مشکلات کے باوجود شہریوں کی خدمت جاری رکھیں گے ،فلاحی ادا رے پرعزم

دنیا فورم

تحریر : میزبان: مصطفیٰ حبیب صدیقی ایڈیٹرفورم رو زنامہ دنیا کراچی رپورٹ:اعجازالحسن عکاسی ، سید عمران علی لے آؤٹ : توقیر عباس


شرکاء:حاجی حنیف طیب ، بانی سرپرست المصطفیٰ و یلفیئر سوسائٹی ۔ معین خان سیکریٹری اطلاعات ،ڈاکٹر ام کلثوم میڈیکل ڈائریکٹر المصطفیٰ میڈیکل سینٹر، عالیہ صارم برنی،وائس چیئرپرسن صارم برنی ٹرسٹ۔عائشہ سعد ،نائب صدر خواتین ونگ الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان۔نثار احمد ،کوآرڈینیٹر اسسٹنٹ ٹرسٹی عالمگیر ویلفیئر ٹرسٹ ۔ نمیرا منظور،ممبر شپ چیئرروٹری کلب آف کراچی کراؤن۔حنا صدیقی ،جنرل سیکریٹری شیلٹر ویلفیئر سوسائٹی ۔

 رمضان اور شعبان کا فنڈز پورے سال کیلئے کافی ہوتا تھا تاہم اس مرتبہ ختم ہوچکا :حاجی حنیف طیب

 عوام نے فلاحی تنظیموں پر اعتماد جبکہ حکومت سے بیزاری ظاہر کی، دل کھول کر پیسے دیئے : عالیہ صارم برنی

 وباء میں حکومت بالکل فارغ ہوگئی،عوامی تعاون سے خیراتی ادارے میدان میں رہے :عائشہ سعد

 حکومت سند ھ کے تعاون سے پی سی آر ٹیسٹ کررہے ہیں،لوگوں نے بڑھ چڑھ کر تعاون کیا: نثار احمد

 

موضوع:‘‘ کورونا وباء: فلاحی اداروں پر اضافی بوجھ۔۔باقی کام کیسے ہوں گے ؟’’

 

کورونا وباء میں مشکلات میں گھرے ، بیروزگار اور مالی بوجھ تلے دبے عوام نے فلاحی اداروں پر اعتماد کیا،ان کے ساتھ بھرپور تعاون جاری رکھا اور شہر میں چلنے والے فلاحی کام رکنے نہ دیئے ،خیراتی اداروں کو اپنے عوام پر ہی بھروسہ ہے یہی وجہ ہے المصطفیٰ ویلفیئر سینٹر میں ہونے والے دنیا فورم میں تمام ویلفیئر آرگنائزیشنز مطمئن نظر آئیں کہ کورونا وباء نے ان پر جو مالی بوجھ بڑھادیا ہے وہ اس پر عوامی تعاون سے جلد قابوپالیں گی ،حکومت سے کسی کو بھی خاص امید نہ تھی ،دنیا فورم میں خاص بات یہ نظر آئی کہ تمام تنظیموں الخدمت فائونڈیشن ،عالمگیر ویلفیئر ،صارم برنی ٹرسٹ، المصطفیٰ ویلفیئر،روٹری کلب کرائون اورشیلٹر ویلفیئرنے بتایا کہ وباء کے دوران ان کے ڈونرز میں اضافہ ہوا ،لوگ ان کے پاس خود چل کر آتے گئے اور ان کے رفاعی کاموں میں ہر ممکن تعاون کرتے گئے ،اسی وجہ سے ان اداروں کو یقین ہے کہ ان کے جاری پراجیکٹس کبھی نہیں رکیں گے ۔ (مصطفیٰ حبیب صدیقی،ایڈیٹر فورم)

دنیا فورم میں سماجی مسائل کے حل کے لئے شرکاء کی اہم تجاویز

یونیورسٹی ،کالج ،اسکول اور دیگر انسٹی ٹیوٹ میں طالبات کے ساتھ زیادتیوں پر فورم کیا جائے : حاجی حنیف طیب 

ڈراموں میں محرم رشتوں کا ادب اوراحترام بھلایا جارہا ہے، اس پر بھی فور م کیا جائے : عالیہ صارم برنی

