آج کا دن

آج کا دن

اسپیشل فیچر

تحریر :


پاناما کی کولمبیا سے آزادی
3 نومبر 1903ء کو وسطی امریکہ کے ملک پاناما نے کولمبیا سے علیحدگی اختیار کرتے ہوئے اپنی آزادی کا اعلان کیا۔ اس زمانے میں پاناما کولمبیا کا حصہ تھا لیکن امریکہ پاناما کے راستے ایک نہر تعمیر کرنا چاہتا تھا تاکہ دونوں سمندروں کے درمیان بحری سفر مختصر ہو سکے۔ امریکہ اور کولمبیا کے درمیان 1903ء میں ہونے والے معاہدے کی مالی شرائط پر اختلافات پیدا ہوئے اور کولمبیا کی سینیٹ نے اسے منظور نہیں کیا۔ اس صورتحال نے پاناما کی آزادی کی تحریک کو تقویت دی۔3 نومبر کو پاناما میں کولمبیا کی حکومت کے خلاف بغاوت ہوئی اور ایک عبوری حکومت قائم کر دی گئی۔ اس عمل میں امریکہ کی حمایت نے اہم کردار ادا کیا۔ بعد ازاں امریکہ اور پاناما کے درمیان نہر کی تعمیر اور اس کے انتظام سے متعلق معاہدہ ہوا۔
لائیکا کی خلا میں روانگی
3 نومبر 1957ء کو سوویت یونین نے سپوتنک 2 خلائی جہاز خلا میں روانہ کیا۔ اس مشن میں لائیکا نامی کتا بھی موجود تھا جسے ماسکو کی گلیوں کے آوارہ کتوں سے منتخب کیا گیا تھا اور یہ زمین کے گرد مدار میں جانے والا پہلا جاندار بنا۔ یہ واقعہ خلائی تحقیق کی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل تھا کیونکہ اس سے سائنسدانوں کو یہ سمجھنے میں مدد ملی کہ جانداروں پر خلا کے ماحول کے کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔سپوتنک دوم نے کئی ماہ تک زمین کے گرد چکر لگائے اور بالآخر 14 اپریل 1958ء کو فضا میں دوبارہ داخل ہونے پر جل کر تباہ ہو گیا۔یہ مشن سائنسی لحاظ سے اہم تھا۔ لائیکا کی پرواز نے مستقبل میں انسانوں کو خلا میں بھیجنے کی تیاریوں کے لیے اہم معلومات فراہم کیں۔
جاپان کے نئے آئین کا اعلان
3 نومبر 1946ء کو جاپان کے نئے آئین کا اعلان کیا گیا۔ دوسری جنگ عظیم میں جاپان کی شکست کے بعد ملک اتحادی افواج کے زیرِ انتظام آ گیا تھا۔ اس دور میں جاپانی حکومت کے نظام میں اصلاحات کی گئیں تاکہ جنگ سے پہلے کے آمرانہ اور عسکری اثرات کو محدود کیا جا سکے۔ اس سے پہلے جاپان میں بادشاہت کو آئینی اور سیاسی نظام میں مرکزی حیثیت حاصل تھی لیکن نئے آئین نے بادشاہ کو ریاست اور عوام کے اتحاد کی علامت قرار دیا۔اس آئین کی سب سے نمایاں خصوصیات میں جنگ سے دستبرداری کا اصول شامل تھا۔ نئے آئین نے ریاستی اقتدار کے بنیادی اصولوں کو تبدیل کیا اور عوام کی خودمختاری، بنیادی انسانی حقوق اور امن کو ریاستی نظام کا اہم حصہ بنایا۔
ڈومینیکا کی آزادی
3 نومبر 1978ء کو کیریبین خطے کے جزیرہ نما ملک ڈومینیکا نے برطانیہ سے سیاسی آزادی حاصل کی۔ آزادی کا حصول اس جزیرے کی سیاسی تاریخ میں ایک بنیادی تبدیلی تھی جس کے نتیجے میں ملک کو اپنے حکومتی ادارے اور قومی نظام چلانے کا اختیار حاصل ہوا۔آزادی حاصل کرنے کے بعد ڈومینیکا کو معاشی ترقی، محدود قدرتی وسائل، سمندری طوفانوں اور دیگر قدرتی آفات جیسے مسائل کا سامنا رہا۔ اس کے باوجود ملک نے اپنے قومی تشخص، جمہوری اداروں اور بین الاقوامی تعلقات کو آگے بڑھایا۔ اس واقعے کی اہمیت اس لیے بھی نمایاں ہے کہ بیسویں صدی کے دوسرے نصف میں کیریبین خطے کے متعدد ممالک نے نوآبادیاتی اقتدار سے آزادی حاصل کی اور اپنی الگ قومی شناخت کو مضبوط کیا۔
ون ورلڈ ٹریڈ سینٹر کا افتتاح
3 نومبر 2014ء کو نیویارک میں ون ورلڈ ٹریڈ سینٹر باضابطہ طور پر کھولا گیا۔ یہ عمارت ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے علاقے میں تعمیر کی گئی جہاں 11 ستمبر 2001ء کے دہشت گرد حملوں میں ٹوئن ٹاورز تباہ ہو گئے ۔اسے ابتدا میں فریڈم ٹاور بھی کہا جاتا تھا۔ اس عمارت کی مجموعی بلندی 1776 فٹ ہے، جو امریکی تاریخ میں 1776ء کے اس سال کی علامتی یاد دلاتی ہے جب امریکی اعلانِ آزادی منظور ہوا تھا۔عمارت کا ڈیزائن جدیدتعمیراتی ٹیکنالوجی، مضبوط ساخت اور شہری ماحول کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیا گیا۔یہ عمارت اہم تجارتی اور تعمیراتی مراکز میں شمار ہوتی ہے۔ اس کا افتتاح 3 نومبر کی تاریخ کے ان واقعات میں شامل ہے۔ جو جدید شہری تعمیر نو، دہشت گردی کے بعد بحالی اور قومی یادداشت کے حوالے سے تاریخی اہمیت رکھتے ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
 موسمیاتی تبدیلی:عالمی صحت کے لیے بڑھتا ہوا خطرہ

