فٹ بال صحت مند اور سستا کھیل،حکومتی توجہ کا منتظر

دنیا فورم

تحریر : میزبان : مصطفیٰ حبیب صدیقی ایڈیٹرفورم رو زنامہ دنیا کراچی رپورٹ:اعجازالحسن۔ عکاسی :عمران علی لے آئوٹ :توقیر عباس


شرکاء: گلفراز احمد خان صدر کالونی اسپورٹس یوتھ کلب۔ضمیر الاسلام،سابق فیفا ریفری۔سید احمد علی واسطی،سابق بین الاقوامی فٹ بال کھلاڑی اور سابق کپتان قومی فٹ بال ٹیم۔ایم اے خالد،سابق کھلاڑی نیشنل بینک پاکستان۔ ریحان علی خان،قومی فٹ بالر۔نسیم اختر،قومی فٹ بالر۔فرقان احمد خان،قومی فٹ بالر۔ پرویز ،کوچ فٹ بال ٹیم ۔زاہد رحیم سماجی کارکن

فٹ بال گلی محلے کا کھیل ہے ،حکومتی عدم توجہ سے فروغ نہیں پارہا،گلفراز خان

حکومت سرکاری ملازمتوں میں کھیل کا کوٹہ بحال اورفٹ بالرز کو سہولتیں دے،ضمیر الاسلام

 فیڈریشن کے اختلافات بھی فٹ بال کی تباہی کا باعث بن رہے ہیں،سید احمد واسطی

کھیل حکومتی ترجیح ہی نہیں رہے،اسی لئے زبوں حالی کا شکار ہیں،ایم اے خالد

میڈیا فٹ بال کی نسبت دیگر کھیلوں پر زیادہ توجہ دیتا ہے،زاہد رحیم

 

 موضوع: ’’ پاکستا ن میں فٹ بال کا فروغ کیسے ؟ـ‘‘ 

 

  آج کل دنیا بھر میں فیفا کی گونج ہے ،وہ ممالک بھی جہاں فٹ بال باقاعدہ کھیلی نہیں جاتی اس عالمی مقابلے کے اثرات سے الگ نہیں رہ سکے،قطر میں ہونے والے مقابلوں میں پاکستان کے فٹ بال بھی استعمال ہورہے ہیں ،پاکستان انڈسٹری کو یقینا اس سے فائدہ ہوا ہے تاہم پاکستان مکمل فوائد حاصل کرنے سے محروم رہا، حکومت کو اس کا جواب دینے کی ضرورت ہے،لیکن دوسری جانب سوال یہ بھی ہے کہ پاکستان کے فٹ بالر ز کیوں اس عالمی جنگ کا حصہ نہیں بن سکے؟اسی سوال کے ساتھ کالونی اسپورٹس یوتھ کلب ملیر میں دنیا فورم کا اہتمام کیا۔فورم میں جہاں سابق کھلاڑیوں اور ریفریوں نے اپنے تجربات سے آگاہ کیا وہیں نوجوان فٹ بالر ز نے ہر مقابلے میں حصہ لے کر پاکستان کا نام روشن کرنے کا عزم ظاہر کیا۔دنیا فورم میں فٹ بالرز نے شکوہ کیا کہ حکومت کسی بھی کھیل پر توجہ نہیں دے رہی،اب صرف سیاست ہورہی ہے۔پاکستان میں فٹ بال اور ہاکی میں بھی بہت ٹیلنٹ ہے،ایک وقت تھا کہ پاکستان ہاکی اور اسکواش کا عالمی چیمپئن تھا مگر مسلسل حکومت عدم دلچسپی اور اقرباء پروری سے دونوں کھیل تباہ ہوگئے،

رہ گئی فٹ بال تو اسے کبھی اتنی اہمیت دی ہی نہیں گئی جبکہ کراچی کے علاقے لیاری اور ملیر میں فیفا کے دوران جوش وجذبہ دیکھنے کے قابل ہے۔ لیاری کے فٹ بالر نے( ریپ )گانا تیار کرلیا،بڑی بڑی اسکرین پر فٹ بال دیکھی جارہی ہے،پورے پورے محلے مختلف ممالک کے پرچموں کیساتھ ٹیموں کی حوصلہ افزائی کررہے ہیں،لیکن اگر نہیں ہے تو پاکستان کا پرچم نہیں ہے۔یہ کیا حکومت کی ناکامی نہیں؟حکومت نے اداروں سے کھیلوں کا کوٹہ بھی ختم کردیا ہے کالج اور جامعات میں داخلے بھی بند کردیئے ہیں تو یہ نوجوان کہاں جائیں جن کے پاس کھیل کا ٹیلنٹ ہے؟کیا ہر نوجوان انجینئر اور ڈاکٹر ہی بنے،ایم بی اے اور آئی ٹی ہی میں آگے بڑھے،کھیل کیلئے اس کی ذہانت کیوں اس کے کام نہیں آرہی؟کسی بھی سیاسی جماعت کے منشور میں بھی کھیل کے لئے کچھ نہیں ملتا۔کرپشن ،اقرباء پروری،فیڈٖریشنز کی لڑائیوں نے بھی فٹ بال اور ہاکی تباہ کر دیئے۔ کاش حکومت سیاسی چپلقلش سے باہر نکلے اور کھیل کے میدانوں کو آباد کرے جو یقینا ہماری معاشی ترقی کا بھی باعث ہیں۔

