریاض مجید کی شاعری کا ایک بڑا وصف یہ ہے کہ اس میں ابلا غ کا کوئی مسئلہ در پیش نہیں۔ وہ کچھ کہتے ہیں بڑی وضاحت سے کہتے ہیں۔ قاری کو کسی مشکل میں نہیں ڈالتے۔ ان کے خیال کی ندرت انہیں ایک عمدہ غزل گو تسلیم کرنے کے لئے کافی ہے۔ ذرا یہ شعر ملاحظہ فرمایئے جو ان کی شناخت بن چکا ہے
میرا دکھ یہ ہے کہ میں اپنے ساتھیوں جیسا نہیں
میں بہادر ہوں مگر ہارے ہوئے لشکر میں ہوں
اس دکھ کو وہی محسوس کرسکتا ہے جس نے اسے جھیلا ہو۔ یہ شعر بے بسی کا استعارہ ہے۔ آپ کے پاس سب کچھ ہے لیکن پھر بھی ناکامی کے اندھیرے آپ کا مقدر ہیں۔ اس سے بڑی مایوسی اور کیا ہوسکتی ہے۔ تنہا لڑائی اگر نہیں لڑسکتے تو پھر اس لشکر میں شامل ہوجائیے جس کے لوگ آپ ہی کی طرح جری اور جانباز ہیں۔ اس شعر کے اندر فلسفہ بھی ملتا ہے اور ایک موثر پیغام بھی۔
ریاض مجید کے بے شمار اشعار ایسے ہیں جن کا دوسرا مصرعہ پڑھ کر قاری ورطہ حیرت میں ڈوب جاتا ہے۔ مصرعہ اولیٰ کی تاثریت مصرعہ ثانی مکمل کردیتا ہے اور منہ سے بے ساختہ واہ نکلتی ہے۔
ذرا مندرجہ ذیل اشعار ملاحظہ کریں۔
وقت خوش خوش کاٹنے کا مشورہ دیتے ہوئے
رو پڑا وہ آپ مجھ کو حوصلہ دیتے ہوئے
جی میں آتا ہے بکھر کر دہر بھر میں پھیل جائوں
قبر لگتی ہے بدن کی چار دیواری مجھے
دیکھتے ہیں سب مگر کوئی مجھے پڑھتا نہیں
گزرے وقتوں کی عبارت ہوں عجائب گھر ہوں میں
ہمارے جدید طرز احساس کے کئی شعرا سیاسی اور سماجی حالات کی بھر پور عکاسی کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ریاض مجید نے کس مہارت اور نفاست سے وہ المیہ بیان کیا ہے جس کا تعلق اس ملک کے کروڑوں عوام سے ہے۔ انہوں نے اپنی غزل کے ایک مصرعے میں ''اشرافیہ‘‘ کا لفظ استعمال کیا ہے۔ یہ وہ لفظ ہے جو ہماری سیاست کی زبان میں سے زیادہ استعمال ہوتا ہے۔ خاص طورپر وہ سیاسی جماعتیں جو اپوزیشن کی سیاست کر رہی ہوتی ہیں۔ ان کے لئے یہ لفظ بڑا شاندار لفظ ہے اور وہ''اشرافیہ‘‘ کو ہدفت تنقید بنا کر عوام کے سارے مسائل کا ذمہ دار انہیں گردانتے ہیں۔ لیکن اقتدار حاصل کرنے کیلئے انہیں پھر اسی اشرافیہ کی حمایت درکار ہوتی ہے۔ اس وقت ان کے نظریات یکسر تبدیل ہوجاتے ہیں۔ بہر حال ریاض مجید کا یہ شعر زبردست داد کا مستحق ہے جس میں شعریت بھی ہے اور معروضی صداقتوں کا والہانہ اظہار بھی
بہت بے زار ہیں اشرافیہ کی رہبری سے
کوئی انسان کوئی خاک زادہ چاہتے ہیں
شاعر نے اشرافیہ کو انسانوں کی فہرست ہی سے خارج کردیا ہے۔ اس شعر پر بہت طویل بحث ہوسکتی ہے۔ میں نے جتنی اردو شاعری پڑھی ہے اس میں اشرافیہ کا لفظ پڑھنے کو نہیں ملا۔ مجھے مجید امجد یاد آئے جو وہ شعری زبان استعمال کرتے تھے جو پہلے کبھی استعمال نہیں ہوئی۔ انہوں نے بہت سے نئے الفاظ استعمال کئے۔ مضمون آفرینی کے حوالے سے ان کا ذرا یہ شعر ملاحظہ کیجئے۔
ہر کسی غم کی وہی شکل پرانی نکلی
بات کوئی بھی ہو تیری ہی کہانی نکلی
تنہائی کے حوالے سے بہت سے شعراء نے بڑے خوبصورت اشعار کہے ہیں۔ کسی نے تنہائی کو مثبت انداز میں لیا ہے اور یہ موقف اختیار کیا ہے کہ تنہائیوں کا اپنا ایک حسن ہے۔ ایک شاعر نے کیا خوب کہا تھا
مقام رنج ہے تنہائیوں نے مل کر آج
واہ اپنا حسن بھی کویا ہے انجمن بن کر
لیکن ریاض مجید جس تجربے سے گزرے ہیں وہ ایک انوکھی داستان بیان کرتا ہے۔ وہ تنہائی کے آرزو مند نہیں لیکن ان کا المیہ یہ ہے کہ محفلوں نے بھی انہیں کچھ نہیں دیا اور وہ یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ تنہائیاں ہی ان کا مقدر ہیں۔ کہتے ہیں۔
کھلا یہ بھید کہ تنہائیاں ہی قسمت ہیں
اک عمر دیکھ لیا محفلیں سجا کر بھی
نکتہ آفرینی شاعری کا ایک بہت بڑا وصف ہے۔ ریاض مجید نے وہ رومانوی شعر کہا ہے جو کوئی اور شاعر نہ کہہ سکا۔ عام طورپر شاعر محبوب کے نہ ملنے کو اپنی بد نصیبی قرار دیتا ہے اور اس کا دل حزیں اس محرومی کی چکی میں پستا رہتا ہے لیکن ریاض مجید نے اس حوالے سے کیا نکتہ نکالا ہے ذرا غور کیجئے۔
زندگی تھوڑی تھی ہم کو اور بھی سو کام تھے
ورنہ اک تجھ کو ہی پانا تو کوئی مشکل نہ تھا
اب آپ اسے کیا کہیں گے یہ نکتہ آفرینی بھی ہے اور ندرت خیال بھی ریاض مجید نے جدید غزل کے امکانات کو وسیع کیا۔ جسم کو کئی ایسے مضامین کا لباس پہنایا جس سے قاری کو خوشگوار حیرت ہوتی ہے۔ انہوں نے فطری حقائق سے بھی کبھی نظریں نہیں چرائیں۔ جدید طرز احساس کے ساتھ ساتھ ان کا شعری طرز احساس بھی ذہن میں رکھنا چاہئے۔ جب کوئی شاعری ان دونوں اوصاف کی حامل ہو تو ادب کا کون سا قاری ایسا ہوگا جو ایسی شاعری کو نظر انداز کرے گا۔
ریاض مجید شاعری میں کسی ایک دھڑے ے وابستہ نہیں ہیں۔ نہ ان پر ترقی پسندی کا لیبل لگا اور نہ ہی وہ روایتی اور کلاسیکل مکتبہ فکر کے داعی ہیں۔ ان کا شاعری کا کینوس وسیع ہے
ریاض مجید کے شعری خزانے میں اضافہ ہوتا رہے گا اور اردو غزل کے قارئین ان پر داد و تحسین کے ڈونگرے برساتے رہیں گے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement
پٹیالہ گھرانے کا ہونہار سپوت گلوکار اسد امانت علی خان

