عظیم مسلم سائنسدان:ابوالحسن علی بن سہل ربن طبری

عظیم مسلم سائنسدان:ابوالحسن علی بن سہل ربن طبری

اسپیشل فیچر

تحریر : اسد بخاری


ابو الحسن علی بن سہل ربن طبری فن طب کا ماہر تھا۔ اس نے اپنے والد سے اس فن کی تعلیم حاصل کی، تکمیل کے بعد تجربات حاصل کئے اور پھر بغداد کے جملہ ہسپتالوں کا نگران مقرر ہوا۔ اس نے طبی انسائیکلوپیڈیا اوّل اوّل مرتب کی۔ اس نے تین کتابیں لکھی ہیں۔ پہلی کتاب ''فردوس الحکمت‘‘ ابجد کے اصولوں پر ہے۔ اس میں آب و ہوا ، موسم، صحت ، علم حیوانات پر عالمانہ بحث کی ہے۔ دوسری کتاب ''حفظ صحت‘‘ پر ہے، تیسری کتاب اس کی ''دین و دولت‘‘ ہے جو حسن اخلاق پر انسانوں کیلئے ہے۔870ء میں ان کا انتقال ہوا۔
ابتدائی زندگی، تعلیم و تربیت
علی بن سہل طبری ایک جامع محقق تھے، خصوصاً علم طب میں انہیں کمال حاصل تھا۔علی بن سہل بن طبری، طبرستان(مرو، ایران) کا باشندہ تھا۔ اس کے والد قابل طبیب اور مشہور خوش نویس تھے۔ وہ بغداد آکر آباد ہو گئے۔ علی بن سہل نے اپنے والد سے تعلیم حاصل کی، اس نے خوش نویسی کا فن بھی سیکھا۔
تعلیم کے بعد وہ مطالعے میں مصروف ہو گیا۔ اس نے فن طب کا مطالعہ کثرت سے کیا اور اس فن میں دست گاہ کاحل پیدا کیا۔ وہ بغداد کے سرکاری ہسپتالوں کا نگراں مقرر کیا گیا۔
علی بن سہل نے اپنے شوق سے یونانی اور سریانی دونوں زبانیں سیکھیں۔ اس زمانے کے دستور کے مطابق علی نے درس دینا شروع کیا چونکہ وہ کامل مہارت رکھتے تھے۔ اس لئے ان کے حلقہ درس میں فن طب کے طلبہ کثرت سے شریک ہونے لگے، اور وہ بہت مشہور ہو گئے۔
بغداد علمی مرکز تھا، اس زمانے میں زکریا رازی طب کے مشہور ماہر بغداد آ گئے، وہ طب کی اعلیٰ تعلیم کے ساتھ ریسرچ بھی کرنا چاہتے تھے،ان کی علی بن سہل سے ملاقات ہو گئی، زکریا رازی ان کے حلقہ درس میں چند روز بیٹھے۔ انہیں علی بن سہل کے درس دینے کا طریقہ پسند آیا اور پھر مستقل شرکت اختیار کرلی اور فن طب میں ریسرچ کرنے لگے۔ علی بن سہل کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ وہ دنیا کے مشہور طبیب اور سائنسدان زکریا رازی کے استاد تھے۔
علمی خدمات اور کارنامے
علی بن سہل ایک روشن دماغ، باکمال طبیب تھے۔ انہیںسرکاری ہسپتالوں میں نگران کے طور پر مقرر کیا گیا۔علی بن سہل نے اس طرح بہت کام کیا اور تجربہ حاصل کیا۔ انہیں ہسپتالوں کے نظم و ضبط پر قدرت ہو گئی، ہر قسم کے مریضوں کو دیکھنے کا موقع ملا۔ انہوں نے بڑی مستعدی سے مریضوں کا علاج کیا اور علاج میں نئے نئے طریقے اختیار کئے۔ وہ اپنے تجربات کو ڈائری میں لکھتے جاتے تھے۔ اور پھر مرتب کرکے کتابی صورت دے دی۔ اس کا نام ''فردوس الحکمت‘‘ ہے۔ یہ کتاب ابجد کے اصول پر مرتب کی گئی ، جیسا کہ آج کل انسائیکلو پیڈیا کا اصول ہے۔'' فردوس الحکمت‘‘ عربی میں جامع مستند اور ضخیم کتاب ہے۔ اس میں مصنف کی زندگی بھر کے تجربات کا نچوڑ ہے جو اس نے بے شمار مریضوں کو دیکھ کر اور علاج کے بعد لکھا تھا۔
قابل مصنف نے آب و ہوا موسم، صحت، امراض نفسانی، علم تولید اور علم حیوانات پر عالمانہ انداز میں بحث کی ہے۔ ہر موضوع کو لیا ہے، اپنی افادیت کے سبب یہ کتاب ہمیشہ داخل درس رہی۔
دوسری کتاب اس کی ''حفظ صحت‘‘ ہے اس میں صحت قائم رکھنے کے اصول اور قاعدے نہایت عمدگی سے بیان کئے گئے ہیں۔
ایک اور کتاب '' دین و دولت‘‘ اس قابل مصنف نے مرتب کی جو اخلاقی تعلیم اور معلومات کا قابل قدر ذخیرہ ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ علی بن سہل انسائیکلو پیڈیا کے موجد ہیں۔ وہ حفظ صحت کے اصول اور احتیاط کے قاعدے بتانے والے طبیب حاذق، علم الاخلاق کا مالک، سماجی زندگی کو عمدہ طریقے سے فروغ دینے والا اور دین اور دولت کو توازن کے ساتھ لے کر چلنے والے مصلح اور عظیم شخصیت کے مالک تھے۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
منہ کے جراثیم اورجسمانی پیچیدگیاں