سوشل میڈیا کی وجہ سے والدین اور بچوں میں فاصلے بڑھ رہے ہیں ،یہ موضوع بہت اہم ہے: نمیرہ منظور

 المصطفیٰ میڈیکل سینٹرمیں ماہر ڈاکٹر ز ہیں جو کورونا صورت حال کے باعث مریضوں کا علاج آن لائن کررہے ہیں جو مریض کورونا ٹیسٹ کی فیس نہیں دے سکتے تھے ان کا مفت ٹیسٹ کیاگیا: ڈاکٹر ام کلثوم

 خواتین ٹیچرز جو اسکول بند ہونے سے بے روزگا ر ہوچکیں اور گھر کی واحد کفیل ہیں ،ایسی 500خواتین ٹیچرز کی مدد کی،بیوٹی سیلون میں کا م کرنے والی خواتین بے روزگار ہوگئیں ایسی خواتین کی مدد کی: نمیرا منظور

  شیلٹر ویلفیئر سوسائٹی 20سال سے جیلوں میں قیدیوں کیلئے کام کررہی ہے،غریب بچیوں کی شادیاں،پولیس شہداء کیلئے پروگرام کررہے ہیں ، بچیوں کیلئے جہیز اور کھانے کا ا نتظا م بھی کراتے ہیں: حنا صدیقی

 

 دنیا :کورونا کی صورت حال میں فلاحی اداروں کو کن مسائل کا سامنا ہے ؟

حاجی حنیف طیب : کورونا علاج کیلئے پاکستان میں دنیا بھر سے فنڈز آئے ،جو فلاحی ادارے 40سال یااس سے زیادہ عرصے سے قوم کی خدمت کرر ہے ہیں حکومت ان این جی اوز سے بھی معلوم کرلیتی کہ ہمارے پاس فنڈ آئے ہوئے ہیں پچھلے سال کے بجٹ کو لے کر اپنے نمائندوں کو بھیج دیں تاکہ ان سے بات کی جائے لیکن ایسا نہیں ہوا،اسی صورت حال پر جسٹس گلزار صاحب کو کہنا پڑا کہ فنڈ کی کیا صورت حال ہے ؟ لیکن حکومت نے اپنی ذمہ داری پوری نہیں کی ،جس وقت کورونا شروع ہوا تھا اس وقت بھی حکومت کی این جی اوز کی طرف توجہ نہیں تھی ،ہم نے توجہ بھی دلائی لیکن حکومت نے تعاون نہیں کیا، کورونا کے دوران بد قسمتی سے وفاقی اور صوبائی حکومت کی لڑائی سے عوا م خاص طورپر کورونا کے مریض بہت مایوس اور پریشان رہے جو قابل افسوس ہے ،حکومت کو چاہیے تھا کہ وہ فلاحی تنظیموں کو ساتھ ملا کر کام کرتی،جو فنڈز آئے ہیں وہ فلاحی اداروں کے ذریعے استعمال کئے جاتے ۔

دنیا: فنڈز ختم ہوگئے جو پروجیکٹ چل رہے ہیں یا ہونے ہیں ان کو کیسے مکمل کریں گے ؟

حاجی حنیف طیب :رمضان اور شعبان میں جمع ہونے والا فنڈ پورے سال کیلئے کافی ہوتا تھا تاہم وباء کی وجہ سے اس مرتبہ جمع ہونے والا فنڈ ختم ہوچکا ،بہرحال ہمیں اللہ پر مکمل توکل ہے ۔سب تنظیموں کو اللہ پر توکل کرنا چاہیے ،کورونا کی صورت حال میں ہم نے دیکھا کہ پاکستان خصوصا کراچی میں کئی تنظیمیں منظر عام پر آگئیں کوئی ماسک، کوئی سینی ٹائز تو کوئی راشن اور نہ جانے کیا کیا تقسیم کررہے تھیں ،بنیادی مقصد اگر اللہ پر توکل کرکے کام کئے جائیں تو راستے ہموار ہوتے چلے جاتے ہیں،مجھے اللہ پر پور ا یقین ہے کہ ہمارے کام چلتے رہیں گے ۔ 

دنیا: فنڈنگ اور سرگرمیوں میں کن مسائل کا سامنا ہے ،کورونا کے دوران حکومت کا تعاون رہا؟