 (شکریہ:مصطفیٰ حبیب صدیقی، ایڈیٹر فورم دنیا اخبار کراچی)

برائے رابطہ:

 0092-3444473215 ، 0092-3212699629

ای میل:mustafa.habib@dunya.com.pk

 

پاکستان میں فٹ بال بہت کھیلی جاتی ہے ، آج بھی لیاری کے میدانوں میں بڑی بڑی اسکرین لگا کر میچ دیکھے جا رہے ہیں حکومت مدد اور سہولتیں دے تو ہمارے بچے فیفا جاسکتے ہیں،صدر کالونی اسپورٹس یوتھ کلب

 اس وقت بچے اپنی مدد آپ کے تحت کھیلتے ہیں 

بے روزگا ر ہیں او رجو ملازمت کرکے آئیں گے وہ کیا پریکٹس کریںگے،جب تک ان بچوں کا پیٹ نہیں بھرے گا سب کچھ بیکار ہے،سابق فیفا ریفری

 سندھ حکومت اورڈی ایم سی کے پاس کھیل کا بجٹ ہوتاہے لیکن یہ کھیل کے بجائے کہیںاور استعمال کیا جاتاہے جو نوجوانوں کیساتھ ظلم ہے،فلاحی اداروں کی بھی حوصلہ افزائی نہیں کی جاتی،سماجی کارکن

 پہلے ملکی سطح پرٹورنامنٹ ہوتے تھے ،چاروں صوبوں سمیت کئی دیگر علاقوں سے ٹیمیں ٹورنامنٹ میں حصہ لیتی تھیں  میڈیا بھی تشہیر کرتا تھا،ہم گرانٹ نہیں مانگتے حکومت خود خرچ کرے،سابق کھلاڑی نیشنل بینک

پاکستان ریلوے میں ٹیموں کو نصف کرائے کی سہولت تھی وہ بھی حکومت نے ختم کردی ۔مہنگائی کی وجہ سے کھیلوں کے اخراجات بھی برداشت نہیں ہوپا رہے ہیں ،سابق بین الاقوامی فٹ بالر

 دنیا: پاکستانی ٹیم فیفا ورلڈ کپ میں کیوں نہیں پہنچتی ؟

گلفراز احمدخان: ہمارے نوجوان کھلاڑی پاکستان کا مستقبل ہیں ،فیفا ورلڈ کپ چل رہا ہے اسی مناسبت سے موضوع بہت اہم ہے۔کھیلوں کے میدان آباد ہوتے ہیں تو اسپتال ویران ہوتے ہیں۔ پہلے کھیلوں کی سرگرمیاں ہوتی تھیں اس میں ڈیپارٹمنٹس کا اہم کردار ہوتا تھا،جو بچے کلب یا اسٹیڈیم میں کوئی کھیل کھیلتے اوروہ کسی بھی ٹورنامنٹ میں کھیلتے تھے تو انہیں مقامی اداروں میں روزگار کے مواقع ملتے تھے اور کھلاڑیوں کواسپورٹس کوٹے پر کالج اور یونیورسٹیوں میں داخلے بھی ملتے تھے۔ مگر بدقسمتی سے اب ملک میں نوجوانوں کیلئے کھیل کے میدان میں مدد کرنے کیلئے کوئی منصوبہ بندی نہیں ۔