منہ کے جراثیم اورجسمانی پیچیدگیاں

درست طریقے سے برش نہ کرنا 50سے زائد بیماریوں کی وجہجدید طبی تحقیق نے ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کیا ہے کہ صحت مند زندگی کی بنیاد چھوٹی مگر باقاعدہ عادات میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ ماہرین کے مطابق دانتوں کو صحیح طریقے سے برش کرنا نہ صرف منہ کی صفائی اور خوشبو کیلئے ضروری ہے بلکہ یہ ڈیمنشیااور گٹھیا سمیت پچاس سے زائد دیگر بیماریوں سے بچاؤ میں بھی اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ بظاہر ایک سادہ سا عمل، اگر نظر انداز کر دیا جائے تو اس کے اثرات پورے جسم پر مرتب ہو سکتے ہیں۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ مسوڑھوں کی بیماری اور منہ میں موجود جراثیم خون کے ذریعے جسم کے مختلف حصوں تک پہنچ کر سوزش اور دیگر پیچیدگیوں کا باعث بن سکتے ہیں۔ یہی سوزش دل، دماغ اور جوڑوں سمیت کئی اعضا کو متاثر کر سکتی ہے۔ اس تناظر میں روزانہ کم از کم دو مرتبہ درست طریقے سے برش کرنا، فلاس کا استعمال اور باقاعدہ ڈینٹل چیک اپ محض ذاتی صفائی نہیں بلکہ مجموعی صحت کی ضمانت بن سکتے ہیں۔ماہرین کے مطابق دانتوں کو درست طریقے سے برش کرنا ڈیمنشیا (dementia)، ریمیٹائیڈ آرتھرائٹس (rheumatoid arthritis )(گٹھیا کی ایک قسم) اور پارکنسنز(Parkinson's) سمیت پچاس سے زائد بیماریوں کے خطرے کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ بات دنیا کی سب سے بڑی عمومی سائنسی کانفرنس میں ماہرین کے ایک پینل نے پیش کی، جہاں بتایا گیا کہ منہ میں موجود بیکٹیریا سے پیدا ہونے والی سوزش اور انفیکشن کے پھیلاؤ کا تعلق جسم کے مختلف حصوں میں پیدا ہونے والے مسائل سے جوڑا جا رہا ہے۔محققین کا کہنا ہے کہ وہ ابھی اس تعلق کو مکمل طور پر سمجھنے کے ابتدائی مرحلے میں ہیں، تاہم یہ واضح ہوتا جا رہا ہے کہ منہ کی صحت جوڑوں، دماغ اور آنتوں سمیت مختلف اعضا اور بافتوں کو متاثر کر سکتی ہے۔ یونیورسٹی آف مینیسوٹا (Minnesota) کے شعبہ دندان سازی کے پروفیسر الپدوگان کانترچی (Alpdogan Kantarci)نے کہا کہ مسوڑھوں کی شدید بیماری، جسے پیریوڈونٹائٹس (periodontitis) کہا جاتا ہے، لازمی طور پر ڈیمنشیا جیسی بیماریوں کی براہِ راست وجہ نہیں بنتی، تاہم یہ مشترکہ خطرے کے عوامل کو متحرک کر سکتی ہے اور ان افراد میں بیماری کی رفتار تیز کر سکتی ہے جو پہلے ہی اس کیلئے حساس ہوں۔تحقیقات سے ظاہر ہو رہا ہے کہ ہلکی یا درمیانی نوعیت کی بیماریوں میں مبتلا وہ افراد جو باقاعدگی سے برش کرتے ہیں، دانتوں کی دیکھ بھال کرتے ہیں یا ڈینٹسٹ سے رجوع کر کے مکمل صفائی کرواتے ہیں، ان میں ذہنی کارکردگی کے نتائج کہیں بہتر دیکھے گئے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اب ہمیں یقین ہونے لگا ہے کہ دانتوں کو صحت مند رکھنا پچاس سے زائد جسمانی امراض کے خطرے میں کمی سے وابستہ ہو سکتا ہے۔