ون ہیلتھ ڈے
اسپیشل فیچر
انسان، جانور اور ماحولیاتی صحت کی بنیاد
ہر سال 3 نومبر کو دنیا بھر میں ون ہیلتھ ڈے (One Health Day) منایا جاتا ہے۔ اس دن کا بنیادی مقصد دنیا کو اس حقیقت کی طرف متوجہ کرنا ہے کہ انسانی صحت، جانوروں کی صحت اور ماحول کی سلامتی ایک دوسرے سے الگ نہیں ہیں۔ انسان چاہے جدید ترین ہسپتالوں اور طبی سہولتوں تک رسائی حاصل کر لے لیکن اگر اس کے اردگرد کا ماحول آلودہ، پانی غیر محفوظ، خوراک مضر صحت اور جانور بیماریوں کا شکار ہوں تو صحت مند معاشرے کا خواب پورا نہیں ہو سکتا۔ اسی طرح جانوروں اور پودوں کی صحت کو نظرانداز کرکے انسانی صحت کو محفوظ بنانا بھی ممکن نہیں۔پاکستان جیسے ملک کے لیے ون ہیلتھ کا تصور غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے جہاں ایک طرف آبادی میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، دوسری طرف ماحولیاتی آلودگی، موسمیاتی تبدیلی، غیر محفوظ خوراک، پانی کی قلت، متعدی بیماریوں اور صحت کے ناقص انتظامات جیسے مسائل شدت اختیار کر رہے ہیں۔ ان مسائل کا حل صرف محکمہ صحت یا ہسپتالوں کی ذمہ داری نہیں بلکہ اس کے لیے زراعت، لائیو سٹاک، جنگلی حیات، ماحولیات، بلدیاتی اداروں اور عوام کو مشترکہ حکمت عملی اپنانا ہوگی۔
ون ہیلتھ کا تصور اور بدلتی دنیا
ون ہیلتھ صحت کا ایک ایسا جامع تصور ہے جو انسانوں، جانوروں، پودوں اور ماحولیاتی نظام کی باہمی وابستگی کو تسلیم کرتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت اور اقوام متحدہ کے متعلقہ اداروں کے مطابق اس طریقہ کار کے تحت مختلف شعبے مل کر بیماریوں کی روک تھام، تشخیص اور علاج کے لیے کام کرتے ہیں۔ اس کا مقصد صرف بیماری سامنے آنے کے بعد علاج کرنا نہیں بلکہ ان عوامل کی نشاندہی کرنا بھی ہے جو بیماریوں کے پھیلاؤ کا سبب بنتے ہیں۔دنیا میں ابھرنے والی متعدد متعدی بیماریوں کا تعلق جانوروں سے ہے۔ کورونا وبا نے بھی عالمی سطح پر یہ حقیقت واضح کی کہ کسی ایک خطے میں پیدا ہونے والا صحت کا بحران پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔پاکستان میں بھی جانوروں اور انسانوں کی مشترکہ صحت کے مسائل موجود ہیں۔ دیہی علاقوں میں انسانوں کا مویشیوں کے ساتھ قریبی تعلق، جانوروں کی بیماریوں کی بروقت تشخیص میں مشکلات، غیر معیاری گوشت اور دودھ کی فروخت اور مویشی منڈیوں میں صفائی کے ناقص انتظامات صحت کے خطرات بڑھاتے ہیں۔ اگر جانوروں میں بیماری کی بروقت نشاندہی اور علاج نہ ہو تو اس کے اثرات انسانی آبادی تک پہنچ سکتے ہیں۔
ماحولیاتی آلودگی اور موسمیاتی تبدیلی
پاکستان کو درپیش صحت کے مسائل میں موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی آلودگی بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ شدید گرمی، غیر معمولی بارشیں، سیلاب، خشک سالی اور فضائی آلودگی انسانی زندگی کے ساتھ جانوروں، فصلوں اور قدرتی ماحول کو بھی متاثر کر رہی ہیں۔2022ء کے تباہ کن سیلاب اس کی نمایاں مثال ہیں۔ سیلاب سے نہ صرف لاکھوں افراد متاثر ہوئے بلکہ فصلوں، مویشیوں، گھروں اور صحت کے بنیادی ڈھانچے کو بھی شدید نقصان پہنچا۔ سیلاب کے بعد آلودہ پانی اور مچھروں کی افزائش کے نتیجے میں ہیضہ، اسہال، ملیریا اور ڈینگی جیسی بیماریوں کے پھیلاؤ کے خطرات بڑھ گئے تھے۔ پانی کھڑا ہونے، نکاسی آب کے نظام کی تباہی اور صاف پانی کی عدم دستیابی نے صحت عامہ کے مسائل کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔ اسی طرح لاہور، کراچی، فیصل آباد اور دیگر بڑے شہروں میں فضائی آلودگی اور سموگ انسانی صحت کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔ فضائی آلودگی صرف انسانوں کے پھیپھڑوں اور نظام تنفس کو متاثر نہیں کرتی بلکہ فصلوں، پودوں، جانوروں اور پورے ماحولیاتی نظام پر منفی اثرات مرتب کرتی ہے۔ صنعتی فضلے، سیوریج اور زرعی کیمیکلز کا دریاؤں، نہروں اور زیر زمین پانی میں شامل ہونا بھی ایک ایسا مسئلہ ہے جسے صرف ماحولیاتی نہیں بلکہ صحت عامہ کا بحران سمجھنے کی ضرورت ہے۔
اینٹی بائیوٹک ادویات کا غیر محتاط استعمال
ون ہیلتھ کے حوالے سے ایک اور بڑا چیلنج اینٹی مائیکروبیل ریزسٹنس (Antimicrobial Resistance ہے جسے عام طور پر ادویات کے خلاف جراثیم کی مزاحمت کہا جاتا ہے۔ اس صورت حال میں بیکٹیریا، وائرس، فنگس اور دیگر جراثیم ادویات کے اثرات کے خلاف مزاحمت پیدا کر لیتے ہیں اور عام انفیکشن کا علاج بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ جب جانوروں میں استعمال ہونے والی ادویات کے خلاف جراثیم مزاحمت پیدا کرتے ہیں تو یہ خطرہ خوراک، پانی اور ماحول کے ذریعے انسانی صحت تک بھی پہنچ سکتا ہے۔اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے پاکستان نے 2024ء سے 2028ء تک کا قومی ایکشن پلان برائے اینٹی مائیکروبیل ریزسٹنس مرتب کیا ہے جس میں انسانی صحت، جانوروں کی صحت، زراعت اور ماحولیات کے شعبوں کے درمیان تعاون کو بنیادی اہمیت دی گئی ہے۔ون ہیلتھ ڈے ہمیں یاد دلاتا ہے کہ صحت مند انسان کے لیے صحت مند ماحول اور صحت مند جانور بھی ضروری ہیں۔ اگر ہم بیماریوں کے پھیلاؤ سے پہلے ان کی وجوہات پر قابو پانے میں کامیاب ہو جائیں تو نہ صرف انسانی جانیں بچائی جا سکتی ہیں بلکہ قومی معیشت پر صحت کے بڑھتے ہوئے اخراجات کا بوجھ بھی کم کیا جا سکتا ہے۔ پاکستان کو بھی بیماریوں کی روک تھام، ماحولیاتی تحفظ اور مشترکہ صحت کے نظام پر سرمایہ کاری کرنا ہوگی، یہی ون ہیلتھ کا اصل پیغام اور صحت مند پاکستان کی بنیاد ہے۔