پاکستان میں کابلی گاڑیاں!
اسپیشل فیچر
افغانستان میں طالبان نے اقتدار سنبھالا تو پاکستان کے بڑے شہروں میں گاڑیوں کا غیر قانونی کاروبار کرنے والوں کے وارے نیارے ہو گئے۔ ایک وقت تھا جب کراچی اور دیگر بڑے شہروں کے لوگ کوئٹہ اور پشاور سے متصل افغان بارڈر پر جا کر دوسرے ممالک سے سمگل شدہ گاڑی کم قیمت پر لے کراپنی پرانی گاڑی کو نیا بنا لیتے تھے۔ان سمگل شدہ گاڑیوں کو عام زبان میں ''کابلی گاڑی‘‘ کے نام سے جانا جاتا تھا۔ ماڈل اور رنگ کوئی بھی ہو، کمپنی جو مرضی ہو صرف ایک فون کال پر نئی گاڑی خریدار کی منتظر ہوتی تھی۔
بلوچستان کا علاقہ چمن اور اس کے قریبی علاقے جبکہ افغانستان میں چمن بارڈر سے قریبی تمام بڑے چھوٹے گاؤں کے لوگ گاڑیاں اور دیگر سمگلنگ کی اشیا ء فروخت کرتے تھے۔ افغانستان میں اقتدار سنبھا لنے کے بعد طالبان نے سمگلنگ کیخلاف ایکشن لیااور بارڈر پر سخت سکیورٹی تعینات کرکے سمگلنگ کی گاڑیوں کے کاروبار کو روک دیا ۔جس کے بعد پاکستان میں کابلی گاڑیوں کی آمد صرف دس فیصد رہ گئی ہے۔
کوئٹہ میں کابلی گاڑیوں کا کام کرنے والے محمد رازق کا کہنا ہے کہ اب بھی بارڈرپر چند مقامات ایسے موجود ہیں جہاں سے سمگلر گاڑیاں سرحد پار لانے میں کامیاب ہوتے ہیں اور یہ راستے انتہائی دشوار گزار ہیں ۔ان مقامات سے لاتے ہوئے گاڑیوں کو نقصان بھی ہوتا ہے تاہم طالبان کی سخت سزاؤں سے بچنے کیلئے سمگلر ان خطرناک راستوں کا استعمال کرتے ہیں۔
دوسری جانب شہروں میں گاڑیوں کی مانگ میں کمی نہیں آئی جس کی وجہ سے پاکستان کے اندر ہی گاڑیوں کی چوری اور چھینے جانے کی وارداتوں میں اضافہ نظر آرہا ہے۔ اے وی ایل سی کے اعدادو شمار میں بھی کراچی میں گزشتہ برس کے مقابلے میں گاڑیوں کی چوری اور چھینے جانے کی وارداتیں زیادہ رپورٹ ہوئی ہیں۔ رواں برس جنوری سے اپریل تک 825 گاڑیاں چوری اور چھینی جاچکی ہیں۔ 2021ء کے ابتدائی چار ماہ میں اسلحے کے زور پر 75 گاڑیاں چھینی گئیںاور ساڑھے پانچ سو کے قریب چوری ہوئیں۔ 2019ء کے جنوری سے اپریل تک 61 مہنگی گاڑیاں اسلحہ دکھا کر چھینی گئیں۔ 2018ء کے شروع کے چار ماہ میں 16 گاڑیاں چھینی گئیں، 2018ء کے اختتام تک 1372گاڑیوں سے شہریوں کو محروم کیا گیا۔
2019ء میں 1729اور 2020ء میں1783 گاڑیاں چھینی اور چور ی کی گئیں جبکہ 2021 ء میں 2158 گاڑیاں چوری اور چھینی گئیں جن میں سے صرف 670 گاڑیاں واپس مالکان تک پہنچ سکیں۔ شہر کراچی میں چند ایسے گروہوں کا انکشاف بھی ہوا جو مالکان سے گاڑی کرائے پر حاصل کرتے ہیں اور بعد ازاں آگے دوسری اور تیسری پارٹی تک کرائے پردے دیتے ہیں۔ ابتدائی ایک دو ماہ مالک کو گاڑی کا کرایہ ملتا ہے لیکن بعد میں کرایہ ملتا ہے نہ گاڑی ۔
سرکاری ادارے کے ایک افسر نے نام نہ بتانے کی شرط پر بتایا کہ اس نے اپنی بیوہ بہن کے گزر بسر کیلئے ایک گاڑی خرید کر 50 ہزار ماہانہ کرایہ پر رینٹ اے کار والے کو دی۔ شروع کے تین ماہ تک 50 ہزار کرایہ ملتا رہا جس کے بعد کرایہ ملنا بند ہوگیا۔پولیس کی مدد سے جب رینٹ اے کار والے شخص کوپکڑاتو اس نے انکشاف کیا کہ اس نے گاڑی آگے کسی دوسری پارٹی کو 60 ہزار روپے ماہانہ کرائے پر دے رکھی تھی۔ پولیس نے جب اگلے رینٹ اے کار والے شخص کو حراست میں لیا تو اس نے بتایا کہ اس نے آگے تیسری پارٹی کو گاڑی 70 ہزار روپے ماہانہ کرائے پر دے رکھی تھی۔ پولیس نے جب اس گورکھ دھندے کو سلجھانے کی مزید کوشش کی تو علم ہوا کے جس شخص کو گاڑی 70 ہزار روپے کرایہ پر دی تھی وہ ایک منظم گینگ کو چند لاکھ روپے میں اٹھارہ لاکھ کی گاڑی فروخت کرکے فرار ہوگیا ہے اور گاڑی براستہ حب بلوچستان کے شہر خضدار پہنچائی جاچکی تھی ۔
ایس ایس پی اے وی ایل سی طارق نواز کا کہنا ہے کہ کاریں اور موٹرسائیکلیں چوری ہونے اور چھینے جانے کی بڑی وجہ منشیات بھی ہیں۔ منشیات کے عادی کئی موٹرسائیکل چوروں کو پکڑا جاچکا ہے جو آئس کے پانچ ٹوکن کی خاطر ایک موٹرسائیکل کراچی سے چوری کرکے بلوچستان کے شہر حب پہنچاتے ہیں۔ منشیات کے عادی افراد صرف اپنا نشہ پورا کرنے کیلئے اس جرم میں ملوث ہوتے چلے جا رہے ہیں۔
کراچی پولیس نے بلوچستان کے علاقے پشین سے تعلق رکھنے والے ایک عادی ملزم کو گرفتار کیا تو اس نے انکشاف کیا کہ وہ نشہ پورا کرنے کیلئے کاریں چوری کرتا ہے۔ کراچی سے گاڑیاں چوری کرکے دو نمبر گاڑیوں کا کاروبار کرنے والے افراد کے حوالے کرتا ہے۔ اے وی ایل سی ریکارڈ کے مطابق 2018ء سے اب تک 14728 ملزمان کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔749 گینگ کا خاتمہ کرکے اسلحہ اور گاڑیاں برآمد کی گئیں۔
عاصم بھٹی نوجوان صحافی ہیں اور روزنامہ
'' دنیا ‘‘ کے کراچی بیورو سے وابستہ ہیں