پروفیسر کانترچی نے چوہوں پر کی گئی تحقیقات کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ پیریوڈونٹائٹس دماغی سوزش میں اضافہ کر سکتی ہے اور منہ کے مضر بیکٹیریا خون اور دماغ کے درمیان موجود حفاظتی رکاوٹ (بلڈ برین بیریئر) کو عبور کر سکتے ہیں، خصوصاً عمر رسیدہ چوہوں میں۔اسی دوران جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے شعبۂ طب کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر فیلیپ اینڈریڈ(Dr Felipe Andrade) نے شواہد پیش کیے کہ مسوڑھوں کی بیماری پیدا کرنے والے جراثیم ریمیٹائیڈ آرتھرائٹس (rheumatoid arthritis)کی نشوؤنما میں بھی کردار ادا کر سکتے ہیں۔اسی طرح یونیورسٹی آف مشی گن سے وابستہ ڈاکٹر نوبوہیکو کامادا( Dr Nobuhiko Kamada) نے وضاحت کی کہ منہ کے بیکٹیریا آنتوں کے مائیکرو بائیوم (جرثومی نظام) کو متاثر کر سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں آنتوں کی سوزشی بیماری (Inflammatory Bowel Disease) اور بڑی آنت کے کینسر کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ماہرین کے مطابق دل کے امراض، فالج اور ذیابیطس بھی ان بیماریوں میں شامل ہیں جن کا تعلق منہ کی صحت سے جوڑا جا رہا ہے۔پروفیسر کانترچی نے خبردار کیا کہ زیادہ چینی اور حد سے زیادہ پراسیس شدہ غذاؤں کا استعمال دانتوں کی خرابی اور مسوڑھوں کی بیماری میں تیزی سے اضافے کا سبب بن رہا ہے۔ انہوں نے منہ کی دیکھ بھال کے حوالے سے برطانیہ کا موازنہ تیسرے درجے کے ملک سے کرتے ہوئے کہا کہ پراسیس شدہ خوراک، نرم غذا اور موٹاپا لوگوں کو دانتوں کے مسائل کی طرف مائل کر رہے ہیں۔انگلینڈ کے اورل ہیلتھ سروے کے اعداد و شمار کے مطابق 1998ء سے 2009ء کے درمیان واضح دانتوں کی خرابی کی شرح 46 فیصد سے کم ہو کر 28 فیصد رہ گئی تھی، تاہم اب یہ رجحان الٹ چکا ہے۔ 2023ء کے تازہ ترین سروے کے مطابق قدرتی دانت رکھنے والے 41 فیصد بالغ افراد میں نمایاں کیویٹیز یا دانتوں کی خرابی پائی گئی۔مزید یہ کہ تقریباً 93فیصد افراد میں مسوڑھوں کی بیماری کی کم از کم ایک علامت موجود تھی، جیسے سوزش، ٹارٹر (میل) کا جماؤ یا دانتوں اور مسوڑھوں کے درمیان خلا بن جانا۔پروفیسر کانترچی نے کہا کہ فوڈ ڈیلیوری سروسز کے بڑھتے ہوئے رجحان اور پراسیس شدہ غذاؤں کے زیادہ استعمال نے لوگوں کو قدرتی غذا اور گھر کے پکے کھانوں سے دور کر دیا ہے۔اس کا اثر لوگوں کے دانتوں اور منہ کی صحت پر پڑ رہا ہے۔ اس لیے یہ کوئی حیرت کی بات نہیں کہ ترقی یافتہ ممالک میں یہ بیماریاں زیادہ دیکھنے میں آ رہی ہیں۔حل بالکل واضح ہے، ہمیں مجموعی جسمانی صحت کیلئے منہ کی صحت سے متعلق آگاہی کو بہتر بنانا ہوگا۔ یہ ماہرِ دندان سازی اور مسوڑھوں کے سرجن ان محققین کی ایک ٹاسک فورس کا بھی حصہ ہیں جو اس بات کا اندازہ لگانے پر کام کر رہی ہے کہ عوام کی منہ کی صحت بہتر بنانے سے معاشی اور سماجی سطح پر کیا فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔

بغیر نئے گیجٹس خریدے  گھر کو خودکار بنا سکتے ہیں

بغیر نئے گیجٹس خریدے گھر کو خودکار بنا سکتے ہیں

اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ ہوم آٹومیشن کے لیے نئے اور مہنگے آلات خریدنا ضروری ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ آپ کے پاس موجود موبائل فون، اسمارٹ اسپیکر اور ایپس ہی کافی ہو سکتی ہیں۔ بس ان کی درست سیٹنگ اور استعمال کی ضرورت ہے۔اگر آپ کے پاسAmazon Alexa،Google HomeیاApple Home جیسی ایپس ہیں تو آپ ان میں روٹین ترتیب دے سکتے ہیں مثلاًرات 11 بجے تمام لائٹس بند ہو جائیں‘گڈ مارننگ کہتے ہی پردے کھل جائیں اور خبریں چلنا شروع ہو جائیں یاگھر پہنچتے ہی اے سی آن ہو جائے ۔یہ سب کچھ بغیر کسی نئے آلے کے ممکن ہے۔ لوکیشن کے مطابق خودکار نظامموبائل فون میں موجود آٹومیشن فیچرز جیسےApple Shortcuts (آئی فون) اورGoogle Assistant (اینڈرائیڈ) آپ کے مقام کے مطابق کام کر سکتے ہیں مثلاًگھر سے نکلتے ہی لائٹس بند ہو جائیں گھر کے قریب پہنچتے ہی دروازہ کھل جائے وغیرہ۔ شیڈولنگ ایپس کا استعمالزیادہ تر سمارٹ ایپس میں شیڈول بنانے کی سہولت ہوتی ہے۔ آپ سورج غروب ہونے یا مخصوص وقت کے مطابق خودکار نظام بنا سکتے ہیں مثلاًشام ہوتے ہی آؤٹ ڈور لائٹس آن ہو جائیں رات کو غیر ضروری آلات خود بخود بند ہو جائیں۔آواز سے چلنے والی آٹومیشنAmazon Alexa،Google HomeیاApple Home مخصوص آواز یا جملے سن کر عمل کر سکتے ہیں مثلاًمووی ٹائم کہتے ہی لائٹس مدہم ہو جائیں الارم بجنے پر واشنگ مشین آن ہو جائے۔ موبائل آٹومیشن ایپساینڈرائیڈ صارفین کے لیے Macro Droid ایک کارآمد ایپ ہے جبکہ آئی فون صارفینApple Shortcuts استعمال کر سکتے ہیں مثلاًوائی فائی سے کنیکٹ ہوتے ہی مخصوص ایپ چل جائے گاڑی کے بلوٹوتھ سے جڑتے ہی میوزک شروع ہو جائے اوپن سورس پلیٹ فارماگر آپ کے پاس پرانا کمپیوٹر یا لیپ ٹاپ ہے تو آپ اس پرHome Assistant انسٹال کر سکتے ہیں۔یہ پلیٹ فارم مختلف کمپنیوں کے آلات کو ایک جگہ کنٹرول کرنے کی سہولت دیتا ہے اور پیچیدہ آٹومیشن بھی ترتیب دی جا سکتی ہے۔ مختلف ایپس کو آپس میں جوڑناآپ IFTTTجیسی سروسز استعمال کر کے مختلف ایپس اور ڈیوائسز کو آپس میں جوڑ سکتے ہیں مثلاًٹی وی بند ہوتے ہی لائٹس آن ہو جائیں دروازے کی بیل بجتے ہی موبائل پر اطلاع آ جائے ۔ہوم آٹومیشن کا مطلب لازماً مہنگے گیجٹس خریدنا نہیں آپ کے موجودہ موبائل، سمارٹ سپیکر اور ایپس ہی آپ کے گھر کو زیادہ آرام دہ اور خودکار بنا سکتی ہیں۔ ضرورت صرف یہ ہے کہ آپ ان سہولتوں سے آگاہ ہوں اور انہیں درست انداز میں استعمال کریں۔

رمضان کا پکوان:سموسہ چاٹ

رمضان کا پکوان:سموسہ چاٹ

اجزا:سموسے کے لیے: میدہ دو کپ، اجوائن ایک چوتھائی چائے کا چمچ، نمک آدھا چائے کا چمچ، گھی دو کھانے کے چمچ، پانی گوندھنے کیلئےفلنگ کیلئے: آلو دو عدد (ابلے ہوئے)، ہری مرچ دو عدد (کٹی ہوئی)، ہرا دھنیا ایک کھانے کا چمچ (کٹا ہوا)، لال مرچ آدھا چائے کا چمچ (کٹی ہوئی)، چاٹ مصالحہ آدھا چائے کا چمچ، نمک ایک چوتھائی چائے کا چمچ۔چاٹ بنانے کیلئے: سموسے دو عدد، چنے آدھا کپ (ابلے ہوئے)، دہی آدھا کپ (پھینٹا ہوا)، لال مرچ آدھا چائے کا چمچ (پسی ہوئی)، چاٹ مصالحہ آدھا چائے کا چمچ، پیاز دو کھانے کے چمچ (کٹی ہوئی)، ہرے دھنیے کی چٹنی دو کھانے کے چمچ، املی کی چٹنی چار کھانے کے چمچ، سیو دو سے تین کھانے کے چمچ (کٹی ہوئی)۔ترکیب: سموسے کیلئے: ایک پیالے میں میدہ، نمک، اجوائن اور گھی ڈال کر پانی کے ساتھ گوندھ لیں اور ڈھک کر تیس منٹ کیلئے چھوڑ دیں۔ پھر اس کے پیڑے بنائیں۔ اب ہر پیڑے کو لمبائی میں بیل کر درمیان سے دو ٹکڑوں میں کاٹ لیں۔ فلنگ کیلئے:ابلے آلو ، کٹی ہری مرچ، کٹا ہرا دھنیا، کٹی لال مرچ، چاٹ مصالحہ اور نمک کو آپس میں ملا کر فلنگ تیار کرلیں۔ پھر ہر ٹکڑے میں فلنگ بھر کے سموسے کی طرح فولڈ کرلیں۔ اب یہ سموسے گرم تیل میں ہلکی آنچ پر گولڈن فرائی کرلیں۔ چاٹ بنانے کیلئے: ایک پلیٹ میں دو عدد سموسے ڈالیں۔ ہر سموسے کو آہستہ سے دبائیں کہ یہ ٹوٹ جائیں۔ اس پر ابلے چنے اور تھوڑی سی دہی ڈالیں۔ پھر اس پر لال مرچ اور چاٹ مصالحہ بھی چھڑک دیں۔ اس کے بعد ہرے دھنیے کی چٹنی اور املی کی چٹنی پھیلا کر ڈالیں۔ آخر میں کٹی پیاز ڈالیں اور سیو(sev) سے گارنش کرکے پیش کریں۔