عائشہ سعد:آفات اور وباء آتی رہتی ہیں لیکن یہ وباء جس طرح پوری دنیا میں پھیلی اور لاکھوں لوگوں کو متاثر کیا اس کی بہت کم مثالیں ملتی ہیں،ترقیافتہ ممالک نے اپنے وسائل اور ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے کسی حد تک اس پرقابوپالیا ،بدقسمتی سے ہماری حکومت کو جو کچھ کرنا چاہیے تھا وہ نہیں کیا،بلکہ ہماری حکومت تو عام حالات میں بھی عوام کو سہولتیں نہیں دے سکی توکورونا میں عوام کو کیا دیتی ۔حالات سے ایسا لگ رہا تھا جیسے حکومت عوام کی فلاح اور سہولتیں دینے سے فارغ ہوگئی اور سارا بوجھ فلاحی اداروں اور تنظیمیں پر ڈال دیا،یہ سماجی ادارے پورے سال عوام کی خدمت میں مصروف اورمیدان میں ہوتے ہیں ، ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ان حالات میں حکومت ساری تنظیموں کو ساتھ بیٹھا کر کام کرتی یا کوئی رہنمائی کی جاتی لیکن ایسا نہیں کیا گیا ،ہم نے میڈیا پر مسائل کی نشان دہی او ر حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنے کاکہا لیکن حکومت نے تعاون نہیں کیا ،ہم عوام میں رہتے ہیں ان حالات میں ان کو اکیلا نہیں چھوڑ سکتے جو کچھ کرسکتے تھے کرتے رہے اور کر رہے ہیں ،لوگوں کی خدمت والے کام اللہ کے ہیں اس نے ہمیں وسیلہ بنا یا جس کے ذریعے ہم کام کرتے رہے ،یہ اللہ کا کام ہے وہ جس سے چاہے کرالیتاہے ، ہماری خوش نصیبی ہے ہمیں ان کاموں کی توفیق ملی ، 22 مارچ کو یہ وباء سامنے آئی ،23کو تھر کمپلیکس میں میڈیکل کے حوالے ایک پروگرام تھا جس میں جماعت کے سینئر رہنما جو پشاور سے آرہے تھے انہوں نے فوری طورپر پروگرام کو ختم کیا اور راستے میں جتنے بھی الخدمت کے اسپتال اور سینٹرز تھے ان کا دورہ کیا اور حکومت سے رابطہ کیاکہ ہمارے اسپتال کے وینٹی لیٹرحاضر ہیں جنہیں آئسو لیشن وارڈز بھی بنا سکتے ہیں حکومت سے سیاسی اختلافات اپنی جگہ لیکن وباء کو کنٹرول کرنے میں ہم حکومت کیساتھ ہیں ،اسی صورت حال میں ہمارے ڈونرز کے فون آنا شروع ہوگئے کہ کیاچاہیے ،اس وقت ہمیں فوری طورپر مریضوں کیلئے وینٹی لیٹر او ر راشن کی ضرورت تھی جس پر کا م شروع کردیا گیا،اللہ کا اتنا کرم ہوا کہ جو وینٹی لیٹر 15لاکھ کا تھا وہ 7لاکھ پر چلا گیا،صرف خواتین ونگ نے فنڈز جمع کرکے 25وینٹی لیٹرکا انتظام کیا، کورونا کی وباء کے دوران فنڈز کم نہیں ہوئے بلکہ میں یہ کہونگی کہ الخدمت کے ساتھ مجھے 40 سال ہوگئے چھوٹی سے عمر سے الخدمت میں کام کررہی ہوں،اتنے عرصے میں پہلی مرتبہ اتنا راشن جمع اور تقسیم کیا اس کے بعد بھی راشن موجود تھا ،جناح ،انڈس اور دیگر اسپتالوں میں الخدمت کی ٹیمیں کام کررہی ہیں جس مریض کو بھیجتے ہیں اس کا علاج ہو جاتا ہے ۔ 