دنیا:پاکستان میں فٹ بال کا مستقبل کیا ہے، فروغ نہ پانے کی کیا وجوہات ہیں؟

گلفراز خان : فٹ بال بین الاقوامی کھیل ہے حکومت کی غیر سنجیدگی کی وجہ سے ملک میں فروغ نہیں پارہا۔ ایک وقت تھا پاکستان ایک ہی سال میں 4 کھیلوں میں عالمی چیمپئن تھا،حکومت کھیلوں کی سرگرمیوں پر توجہ نہیں دے رہی ۔یہ حقیقت ہے اس وقت ملک کی معاشی صورت حال بہتر نہیں لیکن جب بہتر تھی اس وقت بھی انفرا اسٹرکچر اور منصوبہ بندی نہیں کی گئی ۔پہلے ہر گلی محلے میں ہاکی کھیلی جاتی تھی جس سے بچے توانا رہتے اور معیاری کھلاڑی سامنے آتے تھے ، اس وقت پاکستان نے 4 عالمی کپ اور 3 اولمپک جیتے تھے اور بے انتہا ٹائٹلز ہیں،جب سے ہاکی زوال پذیر ہوئی تو یہ صورت حال سامنے آرہی کہ کراچی ساڑھے3 کروڑآبادی کا شہر ہے اس میں دو تین ہزا ر بچے بھی ہاکی نہیں کھیل رہے ۔ جب کراچی کی آبادی 50 لاکھ بھی نہیں تھی تو اس سے زیادہ بچے کھیل رہے ہوتے تھے۔ کالا بورڈ اور کھوکھرا پار تک ہاکی کے 6 کلب تھے جس میں روزانہ پریکٹس ہوتی تھی۔اسی طرح فٹ بال بھی گلی محلوں میں کھیلا جاتا تھا،ملیر کے علاقے میں کالونی اسپورٹس فٹ بال اسٹیڈیم بہت بڑا گراؤنڈ ہے ، حکومتی سطح پر کمشنر کراچی اور سند ھ اسپورٹس بورڈ کے عہدیداروں نے کالونی اسپورٹس فٹ بال کلب کا دورہ کیا تھا اوریقین دہانیاں بھی کرائی لیکن بد قسمتی سے اب تک کچھ نہیں ہوا۔پاکستان میں فٹ بال بہت کھیلی جاتی ہے ،

آج بھی لیاری کے گراؤنڈز میں بڑی بڑی اسکرین لگا کر میچ دیکھے جا رہے ہیں،یہ لوگ فٹ بال سے جنون کی حد تک محبت کرتے ہیں ، حکومت منصوبہ بندی کرے، نوجوانوں کی تربیت اور توانائی سے بھری غذائیں فراہم کرے،مالی مدد اور سہولتیں دے تو ہمارے بچے بھی دنیا کی بڑی سے بڑی ٹیموں سے مقابلہ کرسکتے ہیں۔ حکومت کی کوئی منصوبہ بندی نہیں ہوتی جس کی وجہ سے وقت ضائع کردیتی ہے، ہمارا جن ممالک سے مقابلہ ہے وہاں اسکول اور کالجوں میںٹرف ہوتے ہیں جو بچوں کو کھیل میں مدد اور سہولت فراہم کرتے ہیں۔ان ممالک کے فٹ پاتھوں پرمنی ٹرف ہوتے ہیں ۔ہالینڈ میں ہزاروں کی تعداد میں ٹرف لگے ہوئے ہیں جن پرہاکی کھیلی جاتی ہے۔بدقسمتی سے ہمارے پورے علاقے میں ایک بھی ٹرف نہیں۔حکومت کی ذمہ داری ہے وہ کھیلو ں کے فروغ کیلئے علاقائی سطح پر سہولتیں فراہم کرے۔جب پاکستان گولڈ میڈل جیتا کرتا تھا اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ علاقے میں منتظمین بچوں کی تربیت کرتے تھے اور انہی بچوں سے اچھے کھلاڑی سامنے آئے ۔اداروں میں کرپشن کی وجہ سے فٹ بال،ہاکی اور اسکواش جیسے معروف کھیل تباہ ہوگئے،من پسند افراد کو نوازنے کا سلسلہ روکا جائے ۔

دنیا:سیاستداں بھی کھیل کی سرگرمیوں کو عروج دینے میں کردار ادا کیوں نہیں کررہے ؟

ضمیرالاسلام:کراچی کے ہرضلع میں 100 اسپورٹس کلب ہیں، بچوں کو کھیل کی سہولت اور مواقع نہیںملتے،صرف ملیرمیں 12 میدان ہیںمگرحکومت نے کوئی سہولت نہیں دے رکھی۔ نچلی سطح پر کچھ نہیں ملتا، ہمارے وقتوں میں اسکولوں اور کالجوں میں کھیلوں کی باقاعدہ تربیت ہوتی تھی جہاں سے بچے اچھے کھلاڑی بن کر نکلتے تھے ۔35سال سے کھیل کے شعبے نظرانداز ہیں۔ ہر آنے والی حکومت نے اپنا پیٹ بھرا ہے کھیلوں کی سرگرمیوں کی طرف توجہ نہیںدی،پہلے اداروں میں بھی کھیل کیلئے بجٹ رکھاجاتا تھا اب ایسا نہیں ۔حکومت کھیلوں کی سرپرستی اور مدد نہیں کررہی ۔کھیلوں میں میرٹ کا فقدان ہے،فورم کے توسط سے مطالبہ ہے کہ حکومت کھیلوں کی سرگرمیوںکی حوصلہ افزائی کرے ۔