آج کا دن

آج کا دن

سلطان محمد فاتح تخت نشین ہوئے 1451ء میں آج کے روز سلطان محمد فاتح دوسری بار تخت نشین ہوئے۔ 1444ء میں مراد دوئم کی جگہ سلطان محمد خان نے تخت سنبھالا جس کی مخالفت میں چاندارلی خلیل پاشا اور دیگر اہم درباری شخصیات پیش پیش تھے۔ جس کے بعد مراد دوئم دوبارہ تخت نشین ہو گئے جن کے انتقال کے7 سال بعد سلطان محمد خان فاتح دوسری بار دوبارہ تخت نشین ہوئے۔فرانس کا ہنوئی پر قبضہ1947ء میں پہلی انڈوچائنا جنگ کے دوران فرانسیسی افواج نے ویتنام کے دارالحکومت ہنوئی پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا۔ شدید جھڑپوں اور فوجی کارروائیوں کے بعد ویتنام کے جنگجوؤں کو پسپا ہو کر پہاڑی علاقوں کی جانب منتقل ہونا پڑا۔ یہ جنگ دراصل فرانس کی نوآبادیاتی حکمرانی اور ویتنامی آزادی کی تحریک کے درمیان جاری کشمکش کا حصہ تھی۔ ویت نام نے گوریلا حکمتِ عملی اپناتے ہوئے پہاڑوں اور دیہی علاقوں سے اپنی مزاحمت جاری رکھی، جس کے باعث یہ تنازع کئی برسوں تک طول پکڑتا رہا۔ڈائیگو میٹرو سب وے آتشزدگی18 فروری 2003 کو ایک آتش زدگی نے ڈائیگو میٹرو سب وے ٹرین کو آگ لگا دی جب وہ جنوبی کوریا کے وسطی ڈیگو میں جنگنگنو اسٹیشن پر پہنچی۔ اس کے نتیجے میں آگ، جو اسی اسٹیشن پر دوسری ٹرین کے رکنے پر پھیلی، اس میں 192 افراد ہلاک اور دیگر 151 زخمی ہوئے۔ یہ جنوبی کوریا کی امن کے وقت کی تاریخ میں جان بوجھ کر پیش آنے والے کسی ایک واقعے میں جان کا سب سے مہلک نقصان ہے، جو 1982 میں وو کی جانب سے کیے گئے شوٹنگ کے ہنگامے کو پیچھے چھوڑتا ہے۔ایران فضائی حادثہایران اسمان ایئر لائنز کی پرواز 3704 تہران کے بین الاقوامی ہوائی اڈے سے جنوب مغربی ایران میں یاسوج کیلئے طے شدہ ایرانی مسافر بردار پرواز تھی۔ 18 فروری 2018ء کو یہ پرواز یاسوج تک پہنچنے سے قبل ہی صوبہ اصفہان کے سیمیروم کاؤنٹی کے نوقول گاؤں کے قریب پہاڑ سے ٹکرا کر زمین بوس ہو گیا۔ جہاز میں سوار تمام 66 افراد بشمول 60 مسافر اور عملے کے 6افراد ہلاک ہو گئے۔قبلائی خان کا انتقال18 فروری 1294ء منگول حکمران قبلائی خان کا انتقال ہوا۔ 1271ء میں چینی یوآن خاندان قائم کرتے ہوئے 23سال تک حکمرانی کے دوران قبلائی خان نے سانگ خاندان کا صفایا کرتے ہوئے پورے چین کو متحد کیا۔ چین میں پہلے کاغذی نوٹ کا اجرا بھی اسی دور میں ہوا۔ قبلائی خان کے دور میں متعدد یورپی شخصیات بھی چین آئی تھیں جن میں مارکو پولو قابل ذکر رہے۔