پٹیالہ گھرانے کا ہونہار سپوت گلوکار اسد امانت علی خان

گائیکی کی ہر صنف مہارت سے گانے والے کلاسیکل گائیک کے یوم پیدائش پر خصوصی تحریرپٹیالہ گھرانے کے چشم و چراغ اسد امانت علی خاں کسی تعارف کے محتاج نہیں، ان کے گائے ہوئے گیت ان کی پہچان ہیں۔ کافی ''عمراں لنگھیاں پبّاں بھار‘‘ ہو، غزل ''انشا جی اٹھو‘‘ ہو یا فلمی گیت ''کیا گلبدنی‘‘ گائیکی کی تمام اصناف میں ان کی مہارت نظر آتی ہے۔ کلاسیکی موسیقی کے اس عظیم گائیک کا آج چھیاسٹھواں یوم پیدائش ہے۔ 25 ستمبر 1955ء کو مایہ نازگائیک استاد امانت علی خاں کے گھر آنکھ کھولی، وہ استاد فتح علی اور استاد حامد علی خان کے بھتیجے اور شفقت امانت علی خان کے بڑے بھائی تھے۔اسد امانت علی خان کی شکل اپنے پڑدادا علی بخش جرنیل سے بہت مشابہہ تھی۔ ریڈیو پاکستان ریسرچ سیل میں علی بخش جرنیل کی ایک تصویر آویزاں ہے۔ اْس تصویر کی جھلک اسد میں موجود تھی۔ اسد امانت علی خان نے موسیقی اپنے دادا اختر حسین اور چچا استاد فتح علی خان سے سیکھی۔ انہوں نے اپنی گائیگی کا آغاز 10 سال کی عمر سے کیا۔ ان کا پہلا گاناان کے دادا اختر حسین کے البم میں شامل کیا گیا تھا تاہم انہوں نے اپنے میوزیکل کریئر کا باضابطہ آغاز ''ٹھمری‘‘ گا کر اس وقت کیا جب ان کی عمر تقریباً 18 برس تھی۔ ان کی آواز نہایت قد آور، رینج دار اور اپنے والد استاد امانت علی خان کی طرح سوز و گداز میں ڈوبی ہوئی تھی۔ انہیں گائیکی کی تمام اصناف گانے پر عبور حاصل تھا۔ وہ غزل، گیت، ٹھمری، لوک گیت اور دیگر اصناف کی گائیکی میں بھی مہارت رکھتے تھے۔ شروع میں اپنے والد استاد امانت علی خان مرحوم کی آواز میں گائے ہوئے آئٹم گا کر خوب داد سمیٹی۔ خصوصاً اْن کی گائی ہوئی غزل ''انشا جی اْٹھو اب کوچ کرو، اس شہر میں جی کا لگانا کیا‘‘ گا کر سامعین کا دل موہ لیا کرتے تھے۔اسد امانت علی خان کی کافی ''عمراں لنگھیاں پبّاں بھار‘‘بھی بہت مشہور ہے جسے وہ نہایت ڈوب کر گایا کرتے تھے اور اسے گاتے ہوئے وہ اکثر آبدیدہ ہو جایا کرتے تھے۔ جس محفل میں وہ گاتے سامعین اْن سے یہ کافی ضرور سنتے۔انہوں نے 1974ء میں اپنے والد کی موت کے بعد باقاعدگی سے پی ٹی وی پر پرفارم کرنا شروع کردیا تھا مگر اپنے والد کے برعکس اسد نے اردو فلموں کے لیے بھی بطور پلے بیک سنگر گانا شروع کیا۔ کئی فلموں کے لیے نغمات ریکارڈ کروائے اور ان کے جونغمے مقبول ہوئے ان میں فلم ''ابھی تو میں جوان ہوں‘‘ کا گیت ''کیا گلبدنی، کیا گلبدنی، کیا گلبدنی ہے‘‘ اور فلم ''آواز‘‘ کا گیت ''تو مرے پیار کا گیت ہے‘‘ نمایاں ہیں۔ان کے دیگر معروف گیتوں اور غزلوں میں غم تیرا ہم نے، ذرا ذرا دل میں درد ہوا اور کل چودھویں کی رات تھی، شامل ہیں۔