آج کا دن
اسپیشل فیچر
جوہانس گٹن برگ کا انتقال
یورپ میں علمی انقلاب کی بنیاد رکھنے والے عظیم موجد جوہانس گٹن برگ 3 فروری 1468ء کو جرمنی کے شہر مائنز میں انتقال کر گیا۔ گٹن برگ کی اصل پہچان پرنٹنگ پریس کی ایجاد ہے جس نے دنیا میں علم کی ترسیل کا پورا نظام بدل کر رکھ دیا۔گٹن برگ نے دھاتی متحرک حروف (Movable Type)، تیل پر مبنی سیاہی اور مکینیکل پریس کو یکجا کر کے ایک ایسا نظام بنایا جس سے کم وقت میں زیادہ اور معیاری نقول تیار ہونا ممکن ہو گیا۔اگرچہ گٹن برگ کو اپنی زندگی میں مالی مشکلات اور قانونی تنازعات کا سامنا رہا مگر ان کی ایجاد نے بعد ازاں نشاۃ ثانیہ، سائنسی انقلاب اور اصلاحِ مذہب جیسی تحریکوں کو تقویت دی۔
فیلکس مینڈلسون کی پیدائش
3 فروری 1809ء کو جرمنی کے شہر ہیمبرگ میں فیلکس مینڈلسون پیدا ہوا جو بعد میں کلاسیکی موسیقی کے عظیم ترین موسیقاروں اور کنڈکٹرز میں شمار ہوا۔ مینڈلسون بچپن ہی سے غیر معمولی صلاحیتوں کا حامل تھا اور کم عمری میں ہی موسیقی کے پیچیدہ شاہکار تخلیق کرنے لگا۔اس نے کلاسیکی روایت کو رومانوی دور کی حساسیت کے ساتھ جوڑا جس کی جھلک ان کی سمفنیز، اوورچرز اور کنسرٹوز میں واضح طور پر نظر آتی ہے۔مینڈلسون کا ایک بڑا کارنامہ یوان سباسچین باخ کی موسیقی کو دوبارہ زندہ کرنا بھی ہے۔
امریکہ میں انکم ٹیکس
3 فروری 1913ء کو امریکہ میں آئین کی سولہویں ترمیم کی توثیق کی گئی جس کے نتیجے میں وفاقی حکومت کو انکم ٹیکس عائد کرنے کا مستقل آئینی اختیار حاصل ہو گیا۔ اس سے پہلے امریکی حکومت زیادہ تر محصولات ٹیرف اور بالواسطہ ٹیکسوں سے حاصل کرتی تھی جو غیر مستحکم اور ناکافی تھے۔ صنعتی ترقی، بڑھتی آبادی اور عالمی ذمہ داریوں کے باعث حکومت کو مستقل آمدنی کے ایک منصفانہ نظام کی ضرورت تھی۔ انکم ٹیکس کو اسی خلا کو پُر کرنے کے لیے متعارف کرایا گیا۔
دی ڈے دی میوزک ڈائیڈ
3 فروری 1959ء کو امریکی موسیقی کی تاریخ کا ایک افسوسناک دن پیش آیا جسے بعد میں'The Day the Music Died ‘کہا گیا۔ اس دن ایک چھوٹا طیارہ حادثے کا شکار ہوا جس میں مشہور راک اینڈ رول گلوکار بڈی ہولی، رچی ویلنس اور جے پی دی بگ باپر رچرڈسن ہلاک ہو گئے۔یہ حادثہ آئیووا میں خراب موسم کے باعث پیش آیا۔ تینوں فنکار ایک کنسرٹ ٹور پر تھے کہ ان طیارہ پرواز کے چند ہی منٹ بعد گر کر تباہ ہو گیا۔
پاکستان نے بنگلہ دیش کو تسلیم کیا
3 فروری 1974ء کو پاکستان نے باضابطہ طور پر بنگلہ دیش کو ایک آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کر لیا۔ 1971ء کے واقعات کے بعد دونوں ملکوں کے تعلقات شدید تناؤ کا شکار تھے تاہم لاہور میں ہونے والی اسلامی سربراہی کانفرنس میں بنگلہ دیش کی شرکت کیلئے پاکستان کی جانب سے اسے تسلیم کیا جانا ضروری تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت نے حالات کے تقاضوں کو دیکھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا۔ بعد ازاں دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات قائم ہوئے، قیدیوں کی واپسی اور دیگر تصفیہ طلب امور پر پیش رفت ممکن ہوئی۔