نثار احمد: وباء کے دوران کا م میں مشکلات تو بہت ہوئیں اور ہو بھی رہی ہیں،ہمارے پاس راشن تقسیم کرنے کا نظام موجود ہے لیکن کورونا کی وجہ سے نظام کو بے تحاشہ بڑھا نا پڑا،عام طورپر ہمارا ادارہ راشن کو ا تنی زیادہ فوقیت نہیں دیتا ہمارے دیگر پروجیکٹس چل رہے ہیں لیکن اس صورت حال میں مخیر حضرات نے راشن کی مد میں فنڈز دیئے جسے پورا کرناتھا اور صورت حال بھی ایسی ہی تھی جس کے باعث وسیع پیمانے پر کام کیا ،کورونا کی صورت حال میں حکومت سندھ نے ہم سے رابطہ تو کیا ،وزیراعلیٰ سندھ مرادعلی شاہ کے ساتھ بھی دو ملاقاتیں ہوئیں،اس سے اندازہ ہوا کہ حکومت کو اس بات کا زیادہ خطرہ تھا کہ عوام لاک ڈاؤن کی وجہ سے سڑکوں پر نہ آجائیں۔

دنیا:حکومت پر الزام رہا کہ کورونا کے نام پر آنے والا فنڈ عوام پر استعمال نہیں ہورہا ؟

نثار احمد:ہمارا ادارہ کبھی بھی حکومت کے خلاف نہیں رہا ،کوشش ہے حکومت کے ساتھ مل کر عوام کی خدمت کریں ،تاہم راشن کی تقسیم میں سیکیورٹی اداروں کا تعاون رہا،حکومت کی کوشش رہی کہ راشن کی تقسیم میں دہرائی نہ ہو لیکن یہ ممکن نہیں تھا کیونکہ جس نے راشن لیا اس کو 15 روز بعد دوبارہ راشن چاہیے اس لیے ہم نے بھی یہ شرط نہیں لگائی او ر لوگوں کو دوبار ہ راشن دیا، مختلف کمپنیوں ،مالیاتی اداروں،بینک اور دیگر اداروں نے بے تہاشہ آگے بڑھ کر کام کیااور عام حالات سے بڑھ کا عطیات دیئے ۔اس صورت حال میں چیلنج بڑا تھا لیکن کوشش کرتے رہے اور روزانہ 500لوگوں کو راشن دیتے اور کوشش کرتے رہے اسے ایک دن بھی بند نہ کیا جائے ،اسی دوران ہماری او پی ڈی کے ڈاکٹر کا انتقال بھی ہوا،وہ لوگ جو حقیقت میں علاج کے مستحق تھے ان کو سہولتیں نہیں مل رہی تھیں ایسی صورت حال میں علاج کرنا بہت بڑا چیلنج تھا جوا للہ کے فضل سے پورا کیا اور کررہے ہیں،حکومت سند ھ کے تعاون سے پی سی آر ٹیسٹ کررہے ہیں ،طبی لحاظ سے حکومت سندھ نے کچھ اداروں کو آن بورڈ لیا ہے ،کورونا میں لوگوں نے بہت بڑھ چڑھ کر کا م کیا، صدقے کا گوشت بھی بڑھا جو عوام میں تقسیم ہوااور عطیات میں اضافہ کیا جس سے بہت مدد ملی،اس وقت بھی لوگوں کی مالی حالت بہت خراب ہے ،کئی اسکول بند ہوچکے ہیں ،کچھ اسکولوں کے مالکان کے فون آرہے ہیں کہ 4ماہ سے کرایہ نہیں دیا اسکول چلانے کیلئے پیسے نہیں ہیں کیا کریں ان کی مدد کی بھی کوشش کررہے ہیں،عام حالات میں کام کرنا اتنا مشکل نہیں ہوتا لیکن اس صورت حال میں ایس او پیز کو سامنے رکھتے ہوئے کام کرنا تھا جس میں کافی مشکلات ہوئیں،ا جتماعی قربانی کے حوالے سے ہم جیسے اداروں پر بڑا دباؤ ہے ،3 روز میں ایس اوپیز کو فالوکرتے ہوئے ایک مخصوص تعداد ہی قربان کرسکتے ہیں ،عید سے 25روز قبل ٹارگٹ مکمل ہوگیا،لیکن لوگوں کے مطالبات آرہے ہیں جس پر غور کرنے کے بعد ملک میں نمائندوں کو تھوڑے تھوڑے جانور دے دیئے اس سے لوگوں کے کام ہوگئے اورکم جانوروں میں ایس او پیز پر عمل بھی ہوسکتاہے ۔