شوبز حلقوں کے مطابق اسد امانت علی خان بحیثیت انسان نہایت باادب، یاروں کے یار اور دید لحاظ والے انسان تھے۔ جگت بازی کے عادی تھے، جہاں بیٹھ جاتے محفل کشتِ زعفران بن جایا کرتی تھی۔مایہ نازگائیک استاد امانت علی خاں کے صاحبزادے اور استاد علی بخش کے پوتے اسد امانت علی خان کو موسیقی کی دنیا میں ان کی خوبصورت آواز پر تمغہ حُسن کارکردگی سے نوازا گیا۔وہ حضرت امام حسینؓ کے عاشق تھے، سوز و سلام پڑھتے ہوئے ان پر رقت طاری ہو جایا کرتی تھی اور روتے روتے سلام پیش کرتے تھے۔وہ غزل کنسرٹس کے لیے مقبول تھے اور اپنی مشہور غزلیں، فلمی گانے اور وہ جو ان کے والد کی تھیں، گاتے تھے۔ 2006ء میں پی ٹی وی میں ایک کنسرٹ کے دوران انہوں نے اختتامیے کے طور پر انشاء جی اٹھو گائی۔ اتفاقاً یہ ان کا آخری کنسرٹ ثابت ہوا اور انشاء جی اٹھو وہ آخری گانا تھا جو انہوں نے عوام کے سامنے پرفارمنس کے دوران گایا۔چند ماہ بعد ہی اسد کا انتقال ہوگیا۔ اسد کی عمر بھی موت کے وقت اپنے والد کی طرح 52 سال تھی۔ بیٹی کے ساتھ کرکٹ کھیلنے میں مشغول تھے، گیند زمین سے اٹھانے کے لیے جْھکے تو پھر اْٹھ نہ سکے۔

انسان کے متعلق حیران کن معلومات

انسان کے متعلق حیران کن معلومات

انسان ایک رات کی نیند میں ساڑھے چھ ہزار مرتبہ سانس لیتا ہے ۔انسان دو ہفتوں تک بغیر کھائے تو زندہ رہ سکتا ہے لیکن اگر وہ صرف دس دن کے لئے بھی نہ سوئے تو اس کی موت واقع ہو سکتی ہے ۔ہماری ناک کا سائز ہمارے انگھوٹھے کے سائز کے برابر ہوتا ہے ۔پیدائشی اندھے لوگ بھی خواب دیکھتے ہیں ،لیکن وہ تصویر یں نہیں بلکہ صرف خوشبو، جذبات اور چھونے کے احساسات کو استعمال کرتے ہیں۔ انسانی آنکھ کو اندھیرے سے مکمل عادی ہونے کے لیے تقریباًایک گھنٹہ لگ سکتا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ پرانے زمانے کے ڈاکواپنی ایک آنکھ پر پٹی باندھے رکھتے تھے اور جب اندھیرے میں جاتے تھے تو پٹی اتار دیتے تھے ،چونکہ ان کی ایک آنکھ پہلے سے ہی اندھیرے کی عادی ہو چکی ہوتی ہے اس لئے انہیں اندھیرے میں دیکھنے کے لئے زیادہ پریشانی نہیں ہوتی تھی۔انسانی جسم کی سب سے بڑی ہڈی ران کی ہڈی ہوتی ہے اور اس کے بعد ریڑھ کی ہڈی ہوتی ہے۔ایک حالیہ تحقیق کے مطابق عورتیں سب سے زیادہ سانپوں سے اور مرد سب سے زیادہ دفن ہونے سے ڈرتے ہیں۔انسانی جسم میں سب سے سخت چیز اس کے دانتوں کے اوپر کی پالش ہے ۔جب ہم بولتے ہیں تو تقریباً ستر اعضا ء حرکت کرتے ہیں ۔انسانی جسم میں تقریباً پچیس لاکھ مسام ہوتے ہیں۔ انسانی دماغ میں نوے فیصد پانی ہوتا ہے ۔انسانی دماغ ایک سو واٹ بلب جتنی توانائی سے چلتا ہے۔

