آج کا دن
اسپیشل فیچر
نائٹس ٹیمپلرز کی گرفتاریاں
13 اکتوبر 1307ء کو فرانس کے بادشاہ فلپ چہارم کے حکم پر نائٹس ٹیمپلر نامی مذہبی و عسکری تنظیم کے متعدد ارکان کو گرفتار کیا گیا۔ یہ تنظیم صلیبی جنگوں کے زمانے میں قائم ہوئی تھی اور اس کے ارکان عیسائی زائرین کی حفاظت اور مشرقِ وسطیٰ میں صلیبی ریاستوں کی معاونت کے لیے مشہور تھے۔ وقت گزرنے کے ساتھ تنظیم نے بڑی دولت، زمینیں اور مالیاتی وسائل حاصل کر لیے تھے۔ فرانسیسی بادشاہ فلپ چہارم کو تنظیم کی طاقت اور مالی حیثیت پر اعتراضات تھے جبکہ اسے اپنی حکومت کے مالی مسائل کا بھی سامنا تھا۔ گرفتار کیے گئے ارکان پر بدعنوانی، مذہبی بے حرمتی اور دیگر سنگین الزامات لگائے گئے۔ بعد کے برسوں میں پوپ کلیمنٹ پنجم کے دور میں تنظیم کے خلاف کارروائی جاری رہی اور 1312ء میں اسے باضابطہ طور پر ختم کر دیا گیا۔
امریکی بحریہ کی بنیاد
13 اکتوبر 1775ء کو امریکی کانٹی نینٹل کانگریس نے فلاڈیلفیا میں ایک بحری کمیٹی قائم کی جسے جنگی جہازوں کی تیاری اور بحری کارروائیوں کے انتظام کی ذمہ داری دی گئی۔ یہ فیصلہ برطانیہ کے خلاف جاری امریکی جنگِ آزادی کے ابتدائی مرحلے میں کیا گیا تھا۔ اس وقت امریکی نوآبادیات کو برطانوی فوج کے ساتھ ساتھ طاقتور برطانوی بحریہ کا بھی سامنا تھا۔ کانگریس نے دو مسلح بحری جہاز تیار کرنے اور ایسے برطانوی جہازوں کو روکنے کا منصوبہ بنایا جو برطانوی فوج کے لیے اسلحہ اور رسد لے کر آتے تھے۔ اس اقدام نے امریکی بحری طاقت کی منظم تشکیل کی بنیاد رکھی۔ اسی وجہ سے امریکی بحریہ ہر سال 13 اکتوبر کو اپنا یومِ تاسیس مناتی ہے۔
وائٹ ہاؤس کا سنگ ِبنیاد
13 اکتوبر 1792ء کو امریکہ کے دارالحکومت واشنگٹن میں اس عمارت کا سنگِ بنیاد رکھا گیا جو بعد میں وائٹ ہاؤس کے نام سے مشہور ہوئی۔ یہ عمارت امریکی صدر کی سرکاری رہائش گاہ اور انتظامی دفتر ہے۔ امریکہ کے پہلے صدر جارج واشنگٹن نے نئے وفاقی دارالحکومت کے قیام اور اس کی منصوبہ بندی میں اہم کردار ادا کیا۔ عمارت کے ڈیزائن کے لیے آئرش نژاد معمار جیمز ہوبن کا منصوبہ منتخب کیا گیا۔ وائٹ ہاؤس کی تعمیر ایک طویل منصوبہ تھا اور عمارت مکمل ہونے سے پہلے ہی امریکہ کا دارالحکومت فلاڈیلفیا سے واشنگٹن منتقل کیا جانے لگا۔ صدر جان ایڈمز اور ان کی اہلیہ ابیگیل ایڈمز یکم نومبر 1800ء کو اس نامکمل عمارت میں منتقل ہوئے۔
اٹلی کا اعلان جنگ
13 اکتوبر 1943ء کو اٹلی کی حکومت نے نازی جرمنی کے خلاف جنگ کا اعلان کیا۔ یہ دوسری عالمی جنگ کے دوران یورپی سیاست میں ایک اہم تبدیلی تھی کیونکہ اٹلی اور جرمنی اس سے پہلے محوری طاقتوں (Axis Powers) کے اتحادی تھے۔ اٹلی میں مسولینی کی حکومت نے کئی برس تک جرمنی کے ساتھ مل کر جنگ میں حصہ لیا تھا تاہم جولائی 1943ء میں اتحادی افواج نے سسلی پر حملہ کیا جس کے بعد اٹلی میں سیاسی بحران شدت اختیار کر گیا۔ مسولینی کو اقتدار سے ہٹا دیا گیا اور پیٹرو بادولیو کی قیادت میں نئی حکومت نے اتحادیوں کے ساتھ جنگ بندی کی راہ اختیار کی۔ اس صورتِ حال میں اٹلی کی نئی حکومت نے 13 اکتوبر کو جرمنی کے خلاف جنگ کا اعلان کیا۔
چلی، کان کنوں کی بازیابی
13 اکتوبر 2010ء کو چلی میں سان ہوزے کی تانبے اور سونے کی کان میں پھنسے تمام 33 کان کنوں کو کامیابی سے باہر نکال لیا گیا۔ یہ واقعہ جدید تاریخ کے نمایاں ترین امدادی اور انسانی بقا کے واقعات میں شمار ہوتا ہے۔ 5 اگست 2010ء کو کان کے اندر چٹانیں گرنے کے باعث کان کن تقریباً 700 میٹر زیرِ زمین پھنس گئے تھے۔ چلی کی حکومت نے ماہرین، انجینئروں اور بین الاقوامی معاونت سے امدادی کارروائی شروع کی۔ کان کنوں تک خوراک، پانی اور ضروری سامان پہنچانے کے لیے تنگ سوراخ استعمال کیے گئے جبکہ انہیں باہر نکالنے کے لیے خصوصی کیپسول تیار کیا گیا۔ 13 اکتوبر کو ایک ایک کرکے تمام 33 افراد کو سطحِ زمین پر لایا گیا۔ وہ تقریباً 69 دن زیرِ زمین گزار چکے تھے۔