دیکھا دیکھی تمام کاروبار کھل سکتے ہیں ، کورونا بھی زور پکڑے گا
تجزیے
خدشہ یہی ہے کہ خرابی بڑھنے کے بعد سخت ترین لاک ڈاؤن کی جانب واپس آنا ہوگالگتا ہے حکومت نے ایک ہی وقت میں لاک ڈاؤن ختم اور جاری رکھنے کا اعلان کر دیا
(تجزیہ: سلمان غنی)دنیا بھر میں کورونا وائرس کے سدباب کیلئے موثر اقدامات اور ان میں تاخیر کے باعث آنیوالی تباہی کے بعد اس امر کا امکان تھا کہ حکومت اس حوالے سے قائم قومی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں کورونا کے متاثرین اور اس کے نتیجہ میں ہونیوالی ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ کے بعد یکسوئی اور سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے لاک ڈاؤن کو مزید موثر اور نتیجہ خیز بنانے کیلئے کوئی واضح اعلان کرے گی جس کے نتیجہ میں کورونا وائرس کے آگے بند باندھا جا سکے گا لیکن گزشتہ روز کے اجلاس کے نتیجہ میں ہونیوالے اعلانات سے تو یہ لگتا ہے کہ حکومت نے ایک ہی وقت میں لاک ڈاؤن ختم کرنے اور جاری رکھنے کا اعلان کر دیا ہے کیونکہ15 روز کی توسیع کے اعلان کیساتھ وفاقی وزیر حماد اظہر نے بتایا کہ ایسی صنعتیں آج 15 اپریل سے کھولنے جا رہے ہیں جہاں سے کورونا پھیلنے کے خطرات کم ہونگے ۔ایک جانب وزیراعظم عمران خان اور حکومت کا مسلسل یہ موقف رہا ہے کہ کورونا وائرس کا خطرہ ٹلا’ نہیں ،حکومت نے عدالت عظمیٰ کو اپنی رپورٹ میں بتایا کہ 25 اپریل تک متاثرین کورونا کی تعداد پچاس ہزار تک جا سکتی ہے مگر دوسری جانب حکومت کے اعلانات اور اقدامات سے ظاہر ہو رہا ہے کہ کورونا وائرس کے خطرات اور خدشات ٹل رہے ہیں اور وہ لوگوں کو درپیش معاشی مسائل خصوصاً بیروزگاری کے رجحان اور بھوک ننگ سے نمٹنے کیلئے مرحلہ وار انڈسٹریز کھولنے کے پروگرام پر عمل پیرا ہے ۔ آخر کیا وجہ ہے کہ ہم دنیا کے تجربات سے بھی سبق سیکھنے کو تیار نہیں اور وہاں ہونے والا انسانی نقصان بھی ہماری آنکھیں کھول نہیں پا رہا۔ جہاں تک حکومت میں یکسوئی اور سنجیدگی کے فقدان کا تعلق ہے تو اس کی بڑی وجہ ایک منتخب حکومت کا برسراقتدار ہونا ہے کیونکہ اس کی نظر عوام پر ہوتی ہے اور وہ دیکھتی ہے کہ اس کی پالیسیوں کے اثرات کس حد تک عام آدمی پر ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایک جانب ملک بھرمیں کسی حد تک لاک ڈاؤن تھا مگر دوسری جانب وزیراعظم عمران خان کو عوام کی بھوک’ ان کی بیروزگاری کی فکر تھی اور یہی وجہ ہے کہ ہم اس گومگو میں الجھے رہے ۔ اگر کورونا کے اثرات سے نمٹنا ہے تو سخت ترین لاک ڈاؤن کی ضرورت ہے اور سخت ترین لاک ڈاؤن ہوگا تو پھر اس کے اثرات میں بھوک ننگ اور غربت تو پھیلے گی اور خود وزیراعظم عمران خان بھی یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ خدانخواستہ ہم نے احتیاط نہ کی تو بڑا انسانی نقصان ہوگا اور اس کیلئے مثال ان ملکوں کی دی جاتی ہے جہاں بڑا انسانی نقصان ہوا لیکن ہم درمیان میں کھڑے نظر آ رہے ہیں۔یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ یہ بڑا رسک ہے جو حکومت لے رہی ہے اور عوام دوستی کے اظہار کیلئے حکومت کے اقدامات اسے الٹ بھی پڑ سکتے ہیں۔ اچھا ہوتا کہ موثر لاک ڈاؤن میں ایک ہفتہ کا اضافہ کر لیا جاتا اور کسی قسم کی کاروباری سرگرمیاں دیکھنے میں نہ آتیں تاکہ اس کے نتائج بھی سامنے آتے اور اب 15 روز کے لاک ڈاؤن میں توسیع اور ساتھ ہی متعدد انڈسٹریز کا کھلنا بہت بڑے خطرے کو دعوت دینے کے مترادف ہے ۔ خدانخواستہ انسانی جانوں کا ضیاع ہوا تو ذمہ داری حکومت پر آئے گی۔ اس تمام صورتحال میں اصل سوال یہی ہے کہ کورونا وائرس کے بڑھتے خطرے کے رجحان کے آگے بند باندھا جا سکتا ہے ؟ حقیقت یہی ہے کہ خواب دیکھنے پر کوئی پابندی نہیں اور ہمیشہ امید کے دروازے کو کھلا بھی رکھنا چاہئے مگر اس طرح کے دشمن کا مقابلہ کرنے کیلئے بروقت فیصلے اور چین آف کمانڈ واضح اور تذبذب کے راستے سے گریز کرنا بنیادی ضرورت ہوتی ہے ۔ موجودہ حکومت اس بحران میں ان تینوں چیزوں سے بالاتر نظر آئی ہے ۔ حکومت نے پہلے دن سے بروقت فیصلوں کا راستہ اختیار نہیں کیا۔ وفاقی حکومت پہلے دن سے چین کیساتھ ایک موثر رابطے میں تھی اور بہت قریب سے چین کے تجربے کو دیکھ رہی تھی۔ سندھ خصوصاً کراچی میں شور شرابے کے بعد وفاقی حکومت کو ہوش آیا مگر تب تک یہ خاموش وائرس ہماری رگ و پے میں سرایت کر چکا تھا۔ ایئر پورٹس پر بھی بہت کمزور فیصلے کیے گئے اور حکومتی انتظامی صلاحیتیں اس محاذ پر بھی کوئی خاطر خواہ نتیجہ نہ لاسکیں۔ اس کے بعد ملک بھر میں لاک ڈاؤن کے عمل میں جس سستی کا مظاہرہ وزیراعظم نے کیا اسے پاکستانی سیاسی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا کہ کیسے وزیراعظم پیچھے ہٹے اور کیسے صوبوں کی انتظامیہ نے بڑے فیصلے کئے اور وزیراعظم کے انتظامی اختیار اور فیصلے حکومتی ایوانوں سے مبینہ طور پر اسٹیبلشمنٹ نے اپنے ہاتھ میں لیے ۔ یہ کہنے میں کوئی تامل نہیں کہ اس سستی اور غیر فیصلہ کن کیفیت نے وزیراعظم کے عہدے کی رہی سہی کثر بھی خاک میں ملا دی ہے ۔ اس تمام صورتحال میں وزیراعلیٰ مراد علی شاہ اور ان کی ٹیم نمایاں ہوئی تو حکومتی ٹیم نے اس پر اپنے کراچی کے شعلہ بیان رہنما اور وزیر چھوڑ دیئے اور یوں قومی یکجہتی کو خود حکومت نے تار تار کر دیا۔ جونہی اب کورونا وائرس کا پھیلاؤ بڑھنے کا اندازہ ہوگا پھر ہر طرح کا شعبہ دوبارہ بند کرنا پڑے گا۔ گزشتہ دو سال کے معاشی فیصلے اگر درست ہوتے تو اس وقت معیشت زیادہ بہتر انداز میں کورونا سے جنگ لڑتی۔ بہرحال جو ہوا سو ہوا اب آگے کی جانب سفر سے پہلے کورونا سے جان بچانا افضل ہے اور اس کا واحد حل سماجی دوری، فاصلہ اور گھر میں بیٹھنا ہے ۔ فیصلوں اور فائلوں کی حد تک تو لاک ڈاؤن کا فیصلہ ہو چکا ہے مگر تمام حکومتی اشارے یہ بتا رہے ہیں کہ لاک ڈاؤن جزوی ہوگا اور سب کی دیکھا دیکھی تمام کاروبار ایک دم شروع ہو جائیں گے اور لازمی طور پر کورونا وائرس بھی زور پکڑے گا۔ خدشہ یہی ہے کہ خرابی کے بڑھنے کے بعد ہمیں سخت ترین لاک ڈاؤن کی جانب واپس آنا ہوگا۔ مگر اس وقت تک کورونا وائرس بہت جانی نقصان کا خراج مانگے گا اور یوں مطلوبہ نتائج حاصل کرنا تو دور حاصل شدہ کامیابی اور کورونا پر جزوی کنٹرول بھی ختم ہو چکا ہوگا۔