موسمیاتی تبدیلی:عالمی صحت کے لیے بڑھتا ہوا خطرہ

دنیا اس وقت موسمیاتی تبدیلی کے ایسے دور سے گزر رہی ہے جہاں اس کے اثرات محض ماحول، قدرتی وسائل اور معیشت تک محدود نہیں رہے بلکہ انسانی صحت اور زندگی کے لیے بھی سنگین خطرہ بن چکے ہیں۔ بڑھتا ہوا درجہ حرارت، شدید گرمی کی لہریں، خشک سالی، سیلاب، فضائی آلودگی اور پانی کی قلت اب عالمی سطح پر صحت عامہ کے بحران کی شکل اختیار کر رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کو صرف ماحولیاتی مسئلہ سمجھنا درست نہیں بلکہ اسے عالمی صحت کی ہنگامی صورتحال کے طور پر تسلیم کرنے کی ضرورت ہے۔'سائنس الرٹ ‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا کے 146 ماہرین نے مطالبہ کیا ہے کہ اقوام متحدہ اور عالمی ادارہ صحت موسمیاتی تبدیلی کو عالمی صحت کی ہنگامی صورتحال قرار دینے کے لیے عملی اقدامات کریں۔ ماہرین کی یہ تشویش اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں انسانی اموات، بیماریوں اور معاشی نقصانات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ان کے نزدیک اب محض موسمیاتی تبدیلی کے خطرات سے آگاہ کرنا کافی نہیں بلکہ عالمی سطح پر مربوط حکمت عملی اور ہنگامی اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں۔شدید گرمی، تشویشناک اضافہرپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دنیا بھر میں شدید گرمی انسانی زندگی کے لیے سب سے بڑے موسمیاتی خطرات میں شامل ہو چکی ہے۔ اندازوں کے مطابق 2023 ء میں تقریباً سات لاکھ دس ہزار اموات گرمی سے منسلک تھیں۔ ان میں سے 71.5 فیصد اموات کا تعلق موسمیاتی تبدیلی سے جوڑا گیا ہے۔ یہ اعدادوشمار اس بات کا ثبوت ہیں کہ عالمی درجہ حرارت میں اضافے کے اثرات اب براہ راست انسانی جانوں کو متاثر کر رہے ہیں۔شدید گرمی انسانی جسم کے قدرتی نظام کو متاثر کرتی ہے۔ درجہ حرارت بڑھنے سے جسم میں پانی کی کمی، بلڈ پریشر میں تبدیلی، دل اور گردوں پر دباؤ اور ہیٹ سٹروک جیسے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ بزرگ افراد، بچے، حاملہ خواتین اور پہلے سے مختلف بیماریوں میں مبتلا افراد اس صورتحال سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ کھلے مقامات پر کام کرنے والے مزدور، کسان، تعمیراتی شعبے سے وابستہ کارکن اور ٹریفک کے نظام میں کام کرنے والے افراد بھی شدید خطرات سے دوچار ہیں۔موسمیاتی تبدیلی کے باعث گرمی کی شدت اور دورانیے میں اضافے نے معمول کی زندگی کو بھی متاثر کرنا شروع کر دیا ہے۔ کئی علاقوں میں گرمی کے باعث کام کے اوقات تبدیل کرنا پڑ رہے ہیں، تعلیمی ادارے بند کیے جا رہے ہیں اور ہسپتالوں میں مریضوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ اس صورتحال سے واضح ہوتا ہے کہ شدید گرمی اب صرف موسمی کیفیت نہیں بلکہ ایک ایسا صحت کا مسئلہ ہے جس کے لیے مستقل منصوبہ بندی درکار ہے۔معیشت اور روزگار پر دباؤموسمیاتی تبدیلی کے اثرات انسانی صحت کے ساتھ عالمی معیشت کو بھی شدید نقصان پہنچا رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق 2025ء میں شدید گرمی کے باعث عالمی سطح پر محنت اور پیداواری صلاحیت میں کمی سے تقریباً ایک1.07 ٹریلین ڈالر کا معاشی نقصان ہوا۔ اس نقصان کا بڑا حصہ ان شعبوں سے متعلق ہے جہاں کارکنوں کو کھلے ماحول میں جسمانی مشقت کرنا پڑتی ہے۔زراعت، تعمیرات اور دیگر محنت طلب شعبے شدید گرمی سے براہ راست متاثر ہوتے ہیں۔ درجہ حرارت میں اضافے کے باعث مزدور طویل وقت تک کام کرنے کے قابل نہیں رہتے، کام کی رفتار کم ہو جاتی ہے اور حادثات کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ کسانوں کے لیے بھی فصلوں کی کاشت، آبپاشی اور برداشت کے مراحل زیادہ مشکل ہوتے جا رہے ہیں۔ اس طرح موسمیاتی تبدیلی ایک طرف صحت کے اخراجات میں اضافہ کرتی ہے تو دوسری طرف روزگار، پیداوار اور آمدنی کو بھی متاثر کرتی ہے۔یہ مسئلہ ترقی پذیر ممالک کے لیے زیادہ سنگین ہے کیونکہ ان ممالک میں بڑی تعداد میں لوگ زراعت، تعمیرات اور غیر رسمی معیشت سے وابستہ ہیں۔ ان کے پاس نہ تو شدید گرمی سے بچاؤ کے مناسب وسائل ہوتے ہیں اور نہ ہی آمدنی کے متبادل ذرائع؛ چنانچہ موسمیاتی تبدیلی کا معاشی بوجھ بھی سب سے زیادہ کمزور طبقات کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔سیلاب، خشک سالی اور فضائی آلودگیموسمیاتی تبدیلی کا خطرہ صرف شدید گرمی تک محدود نہیں۔ سیلاب، خشک سالی، پانی کی قلت اور فضائی آلودگی بھی انسانی صحت کے لیے بڑے چیلنجز بن چکے ہیں۔ فضائی آلودگی بھی موسمیاتی تبدیلی کے ساتھ جڑا ہوا ایک اہم مسئلہ ہے۔ فضا میں آلودہ ذرات اور نقصان دہ گیسوں کی موجودگی سانس اور دل کی بیماریوں میں اضافے کا سبب بنتی ہے۔ شہروں میں بڑھتی ہوئی گاڑیوں کی تعداد، صنعتی اخراج، کوڑا جلانے اور دیگر عوامل سے پیدا ہونے والی آلودگی انسانی صحت کے لیے مسلسل خطرہ بن رہی ہے۔ اس کے نتیجے میں ہسپتالوں اور طبی مراکز پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ خطرے کی گھنٹیموسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جو نسبتاً کم کاربن اخراج کے باوجود اس کے شدید اثرات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ملک میں شدید گرمی کی لہریں، بے ترتیب مون سون بارشیں، سیلاب، خشک سالی، گلیشیئرز کا تیزی سے پگھلنا اور پانی کی قلت ایک دوسرے سے جڑے ہوئے مسائل ہیں۔ ان کے اثرات نہ صرف ماحول بلکہ زراعت، معیشت اور صحت کے شعبوں پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔ شدید گرمی کے دوران دیہی علاقوں میں کسان اور مزدور کھیتوں میں کام کرنے پر مجبور ہوتے ہیں جبکہ شہروں میں تعمیراتی کارکنوں اور روزانہ اجرت پر کام کرنے والے افراد کے پاس گرمی سے محفوظ رہنے کے مناسب انتظامات نہیں ہوتے۔ ایسے حالات میں ہیٹ سٹروک، پانی کی کمی اور دیگر طبی مسائل کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

