یادرفتگان:شفیق الرحمٰن
اسپیشل فیچر
شفیق الرحمن کی شخصیت میں تنوع پایا جاتا ہے،جہاں ان کا ادب شائستہ ہے وہیں اس میں مزاح نگاری بھی بدرجہِ اتم موجود ہے۔ کہیں مریضوں کیلئے ہاتھ میں انجکشن لئے نسخہِ شفا لکھا تو کہیں مزاحیہ افسانہ نگاری کو شفاء کے نسخے کے طور پر پیش کیا۔ افسانہ نویسی اور مزاح نگاری میں ان کا منفرد اندازِ بیان انہیں مقبول بناتا ہے۔ جب وہ حزن و ملال بیان کرتے تو ایک ایک کیفیت سے واقف رہتے اور یوں لگتا جیسے وہ خود ان کیفیات سے گزرے ہیں۔
وہ حزن میں رومانیت کی آمیزش اتنی خوبصورتی اور برجستگی سے کرتے کہ پڑھنے والے میں غم برداشت کرنے کا حوصلہ پیدا ہو جاتا ہے۔ ان کا لکھا غمزدہ دلوں کو شاد کرتا ہے تاہم یہ بجا ہے کہ انہوں نے ساری زندگی لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹیں لانے کی کوشش کی۔ اردو ادب میں ان کا اسلوبِ بیان ایک روایت بن چکا ہے تاہم ان کی کاوشوں کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔
ان کا زمانہ ترقی پسند تحریک کے عروج کا زمانہ تھا۔ اس عہد کے افسانہ نگاروں نے ادب کو زندگی کے حقائق سے بہت قریب کر دیا تھا۔ تاہم اس کا حصہ ہونے کے ناطے ان کی تحریریں بھی سچائی اور حقیقت کا پیکر بن کر سامنے آتی ہیں۔ اس سے پہلے اردو افسانہ نگاروں کے پاس کوئی حقیقی تحریک موجود نہ تھی مگر حوادث کی ہوائیں اپنے ساتھ ایسے خس و خاشاک لائیں کہ انسانی جسم و روح کو ایک کرب میں مبتلا کر دیا۔ ادب اور ادیب دونوں اس کرب کے ترجمان بن گئے۔ جن دنوں انہوں نے لکھنا شروع کیا پے درپے ان کی کتابیں منظرِ عام پر آتی گئیں۔ بچپن سے ہی لکھنے کا شوق تھا مگر جب کالج کے زمانے میں موضوعات اور محرکات ملے تو افسانہ نگاری شروع کر دی۔ انہوں نے افسانوں میں نہ صرف نفسیاتی مسائل کی ترجمانی کی بلکہ آئے دن پیش آنے والے واقعات کو مزاحیہ انداز میں ڈھال کر لکھنے کی عادت اپنا لی۔
کسی بھی لکھاری کیلئے اس کا موضوع بہت ضروری ہوتا ہے، شفیق الرحمٰن نے ہمیشہ سوچ بچار کئے بغیر کچھ نہ لکھا۔ جب کوئی سوچ ان کے ذہن میں آتی تو وہ خلوت میںاس پر خوب کام کرتے، دوستوں سے مباحثے کرتے اور تسلی ہو جانے سے پہلے اسے اپنے صفحات پر نہ اتارتے۔ قیام پاکستان کے بعد کسی بھی لکھاری نے متوسط طبقے کے مسائل کو اپنا موضوع نہیں بنایا۔ بادشاہوں کی بات کی جاتی یا غریب کسانوں اور مزدوروں کی یا پھر جن، پری اور بھوت پریت کے موضوعات کو بیان کیا جاتا۔ تاہم انہوں نے سب سے منفرد انداز اپناتے ہوئے متوسط طبقے کے مسائل کو مزاحیہ انداز میں سب کے سامنے رکھا کہ بات بیان بھی ہو گئی اور کسی کو ناگوار نہ گزری۔ اس زمانے میں ترقی پسند تحریک کی بدولت تنقید اور مباحثوں پر محفلیں منعقد کی جاتی تھیں لیکن شفیق الرحمٰن کی شخصیت اور فن کا احاطہ کرنا کوئی سہل کام نہ تھا۔ تاہم کرشن چندر،حجاب امتیاز علی اور محمد خالد کے علاوہ ان پر کسی اور ناقد کاقابلِ ذکر مضمون نظر نہیں آتا۔
لکھنے کے معاملے میں وہ بہت محتاط رہتے، کہا کرتے تھے کہ لکھنے کیلئے بہت زیادہ مطالعہ ضروری ہے۔ انہوں نے جب بھی کچھ لکھا دوسروں کو ضرور دکھایا، خصوصاً کتاب چھپنے سے پہلے اسے بار بار خود پڑھتے، پھر دوسروں کو دکھاتے تو تشفی ہوتی۔ اردو ادب کے آغاز سے ہی جہاں غموں، دکھوں اور پریشانیوں کا تذکرہ ملتا ہے، وہیںخوشیوں اور مسرتوں کو بھی نظر انداز نہیں کیا گیا۔ غالب، مشتاق احمد یوسفی اور رتن ناتھ سرشارجیسے شاعر و ادیب مزاحیہ انداز میں بڑی بڑی باتیں کہہ گئے کہ لوگ انہیں پڑھ کر سر دھنتے رہ جاتے ہیں۔ اردو مزاح میں رتن ناتھ سرشار نے ''خوجی‘‘ کا لازوال کردار دیا جبکہ امتیاز علی تاج نے ''چچا چھکن‘‘ کا کردار دیا۔ بالکل اسی طرح شفیق الرحمن نے مزاحیہ اردو ادب کو ''شیطان‘‘ کا کردار دیا جو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
ان کے ادبی مقام کے متعلق احمد پاشا کا کہنا تھا کہ '' شفیق الرحمن اردو طنز و مزاح میں خالص ظرافت کے امام ہیں‘‘۔ کرشن چندر نے اپنے مخصوص انداز میں شفیق الرحمن کے افسانوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا '' شفیق الرحمن کے افسانے پڑھ کر شوخ رنگوںکی یاد تازہ ہو جاتی ہے، جیسے تو سرخا سرخ نارنگی، یاقوتی زعفرانی‘‘۔ وقار عظیم کا کہنا تھا کہ ''شفیق الرحمن نے اپنے افسانوں کیلئے ایک نئی فضاء بنائی اور اس نئی فضا میں ہمیں جا بجا شفیق کی رنگینی اور شوخی جھلکتی دکھائی دیتی ہے۔ اس لئے نہ ہم شفیق کو بھلا سکیں گے اور نہ اس کے افسانوں کو‘‘۔