سرکاری ملازمتوں میں کھیل کا کوٹہ دوبارہ بحال کیاجائے،فٹ بالرز کو سہولتیں اور تربیت فراہم کریں تو فیفا سمیت تمام بین الاقوامی مقابلوں میں پاکستان کا نام روشن کرسکتے ہیں۔اداروں میں کھیل کے گراؤنڈز اور سرگرمیوں کے لئے بجٹ رکھا جاتاہے لیکن ہمارے اداروں میں ایسا کچھ نہیں،ڈسٹرکٹ ملیر میں تھوڑا بہت کام ہورہا ہے ، ڈسٹرکٹ کورنگی ، وسطی اورغربی میں کام نہ ہونے کے برابر ہے۔ اداروں کے عہدیداروں کو چاہیے وہ ہرکلب کا دورہ کریں اور بجٹ کو ترجیح بنیادوں پراستعمال کریں ۔ اس وقت بچے اپنی مدد آپ کے تحت کھیلتے ہیں ،بے روزگا ر ہیں او رجو ملازمت کرکے آئیں گے وہ کیا پریکٹس کریںگے،جب تک ان بچوں کا پیٹ نہیں بھرے گا سب کچھ بیکار ہے۔پہلے گھر کاایک کماتا اور 10 کھاتے تھے اب 10 کما رہے ہیں پھر بھی پورا نہیں ہورہا ہے،حکومت کی کسی بھی کھیل پر سرپرستی نہیں ہے جس کی وجہ سے کھیل تباہ ہورہے ہیں۔

دنیاـ: کراچی میں فٹ بال کا بہت جذبہ ہے ،بینکس اور دیگر ادارے کردار ادا کیوں نہیں کررہے ؟

 ایم اے خالد: پہلے بینکوں اور دیگر اداروں میں کھلاڑیوںکو کنٹریکٹ اور ریگولر کی بنیاد پر روزگار کے مواقع ملتے تھے جس سے بچوں کی مالی مدد ہوجاتی تھی اور کارکردگی بھی بہتر رہتی تھی ،اب ایسا نہیں ۔اداروں نے مقامی سطح پر کھیل کی سرگرمیاں اور ملازمت بند کردیں جس کا نقصان یہ ہورہا ہے جو کھلاڑی میدان سے تیار ہورہے تھے وہ رک گئے اورآگے نہیں بڑھ پائے ۔حکومت کھیل کو فروغ دینے کیلئے نظام بنائے اور کھیل کیلئے مخصوص گرانٹ دے، المیہ ہے جمہوری نظام میں اسپورٹس کا شعبہ ہی نہیں جبکہ بجٹ میں فنڈز بھی رکھے جاتے ہیں۔فنڈز یقیناً ہوں گے لیکن استعمال نہیں ہورہے، حکومت کی ترجیحات کھیل نہیں کچھ اور چیزیں ہیں جس کی وجہ سے پاکستان میں کھیل زبوں حالی کا شکار ہے۔ملیر ڈسٹریکٹ کونسل نے 40 سال میں کبھی بھی اسپورٹس پر فنڈز نہیں لگایا۔ سارے اخراجات کلب کے عہدیداراو ر بچے خود اٹھاتے ہیں، مہنگائی میں بچے کھیلیں یا گھر والوںکا پیٹ پا لیں۔ جب تک نظام نہیں بنے گا چیزیں بہتر نہیں ہوں گی۔

گلفراز خان کی کوششوں سے نیشنل بینک کے تعاون سے کالونی فٹ بال اسپورٹس اسٹیڈیم میں آل پاکستان فٹ بال ٹورنامنٹ ہوتے تھے ، گراؤنڈز سے اچھے کھلاڑی بنے ، 18 ٹورنامنٹ ہوئے ، 2015 میں آخر ی ٹورنامنٹ ہواتھا ،ٹورنامنٹ ملکی سطح پر ہوتا تھا، بلوچستان سے 6 ٹیمیں ،کے پی کے سے 5 ،پنجاب سے 6 اور بھی کئی علاقوں سے ٹیمیں ٹورنامنٹ میں حصہ لیتی تھیں،ٹورنامنٹ میں 64 سے زائد ٹیمیں حصہ لیتی تھیں ۔میڈیا بھی تشہیر کرتا تھا،اب یہ سلسلہ بھی ختم ہوگیا ہے،ہم گرانٹ نہیں مانگتے حکومت اور ادارے گراؤنڈ آئیں اور خود خرچ کریں۔