مہاشیر:پاکستان کی قومی مچھلی ,نایاب ہوتی نسل کو بچانے کیلئے 80ایکڑ رقبہ مختص

مہاشیر:پاکستان کی قومی مچھلی ,نایاب ہوتی نسل کو بچانے کیلئے 80ایکڑ رقبہ مختص

جس طرح پاکستان کا قومی کھیل, قومی زبان , قومی پھول , قومی جانور اور دیگر شعبہ ہائے زندگی کے قومی کرداروں کی درجہ بندیاں کی گئی ہیں اسی طرح سمندری مخلوق کی سب سے اہم مخلوق یعنی مچھلیوں کی بھی درجہ بندی کرتے ہوئے ''مہاشیر مچھلی‘‘ کو پاکستان کی قومی مچھلی قرار دیا گیا ہے۔ابھی حال ہی میں جب سیکرٹری جنگلات و فشریز کا یہ تشویش ناک بیان پڑھا کہ پاکستان کی قومی مچھلی مہاشیر نہ صرف کم ہوتی جارہی ہے بلکہ ناپید ہوتی جا رہی ہے۔ جہاں ایک طرف یہ بیان باعث تشویش تھا وہیں یک گونہ تسلی کا باعث بھی۔ وہ یوں کہ مذکورہ سیکرٹری صاحب نے ساتھ ہی یہ حوصلہ افزا خبر بھی سنائی تھی کہ مہاشیر کی نسل میں اضافے، تحفظ اور ذخیرہ کے لئے اٹک میں حاجی شاہ ڈیم کے 80 ایکڑ رقبے کو مختص کر دیا گیا ہے جہاں 2500 مہاشیر نسل کی مچھلیاں ڈالی گئی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اس حوالے سے یہ خبر بھی حوصلہ کا باعث تھی کہ مہاشیر کی نسل میں اضافے اور تحفظ کی خاطر دیگر آبی ذخائر کو بھی مختص کرنے کے پروگرام پر کام شروع کر دیا گیا ہے۔کچھ عرصہ پہلے ایک معروف غیر ملکی نشریاتی ادارے نے پاکستان کی آبی حیات بلخصوص مچھلیوں کی تیزی سے کم ہوتی نسل بارے ایک معلوماتی پروگرام میں جب مختلف اقسام کی مچھلیوں کی نشاندہی کی تو وہیں اس ادارے نے بطور خاص ''مہاشیر مچھلی‘‘ کا ذکر بھی کیا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ مذکورہ ادارے نے اس مچھلی کی کم ہوتی نسل بارے یہ افسوس ناک انکشاف بھی کیا کہ کے پی کے اور بلوچستان کے کچھ علاقوں میں سردیوں میں مچھلیاں پکڑنے کے لئے نالوں میں بارودی مواد کے دھماکے کئے جاتے ہیں جس سے مچھلیوں کے ساتھ ساتھ ان کے بچے بھی ہلاک ہو جاتے ہیں جو اس نایاب نسل کی معدومیت کے لئے خطرے کی بہت بڑی گھنٹی ہے۔ چنانچہ اسی لمحے مجھے اس نایاب اور قیمتی مچھلی بارے جاننے کا تجسس ہوا۔ ذیل میں میں اس نایاب مچھلی بارے کچھ معلومات شیئر کرنے کی کوشش کروں گا۔مہاشیر مچھلی پاکستان کے صوبہ کے پی کے اور بلوچستان میں پائی گئی ہے جبکہ پاکستان میں عام طور پر مہاشیر مچھلیوں کی دو بڑی اقسام پائی جاتی ہیں۔ جن میں سب سے زیادہ پائی جانے والی نسل ''گولڈن مہا شیر‘‘ ہے۔ جس کے بارے کہا جاتا ہے کہ یہ صرف ہمالیہ کے پہاڑی سلسلہ میں پائی جاتی ہے اور اس کے علاوہ دنیا کے کسی اور حصے میں اس کی موجودگی کے شواہد نہیں ملے۔ یہ بنیادی طور پر میٹھے پانیوں کی مچھلی ہے۔ کھانے میں یہ اس قدر لذیذ ہے کہ بہت کم دوسری مچھلیاں اس کی لذت کے معیار کو چھوتی ہونگی۔ یہ اپنے نام کی مناسبت سے سنہرے رنگوں میں پائی جاتی ہے۔ اب سندھ کے ماہی گیر اس بارے یہ شکوہ کرتے نظر آتے ہیں کہ جس تیز رفتاری سے دریا خشک ہوتے جا رہے ہیں اس قدر تیزی سے مہاشیر کی نسل بھی معدومیت کی طرف بڑھ رہی ہے۔ اس کی دوسری قسم بلوچستان میں پائی جاتی ہے جو کے پی کے کی نسل سے قدرے مختلف ہے۔ اس کا اور گولڈن مہاشیر کا واضح فرق یہ ہے کہ اس کی بڑی بڑی موچھیں ہیں جبکہ اس کا سر قدرے چپٹا ہے یہ چونکہ بلوچستان کے علاقے ژوب میں پائی جاتی ہے اس لئے اس کی شناخت ''ژوبی مہاشیر ‘‘ کے نام سے کی جاتی ہے۔ ژوبی مہاشیر کی موجودگی دریائے کابل، دریائے گومل اور دریائے کرم میں بھی پائی گئی ہے۔ماہرین کے مطابق مہاشیر مچھلی پاپلیٹ یا سرمئی پاپلیٹ مچھلی کے خاندان سے تعلق رکھتی ہے۔ اس کی خاص بات یہ ہے کہ اس کی خوراک کا زیادہ تر دارومدار چھوٹی مچھلیوں پر ہوتا ہے۔ یہاں یہ بات دلچسپی سے خالی نہ ہو گی کہ کچھ عرصہ پہلے بلوچستان کے ضلع خضدار کے مقام ''نال‘‘ میں جب محکمہ آثار قدیمہ نے کھدائی کا کام شروع کیا تو وہاں انہیں کثرت سے مٹی کے برتن نظر آئے۔ ان برتنوں میں جو بات مشترک تھی وہ ان برتنوں پر ''مہاشیر مچھلی‘‘ کی بنائی گئی تصاویر تھیں۔ ماہرین آثار قدیمہ کہتے ہیں کہ اس دریافت سے اس قیاس کو تقویت ملتی ہے کہ مہاشیر مچھلی صدیوں سے بلوچستان کے خطے کی ''باسی‘‘ چلی آ رہی ہے۔ لیکن اس سے بھی حیرت انگیز بات یہ ہے کہ برتنوں پر اس کی تصاویر اس امر کا ثبوت ہے کہ یہ سکھوں اور ہندوؤں کے نزدیک متبرک جنس تصور کی جاتی تھی۔