  ون ہیلتھ ڈے

ون ہیلتھ ڈے

انسان، جانور اور ماحولیاتی صحت کی بنیاد ہر سال 3 نومبر کو دنیا بھر میں ون ہیلتھ ڈے (One Health Day) منایا جاتا ہے۔ اس دن کا بنیادی مقصد دنیا کو اس حقیقت کی طرف متوجہ کرنا ہے کہ انسانی صحت، جانوروں کی صحت اور ماحول کی سلامتی ایک دوسرے سے الگ نہیں ہیں۔ انسان چاہے جدید ترین ہسپتالوں اور طبی سہولتوں تک رسائی حاصل کر لے لیکن اگر اس کے اردگرد کا ماحول آلودہ، پانی غیر محفوظ، خوراک مضر صحت اور جانور بیماریوں کا شکار ہوں تو صحت مند معاشرے کا خواب پورا نہیں ہو سکتا۔ اسی طرح جانوروں اور پودوں کی صحت کو نظرانداز کرکے انسانی صحت کو محفوظ بنانا بھی ممکن نہیں۔پاکستان جیسے ملک کے لیے ون ہیلتھ کا تصور غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے جہاں ایک طرف آبادی میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، دوسری طرف ماحولیاتی آلودگی، موسمیاتی تبدیلی، غیر محفوظ خوراک، پانی کی قلت، متعدی بیماریوں اور صحت کے ناقص انتظامات جیسے مسائل شدت اختیار کر رہے ہیں۔ ان مسائل کا حل صرف محکمہ صحت یا ہسپتالوں کی ذمہ داری نہیں بلکہ اس کے لیے زراعت، لائیو سٹاک، جنگلی حیات، ماحولیات، بلدیاتی اداروں اور عوام کو مشترکہ حکمت عملی اپنانا ہوگی۔ ون ہیلتھ کا تصور اور بدلتی دنیاون ہیلتھ صحت کا ایک ایسا جامع تصور ہے جو انسانوں، جانوروں، پودوں اور ماحولیاتی نظام کی باہمی وابستگی کو تسلیم کرتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت اور اقوام متحدہ کے متعلقہ اداروں کے مطابق اس طریقہ کار کے تحت مختلف شعبے مل کر بیماریوں کی روک تھام، تشخیص اور علاج کے لیے کام کرتے ہیں۔ اس کا مقصد صرف بیماری سامنے آنے کے بعد علاج کرنا نہیں بلکہ ان عوامل کی نشاندہی کرنا بھی ہے جو بیماریوں کے پھیلاؤ کا سبب بنتے ہیں۔دنیا میں ابھرنے والی متعدد متعدی بیماریوں کا تعلق جانوروں سے ہے۔ کورونا وبا نے بھی عالمی سطح پر یہ حقیقت واضح کی کہ کسی ایک خطے میں پیدا ہونے والا صحت کا بحران پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔پاکستان میں بھی جانوروں اور انسانوں کی مشترکہ صحت کے مسائل موجود ہیں۔ دیہی علاقوں میں انسانوں کا مویشیوں کے ساتھ قریبی تعلق، جانوروں کی بیماریوں کی بروقت تشخیص میں مشکلات، غیر معیاری گوشت اور دودھ کی فروخت اور مویشی منڈیوں میں صفائی کے ناقص انتظامات صحت کے خطرات بڑھاتے ہیں۔ اگر جانوروں میں بیماری کی بروقت نشاندہی اور علاج نہ ہو تو اس کے اثرات انسانی آبادی تک پہنچ سکتے ہیں۔ ماحولیاتی آلودگی اور موسمیاتی تبدیلیپاکستان کو درپیش صحت کے مسائل میں موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی آلودگی بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ شدید گرمی، غیر معمولی بارشیں، سیلاب، خشک سالی اور فضائی آلودگی انسانی زندگی کے ساتھ جانوروں، فصلوں اور قدرتی ماحول کو بھی متاثر کر رہی ہیں۔2022ء کے تباہ کن سیلاب اس کی نمایاں مثال ہیں۔ سیلاب سے نہ صرف لاکھوں افراد متاثر ہوئے بلکہ فصلوں، مویشیوں، گھروں اور صحت کے بنیادی ڈھانچے کو بھی شدید نقصان پہنچا۔ سیلاب کے بعد آلودہ پانی اور مچھروں کی افزائش کے نتیجے میں ہیضہ، اسہال، ملیریا اور ڈینگی جیسی بیماریوں کے پھیلاؤ کے خطرات بڑھ گئے تھے۔ پانی کھڑا ہونے، نکاسی آب کے نظام کی تباہی اور صاف پانی کی عدم دستیابی نے صحت عامہ کے مسائل کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔ اسی طرح لاہور، کراچی، فیصل آباد اور دیگر بڑے شہروں میں فضائی آلودگی اور سموگ انسانی صحت کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔ فضائی آلودگی صرف انسانوں کے پھیپھڑوں اور نظام تنفس کو متاثر نہیں کرتی بلکہ فصلوں، پودوں، جانوروں اور پورے ماحولیاتی نظام پر منفی اثرات مرتب کرتی ہے۔ صنعتی فضلے، سیوریج اور زرعی کیمیکلز کا دریاؤں، نہروں اور زیر زمین پانی میں شامل ہونا بھی ایک ایسا مسئلہ ہے جسے صرف ماحولیاتی نہیں بلکہ صحت عامہ کا بحران سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اینٹی بائیوٹک ادویات کا غیر محتاط استعمال ون ہیلتھ کے حوالے سے ایک اور بڑا چیلنج اینٹی مائیکروبیل ریزسٹنس (Antimicrobial Resistance ہے جسے عام طور پر ادویات کے خلاف جراثیم کی مزاحمت کہا جاتا ہے۔ اس صورت حال میں بیکٹیریا، وائرس، فنگس اور دیگر جراثیم ادویات کے اثرات کے خلاف مزاحمت پیدا کر لیتے ہیں اور عام انفیکشن کا علاج بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ جب جانوروں میں استعمال ہونے والی ادویات کے خلاف جراثیم مزاحمت پیدا کرتے ہیں تو یہ خطرہ خوراک، پانی اور ماحول کے ذریعے انسانی صحت تک بھی پہنچ سکتا ہے۔اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے پاکستان نے 2024ء سے 2028ء تک کا قومی ایکشن پلان برائے اینٹی مائیکروبیل ریزسٹنس مرتب کیا ہے جس میں انسانی صحت، جانوروں کی صحت، زراعت اور ماحولیات کے شعبوں کے درمیان تعاون کو بنیادی اہمیت دی گئی ہے۔ون ہیلتھ ڈے ہمیں یاد دلاتا ہے کہ صحت مند انسان کے لیے صحت مند ماحول اور صحت مند جانور بھی ضروری ہیں۔ اگر ہم بیماریوں کے پھیلاؤ سے پہلے ان کی وجوہات پر قابو پانے میں کامیاب ہو جائیں تو نہ صرف انسانی جانیں بچائی جا سکتی ہیں بلکہ قومی معیشت پر صحت کے بڑھتے ہوئے اخراجات کا بوجھ بھی کم کیا جا سکتا ہے۔ پاکستان کو بھی بیماریوں کی روک تھام، ماحولیاتی تحفظ اور مشترکہ صحت کے نظام پر سرمایہ کاری کرنا ہوگی، یہی ون ہیلتھ کا اصل پیغام اور صحت مند پاکستان کی بنیاد ہے۔