سید احمد علی واسطی : میر ٹ نہ ہونے سے کھیل خاص طورپر فٹ بال تباہ ہو رہی ہے۔ یہاں کوچنگ کا باقاعدہ انتظام نہیں اور نہ ہی حکومتی سطح پر اقدامات کئے جارہے ہیں ۔ پہلے ضلعی سطح پرفٹ بال مقابلے ہوتے تھے جس سے بہت سہولتیں ملتی تھیں ،تعلیمی اداروںمیں داخلے بھی آسانی سے ہوجاتے تھے،پاکستان ریلوے میں ٹیمیں جاتی تھیں تو ان کو آدھے کرائے کی سہولت تھی وہ بھی حکومت نے ختم کردی ۔مہنگائی کی وجہ سے کھیلوں کے اخراجات بھی برداشت نہیں ہوپا رہے ہیں ،مخیر حضرات بھی پریشان ہیں کہ کیسے ان چیزوں کو بہتر کریں،جب سے حکومت نے کھیلوں سے ہاتھ اٹھایا ہے ہمارے کھیل زوال پزیر ہیں۔سیاستداں بھی آگے آئیں اور کردار ادا کریں تو بہتری آسکتی ہے۔جب تک ملک میں ہیلتھ اسٹرکچر مضبوط نہیں ہوگا اچھے اور صحت مند کھلاڑی سامنے نہیں آئیں گے۔

سید احمد علی واسطی:فٹ بال کی ٹیمیں آج بھی دیگر ممالک میں کامیابی حاصل کرتی ہیں پاکستان میں سنجیدگی سے نہیں لیاجاتا۔حکومت باقاعدہ کوچنگ اورسہولتیں فراہم کرے تو فٹ بال بہت جلد فروغ پا سکتاہے۔عام طور پر فٹ بال غریب طبقے کے لوگ زیادہ کھیلتے ہیں،پہلے یہ بچے اوپر آتے تھے لیکن اب سہولتیں نہ ہونے سے یہ بچے آگے نہیں جارہے۔ کھلاڑیوں میں آج بھی وہ جذبہ ہے کہ خون بہہ رہا ہوتا ہے،آنکھ پر پٹی ہوتی ہے ،پھر بھی کہتا ہے کھیلوں گا، کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی اور مدد نہیں کی جاتی۔ کوچ او ر کھلاڑیوں کو اچھی غذائیں بھی نہیں ملتیں جس کی وجہ سے وہ کارکردگی نہیں دکھاپاتے جو دکھانی چاہیے ،بحیثیت کوچ گراؤنڈ میں کوچنگ کرا رہا ہوتا ہوں سوچتا ہوں ان بچوں کی کارکردگی اوپر جائے گی یا نیچے آئے گی،کیونکہ ہمارے یہاں فٹ بال پارٹ ٹائم ،

بغیر سہولتیں اور اچھی غذائیں نہ ہونے پر کھیلی جاتی ہے،ہمیں اندازہ نہیں ہوتا یہ بچہ گھر جانے کے بعد خود کو فٹ رکھ پائے گا یا نہیں یہ مسائل ہیں جن کی وجہ سے ہمارے بچے کھیلوں میں آگے نہیں جا پاتے ،کوچ کھلاڑیوں کو اچھی غذائیں نہیں دے سکتا تو ٹریننگ کیسے کرائے گا،کھیل کے دوران ایک پاس سکھانے کیلئے اگر دوہزار گھنٹے چاہئیں اور ایک میچ میں پانچ ہزار کیلوریز خرچ ہورہی ہے ، جب ہماری غذائیں توانائی سے بھرپور نہیںہوں گی توکھلاڑی اچھی کارکردگی کیسے دکھائے گا،مسائل کی ایک وجہ ہماری فیڈریشن کے آپس کے اختلافات بھی ہیں جس کی وجہ سے کھیلوں میں خرابیاں پیدا ہورہی ہیں،2015 سے اب تک ہماری ٹیمیں نیچے کی طرف جارہی ہیں،کھیلوں میں کمیٹیاں بنائی دی جاتی ہیں جو پیسے کما کر چلی جاتی ہیں جو کام کرنے ہوتے ہیں وہ نہیں کرتی ،ہمیں کھیلوں کی بہتری کیلئے سسٹم کو تبدیل کرنا ہوگا۔

