رانی کوٹ قلعہ: ماضی کا شاہکار
اسپیشل فیچر
یہ بات بہت کم لوگوں کو معلوم ہے کہ وادی سندھ میں بھی دیوار چین کی طرح ایک عظیم دیوار موجود ہے، جسے ''منی دیوار چین‘‘ یا''دیوار سندھ‘‘ کہا جاتا، یہ رانی کوٹ کے قلعہ میں واقع ہے اور اس کی تاریخ بھی انتہائی قدیم ہے، تاریخی آثار کے ماہرین اس کے معماروں کا کھوج لگانے اور اس کے سن تعمیر کے بارے میں معلومات حاصل کرنے میںاب تک ناکام ثابت ہوئے ہیں۔کچھ لوگوں کی رائے ہے کہ رانی کوٹ، ساسانیوں کے دور کا قلعہ ہے، چند ماہرین اسے یونانیوں کی طرز تعمیر سے مشابہہ قرار دیتے ہیں۔ جب کہ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ رانی کوٹ کاقلعہ 836ہجری میں عرب گورنر، عمران بن موسیٰ نے تعمیر کروایاتھا۔ بعض مؤرخین اسے تالپور حکمرانوں کا تعمیری کارنامہ قرار دیتے ہیں، جنہوں نے اسے 1812ء میںتعمیرکرایا تھا۔ بعض لوگوں کا کہنا کہ اس کی تعمیر رومی دور میں ہوئی تھی۔
لہلہاتے کھیتوں اور سنگلاخ پہاڑوں، بہتے جھرنوں اور فطری حسن سے مالا مال سندھ میں رانی کوٹ انسانی ہاتھوں سے تعمیر کیا ہوا ماضی کا لازوال شاہکار ہے جو سیاحوں پرسحر طاری کر دیتا ہے۔ تاریخ کے صفحات میں اس قلعے کا رانی کا کوٹ، موہن کوٹ اور رنی کوٹ کے نام سے تذکرہ ملتا ہے۔ یونیسکو نے اس قلعہ اور دنیا کی دوسری طویل ترین دیو ار کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے اس کو عالمی ورثہ قرار دے کراسے قدیم آثار کی فہرست میں شامل کیا ہے۔
قلعہ کی فصیل کے اندر ڈائنوسارز کے فوسلز بھی ملے ہیں۔ اس قلعے کی سب سے بڑی انفرادیت یہ ہے کہ اس کی فصیل کے اندر ایک گاؤں آباد ہے جس میں ''گبول‘‘ خاندان کے 500 افراد رہتے ہیں۔ جن کا دعویٰ ہے کہ وہ پچھلی 7 نسلوں سے یہاں آباد ہیں اوران کے آبائو اجداد کے مطابق رانی کوٹ کا قلعہ 2 ہزار سال قدیم ہے۔ یہاں کے باسیوں کے مطابق وہ صرف قلعے کے اندر زرِخیز زمین اور اس جگہ کے مالک ہیں، جہاں ان کے گھر بنے ہوئے ہیں، باقی قلعے کی دیواریں، پہاڑیاں اور قلعے کے اندر موجود مزید 2 قلعے کس کی ملکیت ہے انہیں اس کا علم نہیں۔ ان کے مطابق مجموعی طور پر قلعے میں ان کے 40 گھر آباد ہیں جو 30 کلومیٹر کے رقبے کے اندر پھیلے ہوئے ہیں۔کچھ عشرے قبل قلعے کی بحالی کا کام شروع ہوا تھا اور یہ کام محکمہ آثارِقدیمہ پاکستان ،سندھ کلچرل ڈیپارٹمنٹ اور دادو ضلع کونسل کی زیرِ نگرانی تھا مگر 2005ء میں ایک انکوائری کی صورت میں یہ معلوم ہوا کہ اِس کی تعمیرات غیر معیاری کی جا رہی تھیں اور اس قلعہ کی بحالی کے کام میں من پسند لوگوں کو نوازا جا رہا تھا جس کی بنا پر 2006ء میں اس کا کام روک دیا گیا۔محکمہ سیاحت و ثقافت نے قلعے میں گیسٹ ہاؤسز بنوائے ہیں جب کہ اس کی خستہ حال دیواروں کی مرمت کا کام کروایاگیا ہے۔
وادی سندھ کی تہذیب 3300 سے 1700 قبل مسیح کی چند ابتدائی تہذیبوں میں سے ایک ہے۔انڈس ویلی سویلائزیشن کے باسیوں نے ہزاروں سال قبل اپنی رہائش کیلئے پکی اینٹوں سے تعمیر کئے جانے والے مکانات کو روئے زمین پر متعارف کرایا۔سندھ کے قدیم باشندے تعمیراتی فن میں یکتا تھے اور موئن جودڑو سمیت دیگر علاقوںکے کھنڈرات سے قدیم دور کی پرشکوہ عمارتوں کے آثار ملے ہیں۔
دیوار چین کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ دنیا کاساتواں عجوبہ ہے جو چین کے 15صوبوں میں پھیلا ہوا ہے۔8851 کلومیٹر طویل اس دیوار کو تعمیر کرنے میں 17 سو سال کا عرصہ لگا تھا جب کہ تعمیر کے دوران 10 لاکھ مزدور ہلاک ہوئے تھے۔ اس ثقافتی ورثہ کو محفوظ رکھنے اور دنیا بھر کے سیاحوں کی توجہ کا مرکز بنانے کیلئے ہر سال اس دیوار پر میراتھن ریس ہوتی ہے جس میں ڈھائی ہزار افراد حصہ لیتے ہیں۔
بعض لوگوں کا خیال ہے کہ رانی کوٹ کاقلعہ 836ہجری میں عرب گورنر، عمران بن موسیٰ نے تعمیر کروایاتھا۔ بعض مؤرخین اسے تالپور حکمرانوں کا تعمیری کارنامہ قرار دیتے ہیں، جنہوں نے اسے 1812ء میںتعمیرکرایا تھا۔ بعض لوگوں کا کہنا کہ اس کی تعمیر رومی دور میں ہوئی تھی۔سندھ کے ایک اور محقق ایم ایچ پنہور لکھتے ہیں ''رنی کوٹ ‘‘جن پہاڑیوں پر بنا ہوا ہے وہ کم از کم آٹھ کروڑ سال پرانی ہیں اور یہ سلسلہ کوہ ، ہندوستان سے پاکستان تک پھیلا ہواہے۔
افسوسناک امر ہے کہ یونیسکو کی جانب سے اس قلعہ کو عالمی ورثہ قرار دیئے جانے کے باوجود تاحال رانی کوٹ پر کوئی مستند تاریخ سامنے نہیں آئی ہے۔ 1831ء میں برطانیہ کا معروف سیاح الیگزینڈر 1831ء میں جب جامشوروکے مقام سے گزرا تو اس نے رانی کوٹ کے قلعہ کی بھی سیر کی۔ اس قلعہ اوردیوار چین کے بعددوسری عظیم دیوار کا سب سے پہلا تذکرہ دنیا کے سامنے اسی نے پیش کیا تھا۔قدیم آثار کے بعض ماہرین کا قلعہ رنی کوٹ کے بارے میں کہنا ہے کہ زمانہ قبل از مسیح میں بھی اس قلعہ کا وجود تھا۔ اس وقت سندھ ایران کی حدود میں شامل تھا، لیکن ان کے دعوے کے ٹھوس ثبوت نہیں ملے۔