مریخ کے چاندوں کی پُراسرار دنیا

مریخ کے چاندوں کی پُراسرار دنیا

چھپے رازوں سے پردہ اٹھانے کا 5 سالہ جاپانی مشنانسان ہمیشہ سے کائنات کے سربستہ رازوں سے پردہ اٹھانے اور زمین سے باہر زندگی کے امکانات تلاش کرنے کا خواہش مند رہا ہے۔ اب جاپان نے اس سمت میں ایک غیرمعمولی قدم اٹھاتے ہوئے مریخ کے چاندوں سے نمونے زمین پر لانے کا مشن شروع کیا ہے۔ پانچ سالہ اس مہم کا مقصد مریخ کے دو قدرتی چاندوں، فوبوس اور ڈیموس، میں سے ایک کے نمونے حاصل کرکے زمین تک پہنچانا ہے۔ یہ نمونے سائنس دانوں کو ان چاندوں کی تشکیل، مریخ کی ابتدائی تاریخ اور نظامِ شمسی کے ارتقا کو سمجھنے میں مدد دے سکتے ہیں۔ اگر یہ مشن کامیاب ہوتا ہے تو سیاروں اور ان کے چاندوں کی تحقیق میں ایک نئی تاریخ رقم ہو سکتی ہے۔ تازہ اطلاعات کے مطابق، جاپانی خلائی ایجنسی ''جاکسا‘‘ کا ایم ایم ایکس مشن 20 اکتوبر 2026ء کو روانہ ہوا ہے۔ اس کا ہدف مریخ کے چاند فوبوس سے کم از کم 10 گرام مٹی اور چٹانوں کے نمونے جمع کرکے 2031ء میں زمین پر واپس لانا ہے۔مارٹین مونز ایکسپلوریشن (ایم ایم ایکس) کے نام سے معروف جاپانی خلائی جہاز نے ''فوبوس‘‘کی جانب 30 کروڑ میل طویل سفر کا آغاز کردیا ہے۔ فوبوس مریخ کے دو قدرتی چاندوں میں سے بڑا ہے۔ اس اہم خلائی مہم پر تقریباً 26 کروڑ 20 لاکھ برطانوی پاؤنڈ لاگت آئے گی۔اس مشن کا مقصد چاند کی سطح سے کم از کم 10 گرام گردوغبار اور چٹانوں کے نمونے جمع کرنا اور پھر انہیں لے کر زمین پر واپس آنا ہے۔ توقع ہے کہ اس مشن کے ذریعے پہلی مرتبہ مریخ کے گردونواح سے حاصل کیے گئے نمونے زمین پر لائے جائیں گے۔ سائنسدانوں کے مطابق، ان نمونوں میں شامل انتہائی باریک ذرات سائنسی معلومات کا ایک وسیع خزانہ اپنے اندر سموئے ہوئے ہو سکتے ہیں۔ماہرین کو امید ہے کہ ان نمونوں سے کئی دہائیوں پرانے اس سائنسی تنازع کو حل کرنے میں مدد ملے گی کہ آیا فوبوس ایک ایسا سیارچہ ہے جسے مریخ نے اپنی کششِ ثقل کے باعث اپنے مدار میں کھینچ لیا تھا، یا یہ کسی بہت بڑے تصادم کے نتیجے میں وجود میں آنے والے ملبے کی باقیات ہے، جس میں سرخ سیارہ مریخ بھی شامل تھا۔جاپانی خلائی تحقیقاتی ادارے (جاکسا) کے مطابق ''فوبوس سے حاصل کردہ نمونوں کے تفصیلی مشاہدے اور تجزیے کے ذریعے یہ مشن مریخی نظام اور نظامِ شمسی کی تشکیل کے عمل کو واضح کرنے، زندگی کی ابتدا کے بارے میں تحقیق کرنے اور مستقبل میں گہری خلائی کھوج کیلئے راہ ہموار کرنے کی کوشش کرے گا‘‘۔یم ایم ایکس خلائی جہاز تین حصوں پر مشتمل ہے، جن میں سے ہر ایک کا کام مختلف ہے۔ پہلے حصے میں پروپلشن نظام شامل ہے، جو ایم ایم ایکس کو مریخ تک پہنچانے میں مدد دے گا۔ دوسرا حصہ تحقیقی ماڈیول ہے، جس میں نمونے جمع کرنے کے آلات نصب ہیں، جبکہ تیسرا حصہ واپسی کا ماڈیول ہے، جو نمونوں کو زمین تک پہنچائے گا۔