47 سال میں زمین کی 12 ٹریلین ٹن برف پگھل گئی
اسپیشل فیچر
سیٹلائٹ نے خطرے کی نئی تصویر دکھا دی
زمین کے قطبی علاقوں میں برف کا پگھلنا کوئی نئی بات نہیں لیکن ایک تازہ تحقیق نے اس مسئلے کی شدت اور رفتار کے بارے میں ایسی تصویر پیش کی ہے جو تشویش میں اضافہ کرتی ہے۔ٹفٹس یونیورسٹی اور ورجینیا ٹیک کے محققین کی اس تحقیق کے مطابق گرین لینڈ اور انٹارکٹیکا کے برف زاروں میں1979ء سے 2023ء کے درمیان مجموعی طور پر تقریباً ساڑھے بارہ ٹریلین ٹن برف ختم ہو گئی۔ اتنی بڑی مقدار میں برف کا خاتمہ محض قطبی علاقوں تک محدود مسئلہ نہیں بلکہ پوری دنیا کے سمندروں اور ساحلی آبادیوں کے لیے ایک اہم خطرہ بن رہا ہے۔یہ نتائج 27 مختلف سیٹلائٹ مشنز سے حاصل کیے گئے اعداد و شمار اور برفانی علاقوں کے 42 الگ الگ سرویز کو یکجا کرکے حاصل کیے گئے ہیں۔ اس طویل مدتی ریکارڈ نے سائنسدانوں کو تقریباً نصف صدی کے دوران برف میں ہونے والی تبدیلیوں کو زیادہ واضح انداز میں سمجھنے کا موقع دیا ہے۔
برف کے ضیاع کا حیران کن پیمانہ
گرین لینڈ اور انٹارکٹیکا دنیا کی سب سے بڑی برفانی علاقے ہیں۔ یہاں موجود برف میں دنیا کے تازہ پانی کا بہت بڑا ذخیرہ منجمد حالت میں موجود ہے۔ جب یہ برف پگھل کر سمندر میں شامل ہوتی ہے تو سطح سمندر میں اضافہ ہوتا ہے۔ٹفٹس یونیورسٹی اور ورجینیا ٹیک کی اس تحقیق کے مطابق 1979ء سے 2023ء تک ان دونوں برفانی علاقوں سے ضائع ہونے والی برف سے عالمی سطح سمندرمیں تقریباً تین سنٹی میٹر اضافہ ہوا ۔ بظاہر تین سینٹی میٹر کا اضافہ بہت معمولی محسوس ہوسکتا ہے لیکن ساحلی علاقوں کے لیے اس کے اثرات بہت زیادہ ہیں کیونکہ سطح سمندر میں ہر ایک سینٹی میٹر اضافے کے ساتھ سیلاب کے سالانہ خطرات سے بیس سے تیس لاکھ مزید افراد متاثر ہوسکتے ہیں۔اس کا مطلب یہ ہے کہ قطبوں سے دور رہنے والے ممالک بھی اس تبدیلی سے محفوظ نہیں۔ دنیا کے ساحلی شہر، بندرگاہیں، جزائر اور نشیبی علاقے بڑھتی ہوئی سطح سمندر کے باعث مستقبل میں زیادہ شدید سیلاب، ساحلی کٹاؤ اور نمکین پانی کے اندرونی علاقوں تک پہنچنے کے خطرے سے دوچار ہوسکتے ہیں۔
1990کے بعد تشویشناک اضافہ
تحقیق نے یہ بھی ظاہر کیا کہ برف کا پگھلنا ہر دور میں ایک جیسا نہیں رہا۔ 1970ء، 1980ء اور 1990ء کی دہائی کے ابتدائی برسوں میں صورتحال نسبتاً مستحکم تھی لیکن اس کے بعد برفانی پگھلاؤ میں اضافہ شروع ہوا اور 2010ء کی دہائی میں یہ عمل خاص طور پر تیز ہوگیا۔یہی رفتار سائنسدانوں کے لیے زیادہ تشویش کا باعث ہے۔ اگر برف مسلسل زیادہ تیزی سے پگھلتی رہی تو مستقبل میں سطح سمندر میں اضافے کی رفتار بھی بڑھ سکتی ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ 2020ء سے 2023ء کے دوران انٹارکٹیکا میں برف کے پگھلنے کی رفتار بظاہر کچھ کم دکھائی دی۔ تاہم محققین اسے عالمی حدت میں کمی نہیں سمجھتے۔ مشرقی انٹارکٹیکا میں غیر معمولی برف باری نے عارضی طور پر برف کے نقصان کو متوازن کیا جبکہ موسم کی مختصر مدتی تبدیلیوں نے بھی اعداد و شمار کو متاثر کیا۔ محققین کے مطابق 2023ء کے بعد کے مشاہدات دوبارہ تیزی سے جاری برفانی نقصان کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔
مستقبل میں سمندروں پر اثرات؟
ٹفٹس یونیورسٹی اور ورجینیا ٹیک کی اس تحقیق کی اہمیت صرف ماضی کے برفانی نقصان کو شمار کرنے تک محدود نہیں، سائنسدانوں کے لیے سب سے اہم سوال یہ ہے کہ آنے والی دہائیوں میں یہ عمل کس رفتار سے جاری رہے گا۔گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج سے زمین کا درجہ حرارت بڑھ رہا ہے اور سمندر بھی اس اضافی حرارت کا بڑا حصہ جذب کررہے ہیں۔ اگر سمندر مزید گرم ہوتے ہیں تو گلیشیئرز کے سمندر کی طرف بہاؤ میں مزید تیزی آسکتی ہے۔ یہ عمل سطح سمندر میں اضافے کو مزید بڑھا سکتا ہے۔تحقیق میں شامل سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ برفانی چادروں کی تبدیلیاں بعض اوقات عالمی درجہ حرارت میں تبدیلی کے کئی برس یا دہائیاں بعد نمایاں ہوتی ہیں۔ اس لیے اگر دنیا آج گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی لانے میں کامیاب ہوجائے تو برفانی علاقوں میں ہونے والی تبدیلیوں کے اثرات فوری طور پر ختم نہیں ہوں گے۔یہی وجہ ہے کہ 27 سیٹلائٹ مشنز اور درجنوں سرویز پر مشتمل یہ طویل مدتی ریکارڈ اہم ہے۔ اس سے سائنسدانوں کو نہ صرف یہ معلوم ہوتا ہے کہ اب تک کتنی برف ضائع ہوچکی ہے بلکہ یہ بھی سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ برفانی چادریں گرم ہوتی ہوئی دنیا کے ساتھ کس طرح ردعمل ظاہر کررہی ہیں۔ گرین لینڈ اور انٹارکٹیکا کی برف صرف قطبی علاقوں کا قدرتی منظر نہیں، یہ زمین کے آب و ہوا کے نظام اور سمندروں کے مستقبل کا ایک اہم حصہ ہے اور اس میں 12 ٹریلین ٹن سے زیادہ برف کا خاتمہ ایک ایسا انتباہ ہے جسے نظر انداز کرنا مشکل ہے۔ آنے والے برسوں میں دنیا کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ بڑھتے ہوئے سمندروں کے ساتھ صرف مطابقت پیدا کرنے کی کوشش کرے گی یا عالمی حدت کی بنیادی وجوہات کو کم کرنے کے لیے زیادہ مؤثر اقدامات بھی کرے گی۔