’’پارتھینون‘‘:قدیم یونانی آرٹ کا شاہکار

’’پارتھینون‘‘:قدیم یونانی آرٹ کا شاہکار

پارتھینون یونانی دیوی ایتھنا کا مندر ہے جسے موجودہ یونانی دارالحکومت ایتھنز کے مشہور زمانہ ایکروپولس میں 5 ویں صدی میں تعمیر کیا گیا۔ یہ قدیم یونان کی عمارات میں سب سے زیادہ بہتر حالت میں ہے ۔ اس میں موجود بت یونانی آرٹ کے عروج کی داستانیں بیان کرتے ہیں۔ سب سے زیادہ سیاحوں کو اپنی جانب کھینچنے والے یونانی آثار قدیمہ پارتھینون قدیم یونان اور ایتھنز کی جمہوریہ کی علامت اور دنیا کی عظیم ثقافتی یادگاروں میں سے ایک ہے ۔ یونانی وزارت ثقافت اس کی بحالی اور تعمیر نو کے لیے منصوبے پر کام کر رہی ہے ۔قدیم پارتھینون 480 قبل مسیح میں فارسیوں کے حملے میں تباہ ہو گیا تھا جس کے بعد موجودہ پارتھینون کو اس قدیم مندر کی جگہ تعمیر کیا گیا۔ تمام قدیم یونانی مندروں کی طرح پارتھینون بھی خزانے کے طور پر استعمال ہوتا تھا۔ چھٹی صدی عیسوی میں پارتھینون عیسائی گرجے میں تبدیل کر دیا گیا۔ 1460ء کے اوائل میں عثمانیوں کے ہاتھوں ایتھنز اور یونان کی فتح کے بعد اسے مسجد میں تبدیل کر دیا گیا۔ 28 ستمبر 1687ء کو عثمانیوں کے اسلحہ خانے میں دھماکے سے پارتھینون کو شدید نقصان پہنچا۔ 1806ء میں تھامس بروس عثمانیوں کی اجازت سے بچنے والے مجسموں کو اپنے ساتھ لے گیا۔ یہ مجسمے 1816ء میں برٹش میوزیم، لندن کو فروخت کر دیے گئے جہاں یہ آج بھی موجود ہیں۔ یونانی حکومت اس مجسموں کی یونان واپسی کا مطالبہ کرتی رہی ہے تاہم ابھی تک اسے کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔عثمانیوں کے دور میں اس عمارت میں ایک مینار بھی شامل کیا گیا تھا اور 17 ویں صدی کے یورپی سیاحوں نے بھی اپنی کتابوں میں ذکر کیا ہے کہ عثمانیوں نے اپنی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے پارتھینون سمیت کسی بھی آثار قدیمہ کو نقصان نہیں پہنچایا اور یہ بالکل بہترین حالت میں ہیں۔امریکہ میں قائم پارتھینون کی نقل1975ء میں یونانی حکومت نے یورپی یونین کے مالی و تکنیکی تعاون سے پارتھینون اور ایکروپولس کی دیگر عمارات کی بحالی کے منصوبے کا آغاز کیا۔اِس وقت ایتھنز کے آثار قدیمہ کو سب سے زیادہ خطرہ 1960ء کی دہائی سے اب تک پھیلنے والی آلودگی سے ہے ۔ اس کا سنگ مرمر تیزابی بارش اور گاڑیوں کی آلودگی سے شدید متاثر ہو رہا ہے ۔ امریکہ کی ریاست ٹینیسی کے شہر نیشویل میں اصل پارتھینون کی طرح کی ایک عمارت بنائی گئی ہے ۔ یہ عمارت 1897ء میں تعمیر ہوئی۔