روانگی کے بعد راکٹ اور خلائی جہاز کئی سال تک گہری خلا میں سفر کریں گے، جس کے بعد یہ فوبوس کے گرد مدار میں داخل ہوگا۔2029ء کے اوائل میں مائیکروویو اوون کے حجم کے برابر ایک چھوٹی سی خودکار گاڑی فوبوس کی سطح پر اتاری جائے گی۔ یہ گاڑی 100 روز تک چاند کی سطح اور اس کے قدرتی خدوخال کا جائزہ لے گی۔ اس کی تحقیق سے سائنسدانوں کو اس مخصوص مقام کا تعین کرنے میں مدد ملے گی، جہاں تحقیقی ماڈیول کو اتارا جانا چاہیے۔ مقام کی تصدیق کے بعد خلائی جہاز فوبوس کی سطح پر اترے گا اور تقریباً ڈھائی گھنٹے تک وہاں سے مٹی اور چٹانوں کے نمونے جمع کرے گا۔سائنس دانوں کو امید ہے کہ وہ فوبوس کے ایک یا دو مختلف مقامات سے نمونے حاصل کر سکیں گے، جس سے انہیں اس چاند کی ساخت اور اس میں موجود مادّوں کو بہتر طور پر سمجھنے کا موقع ملے گا۔ اس مقصد کیلئے ایم ایم ایکس دو میں سے کسی ایک نمونہ جمع کرنے والے نظام کو استعمال کرے گا۔ پہلا اور بنیادی نظام سی سیمپلر کہلاتا ہے، جو فوبوس کی سطح میں 0.8 انچ (تقریباً 2 سینٹی میٹر) گہرائی تک سوراخ کرکے ایسے مادّے حاصل کر سکتا ہے جو سورج کی شعاعوں کے براہِ راست اثرات سے محفوظ رہے ہوں۔دوسرا نظام پی سیمپلرکہلاتا ہے۔ یہ نائٹروجن گیس کے تیز دباؤ سے مٹی اور چھوٹی چٹانوں کو اڑا کر ایک مخصوص ذخیرہ کرنے والے خانے میں جمع کرتا ہے۔مجموعی طور پر اس خلائی جہاز میں 13 سائنسی آلات نصب ہیں، جن کی مدد سے فوبوس کا غیرمعمولی تفصیل کے ساتھ مطالعہ کیا جائے گا۔ٹینگو (Tengoo) اور اوروچی (Orochi) نامی ہائی ریزولیوشن کیمرے اس چاند کی سطح کی تصاویر لیں گے اور اس کے نقشے تیار کریں گے، جبکہ لیزر آلٹی میٹر اس کی شکل اور زمینی خدوخال کی سہ جہتی (3D) تصویر بنانے میں مدد دے گا۔ایم آئی آر ایس (MIRS) نامی ایک اور آلہ فوبوس میں موجود معدنیات کا تجزیہ کرے گا، جبکہ نیوٹران ڈیٹیکٹر اس چاند کی کیمیائی ساخت سے متعلق معلومات فراہم کرے گا۔اس مشن کے دوران مریخ کے دوسرے اور نسبتاً چھوٹے چاند ڈیموس کا بھی دور سے مشاہدہ کیا جائے گا۔کم از کم 10 گرام مٹی اور چٹانوں کے نمونے جمع کرنے کے بعد خلائی جہاز مریخی نظام سے نکل کر زمین کی جانب واپسی کا سفر شروع کرے گا۔ توقع ہے کہ یہ 2031ء میں زمین پر پہنچے گا۔زمین کے قریب پہنچنے پر خلائی جہاز ایک خصوصی کیپسول فضا میں چھوڑے گا، جس میں یہ قیمتی نمونے موجود ہوں گے۔یہ کیپسول زمین کی فضا میں داخل ہوتے ہوئے تیزی سے نیچے آئے گا اور پھر پیراشوٹ کی مدد سے آسٹریلیا کے دور افتادہ صحرائی علاقے میں اترے گا۔ وہاں سے اسے بازیاب کرکے جاپان منتقل کیا جائے گا، جہاں سائنس دان ان نمونوں کا تفصیلی تجزیہ کریں گے۔

چیونٹیوں کا قدرتی سرچ انجن!

چیونٹیوں کا قدرتی سرچ انجن!

