کیا ہفتے میں ایک دن ورزش کافی ہے؟
اسپیشل فیچر
نئی تحقیق کیا بتاتی ہے
صحت مند زندگی کے لیے باقاعدہ ورزش کو ہمیشہ بنیادی ضرورت قرار دیا جاتا ہے اور عام طور پر ماہرین ہفتے میں کئی دن جسمانی ورزش کا مشورہ دیتے ہیں تاکہ دل، پھیپھڑوں، عضلات اور جسمانی وزن متوازن رہے۔ لیکن اگر کسی شخص کے پاس ہفتے میں صرف ایک دن ورزش کے لیے وقت ہو تو کیا وہ بھی صحت کے وہی فوائد حاصل کر سکتا ہے جو ہفتے میں تین یا اس سے زیادہ دن ورزش کرنے والے افراد کو حاصل ہوتے ہیں؟ ایک نئی تحقیق نے اس سوال کا ایسا جواب پیش کیا ہے جو لاکھوں مصروف افراد کے لیے امید افزا ثابت ہو سکتا ہے۔
یہ تحقیق ہانگ کانگ یونیورسٹی میں انجام دی گئی اور اس میں چائنیز یونیورسٹی آف ہانگ کانگ، ہانگ کانگ بیپٹسٹ یونیورسٹی اور کینیڈا کی میک ماسٹر یونیورسٹی کے سائنسدان شریک تھے۔ تحقیق میں موٹاپے کا شکار 315 بالغ افراد کو شامل کیا گیا۔ ان کی عمر، جسمانی حالت اور صحت کا جائزہ لینے کے بعد انہیں 16 ہفتوں تک مختلف ورزشی پروگراموں پر عمل کرایا گیا تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ ورزش کی تعداد زیادہ اہم ہے یا مجموعی دورانیہ۔شرکاکو تین گروپوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔ پہلے گروپ نے ہفتے میں صرف ایک مرتبہ 75 منٹ کی تیز رفتار وقفہ وار چہل قدمی (Brisk Interval Walking) کی۔ اس ورزش میں تیز رفتار چلنے اور نسبتاً آہستہ چلنے کے وقفے شامل تھے تاکہ دل اور پھیپھڑوں پر مناسب دباؤ پڑے۔دوسرے گروپ نے یہی 75 منٹ کی ورزش ہفتے میں تین مختلف دنوں میں کی جبکہ تیسرے گروپ نے اس مخصوص ورزشی پروگرام میں حصہ نہیں لیا اور اسے کنٹرول گروپ کے طور پر رکھا گیا۔16 ہفتوں کے بعد تمام شرکاکے جسمانی وزن، جسم میں چربی، کمر کے گھیر، بلڈ پریشر اور دل کی صحت کا دوبارہ جائزہ لیا گیا۔تحقیق کے نتائج نہایت دلچسپ تھے۔ جن افراد نے ہفتے میں صرف ایک مرتبہ 75 منٹ کی ورزش کی تھی ان میں جسمانی چربی میں کمی، کمر کے گھیر میں کمی اور دل اور پھیپھڑوں کی کارکردگی میں تقریباً وہی بہتری دیکھی گئی جو ہفتے میں تین دن ورزش کرنے والوں میں ریکارڈ کی گئی۔اس کا مطلب یہ نہیں کہ ورزش کی تعداد بالکل غیر اہم ہے بلکہ یہ کہ اگر ورزش کا کل دورانیہ اور شدت ایک جیسی ہو تو بعض حالات میں ایک طویل سیشن بھی مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔یہ نتائج خاص طور پر اُن افراد کے لیے اہم ہیں جو ملازمت، کاروبار یا دیگر مصروفیات کی وجہ سے ہفتے میں کئی دن ورزش نہیں کر سکتے۔ اب ان کے پاس یہ سائنسی ثبوت موجود ہے کہ مناسب منصوبہ بندی کے ساتھ ہفتے میں ایک دن بھی صحت کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔
کیا ایک دن ورزش کافی ہے؟
اگرچہ تحقیق کے نتائج حوصلہ افزا ہیں لیکن انہیں غلط انداز میں نہیں سمجھنا چاہیے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تحقیق صرف پیٹ کے موٹاپے میں مبتلا بالغ افراد پر کی گئی تھی ۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہر شخص کے لیے ہفتے میں صرف ایک دن ورزش کرنا ہی بہترین طریقہ ہے۔ باقاعدہ جسمانی سرگرمی کے بے شمار ایسے فوائد ہیں جو صرف وزن کم کرنے تک محدود نہیں۔ روزانہ یا ہفتے میں کئی دن ورزش کرنے سے ذہنی دباؤ کم ہوتا ہے، نیند بہتر ہوتی ہے، خون میں شوگر کا توازن برقرار رہتا ہے، پٹھے مضبوط ہوتے ہیں اور جسم کی لچک میں اضافہ ہوتا ہے۔اسی طرح طویل دورانیے کی ورزش ہر شخص کے لیے مناسب نہیں ہوتی۔ دل کے مریض، ہائی بلڈ پریشر، جوڑوں کے درد یا دیگر طبی مسائل میں مبتلا افراد کو کسی بھی نئے ورزشی پروگرام سے پہلے اپنے معالج سے ضرور مشورہ کرنا چاہیے۔
آج کی تیز رفتار زندگی میں بہت سے لوگ صرف اس لیے ورزش نہیں کرتے کہ انہیں روزانہ وقت نہیں ملتا۔ یہ تحقیق ایسے افراد کے لیے ایک مثبت پیغام ہے کہ اگر وہ ہفتے میں صرف ایک دن بھی مناسب وقت نکال کر مؤثر انداز میں ورزش کریں تو وہ اپنی صحت میں نمایاں بہتری لا سکتے ہیں۔البتہ اس کے ساتھ متوازن غذا، مناسب نینداور روزمرہ زندگی میں جسمانی سرگرمی بھی صحت مند طرزِ زندگی کا لازمی حصہ ہیں۔ صرف ایک دن ورزش کرنے سے باقی تمام غیر صحت مند عادات کی تلافی نہیں ہو سکتی۔ہانگ کانگ یونیورسٹی اور اس کے بین الاقوامی شراکت دار اداروں کی یہ تحقیق اس تصور کو ایک نئی جہت دیتی ہے کہ ورزش کا فائدہ صرف اس کی تعداد پر منحصر نہیں بلکہ اس کے مجموعی دورانیے اور معیار پر بھی ہوتا ہے۔ اگرچہ باقاعدگی سے ورزش کرنا اب بھی بہترین حکمتِ عملی سمجھی جاتی ہے لیکن یہ تحقیق ان لوگوں کے لیے امید کی ایک نئی کرن ہے جو وقت کی کمی کے باعث ہفتے میں صرف ایک دن ہی ورزش کر سکتے ہیں۔تاہم ماہرین کا مشورہ یہی ہے کہ ہر شخص اپنی عمر اور طبی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے ورزش کا ایسا معمول بنائے جسے وہ مستقل مزاجی کے ساتھ جاری رکھ سکے کیونکہ صحت مند زندگی کا راز وقتی جوش میں نہیں بلکہ مسلسل عمل میں ہے۔