دنیا: فلاحی ادارے کھیلوں کو پروان چڑھانے میں کیا کردار ادا کرسکتے ہیں؟

زاہد رحیم : بدقسمتی سے جو بھی بر سراقتدار آتاہے اس کی کھیلوں سے عدم دلچسپی کی و جہ سے کھیلوں خاص طورپر فٹ بال میں و ہ کام نہیں ہورہا جو ہوناچاہیے۔ میڈیا بھی فٹ بال کی نسبت دیگر کھیلوں پر زیادہ توجہ دیتا ہے،جس سے بچہ جو دیکھ رہا ہوتا ہے اور نظر آرہا ہوتا ہے اسی کو ترجیح دیتا ہے،اور وہ سمجھتا ہے جو میڈیا میں دکھایا جارہا ہے وہی اچھا کھیل اور پیسے کمانے کابہترین ذریعہ ہے باقی کھیل بے کار ہیں ۔میڈیا ان رحجانات کو تبدیل کرنے میں کردار ادا کرسکتاہے۔ فٹ بال یا ہاکی کا کھلاڑی کتنا ہی اچھا کھیل رہاہو یا کارکردگی دکھا رہا ہولیکن اس کی وہ حوصلہ افزائی نہیں ہوتی جو دوسروں کوملتی ہے،جو فلاحی ادارے فٹ بال یا دیگر کھیلوں کو فروغ دیتے ہیں ان کی بھی حوصلہ افزائی نہیں کی جاتی ۔سندھ حکومت ،ڈی ایم سی کے پاس کھیل کا بجٹ ہوتاہے لیکن یہ کھیل کی بجائے کہیں اور استعمال کیا جاتاہے جو ہمارے نوجوانوں کیساتھ ظلم ہے۔

دنیا: کوچز اور بچوں کو کن مسائل کا سامنا ہوتا ہے؟

پرویز:حکومت کی سرپرستی نہ ہونے سے قبضہ مافیا ملیر اور کراچی کے کھیل کے گراؤنڈز پر قبضہ کررہی ہے۔کچھ لوگوںاور اداروںکی کوششوں سے کراچی کے میدان محفوظ ہیں ورنہ قبضہ مافیا ان کو بھی نہیں چھوڑ ے۔بعض نوجوان نوکری سے تھکے ہار ے آکر فٹ بال کھیلتے ہیں اور کبھی کبھار نوکری تک میں مسائل ہوتے ہیں اور ملازمت جانے کا خطر ہ ہوتا ہے۔ان مسائل میں کھلاڑی اچھی کارکردگی کیسے دکھاسکتے ہیں، رات کی ڈیوٹی کرکے آیا ہوں اور آج 3 بچے میچ ہے ، آرام کروں یا میچ کی تیار ی کروں ؟ڈیوٹی رات میں ہوتی ہے اور زیادہ ترمیچز دن میں ہوتے ہیں ،بھاگ دوڑ میں میچ کھیل رہے ہوتے ہیں ، ہم لوگ پرائیویٹ نوکریاںداؤ پر لگا کر میچ کھیلتے ہیں ، یہ مسائل عام طورپر کھلاڑیوں کے ساتھ ہوتے ہیں، انہی مسائل کی وجہ سے کئی لڑکوں نے فٹ بال چھوڑ دی ہے،لڑکے کہتے ہیں کھیل میں لگ جائیںگے تو گھر کون چلائے گا۔کوچز نے کئی بچے تیار کئے لیکن وہ مسائل اور سہولتیں نہ ہونے سے فٹ بال چھوڑکر چلے گئے۔ حکومت ا ور ادارے روزگار کے مواقع فراہم کریں توکھلاڑی اچھی کارکردگی دکھا سکتے ہیں ۔