ہمارے روزمرہ معمولات میں باورچی خانہ مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ صبح کی چائے بناتے ہوئے چینی کے چند دانے چولہے کے نیچے گر جانا، دودھ اور سوجی کی کھیر کا کوئی قطرہ فرش پر ٹپک جانا یا بچوں کے ہاتھ سے مٹھائی کا چھوٹا سا ٹکڑا میز کے نیچے جا گرنا بظاہر معمولی واقعات ہیں۔ ہم صفائی کا کپڑا پھیر کر سمجھتے ہیں کہ ماحول صاف ہو چکا ہے، لیکن حقیقت میں یہی معمولی غذائی ذرات ایک ننھی مخلوق کی سرگرمیوں کا آغاز بن جاتے ہیں۔صبح بیدار ہونے پر اکثر فرش پر پڑے مٹھائی کے ذرے یا شیرینی کے قطرے کے گرد چیونٹیوں کی ایک طویل اور منظم قطار دکھائی دیتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ چیونٹیاں اتنی تیزی اور مہارت سے میٹھے کی موجودگی کا پتا کیسے لگا لیتی ہیں؟ آخر ان کا نظامِ معلومات کس قدر طاقتور ہے؟سائنسی نقطہ نظر سے چیونٹیوں کی یہ صلاحیت محض خوشبو سونگھنے تک محدود نہیں بلکہ اس کے پیچھے کیمیائی اشاروں، حسی یادداشت اور اجتماعی فیصلہ سازی پر مبنی ایک پیچیدہ نظام کام کرتا ہے۔ اگر چیونٹیوں کو فطرت کا قدیم سرچ انجن کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا، کیونکہ یہ اپنی خوراک تلاش کرنے کے لیے قدرتی سینسرز اور کیمیائی نیٹ ورک استعمال کرتی ہیں۔چیونٹیوں کی دنیا انواع کے اعتبار سے خاصی متنوع ہے۔ برصغیر میں چیونٹیوں کی سیکڑوں اقسام پائی جاتی ہیں، جبکہ انسانی آبادیوں اور ان کے گرد و پیش کے ماحول میں بھی متعدد انواع سرگرم رہتی ہیں۔ اگرچہ ان کی جسمانی ساخت اور جینیاتی خصوصیات میں فرق ہوتا ہے، تاہم خوراک کی تلاش اور کیمیائی رابطے کے بنیادی اصول بڑی حد تک یکساں ہیں۔چیونٹیوں کی خوراک تلاش کرنے کی مہم کا آغاز کالونی کے معائنے سے ہوتا ہے۔ مزدور یا اسکاؤٹ چیونٹیاں دیواروں کی دراڑوں، کھڑکیوں کے فریموں، پائپوں کے راستوں اور فرش کے کناروں کا مسلسل جائزہ لیتی رہتی ہیں۔ ان کا بنیادی مقصد خوراک کے نئے ذرائع تلاش کرنا ہوتا ہے۔ اس کام میں ان کے سر پر موجود دو اینٹینا بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ محض سونگھنے کے اعضا نہیں بلکہ ماحول میں موجود کیمیائی مادوں اور مختلف اشاروں کو محسوس کرنے کے حساس آلات ہیں۔ ان کی مدد سے چیونٹیاں خوراک کی نوعیت اور اپنے اردگرد ہونے والی تبدیلیوں کا اندازہ لگاتی ہیں۔ ان کے اینٹینا اور اگلی ٹانگوں پر موجود مخصوص حسی ریسیپٹرز انہیں مختلف غذائی اجزا، خصوصاً شکر، کی شناخت میں مدد دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ فرش پر موجود شربت، گڑ، مٹھائی یا چائے کے داغوں میں خوراک کے آثار تلاش کر لیتی ہیں۔خوراک مل جانے کے بعد چیونٹی اسے اکیلے کھانے کے بجائے اپنی پوری کالونی تک اس کی اطلاع پہنچانے کا انتظام کرتی ہے۔ اس مقصد کیلئے وہ ایک خاص کیمیائی مادہ خارج کرتی ہے جسے فیرومون (Pheromone) کہا جاتا ہے۔ جب کوئی اسکاؤٹ چیونٹی خوراک کا مقام دریافت کرتی ہے تو واپس کالونی کی طرف جاتے ہوئے زمین پر فیرومون کی ایک باریک لکیر چھوڑتی جاتی ہے۔ دوسری چیونٹیاں اپنے اینٹینا کی مدد سے اس کیمیائی راستے کو محسوس کرتی ہیں اور اسی پر چلتے ہوئے خوراک تک پہنچ جاتی ہیں۔یہ نظام انسانوں کے گوگل میپس یا جی پی ایس نیویگیشن سے حیرت انگیز مماثلت رکھتا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ انسان سیٹلائٹ اور ڈیجیٹل نقشوں سے راستہ تلاش کرتے ہیں، جبکہ چیونٹیاں کیمیائی نشانات کے ذریعے اپنی منزل تک پہنچتی ہیں۔ فیرومون کی یہ لکیریں وقت گزرنے کے ساتھ کمزور پڑ جاتی ہیں، تاہم اگر خوراک وافر مقدار میں موجود ہو تو مسلسل آنے جانے والی چیونٹیاں ان نشانات کو تازہ کرتی رہتی ہیں، جس سے راستہ طویل عرصے تک برقرار رہ سکتا ہے۔چیونٹیوں کی زندگی میں اینٹینا کی اہمیت کئی حوالوں سے غیر معمولی ہے۔ یہ انہیں فیرومون کی باریک لکیروں کی شناخت، اپنی کالونی کے ساتھیوں اور دشمن چیونٹیوں میں فرق کرنے، ماحول کی تبدیلیوں کو محسوس کرنے اور خوراک کے بارے میں معلومات حاصل کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ یوں ان کے باہمی رابطے اور اجتماعی سرگرمیوں کا پورا نظام انہی حسی صلاحیتوں پر استوار ہوتا ہے۔ چیونٹیوں کا یہ منظم طرزِ عمل قدرت کے حیرت انگیز نظام کی ایک روشن مثال ہے۔ جس چینی کے دانے یا کھیر کے قطرے کو ہم معمولی سمجھ کر فرش پر چھوڑ دیتے ہیں، وہ ان ننھے حشرات کی دنیا میں ایک بڑی غذائی نعمت کی حیثیت رکھتا ہے۔ چند لمحوں میں اس کی اطلاع پوری کالونی تک پہنچ جاتی ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے چیونٹیوں کی ایک منظم فوج وہاں پہنچ جاتی ہے۔اگلی بار جب آپ اپنے باورچی خانے کے فرش پر چیونٹیوں کی لمبی قطار دیکھیں تو یاد رکھیے کہ یہ محض چند حشرات کی نقل و حرکت نہیں بلکہ قدرتی کیمیائی رابطے، حیاتیاتی حسّاسیت اور اجتماعی نظم و ضبط کا ایک حیرت انگیز مظاہرہ ہے، جسے سمجھنے کیلئے جدید سائنس مسلسل تحقیق کر رہی ہے۔