کوئلے کے کچرے سے قیمتی دھاتوں کا حصول

کوئلے کے کچرے سے قیمتی دھاتوں کا حصول

سائنسی پیش رفت ریر ارتھ کی پیداوار دوگنا کر سکتی ہےایک حالیہ تحقیق نے توانائی اور ٹیکنالوجی کی دنیا میں نئی امید پیدا کر دی ہے۔ محققین نے ریئر ارتھ منزلز کو نکالنے کا ایسا جدید طریقہ وضع کیا ہے جو موجودہ طریقوں کے مقابلے میں ان معدنیات کی بازیابی کو دو سے تین گنا تک بڑھا سکتا ہے۔ یہ پیش رفت خاص طور پر اس لیے اہم ہے کہ یہ قیمتی عناصر کوئلے کی کانوں کے کچرے (Coal tailings) سے حاصل کیے جا سکتے ہیں، جو اَب تک ماحولیاتی بوجھ سمجھا جاتا تھا۔رئیر ارتھ، جدید ٹیکنالوجی کی بنیادیہ نایاب عناصر دراصل 17 دھاتی عناصر پر مشتمل گروپ ہے جن میں نیوڈیمیم، لینتھنم، سیریم اور دیگر عناصر شامل ہیں۔ یہ عناصر جدید معیشت کی ریڑھ کی ہڈی بن چکے ہیں۔ الیکٹرک گاڑیوں کی موٹریں، ونڈ ٹربائنز کے طاقتور مقناطیس، سمارٹ فونز، کمپیوٹر چپس، دفاعی نظام اور خلائی تحقیق، سب میں ان عناصر کا استعمال ناگزیر ہے۔خاص طور پر نیوڈیمیم سے بننے والے مضبوط مقناطیس قابلِ تجدید توانائی کے منصوبوں میں مرکزی کردار ادا کرتے ہیں۔ دنیا جب تیزی سے فوسل فیول سے گرین انرجی کی طرف بڑھ رہی ہے تو ان عناصر کی طلب میں بے مثال اضافہ ہو رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی فراہمی، قیمت اور جغرافیائی کنٹرول عالمی سیاست اور معیشت میں اہم موضوع بن چکے ہیں۔روایتی کان کنی کے مسائلروایتی طریقوں سے ریئر ارتھ نکالنا نہایت مہنگا اور ماحولیاتی لحاظ سے نقصان دہ عمل ہے۔ کان کنی کے دوران زمین کی ساخت متاثر ہوتی ہے، پانی آلودہ ہو سکتا ہے اور کیمیائی فضلہ ماحول کیلئے خطرہ بنتا ہے۔ عالمی سطح پر ان عناصر کی پیداوار چند ممالک تک محدود ہے جس سے سپلائی چین غیر مستحکم ہو سکتی ہے۔اسی بنا پر سائنسدان متبادل ذرائع تلاش کر رہے ہیں اور انہی میں سے ایک اہم ذریعہ کوئلے کی کانوں سے نکلنے والا کچرا ہے۔ یہ کچرا ڈھیروں کی صورت میں جمع رہتا ہے اور ماحولیاتی آلودگی کا سبب بنتا ہے مگر تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ اس میں ریئر ارتھ کی قابل ذکر مقدار موجود ہوتی ہے۔اصل رکاوٹ کیا تھی؟اگرچہ کوئلے کے فضلے میں یہ عناصر موجود ہوتے ہیں لیکن وہ معدنی ڈھانچے کے اندر مضبوطی سے بند ہوتے ہیں۔ روایتی کیمیائی عمل ان تک مکمل رسائی حاصل نہیں کر پاتے جس کے باعث بازیابی کی شرح کم رہتی ہے۔ یہی وجہ تھی کہ یہ ذریعہ معاشی طور پر مؤثر نہیں سمجھا جاتا تھا۔نئی ٹیکنالوجی کیسے کام کرتی ہے؟امریکہ کی نارتھ ایسٹرن یونیورسٹی کے سائنس دانوں نے اس مسئلے کا حل ایک مربوط سائنسی طریقہ کار کی صورت میں پیش کیا ہے۔ اس میں تین بنیادی مراحل شامل ہیں جن میں الکلائن پری ٹریٹمنٹ، مائیکرو ویو حرارت اور نائٹرک ایسڈ کے ذریعے اخراج شامل ہے۔ الکلائن پری ٹریٹمنٹکوئلے کے کچرے کو ایک الکلائن محلول سے گزارا جاتا ہے جو معدنی ساخت میں کیمیائی تبدیلی پیدا کرتا ہے اور اسے نسبتاً نرم اور قابلِ تحلیل بناتا ہے۔ مائیکرو ویو حرارتاس کے بعد مائیکرو ویو ہیٹنگ کی جاتی ہے۔ یہ حرارت مادے کے اندرونی حصوں تک یکساں طور پر پہنچتی ہے جس سے معدنی ذرات میں باریک مسام پیدا ہوتے ہیں اور اندر بند عناصر باہر آنے کیلئے تیار ہو جاتے ہیں۔ نائٹرک ایسڈ کے ذریعے اخراجآخری مرحلے میں نائٹرک ایسڈ استعمال کیا جاتا ہے جو پہلے سے کمزور ہو چکے معدنی ڈھانچے سے نایاب عناصر کو مؤثر انداز میں الگ کر لیتا ہے۔تحقیق کے نتائج کے مطابق اس طریقے سے عناصر کی بازیابی دو سے تین گنا تک بڑھ گئی جو کہ ایک نمایاں سائنسی کامیابی ہے۔ اگر اس طریقے کو صنعتی پیمانے پر کامیابی سے استعمال کر لیا جائے تو اس کے کئی مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں جیسا کہ کوئلے کے مضر فضلے کو کارآمد وسائل میں تبدیل کیا جا سکے گا۔نئی کانوں کی ضرورت کم ہو سکتی ہے، جس سے زمین اور پانی کے وسائل محفوظ رہیں گے۔عالمی سپلائی چین میں تنوع پیدا ہوگا اور چند ممالک پر انحصار کم ہو گا۔کوئلے کا کچرا دوبارہ وسائل میں تبدیل ہو کر معیشت کا حصہ بنے گا۔تاہم یہ بات بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ لیبارٹری میں حاصل ہونے والی کامیابی کو صنعتی سطح پر بروئے کار لانا آسان نہیں ہوتا۔ مختلف علاقوں کے کوئلے کے فضلے کی کیمیائی ساخت مختلف ہو سکتی ہے جس کیلئے الگ الگ حکمت عملی درکار ہوگی۔ مزید یہ کہ کیمیکلز کے استعمال اور توانائی کی لاگت کو معاشی طور پر قابلِ عمل بنانا بھی ایک اہم چیلنج ہے۔دنیا بھر میں ریئر ارتھ منرلز کے حصول کیلئے نئے طریقوں پر تحقیق جاری ہے،یہ تمام کوششیں اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہیں کہ مستقبل کی معیشت میں وسائل کا پائیدار اور مؤثر استعمال کلیدی اہمیت اختیار کر چکا ہے۔ کوئلے کے کچرے سے نایاب عناصر کی مؤثر بازیابی کی یہ نئی سائنسی پیش رفت توانائی اور ٹیکنالوجی کے مستقبل کیلئے خوش آئند ہے۔ اگرچہ اس ٹیکنالوجی کو عملی جامہ پہنانے میں مزید تحقیق اور سرمایہ کاری درکار ہے لیکن یہ واضح ہو چکا ہے کہ صنعتی فضلہ محض بوجھ نہیں بلکہ قیمتی وسائل کا ذخیرہ بھی ہو سکتا ہے۔یہ دریافت نہ صرف ماحولیاتی تحفظ کی سمت ایک قدم ہے بلکہ عالمی معیشت اور گرین انرجی کے سفر میں بھی ایک اہم سنگِ میل ثابت ہو سکتی ہے۔