 عائشہ سعد:اس سال بھی الخدمت نے قربانی کیلئے مختلف سلاٹر ہائو س لے لیے ہیں جہاں ایس او پیز کے ساتھ قربانی کی جائے گی ،عوام اب منڈیوں سے جانور لینے اورگھروں میں قربانی کرنے سے اجتناب کریں گے ،اللہ کے فضل سے چار روز قبل قربانی کا ہدف بھی پورا ہوچکا ہے ،لوگ بہت تعاون کررہے ہیں۔

دنیا: آپ خواتین کیلئے بہت کام کرتی ہیں،ان دنوں کیا صورتحال ہے ؟

عالیہ صارم برنی : ہمارا ادارہ انسانوں کیلئے کام کرتا ہے اس میں مر د،عورت بچے ،علاقے یا مذہب کی قید نہیں،میں عورت کے ساتھ کھڑی ہوکر مرد کیلئے کام کررہی ہوں،فلاحی اداروں کا مقصد انسانیت کی خدمت ہے ،بحیثیت قوم ہم سب لوگ ایک ہی انداز میں سوچتے اور کام کرتے ہیں، پاکستا ن پراللہ کا خاص کرم ہے جب بھی مشکلات آئی ہیں اس میں پاکستانی قوم اور مضبوط ہوکر سامنے آئی ہے ،کورونا نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے اللہ ہی چاہے گا تو اس سے نجات ملے گی ،اس وقت ایک چھوٹے سے جراثیم نے ہمیں کہاں پہنچادیا ہے جہاں ترقیافتہ ممالک کی ساری ٹیکنالوجی ناکام ہوگئی ہیں ۔

دنیا: کورونا کے باعث پروجیکٹس اور بجٹ کی کیا صورت حال ہے ،حکومت مدد کرتی ہے ؟

عالیہ صارم برنی :فلاحی تنظیمیں کہیں بھی اپنا کام نہیں روک سکتیں انہیں عوام میں رہتے ہوئے سارے کام کرنے ہوتے ہیں،کورونا صورت حال میں عوام نے فلاحی تنظیموں پر اعتماد کیا جبکہ حکومت سے بیزاری ظاہر کی،حکومت ہمیشہ پیسے نہ ہونے کا روناروتی رہی جبکہ عوام نے ہمیں دل کھول کر پیسے دیئے ۔ کورونامیں معمول سے زیادہ کام کیا ، اللہ نے بہت مدد کی،اسی صورت حال میں کورنگی میں میتوں کیلئے سرد خانہ بنایا ہے جس کی موجودہ صورت حال میں اشد ضرروت تھی ،ہم پر زندوں سے زیادہ مردوں کی ذمہ داری ہے ، پورے سال لوگوں کو گھروں میں کھانا پہنچاتے ہیں لیکن کورونا میں کئی گنازیادہ کھانا پہنچایا۔دنیا فورم کے دوران عالیہ صارم برنی نے اپنے دفتر پر فائرنگ کے واقعے کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ ایک لڑکی کی 15 روز قبل گن پوائنٹ پر شادی ہوئی جس کی طلاق بھی ہوگئی وہ ہمارے دفتر آئی اسکے پیچھے اس کے سسرال والے آئے جب ان کا بس نہیں چلا تو اس کے دیور نے ہمارے دفتر پر فائرنگ کی ،اطلاع دینے کے باوجود پولیس آدھے گھنٹے بعد آئی ،واقعے کی ریکارڈنگ موجود ہے ،صار م برنی کا ادارہ جو 30سال سے کام کررہا ہے ،حکومت ہماری جانوں کی حفاظت نہیں کرسکی وہ مدد کیا کرے گی۔ عوام حکومت کی باتوں پر اعتماد نہیں بلکہ غصے کا اظہار کرتے ہیں، فلاحی ادارے عوام میں رہ کر کام کرتے اور عوام کو جواب دے ہیں ، حکومتی نمائندے جوابدے نہیں ہوتے ،درحقیقت فلاحی اداروں کو حکومت نہیں عوام سے مدد ملتی ہے ،حکومت ہمیشہ کنگال رہتی ہے اللہ کی مہربانی جب عوام دینے پر آتی ہے تو اتنا دیتی ہے سارے کام ہوجاتے ہیں،حاجی حنیف طیب نے کہا کہ دنیافو رم کے توسط سے درخواست ہے اس صورت حال میں حکومت ساری تنظیموں کو بلائے اور مسائل پر بیٹھ کر بات کرے ۔