بغیر دوابلڈ پریشر کیسے کم کریں؟

بغیر دوابلڈ پریشر کیسے کم کریں؟

بلند فشارِ خون یا ہائی بلڈ پریشر کو خاموش قاتل کہا جاتا ہے، کیونکہ یہ اکثر کسی واضح علامت کے بغیر دل، دماغ اور گردوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ اس پر قابو پانے کیلئے ادویات، متوازن غذا اور جسمانی سرگرمی اہم ہیں، تاہم طبی تحقیق میں ایک ایسی ورزش کے فوائد بھی سامنے آئے ہیں جس کے دوران جسم بظاہر ساکن رہتا ہے، لیکن پٹھے دباؤ برداشت کرتے ہیں۔ اس ورزش کو ''آئسومیٹرک ورزش‘‘ (Isometric Exercise) کہا جاتا ہے۔ اس میں پٹھوں کو ایک مخصوص حالت میں کچھ دیر تک سکیڑ کر رکھا جاتا ہے، مگر جسم کے متعلقہ حصوں میں نمایاں حرکت نہیں ہوتی۔ہاتھ کی گرفت سے بلڈ پریشر میں کمیاس ورزش کی ایک آسان صورت ''آئسومیٹرک ہینڈ گرپ ‘‘ ہے۔ اس میں مخصوص آلے کو ہاتھ میں پکڑ کر کچھ دیر دبایا جاتا ہے۔ اس دوران بازو کو حرکت دینے کی ضرورت نہیں ہوتی۔2023ء میں برٹش جرنل آف اسپورٹس میڈیسن میں شائع ہونے والے ایک بڑے تجزیے میں 270 مطالعات اور 15 ہزار سے زائد افراد کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا گیا۔ نتائج کے مطابق آئسومیٹرک ورزش کرنے والوں کے سسٹولک بلڈ پریشر میں اوسطاً 8.24 اور ڈائسٹولک بلڈ پریشر میں 4 ملی میٹر مرکری کی کمی دیکھی گئی۔ورزش کا طریقہ اور دورانیہتحقیقی مطالعات میں عموماً ہینڈ گرِپ ورزش کے چار دور تجویز کیے گئے ہیں، جن میں ہر دور دو منٹ کا ہوتا ہے اور درمیان میں آرام کیا جاتا ہے۔ بعض مطالعات میں یہ مشق ہفتے میں تین مرتبہ آٹھ ہفتوں تک کی گئی۔ تاہم دورانیہ اور دباؤ جسمانی حالت کے مطابق ہونا چاہیے۔اس کی دوسری صورت ''وال اسکواٹ‘‘ (Wall Squat)ہے، جس میں کمر دیوار کے ساتھ لگا کر گھٹنوں کو موڑتے ہوئے بیٹھنے کی حالت اختیار کی جاتی ہے اور کچھ دیر اسی پوزیشن میں رہا جاتا ہے۔احتیاط بھی ضروری !آئسومیٹرک ورزش کو بلڈ پریشر کی ادویات کا متبادل نہیں سمجھنا چاہیے۔ دوا استعمال کرنے والے افراد ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر اسے بند نہ کریں۔ ورزش کے دوران سانس روکنے سے گریز کریں، کیونکہ اس سے بلڈ پریشر عارضی طور پر بڑھ سکتا ہے۔ دل کے امراض یا بے قابو بلڈ پریشر میں مبتلا افراد ورزش شروع کرنے سے پہلے معالج سے مشورہ کریں۔بلند فشارِ خون پر قابو پانے کیلئے نمک کا کم استعمال، متوازن غذا، مناسب نیند، وزن میں اعتدال اور باقاعدہ طبی معائنہ بھی ضروری ہیں۔ آئسومیٹرک ورزش ان تدابیر کے ساتھ ایک معاون طریقہ ثابت ہو سکتی ہے، بشرطیکہ اسے درست طریقے اور طبی رہنمائی کے مطابق اپنایا جائے۔