 دستر خوان ۔۔۔ تہذیبی و ثقافتی روایت

دستر خوان ۔۔۔ تہذیبی و ثقافتی روایت

دستر خوان پر بیٹھنا ایک تہذیبی اقدام ہے جبکہ کھڑے ہو کر کھانابد تہذیبی ہےزمین پر بیٹھ کر کھانا کھاتے ہیں تو اس کی غذائیت گئی گنا بڑھ جاتی ہےایک زمانہ ہوا کرتا تھا جب تمام خاندان ایک جگہ بیٹھ کر زمین پر جمع ہوتا اور گھر کی خواتین پکایا ہوا کھانا چن دیتی تھی اور سب افراد خانہ بیٹھ کر کھانا کھایا کرتے تھے ۔یہ ایک ایسی روایت تھی جس میں گھر کے تمام لوگ ایک دوسرے کے درمیان بیٹھ جاتے گفتگو سے ایک دوسرے کے حالات سے آگاہی حاصل کرلیتے اور گھر کے بڑے صلاح مشورے کے علاوہ مشکلات کا حل بتا یا کرتے تھے ۔سچی بات تو یہ ہے کہ دستر خوان پر بیٹھ کر کھانا کھانے کی روایت ہمارا عزیز ترین ثقافتی ورثہ تھا جس کے ساتھ ہم نے عزیزان مصر جیسا سلوک کیا اور اب یہ روایت اول تو کہیں نظر ہی نہیں آ تی اور کہیں نظر آ جائے تو مارے شرمندگی کے فی الفور خود میں سمٹ جاتی ہے ۔ حالانکہ اس میں شرمندہ ہونے کی قطعاََ کوئی بات نہیں بلکہ میں تو کہوں گا دستر خوان پر بیٹھنا ایک تہذیبی اقدام ہے جبکہ کھڑے ہو کر کھانا بد تہذیبی ہے ۔ مثلاََ یہی دیکھئے کہ جب آپ دستر خوان پر بیٹھتے ہیں تو دائیں بائیں یا سامنے بیٹھے ہوئے شخص سے آپ کے برادرانہ مراسم فی الفور استوار ہو جاتے ہیں ۔ آپ محسوس کرتے ہیں کہ جیسے چند ساعتو ں کے لیے آپ دونوں ایک دوسرے کی خوشیوں ، غموں اور بوٹیوں میںشریک ہو گئے ہیں۔ چنانچہ جب آپ کے سامنے بیٹھا ہو ا آپ کا کرم فرما کمال دریا دلی اور مروت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے پلیٹ کا شامی کباب اپنی رکابی میں رکھ دیتا ہے تو جواب آں غزل کے طور پر آپ بھی اپنی پلیٹ سے مرغ کی ٹانگ نکال کر اسے پیش کر دیتے ہیں۔ ا س کے بعد کھانا کھانے کے دوران لین دین کی وہ خوشگوار فضا از خود قائم ہو جاتی جو ہماری ہزار ہا برس کی تہذیبی ثقافت کی مظہر ہے ۔ دستر خوان کی یہ خوبی ہے کہ اس پر بیٹھتے ہی اعتماد کی فضا بحال ہو جاتی ہے اور آپ کو اپنا شریک ِطعام حد درجہ معتبر ، شریف اور نیک نام دکھائی دینے لگتا ہے ۔ دوسری طرف کسی بھی بوفے ضیافت کا تصور کیجئے تو آپ کو نفسانفسی خود غرضی اور چھینا جھپٹی کی فضا کا احساس ہو گا اور ڈارون کا جہد البقاء کا نظریہ آپ کو بالکل سچا اور برحق نظر آنے لگے گا۔دستر خوان کی ایک اور خوبی اس کی خود کفالت ہے ۔ جب آپ دستر خوان پر بیٹھتے ہیں تو اس یقین کے ساتھ کہ آپ کی جملہ ضروریات کو بے طلب پور ا کر دیا گیا ہے چنانچہ آپ دیکھتے ہیں کہ سامنے دستر خوان پر ضرورت کی ہر چیز موجود ہے ۔ حتی ٰ کہ اچار ، چٹنی اور پانی کے علاوہ خلال تک مہیا کر دیے گئے ہیں۔ دستر خوان پر بیٹھنے کے بعد اگر آپ کسی کو مدد کے لیے بلانے پر مجبور ہوں تو اس کا مطلب یہ کہ میزبان نے یا تو حق ِ میزبانی ادا نہیں کیا یا مہمان نے اپنے منصب کو نہیں پہچانا۔دستر خوان کا ایک وصف یہ بھی ہے کہ وہ آپ کو زمین سے قریب کر دیتا ہے جبکہ میز کرسی پر آتے ہی آپ زمین کے لمس سے محروم ہو جاتے ہیں۔ زمین ایک زندہ ،دھڑکتی اور پھڑکتی ہوئی شے ہے جس کی تحویل میں ایک پر اسرار قوت بھی ہے۔ پرانے زمانے کے لوگوں کو نہ صرف اسکی موجودگی کاعلم تھا بلکہ وہ قدم قدم پر اس کے لمس سے بھی آشنا ہوتے تھے۔دستر خوان کی خوبی یہ ہے کہ وہ دوبارہ انسان کو زمین کے سینے سے چمٹا دیتا ہے تاکہ وہ براہ راست زمین سے اس کی پر اسرار قوت کو کشید کر سکے ۔ دستر خوان دراصل زمین کا لباس ہے اور دستر خوان پر بنی ہوئی قوسیں ، دائرے اور لکیریں زمینی قوت کی گزر گاہوں کے مماثل ہیں۔ چنانچہ جب آپ دستر خوان پر بیٹھ کر کھانا کھاتے ہیں تو اسکی غذائیت کئی گنا بڑھ جاتی ہے ۔ جبکہ میز کرسی پر یا چل پھر کر کھانا کھائیں تو صاف محسوس ہوتا ہے کہ اس کھانے میں وہ برقی رو موجود نہیں ۔