دنیا: ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ اسکول بند ہونے سے مشکلات کا شکار چند خواتین غلط راستے پر نکل گئیں ،آپ ان کیلئے کچھ کررہی ہیں؟

عالیہ صارم:غربت انسان کو کفر تک لے جاتی ہے ،اس طرح کی فیملی کے پاس جائیں وہ اپنی زبان سے سب کچھ بتاتیں ہیں کہ بھوک او ر بیماریاں کیسے کفر تک لے جاتی ہیں، کوشش ہے کہ شیلٹر ہوم میں کوئی نہ ہو سب اپنے گھروں میں آباد ہوں،معاشرے میں اس قسم کے مسائل نہ ہوں تو شیلٹر ہوم کی ضرورت نہ ہو،شیلٹر ہوم کی انتہائی مشکل زندگی ہے ،لیکن جب ایسی بچیوں کو باہر چھوڑا گیا تو وہ ایسے ہی غلط راہوں پر نکل پڑیں ا س کو روکنے کیلئے شیلٹر ہوم چلانے پڑرہے ہیں،کوشش ہوتی ہے ان کی تربیت کر کے دوبارہ گھر بھیج دیں۔ یہ سارے کام پوری دنیا میں حکومتیں کرتی ہیں جو پاکستان میں فلاحی ادارے کررہے ہیں۔

نمیرا منظور :کورونا کے دوران راشن تقسیم کرنے کے ساتھ خواتین ٹیچرز جو اسکول بند ہونے سے بے روزگا ر ہوچکیں اور گھر کی کفیل ہیں ،ایسی 500خواتین ٹیچرز کی مدد کی،وہ اسکول جو کرایہ تک ادا نہیں کرپارہے تھے وہ اساتذہ کی تنخواہ کہاںسے دیتے ؟اس کے علاوہ بیوٹی سیلون میں کا م کرنے والی خواتین کی بڑی تعد اد ہے جو سیلون بند ہونے سے بے روزگار ہوگئیں ، کئی خواتین ایسی ہیں جو پورے خاندان کی کفالت کر تی ہیں ایسی خواتین کی معلومات کے بعد کچھ اداروں کے تعاون سے ان کی مدد کی ،غریب علاقوں میں رہنے والی کرسچن کمیونٹی کی بھی مدد کی ،اس وقت ووکیشنل انسٹی ٹیوٹ کا بڑا اہم کردار ہے ، بے روزگار افراد کو کورس کراتے ہیں تاکہ و ہ مانگنے والا نہیں بلکہ اپنے پیروں پر کھڑا ہوجائے ، کورونا کے باعث ایسے کئی پر اجیکٹس رکے ہوئے ہیں،کئی اداروں نے معاشی صورت حال خراب ہونے کی وجہ سے ملازمین کو نکالا ،حکومت کو ایسے اداروں کی سپورٹ کرنی چاہیے تھی۔ ہم ایسے اداروں میں ملازمین کی مدد کررہے ہیں۔

دنیا: المصطفیٰ میڈیکل سینٹر میں کورونا کی کیا صورت حال ہے ؟

ڈاکٹرا م کلثوم : وباء کے دوران اسپتال میں مریضوں کو علاج میں کافی مشکلات کا سامنا رہا ،مریض اسپتال آتے ہوئے ڈرتے تھے کہیں قرنطینہ سینٹر میں نہ ڈال دیاجائے ،مریضوں کی آسانی کیلئے آن لائن او پی ڈی شرو ع کی۔ المصطفیٰ میڈیکل سینٹر میں 63 ماہر ڈاکٹر ز ہیں جو کورونا صورت حال کے باعث آن لائن مریضوں کا علاج کررہے ہیں،کورونا کے باعث کافی چیزیں رک گئی تھی جس کے باعث مریض علاج اور ٹیسٹ نہ ہونے سے بہت پریشان تھے ،ہمیں ادار ے کی طرف سے کہا گیا تھا کہ ایمرجنسی میں آنے والے کسی مریض کو واپس نہ کیا جائے اور کورونا ٹیسٹ بھی کیا جائے ،جو مریض کورونا ٹیسٹ کی فیس دے سکتے تھے ان سے لی جو نہیں دے سکتے تھے انہیں اسپتال کی طرف سے کیا، مریض پربوجھ نہیں ڈالا، حفاظتی اقدامات کے ساتھ علاج کیا جو بہت مشکل تھالیکن اللہ کے فضل سے کیا ، المصطفیٰ میڈیکل سینٹر میں اس وقت حکومت کے ساتھ مل کر روزانہ 150 کورونا کے ٹیسٹ مفت میں کئے جارہے ہیں۔ جتنا ممکن ہورہا ہے کورونا کے مریضوں کو سہولت دے رہے ہیں ۔