مشینیں آجر بن گئیں

مشینیں آجر بن گئیں

مصنوعی ذہانت انسانوں کو ملازمت دینے لگیںسائنسی جریدے ''Nature‘‘میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ نے مصنوعی ذہانت (AI) اور انسانی محنت کے تعلق کے بارے میں ایک نئی اور چونکا دینے والی بحث چھیڑ دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اب ایسے آن لائن پلیٹ فارمز سامنے آ رہے ہیں جہاں مصنوعی ذہانت کے خودکار ایجنٹس حقیقی انسانوں کو مختلف کاموں کیلئے ''ہائر‘‘ کر رہے ہیں۔ یہ رجحان ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک نئے مرحلے کی نشاندہی کرتا ہے جہاں مشینیں نہ صرف انسانوں کیلئے کام کر رہی ہیں بلکہ خود بھی انسانوں سے کام لے رہی ہیں۔ اس رپورٹ میں خاص طور پر ایک ویب سائٹ RentAHuman.ai کا ذکر کیا گیا ہے جس کا تصور ہی غیر معمولی ہے۔ یہ پلیٹ فارم بنیادی طور پر اس خیال پر مبنی ہے کہ چونکہ مصنوعی ذہانت کا وجود ڈیجیٹل دنیا تک محدود ہے اس لیے وہ ایسے کام انجام نہیں دے سکتی جو جسمانی دنیا میں انسانی موجودگی کے متقاضی ہوں؛ چنانچہ AI ایجنٹس اس پلیٹ فارم کے ذریعے انسانوں کو مخصوص کاموں کیلئے منتخب کرتے ہیں۔ ویب سائٹ کا مرکزی پیغام بھی اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ روبوٹس کو آپ کے جسم کی ضرورت ہے۔ابتدائی طور پر یہ کام سادہ نوعیت کے ہوتے ہیں مثلاً کسی مخصوص مقام پر جا کر ماحول کا مشاہدہ کرنا، کسی ریستوران میں کھانا چکھ کر رائے دینا، یا کسی پارک میں کبوتروں کی گنتی کرنا۔ بظاہر یہ معمولی سرگرمیاں لگتی ہیں لیکن ان کے پیچھے اصل مقصد یہ ہے کہ AI سسٹمز کو حقیقی دنیا کے بارے میں ایسا ڈیٹا فراہم کیا جائے جو آن لائن دستیاب نہیں۔ مصنوعی ذہانت لاکھوں ویب سائٹس اور ڈیٹا بیس تک رسائی رکھتی ہے لیکن وہ سڑک کی تازہ صورتحال، کسی دکان کے اصل ماحول یا کسی عمارت کے موجودہ حالات کا خود مشاہدہ نہیں کر سکتی۔اس پلیٹ فارم پر حیران کن طور پر بڑی تعداد میں افراد نے اپنے پروفائلز بنا رکھے ہیں۔ ان میں عام فری لانسرز کے ساتھ ساتھ مختلف شعبوں کے ماہرین اور سائنسدان بھی شامل ہیں۔ کئی افراد نے بائیولوجی، فزکس، کمپیوٹر سائنس اور دیگر سائنسی شعبوں میں اپنی مہارت درج کی ہے۔ اگرچہ اب تک زیادہ تر کام عمومی نوعیت کے ہیں لیکن یہ امکان موجود ہے کہ مستقبل میں AI ایجنٹس پیچیدہ تحقیقی یا تجرباتی نوعیت کے کام بھی انسانوں کو سونپ سکتے ہیں۔یہ صورتحال کئی اہم سوالات کو جنم دیتی ہے۔ سب سے پہلا سوال یہ ہے کہ کیا مستقبل میں مصنوعی ذہانت ایک باقاعدہ ایمپلائر کا کردار ادا کرے گی؟ اگر کوئی خودکار نظام کسی انسان کو کام تفویض کرتا ہے، اس کی کارکردگی جانچتا ہے اور ادائیگی کرتا ہے تو اس تعلق کی قانونی اور اخلاقی حیثیت کیا ہوگی؟ کیا AI کو ایک معاشی اکائی سمجھا جائے گا یا اس کے پیچھے موجود کمپنی ذمہ دار ہو گی؟ دوسرا اہم پہلو روزگار کے مستقبل سے متعلق ہے۔ ایک عرصے سے یہ بحث جاری ہے کہ AI انسانی ملازمتوں کو ختم کر دے گی، لیکن اس نئے رجحان سے ایک مختلف تصویر سامنے آتی ہے۔ یہاں مشینیں انسانوں کی جگہ لینے کے بجائے انسانوں پر انحصار کر رہی ہیں، گویا ایک نئی قسم کی ہائبرڈ معیشت وجود میں آ رہی ہے جہاں ڈیجیٹل ذہانت اور انسانی جسمانی صلاحیتیں مل کر کام کریں گی۔ تاہم یہ بھی ممکن ہے کہ ایسے پلیٹ فارمز کم اجرت اور غیر مستحکم کام کے نئے مواقع پیدا کریں جس سے محنت کشوں کے حقوق کا مسئلہ شدت اختیار کر سکتا ہے۔سائنسی تحقیق کے تناظر میں بھی اس رجحان کے اثرات اہم ہیں۔ اگر AI ایجنٹس تجرباتی ڈیٹا جمع کرنے کیلئے انسانوں کی خدمات حاصل کریں تو تحقیق کی رفتار تیز ہو سکتی ہے۔ مثال کے طور پر کسی ماحولیاتی مطالعے کیلئے مختلف شہروں میں درجہ حرارت یا آلودگی کی پیمائش درکار ہو تو AI ایک ہی وقت میں سینکڑوں افراد کو مختلف مقامات پر بھیج کر معلومات حاصل کر سکتا ہے۔ لیکن یہاں ڈیٹا کے معیار، شفافیت اور تصدیق کے مسائل بھی پیدا ہوں گے۔ کیا ہر فرد درست معلومات فراہم کرے گا؟ کیا AI ان نتائج کی سائنسی جانچ کر سکے گا؟اخلاقی پہلو بھی کم اہم نہیں۔ اگر AI ایجنٹس انسانی فیصلوں پر اثر انداز ہونے لگیں یا لوگوں کو مخصوص نظریاتی یا تجارتی مقاصد کیلئے استعمال کریں تو یہ ایک نیا خطرہ بن سکتا ہے۔ مزید برآں، اگر انسان یہ نہ جانتے ہوں کہ انہیں کام دینے والا دراصل ایک خودکار نظام ہے تو شفافیت کا مسئلہ پیدا ہوگا۔ اس لیے ضروری ہے کہ ایسے پلیٹ فارمز واضح کریں کہ کام کے پیچھے کون سی کمپنی یا ادارہ ہے اور ڈیٹا کس مقصد کیلئے استعمال ہوگا۔قانونی ڈھانچہ بھی اس نئی حقیقت کے مطابق ڈھالنا ہوگا۔ موجودہ لیبر قوانین انسان اور انسان یا انسان اور کمپنی کے تعلق کو مدنظر رکھتے ہیں لیکن جب ایک الگورتھم براہِ راست کام تفویض کرے تو ذمہ داری کا تعین پیچیدہ ہو جاتا ہے۔ اگر کسی کام کے دوران نقصان ہو جائے یا ڈیٹا کا غلط استعمال ہو تو جواب دہ کون ہوگا؟یہ بھی قابلِ غور ہے کہ اس رجحان سے ترقی پذیر ممالک کے افراد کو نئے مواقع مل سکتے ہیں۔ چونکہ آن لائن پلیٹ فارمز جغرافیائی حدود سے ماورا ہوتے ہیں اس لیے دنیا بھر کے فری لانسرز عالمی AI ایجنٹس کیلئے خدمات انجام دے سکتے ہیں۔ تاہم اس کے ساتھ مسابقت میں اضافہ اور معاوضے کی غیر یقینی صورتحال بھی سامنے آ سکتی ہے۔مجموعی طور پر یہ رجحان مصنوعی ذہانت کے ارتقا کا ایک نیا مرحلہ ہے۔ اب سوال صرف یہ نہیں رہا کہ AI انسانوں کی جگہ لے گی یا نہیں بلکہ یہ بھی ہے کہ انسان اور AI کس طرح ایک دوسرے کے ساتھ کام کریں گے۔