طنز و مزاح:پابندی کی اوقات

طنز و مزاح:پابندی کی اوقات

میں وقت کا اس قدر پابند تھا کہ عین اس وقت دوسروں کے گھر پہنچتا، جب وہ کھانا شروع کرنے لگتے۔ لیکن جب سے میرے پروفیسر دوست ایک تقریب میں پابندی وقت پر تقریر کر کے لوٹے ہیں، میں نے اس پابندی سے آزادی کا اعلان کر دیا ہے۔پروفیسر موصوف مقامی کالج میں لیکچرار ہیں۔ لیکچرار کی تعریف یہ ہے کہ وہ شخص جو دوسروں کی نیند میں بولتا ہے۔ لیکن ہمارے پروفیسر صاحب کی کلاس میں تو کوئی نہیں سو سکتا۔ بہت بلند بولتے ہیں۔ جب وہ میرے کلاس فیلو تھے، تب بھی کلاس میں کسی کو سونے نہ دیتے۔ ان کے خراٹوں کی وجہ سے پاس سوئے ہوئے کی فوراً آنکھ کھل جاتی۔ جب سے پروفیسر طاہر القادری صاحب نے لیکچرار اور پروفیسر کے فرق کو ختم کیا ہے، وہ بھی پروفیسر کہلانے لگے ہیں کہ اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟ یہی نہیں خود کو پائے کا لیڈر بھی سمجھتے ہیں۔ یوں ہمارے ہاں چھوٹے پائے بڑے پائے کے لیڈر ہی ہیں بڑے سر کے لیڈر کم ہیں۔انہیں ایک کونسلر نے پابندی وقت پر تقریر کرنے کیلئے اپنے محلے میں بلایا۔ پروفیسر صاحب اس قدر بااصول ہیں کہ ٹریفک کی سرخ بتی پر سائیکل کو لٹا کر کپڑے جھاڑتے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ بتی سبز ہوتی ہے تو سائیکل پر بیٹھنے کی کوشش کرتے ہیں، بتی پھر سرخ ہو جاتی ہے اور وہ وہیں لال پیلے ہوتے رہتے ہیں۔ اس قدر تیز چلتے ہیں کہ جب تک آپ رک نہ جائیں، آپ کو پتہ نہیں چلتا کہ وہ چل رہے ہیں۔ بال بنانے میں اتنی دیر لگاتے ہیں جتنی امجد اسلام امجد، جو ہر بال سنوارنے میں آدھ منٹ لگاتے ہیں، یوں انہیں صرف بال سنوارنے میں دس منٹ لگتے ہیں جب کہ پروفیسر صاحب کو بھی لگتے تو دس منٹ ہی ہیں مگر یہ بال سنوارنے میں نہیں، بال ڈھونڈنے میں لگتے ہیں۔ شیو یوں آہستہ آہستہ کرتے ہیں کہ جتنی دیر میں شیو مکمل کرتے ہیں، اتنی دیر میں وہ دوبارہ اتنی ہی بڑھ چکی ہوتی ہے۔ ''فارغ البال‘‘ ہونے کی وجہ سے انہیں منہ بھی دور تک دھونا پڑتا ہے۔ سو ابھی انہوں نے منہ دھونا شروع ہی کیا تو میں نے برین واشنگ شروع کردی، یوں بھی برین واشنگ آج کل اتنی اہمیت حاصل کرگئی ہے کہ امریکہ میں 94فیصد گھرانوں میں ٹی وی سیٹ تو موجود ہیں مگر نہانے کے ٹب صرف 91 فیصد گھرانوں میں ہیں۔ویسے بھی میں اس قدر صفائی پسند ہوں کہ جس کے پیچھے پڑتا ہوں، ہاتھ دھوکر پڑتا ہوں۔ سومیں نے انہیں قائل کیا کہ بقول شیکسپئر ''تین گھنٹے پہلے جانا ایک منٹ دیر سے جانے سے بہتر ہے۔‘‘ کیونکہ وہ دیر کرنے میں ذرا دیر نہیں کرتے۔ یہ ان کی پیدائشی خوبی ہے۔ پیدا بھی دسویں مہینے ہوئے۔ شام کو تقریب سے لوٹے تو لوٹے کم اور لٹے زیادہ لگتے تھے، آکر خاموشی سے بیٹھ گئے۔ حالانکہ مقرر، ڈاکٹر اور بیوی کی خاموشی کوئی اچھا شگون نہیں ہوتی۔ میں نے پوچھا، ''کیا ہوا؟‘‘''بڑی بے عزتی ہوئی۔‘‘''کوئی نئی بات بتاؤ۔ تمہیں کہا تھا وقت پر نہیں پہنچوگے تو ایسا ہوگا۔‘‘''وقت پر پہنچا تھا اسی لیے تو بے عزتی ہوئی۔‘‘ہوا یوں کہ جب پروفیسر صاحب عین وقت پر جلسہ گاہ پہنچے تو جلسہ ابھی گاہ تک نہیں پہنچا تھا۔ جمعدار جھاڑو دے رہا تھا۔ ٹینٹ والے سامان اتار رہے تھے۔ ان میں سے کوئی بھی موصوف کو نہیں پہچانتا تھا۔ سو انہوں نے کہا، ''ذرا صاحب! دوسری طرف سے پکڑنا، آپ ہی کا کام کر رہے ہیں۔‘‘ جب تک کونسلر صاحب آئے، موصوف کی یہ حالت ہوگئی تھی کہ جب تک کوئی باقاعدہ تعارف نہ کرواتا، یہ خود کو بھی نہ پہچان سکتے۔ اوپر سے شکل اللہ نے ایسی دی کہ ریلوے میں سفر کریں تو ٹکٹ چیکر سب سے پہلے ان کا ٹکٹ چیک کرتا ہے اور سمجھتا ہے اگر ان کے پاس ٹکٹ ہے تو ڈبے کے ہر مسافر کے پاس ہوگا۔ بہرحال انتظامیہ نے انہیں کرسی صدارت پر بٹھا بلکہ لٹا تو دیا مگر ساتھ ساتھ یہ بھی پوچھتے رہے کہ فارغ تھے جوبہت جلدی آگئے۔ ان کے خیال میں صدارت کے شوق نے پروفیسر صاحب کو اتنی جلدی وہاں پہنچوایا تھا۔ویسے دیکھا جائے تو یہ ہے بھی ٹھیک، ہم آزاد قوم ہیں۔ پابندی چاہے وقت کی ہی کیوں نہ ہو۔ اس کی ہمارے سامنے کیا اوقات! دیر کرنے میں تو ہم ذرا دیر نہیں کرتے۔ سابق وزیر اعظم جو نیجو تو ایسے تھے کہ شادی کی تقریب میں شرکت کیلئے نکلتے تو ولیمے پر پہنچتے۔ آج کا کام کل پر نہ چھوڑتے بلکہ کل کا چھوڑا کام آج ہی کر لیتے۔ یوں دیکھا جائے تو آپ اکیلے جلدی کریں گے تو دیر تو ہوگی۔ اندھوں میں پہلے وہ گرتا ہے جسے تھوڑا نظر آتا ہے۔ آپ وقت کی پابندی کرکے زیادہ سے زیادہ وہ کام صرف ایک ہفتے میں کرلیں گے، جسے دوسری صورت میں پورے سات دن لگ جائیں گے۔کہاوت ہے، ''دیر آید درست آید۔‘‘ اپنی آمد درست ثابت کرنے کا اب ایک ہی طریقہ ہے، دیر سے آئیں۔ جتنی دیر آپ دوسروں سے انتظار کراتے ہیں، در اصل اتنی دیر آپ ان سے اپنا ذکر کرواتے ہیں۔ اہم آدمی اس وقت آتا ہے جب سب آچکے ہوتے ہیں اور اس کی آمد کا انتظار کر رہے ہوتے ہیں۔ دیر سے آنا در اصل عام سے خاص ہونے کا عمل ہے۔ آپ دیر سے آکر کہیں کہ بہت مصروفیت تھی، صرف آپ کی خاطر چند منٹ نکال کر آیا ہوں۔ یوں انہیں اپنی اہمیت کا احساس دلائیں کہ جب تک آپ خود کو اہم نہیں سمجھیں گے، کوئی آپ کو اہم نہیں سمجھے گا۔