حنا صدیقی : ہمار ی این جی او 20سال سے جیلوں میں قیدیوں کیلئے کام کررہی ہے اس کے علاوہ غریب بچیوں کی شادیاں، پولیس شہداء کے لئے پروگرام کررہے ہیں ،مختلف کمپنیوں کے تعاون سے بچیوں کیلئے جہیز اور کھانے کا ا نتظا م بھی کراتے ہیں ،کورونا صورت حال میں رینجرز کے تعاون سے کئی علاقوں میں راشن تقسیم کیا،جیلوں میں ماسک اور سینی ٹائزربھجوائے ،بڑے اداروں کی مالی مدد ہوجاتی ہے لیکن چھوٹے اور نئے لوگوں کو فنڈز آسانی سے نہیں ملتے ،شیلٹر ہوم کیلئے ذاتی رقم سے پلاٹ تو خرید لیا لیکن بنانے کیلئے کوئی تعاون نہیں کر رہا ، وزیراعلیٰ سندھ نے کورونا صورت میں اعلان کیا کہ بہت فنڈ ملا جس کاراشن تقسیم کیا ، یہ راشن کس کو اور کہاں بانٹا، اسکی وڈیو کہیں بھی نہیں ہے ،ا س میں کوئی شک نہیں کہ کراچی میں فلاحی ادارے بڑھ چڑھ کر کام نہیں کرتے تو بڑی تعداد میں لوگ سڑکوں پر آجاتے اور بھوکے مرتے ،حکومت کو ساری این جی اوز کا شکریہ ادا کرنا چاہیے ۔

دنیا فورم کے دوران حاجی حنیف طیب اور عائشہ سعد نے شکوہ کیا کہ حکومت نے کورونا کی وباء کے دوران ایس او پیز کا کہہ کر راتوں رات یتیم خانے بند کرادیئے جس کی وجہ سے سیکڑوں بچے بچیوں کیلئے مشکلات پیدا ہوگئیں۔حاجی حنیف طیب نے کہا کہ حکومت نے ایک حکم نامے کے ذریعے یتیم بچوں کیلئے قائم ‘‘ المصطفیٰ میرا گھر ’’ بند کرادیا ،اب ان بچوں کو ان کے سرپرستوں تک پہنچانا مسئلہ بن گیا، بہر حال بڑی مشکل سے یہ کام انجام دیا اور اب انہیں ان کے گھروں میں ہی سہولتیں دے رہے ہیں مگر اس سے کافی مسائل ہیں۔ عائشہ سعد نے بتایا کہ یتیم بچے بچیوں کیلئے الخدمت نے آغوش کے نام سے ادارہ قائم کیا ہے جو ملک کے دوردراز علاقوں میں ہے ،حکومت نے اچانک اسے بند کرنے کا نوٹس دیدیا جس کی وجہ سے ان بچیوں کو بحفاظت ان کے سرپرستوں تک پہنچانا مشکل ہوگیا، بعض بچیوں کی ماؤں نے دوسری شادی کرلی ہے جس کی وجہ سے اب وہ اپنی ماں کے پاس بھی نہیں رہ سکتیں،بہر حال انہیں ان کے رشتے داروں کے گھر بھجوایاگیا لیکن یہ صحیح نہیں ہے ،حکومت کو چاہیے تھا کہ وہ بچیوں کیلئے سہولتیں دیتی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