ر یحان علی خان : مالی مد د نہ ہونے سے کھلاڑیوں کیلئے کھیل جاری رکھنا مشکل ہورہاہے، پہلے گھر والے سپورٹ کرتے تھے آج مہنگائی کی وجہ سے گھر والے بھی کچھ نہیںکرپاتے کہتے ہیں کیا کروگے کھیل کر جاؤ کچھ کما کرلاؤ۔بچوںکے پاس فٹ بال کٹ اور سہولتیں بھی نہیں،ہمارے پاس ٹیلنٹ کی کمی نہیں حکومت فنڈزا ورسہولتیں دے تو ہمارے بچے بھی آگے جاسکتے ہیں۔لیاری میں بچہ بچہ فٹ با ل کا شوقین ہے،حکومت اگر میرٹ پر بھی بچوں کو منتخب کرے تو ملکی او ر بین الاقوامی سطح پر فٹ بال میں پاکستان کا نام روشن ہوسکتاہے۔ فیفا ورلڈ کپ چل رہا ہے ،پاکستان کے کوالیفائی نہ کرنے کی وجہ بھی میرٹ پر کوچنگ اور بچوںکو آگے نہیں لایا جانا ہے۔

دنیاـ: پی آئی اے کھیل کو کیا سپورٹ کرتی تھی؟

 نسیم اختر: اسی کالونی فٹ بال اسپورٹس گراؤنڈ سے نکلاہوں،نیشنل بینک میں کھیلا ،پہلے گراؤنڈ ز میں سینئرز کی بھرمار ہوتی تھی جن سے سیکھ کر بینک اورپی آئی اے میں فٹ بال کھیلی او ر بہت کچھ سیکھا،اس وقت پی آئی اے میں سب سے بڑ ا کھیل کا شعبہ تھا اور کھیل بھی عروج پر تھے، جب میں کھیلتا تھا پی آئی اے میں اچھی تنخواہ ،خوراک سمیت کئی سہولتیں تھیں ، پی آئی اے میں 3 چیمپئن شپ بھی کھیلی۔ ادارے میں پورے پاکستان سے ٹیمیں آتی تھی اور کیمپ لگا کرتے تھے ،اب اداروں میں اسپورٹس کے شعبے ختم ہوگئے،2010کے بعد اداروں میں کھیل کا شعبہ ختم ہوگیا۔

فرقان احمد خان : مہنگائی کی وجہ سے کھیلوں کو جاری رکھنا بہت مشکل ہوگیا ہے،کچھ لوگ اپنی مدد آپ کے تحت کھیلوں کی سرگرمیوں کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔میدانوں کوشادی بیاہ اور تقاریب کے بجائے کھیل کیلئے استعمال کیاجائے۔

 

 دنیا فو رم میں نوجوان فٹ بالرزکی گفتگو

دنیا فورم کے دوران میدان میں کھیلنے والے کھلاڑیوں نے بھی گفتگو کی ۔گریجویشن کرنے والے طالب علم انس نے کہاکہ جسم کو توانااورمضبوط بنانے کیلئے فٹ با ل کھیل رہاہوں،یونیورسٹی سے آنے کے بعد میدان میں تربیت حاصل کرتاہوں،ٹورنامنٹ ہوتے رہتے ہیںجس کیلئے محنت کرنی پڑتی ہے ۔ وقت نہیں دیںاور باقاعدہ نہیں کھیلیں گے تو میچ میں کیسے کھیلیں گے ۔کبھی یونیورسٹی سے آتے ہوئے بھی شام ہوجاتی ہے بہت مشکل سے معاملات ترتیب دیتے ہیں۔ میدان میں وہ سہولتیں نہیںجو ہونی چا ہئیں اس لیے آگے کچھ نظر نہیں آرہا ،والدین کی خواہش ہوتی ہے بچہ وہ کھیل کھیلے جو مستقبل میں کام آئے،کسی یونیورسٹی میںاسپورٹس کوٹا نہیں،باہر کی یونیورسٹیوں میں اسپورٹس کوٹے پر بچوں کو اعلیٰ تعلیم مل جاتی ہے لیکن یہاں ایسا کچھ نہیں ، بچوں کو ناامید کیاجاتاہے، بچے گراؤنڈ میں بہت محنت کرتے ہیں لیکن انہیں وہ پھل نہیں ملتے جو ان کا حق ہے،پرائیویٹ ملازمت کرنے والے مرزا علی نے کہا کہ شادی شدہ ہوں،بچے ہیں ملازمت کے بعد گھر کے کام دیکھتا ہوں اس کے بعد گراؤنڈ آتاہوں گھر والوں کی سنتا ہوں شوق کی وجہ سے کھیلتا ہوں،بچو ںسے کہتاہوں مستقبل نہ ہو لیکن شوق کی وجہ سے کھیلتے رہو کم از کم دیگر بے کار کامو ںسے تو بچے رہو گے اور صحت بھی برقرار رہے گی۔ اپنی جیب سے جوتے اور کھیل کی کٹ خریدتے ہیں۔گریجویشن مکمل کرنے کے بعد پرائیویٹ نوکری کرنے والے احسن عباس نے کہاکہ ساری فٹ بال اسی میدان سے سیکھی ہے ،