الزائمر۔۔۔۔بھول جانے کی بیماری

الزائمر۔۔۔۔بھول جانے کی بیماری

وہ شاعر نے کہا تھااُسے اب بھول جانے کا ارادہ کر لیا ہےبھروسہ غالباً خود پر زیادہ کر لیا ہےشاعر اپنے محبوب کو بھولے نہ بھولے مگر طبی ماہرین کا کہنا ہے بھولنا ایک بیماری ہے جس کا علاج ہر صورت ضروری ہے، یہی وجہ ہے پاکستان سمیت دنیا بھر میں21 ستمبر کو الزائمر کی بیماری یعنی بھول جانے کی بیماری کے سد باب کا دن منایا جاتا ہے۔عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیابھر میں تقریباً 55 ملین انسانوں کو بھولنے کا مرض لاحق ہے۔ ان مریضوں میں سے 60 فیصد کا تعلق کم یا درمیانے درجے کی آمدن رکھنے والے ممالک سے ہے۔ جس تناسب سے الزائمرا یعنی بھولنے کی بیماری بڑھ رہی ہے، اندازہ ہے کہ 2030 تک اس کی تعداد 78 ملین جبکہ 2050ء میں یہ تعداد 139ملین سے تجاوز کرسکتی ہے۔بھولنے کی بیماری کا مرض دنیا بھر میں اوسطًا عمر کے اضافے کے ساتھ بڑھتا جا رہا ہے اور یہ عام طور پر پینسٹھ سال کے بعد لاحق ہوتا ہے ۔ پاکستان میں اس مرض کے اعداد و شمار پر بات کریں تو تشخیص شدہ مریضوں کی محتاط ترین تعداد تقریباً سات لاکھ سے زائد ہے جبکہ پاکستان میں 65 سال یا اس سے زائد عمر کے افراد کی تعداد دس لاکھ کے قریب ہے۔الزائمر ڈیمینشیا کی ایک قسم ہے جبکہ ڈیمینشیا بیماریوں یا دماغی چوٹ کی وجہ سے یادداشت، سوچ اور طرز عمل پر پڑنے والے منفی اثرات کے زیادہ تر افراد میں 65 سال کی عمر کے بعد ہی اس کی تشخیص ہوتی ہے۔اگر اس سے پہلے ہی اس کی تشخیص ہوجائے تو اسے عام طور پر الزائمر کی بیماری کا آغاز سمجھا جاتا ہے۔ ویسے تو الزائمر کا کوئی علاج نہیں ہے البتہ ایسے علاج موجود ہیں جن سے اس مرض کی شدت کم ہوسکتی ہے۔اگرچہ بہت سے لوگوں نے الزائمر کی بیماری کے بارے میں سنا ہوگا لیکن آپ کو اس بارے میں شاید درست معلوم نہ ہو کہ یہ ہے کیا۔ یہاں اس بیماری کے بارے میں کچھ حقائق درج ہیں:الزائمر کی بیماری ایک دائمی حالت ہے۔اس کی علامات آہستہ آہستہ ظاہر ہوتی ہیں اور دماغ پر اس کے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کی وجہ سے یادداشت میں سستی آجاتی ہے۔الزائمر کا کوئی علاج نہیں ہے لیکن دستیاب علاج اس مرض کی شدت کو کم کرنے میں مدد فراہم کرسکتے ہیں اور معیار زندگی کو بہتر بنا سکتے ہیں۔کوئی بھی الزائمر کا شکار ہوسکتا ہے، لیکن کچھ لوگ اس کا زیادہ شکار ہوتے ہیںماہرین نے الزائمر کی بیماری کی کسی ایک وجہ کی نشاندہی نہیں کی لیکن انہوں نے خطرے کے کچھ عوامل کا ضرور بتایاہے:فیملی ہسٹری: اگر آپ کے خاندان کا کوئی فرد اس بیماری میں مبتلا ہے تو آپ کو بھی الزائمر ہونے کا امکان ہے۔وراثت: کچھ جینز الزائمر سے جڑے ہوئے ہیں۔اس بیماری میں مبتلا افراد کو وقتاً فوقتاً بھولنے کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن کچھ افراد مستقل طور پر کچھ ایسی علامات ظاہر کرتے ہیں جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ خراب ہوتی جاتی ہیں:روز مرہ کی سرگرمیوں پر اثر، جیسے وعدوں کو یاد رکھنے کی اہلیت۔وزمرہ کے کاموں میں پریشانی۔مسائل حل کرنے میں مشکلات۔بولنے یا لکھنے میں دشواری۔