توانائی اور معاشی بہتری کیلئے عوام کو بدلنا ہوگا

شرکاء: پروفیسر ڈاکٹر شاہدہ وزارت ،ماہر معاشیات اورڈین کالج آف اکنامکس اینڈ سوشل ڈیولپمنٹ آئی او بی ایم کراچی۔انجینئر خالد پرویز،چیئرمین انسٹی ٹیوٹ آف الیکٹریکل اینڈ الیکٹرونکس انجینئرز(آئی ای ای ای پی)۔انجینئر آصف صدیقی،سابق چیئرمین آئی ای ای ای پی ۔پروفیسر ڈاکٹر رضا علی خان، چیئرمین اکناکس اینڈ فنانس این ای ڈی ۔ڈاکٹر حنا فاطمہ ،ڈین بزنس ایڈمنسٹریشن محمد علی جناح یونیورسٹی۔سید محمد فرخ ،معاشی تجزیہ کار پاکستان اکنامک فورم۔ احمد ریحان لطفی ،کنٹری منیجر ویسٹنگ ہائوس۔

گھریلو ملازمین پر تشدد معاشرتی المیہ،تربیت کی اشدضرورت

شرکاء: عمران یوسف، معروف ماہر نفسیات اور بانی ٹرانسفارمیشن انٹرنیشنل سوسائٹی ۔ اشتیاق کولاچی، سربراہ شعبہ سوشل سائنس محمد علی جناح یونیورسٹی ۔عالیہ صارم برنی،وائس چیئرپرسن صارم برنی ٹرسٹ ۔ ایڈووکیٹ طلعت یاسمین ،سابق چیئرپرسن ویمن اسلامک لائرز فورم۔انسپکٹر حناطارق ، انچارج ویمن اینڈ چائلڈ پرو ٹیکشن سیل کراچی۔مولانا محمود شاہ ، نائب صدرجمعیت اتحادعلمائے سندھ ۔فیکلٹی ارکان ماجو اورطلبہ و طالبات

درسگاہوں کا احترام لازم،پراپیگنڈا خطرناک ہوسکتا ہے

شرکاء:پروفیسر ڈاکٹر طلعت وزارت ماہر تعلیم آئی بی اے ۔ مظہر عباس،معروف صحافی اور تجزیہ کار۔ ڈاکٹر صائمہ اختر،سربراہ شعبہ پبلک ایڈمنسٹریشن جامعہ کراچی ۔ ڈاکٹرایس ایم قیصر سجاد،سابق جنرل سیکریٹری پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن ۔ پروفیسر ڈاکٹر فرح اقبال شعبہ سائیکالوجی جامعہ کراچی ۔ ڈاکٹر مانا نوارہ مختار ،شعبہ سائیکالوجی جامعہ کراچی ۔ اساتذہ اورطلبہ و طالبات کی کثیر تعداد۔

انتخابی منشور:حقیقت یا سراب۔۔۔۔۔؟

شرکاء: ڈاکٹر اسامہ رضی نائب امیر جماعت اسلامی کراچی محمد ریحان ہاشمی،رکن رابطہ کمیٹی ایم کیوایمسردارعبدالرحیم ، صدرمسلم لیگ فنکشنل سندھ ڈاکٹرحنا خان ،انچارج شعبہ تاریخ جامعہ کراچیڈاکٹر معیز خاناسسٹنٹ پروفیسر شعبہ تاریخ جامعہ کراچیاساتذہ اورطلبہ و طالبات کی کثیر تعداد

بجٹ:انتخابی یا عوامی۔۔حکومت سنجیدگی اختیارکرے

شرکاء: احمد علی صدیقی، ڈائریکٹرسینٹر فار ایکسی لینس اسلامک فنانس آئی بی اے کراچی ۔ڈاکٹر شجاعت مبارک، ڈین کالج آف بزنس مینجمنٹ اور انسٹی ٹیوٹ آف بزنس مینجمنٹ کراچی۔ڈاکٹر حنافاطمہ ، ڈین فیکلٹی آف بزنس ایڈمنسٹریشن محمد علی جناح یونیورسٹی ۔ محمد ادریس ،سابق صدر ایوان صنعت و تجار ت کراچی۔ضیا ء خالد ، سینئرپروگرام منیجر سی ای آئی ایف آئی بی اے کراچی ۔

کراچی مویشی منڈی سے ملکی معیشت کو اچھی امیدیں

شرکاء: یاوررضا چاؤلہ ، ترجمان مویشی منڈی ۔زریں ریاض خواجہ ،رکن کنزیومر پروٹیکشن کونسل سندھ۔کموڈور سید سرفراز علی ،رجسٹرار سرسید یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی اورطلبہ و طالبات کی کثیر تعداد۔