باسفورس پل
اسپیشل فیچر
دو براعظموں کو ملانے والا عظیم شاہکار
دنیا میں بعض تعمیرات محض اینٹ، پتھر، فولاد اور کنکریٹ کا مجموعہ نہیں ہوتیں بلکہ وہ اقوام کی ترقی، فنی مہارت اور تہذیبی شناخت کی علامت بن جاتی ہیں۔ ترکی کے شہر استنبول میں واقع باسفورس پل بھی ایسی ہی ایک عظیم شاہکار تعمیر ہے، جو نہ صرف ایشیا اور یورپ کو آپس میں ملاتا ہے بلکہ مختلف تہذیبوں، ثقافتوں اور معاشی سرگرمیوں کے درمیان رابطے کا ایک مضبوط استعارہ بھی ہے۔ آبنائے باسفورس پر ایستادہ یہ شاندار پل روزانہ لاکھوں افراد اور ہزاروں گاڑیوں کی آمدورفت کو ممکن بناتا ہے، جس کے باعث استنبول کی معاشی، سماجی اور سفری زندگی میں اسے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ہے۔ اپنی منفرد انجینئرنگ، دلکش منظر اور تاریخی اہمیت کی وجہ سے باسفورس پل نہ صرف ترکی کی ترقی کی علامت ہے بلکہ دنیا بھر سے آنے والے سیاحوں کیلئے بھی ایک غیرمعمولی کشش رکھتا ہے۔
باسفورس برج استنبول میں آبنائے باسفورس کے اوپر بنے ہوئے دو پلوں میں سے پہلا پل ہے۔ یہ لوہے اور سٹیل سے تیار کیا گیا معلق پل ہے۔ باسفورس میں اس پل کے نیچے کوئی ستون نہیں ہے۔ بلکہ باسفورس کے دونوں کناروں پر لمبے ستون کھڑے کرکے مضبوط سٹیل کے رسوں سے پل کو سہارا دیا گیا ہے۔
باسفورس پل4954فٹ لمبا اور 128فٹ چوڑا ہے جبکہ دونوں ستونوں کے درمیان کا فاصلہ3524فٹ ہے اور ستونوں کی بلندی 344 فٹ ہے۔ نیچے پانی کی سطح سے پل 210 فٹ بلندی پر بنایا گیا ہے۔ تاکہ پل کے نیچے سے بڑے سے بڑا جہاز بھی آسانی سے گزر سکے۔ جب یہ پل1973ء میں مکمل ہوا تو اس وقت یہ دنیا کا چوتھا معلق پل اور امریکہ کے پلوں کے بعد سب سے لمبا پل تھا اور اس وقت یہ دنیا کا 17واں طویل معلق پل ہے۔
اس پل کو دو برطانوی انجینئروں سر گلبرٹ رابرٹس اور ولیم برائون نے ڈیزائین کیا۔ انھوں نے دنیا کے کئی مشہور پل ڈیزائن کیے تھے۔ فروری 1970ء میں باسفورس برج کی تعمیر شروع ہوئی اور30اکتوبر1973ء کو یہ مکمل ہوا۔ اس پل کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب میں ترکی کے صدر جودت ثنائے اور وزیر اعظم سلیمان ڈیمریل نے شرکت کی۔ ایک ٹرکش تعمیراتی کمپنی نے برطانیہ کی کلیو لینڈ برج اینڈ انجینئرنگ کمپنی کے اشتراک سے اس پل کی تکمیل میں حصہ لیا۔ اس پل کی تعمیر میں 35 انجینئروں اور 400 کاریگروں نے حصہ لیا۔ یہ پل 1973ء میں ترکی کے جمہوریہ بننے کی 50سالہ گولڈن جوبلی کی تقریب سے ایک دن بعد مکمل ہو گیا۔ صدر کورو ترک اور وزیر اعظم نعیم ناتونے مل کو اس پل کا افتتاح کیا۔
اس پل کی تعمیر پر200ملین ڈالر لاگت آئی۔ باسفورس برج کے کل8لین ہیں۔ 3،3لین گاڑیوں کیلئے اور ایک ایک لین کوایمرجنسی استعمال کیلئے مخصوص کیا گیا ہے۔ صبح کے وقت کیونکہ زیادہ تر ٹریفک کا بہائو ایشیاسائیڈ سے یورپ سائیڈ کی طرف ہوتا ہے۔ اس لیے صبح چار لین صرف جانے کیلئے اور دو لین یورپ سائیڈ سے ایشیاسائیڈ جانے کیلئے کھولے جاتے ہیں اوریہی صورت شام کو یورپ سائیڈسے ایشیا سائیڈ جانے کیلئے عمل میں لائی جاتی ہے۔ اس پل سے روزانہ ایک لاکھ 85ہزار گاڑیاں گزرتی ہیں اور ایشیاسائیڈ کی طرف13ٹول پلازہ بنائے گئے ہیں اور واپسی پر دوبارہ ٹول ادا نہیں کرنا پڑتا۔ باسفورس پل درمیان میں 35انچ تک جھولتا ہے۔