اوقات یا مقامات کے بارے میں الجھن محسوس کرنا۔مزاج اور شخصیت میں تبدیلی۔دوستوں، کنبہ اور برادری سے دستبرداری۔ماہرین کا کہنا ہے الزائمر کی بیماری کا کوئی خاص علاج نہیں ہے تاہم آپ کے ڈاکٹر اس کی علامات کو دور کرنے اور بیماری کے بڑھنے سے روکنے میں ادویات اور علاج کی سفارش کرسکتے ہیں۔خواتین میں مردوں کے مقابلے میں الزائمر کی بیماری پیدا ہونے کا زیادہ امکان ہوتا ہے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ خواتین کی اوسط عمر مردوں کے مقابلے میں زیادہ ہوتی ہے جس کی وجوہات واضح نہیں ہیں۔ مجموعی طور پر الزائمر کے مرض میں مبتلا ہونے کی حتمی وجہ تاحال تحقیق کے مراحل سے ہی گزر رہی ہے۔ جو افراد مستقل بنیادوں پر ذہنی اورجسمانی معمولات کو اپنا کر رکھتے ہیں، ان میں بھولنے کی بیماری میں مبتلا ہونے کے امکانات کم ترین ہو جاتے ہیں۔ دوسری جانب فضائی آلودگی بھی ڈیمینشیا کے ہونے کا خطرہ بڑھا دیتی ہے۔ اگر آ پ اپنے گھر کے کسی بھی فرد میں ایسی علامات دیکھیں تو علاج و تشخیص کے لیے کسی بھی ماہر اِمراضِ دماغ و اعصاب (نیورولوجسٹ) سے فوری رجوع کریں ۔ بعض اوقات اس بیماری کا مریض اہلِ خانہ کیلئے بے شمار مسائل کا باعث بن جاتا ہے۔یاد رہے الزائمر میں مبتلا انسان کے بیشتر معمولاتِ زندگی، مزاج اور روئیے میں ابتدا میں چھوٹی معمولی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں۔ اگر ان پر بروقت توجہ نہ دی جائے تو ان میں نہ صرف اضافہ ہو جاتا ہے بلکہ آ خر میں الزائمر کا پیش خیمہ بن جاتا ہے، اس لیے ابتدائی علامات ہونے کی صورت میں معالج سے رجوع کرنا نہایت ضروری اور مفید ہے۔ اگر الزائمر سے مکمل چھٹکارا ناممکن بھی ہو توبروقت تشخص و علاج اس مرض کی پیچیدگیوں اور مرض کو تیزی سے بڑھنے سے روکنے میں معاون و مددگار ثابت ہو تی ہے۔تمام تشخیص شدہ مریضوں میں جہاں ادویات کا استعمال اہم ہے وہیں سماجی سرگرمیاں بھی مریضوں کے لیے نہایت اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ اس بھولنے کی بیماری میں چونکہ مریض میںیا سیت و مایوسی اور اضطراب خاصا بڑھ جاتا ہے لہٰذا نفسیاتی و ذہنی مسائل کی بروقت تشخیص کر کے طرز زندگی میں مثبت تبدیلیاں لانا نہایت مفید ہوتا ہے۔مرض کی علامات بڑھنے کی صورت میں مریض ایسی ایسی حرکات کردیتے ہیں جنہیں اہل خانہ نہ صرف حیرت کی نظر سے دیکھتے ہیں بلکہ ناقابلِ یقین صورتِ حال کا شکار ہو جاتے ہیں لہٰذا ایسے مریضوں کی دیکھ بھال کے لیے اہل خانہ کا خصوصی کردار نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ ان مریضوں کو ادویات کے ساتھ ساتھ تازہ آب و ہوا ور ماحول کی تبدیلی سے لطف اندوز ہونے کے مواقع فراہم کرنے چاہئیں۔مرض سے محفوظ رہنے کے لیے متوازن غذا بالخصوص سبزیوں اور پھلوں کا استعمال، جسمانی ورزش و چہل قدمی ،ہر قسم کی تمباکو نوشی اور نشے سے مکمل دور رہنے کے ساتھ ساتھ سماجی میل ملاقات، دماغی نشوونما کے لیے مطالعہ بہتخوشگوار اثرات ڈالتا ہے۔ اس کے علاوہ ایسی مثبت سرگرمیوں میں بھی حصہ لینا نہایت مفید ہے جس سے ذہن متحرک رہے۔چلتے پھرتے رہنے والے رہتے ہیں محفوظبیٹھے بیٹھے بن جاتا ہے ہر اک شخص مریض