کنڈ ملیر:جہاں سمندر، پہاڑاور صحرا ایک جگہ ملتے ہیں
اسپیشل فیچر
زمانہ قدیم سے کسی بھی ملک کا ساحلی علاقہ اس خطے کیلئے بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ کیونکہ پرانے وقتوں میں دوسرے براعظموں کے ساتھ ساحلوں کے ذریعے ہی رابطہ ممکن ہوتا تھا۔ پاکستان بھی کرہ ارض پر ایسی جگہ پر موجود ہے جس کا ایک حصہ بحیرہ عرب تک پھیلا ہوا ہے۔ سندھ اور بلوچستان کے ساحلی راستے گیٹ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ کسی بھی ملک کی معیشت کا براہ راست تعلق ساحلی علاقوں سے ہوتا ہے۔ پاکستان کے ساحلی علاقے بھی دنیا بھر میںخوبصورتی کے لحاظ سے ایک خاص مقام رکھتے ہیں۔ پاکستان میں کراچی، استولا آئی لینڈ، گوادر، آرمارا بیچ،ٹرٹل بیچ اور کنڈ ملیر کے ساحل سیاحوں کے لئے خاصی دلچسپی رکھتے ہیں۔ کراچی کے جاندار ساحل سے لے کر گوادر کی دور افتادہ خوبصورتی اور استولا جیسے جزیروں کی اچھوتی دلکشی سیاحوں کو اپنی طرف کھینچتی ہے۔
کنڈ ملیر پاکستانی ساحلی علاقوں میں ایک منفرد حیثیت رکھتا ہے کیونکہ یہاں سمندر، پہاڑ اور صحرا کا خوبصورت سنگم آپ کو دیکھنے کو ملتاہے۔کنڈ ملیر کا نام ایشیا کے50 خوبصورت ترین ساحلوں میں شامل ہے۔یہ درجہ بندی سیاحت اور فوٹو گرافی کے لحاظ سے کی گئی ہے۔ سمندر، پہاڑ اور صحرامیں دلچسپی رکھنے والوں کو اگر یہ نظارے کسی ایک ہی جگہ مل جائیں تو وہ مقناطیس کی طرح اس طرف کھنچے چلے جاتے ہیں۔کنڈ ملیر کراچی سے 240 کلومیٹر دور مکران کوسٹل ہائی وے پر واقع ہے۔مکران کوسٹل ہائی وے گوادر تک پھیلی ہوئی ہے اور سڑک کے دونوں اطراف جا بجا آثار قدیمہ، مذہبی اور تفریحی مقامات موجود ہیں۔ان مقامات میں ہنگول نیشنل پارک بھی ہے جہاں کئی اقسام کے چرند و پرند کے علاوہ مارخور بھی پایا جاتا ہے۔
ہنگول نیشنل پارک میں ہندوئوں کا استھان نانی مندر بھی موجود ہے اور سب سے منفرد چندر گپت نامی مٹی کا ٹیلہ ہے، جس سے ہوا کے دبائو کے ساتھ مٹی نکلتی رہتی ہے۔کراچی سے آر سی ڈی شاہراہ پر سفر کریں تو کنڈ ملیر جانے کے لیے وندر کے مقام پر بائیں طرف مڑنا پڑتا ہے اور یہاں کی نشانی''پرنسس آف ہوپ‘‘کا مجسمہ ہے۔ مٹی کا یہ ٹیلہ دور سے ایسے نظر آتا ہے جیسے کسی شہزادی نے فراک اور سر پر تاج پہن رکھا ہو۔
کراچی کے معروف ساحلوں کے مقابلے میں کنڈ ملیر میں سمندر زیادہ گہرا نہیں۔ کنڈ ملیر بلوچ ماہی گیروں کی ایک چھوٹی سی بستی ہے جو ایک پہاڑی پر آباد ہے جبکہ اس کے قدموں میں سمندر بہتا ہے۔ سفید ریت پر نیلا پانی اور موجیں مارتا سمندر یہاں سے گزرنے والوں کیلئے دلچسپی کا باعث ہے۔ مکران کوسٹل ہائی وے کی تعمیر کے بعد آمدورفت کے باعث کنڈ ملیر کے حسن کے چرچوں نے سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ اسی لئے اب ہفتہ وار تعطیلات کے علاوہ تہواروں کے موقع پر لوگ اپنے خاندان کے ساتھ سمندر کے نیلے پانی سے لطف اندوز ہونے کے لئے کنڈملیر کا رخ کرتے ہیں۔بلوچستان میں واقع ہونے کے باوجود کنڈ ملیر آنے والے سیاحوں میں اکثریت صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی کے لوگوں کی ہی ہے جو ذاتی گاڑیوں میں یا پھر ٹور گروپس کے ساتھ یہاں آتے ہیں۔سیاحوں کیلئے ساحل پر قیام کیلئے کچھ جھونپڑیاں بھی بھی تعمیر کی گئی ہیں۔بجلی کی عدم فراہمی کے باعث رات کو قیام کرنے والے سیاح جنریٹر یا چارجڈ لائٹس اپنے ساتھ لاتے ہیں۔سیاحوں کے لئے بہت پرسکون اور صاف ستھرا ماحول اور بڑے خوبصورت نظارے ہیں۔
وندر سے لے کر کنڈ ملیر تک راستے میں کوئی بڑی آبادی بھی موجود نہیں۔ یہاں کچھ علاقوں میں تو موبائل فون کے سگنل بھی غائب ہو جاتے ہیں، تاہم بعض نیٹ ورکس کام کرتے رہتے ہیں۔ حکومت بلوچستان نے کنڈ ملیر پر بھی ریزارٹ بنانے کا فیصلہ کیا ہے، تاہم یہاں ریسکیو کا کوئی وجود نہیں اور دور دراز میں کوئی ہسپتال بھی دستیاب نہیں۔ یہاں کا صاف ستھرا پانی اور آلودگی سے پاک ماحول ہی اس کا حقیقی حسن ہے۔
کنڈ ملیر کے سمندر میں نہا کر اور ساحل پر چہل قدمی سے اگر آپ کا دل بھر جائے تو یہاں سے تقریبا 24 کلومیٹر دور قدرت کی ایک اور تخلیق سیاحوں کیلئے باعث دلچسپی ہے اور وہ ہیں مٹی کے انوکھے بناوٹ والے پہاڑ جنھیں گذشتہ کئی صدیوں کے دوران وہاں سے گزرنے والی ہوا نے کچھ یوں تراش دیا ہے کہ جیسے وہ کسی ماہر سنگ تراش کا فن پارہ ہوں۔ کہیں یہ مصر کے مشہور ابولہول کی جھلک دیتے نظر آتے ہیں تو کہیں کسی قدیم قلعے فصیل کا منظر سامنے آ جاتا ہے۔
انھی پہاڑوں کے درمیان واقع ایک مٹی کا ٹیلہ دور سے ایسے نظر آتا ہے جیسے کسی شہزادی نے فراک اور سر پر تاج پہن رکھا ہے۔ہالی وڈ کی نامور اداکارہ انجلینا جولی نے ویرانے میں اس پراسرار مورت کو''پرنسس آف ہوپ‘‘کا نام دے کر اسے عالمی شہرت بخش دی ہے۔
مکران کوسٹل ہائی وے کے دونوں اطراف فطرت کے مناظر کسی اوپن میوزیم کی طرح ہیں، اب یہ سیاحوں پر منحصر ہے کہ وہ کتنے مہم جو ہیں اور اپنی گاڑیوں کو کہاں، کہاں بریک لگاتے ہیں۔