کوچ اور عہدیدار بہت تعاون او ر خوشی سے کوچنگ کراتے ہیں ان ہی کی بدولت فٹ بال سیکھ رہے ہیں ۔فٹ بال کے ساتھ ملازمت کو ساتھ لے کر چلنا بہت بڑ اچیلنج ہے ،جس طرح باہر کے کلب اور اکیڈمیاں بچوں کو کھیل کے ساتھ ملازمت دلاتی ہیں اور معیار ی کوچنگ بھی کرتی ہیں اگریہاں بھی ایسا ہوجائے تو ہم بھی فٹ بال میں بہت آگے جاسکتے ہیں اور فیفا ورلڈکپ میں کھیل سکتے ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement

معاشی بہتری کیلئے بڑے فیصلے کئے جائیں،ماہرین کا مشورہ

شرکاء:مسعود نقی ، سابق چیئرمین کاٹی ۔دانش خان، سابق چیئرمین پاکستان لیدر گارمنٹس مینوفیکچر زاینڈ ایکسپورٹ ایسوسی ایشن۔ماہین سلمان، سابق سینئر نائب صدر کاٹی ۔ستائش عاصم ، جوائنٹ ڈائریکٹر پلیسمنٹ اینڈ انڈسٹریل لنکیج آئی سی ایم اے ، پاکستان ۔علی ارش خان ،جنرل سیکریٹری پاکستان بزنس گروپ ۔ سمیر یعقوب عباسی ،سی ای اودی ریسورسز ایکسپرٹ اور چیئرمین ایچ آر کمیٹی پاکستان بزنس گروپ ۔ طلبہ وطالبات کی بڑی تعداد شریک تھی ۔

توانائی کامسئلہ حل ہوسکتاہے،دنیافورم میں ماہرین کی تجاویز

شرکاء: پاکستانی سفیر آفتاب کھوکھر آسٹریا سے بذریعہ وڈیولنک ۔یوسف صدیقی،سی ای او اینگروانرجی ۔عاصم مرتضیٰ خان، سابق سی ای او پاکستان پٹرولیم لمیٹڈ اور پی آئی پی ۔سید سعودالظفر،منیجر ریزروائرانجینئرنگ یونائیٹڈ انرجی ۔ڈاکٹرجاویدحنیف ،چیئرمین شعبہ پٹرولیم انجینئرنگ اور شریک چیئرمین شعبہ الیکٹریکل این ای ڈی ۔ڈاکٹر محسن امان ، ڈائریکٹر سینٹر فار ایڈوانسڈ اسٹڈیز ان رینیویل انرجی اور شریک چیئرمین شعبہ الیکٹریکل انرجی این ای ڈی ۔

ڈرامے معاشرے کے عکاس یا بگاڑ کا باعث…فیصلہ کون کرے گا؟

شرکاء:انجینئر ایاز خان معروف مزاحیہ فنکاروڈرامہ رائٹر۔ پروفیسرڈاکٹر فرحانہ سرفرازانچارج شعبہ سوشل ورک جامعہ کراچی ۔ڈاکٹر سکینہ ریاض ،اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ سوشل ورک جامعہ کراچی ۔محمد نعمان شیخ ،اسسٹنٹ سوشل ورک جامعہ کراچی ۔

ٹریفک حادثات:نوجوان ہی نہیں بڑے بھی متاثر،حل قانون کی عملداری

شرکاء: احمد نواز ،ڈی آئی جی ٹریفک کراچی۔پروفیسر ڈاکٹر ولی الدین وائس چانسلر سرسید یونیورسٹی ۔ڈاکٹر سیمی جمالی سابق ایگزیکٹو ڈائریکٹر جناح اسپتال ۔پروفیسر ڈاکٹر میرشبرعلی ڈین سول انجینئرنگ سرسید یونیورسٹی ۔پروفیسر ڈاکٹر عدنان قادر ،چیئرمین شعبہ اربن اینڈ انفرااسٹرکچر این ای ڈی یونیورسٹی۔ڈاکٹر افضل احمد ،شریک چیئرمین اینڈ ایسوسی ایٹ پروفیسر شعبہ اربن اینڈ انفرااسٹرکچر این ای ڈی۔ سراج خلجی مشیر برائے چانسلر سرسید یونیورسٹی ۔

دماغ ٹھنڈا رکھیں،جسم توانا رہے گا…ماہرین کا مشورہ

شرکاء:سینیٹر ڈاکٹر کریم احمد خواجہ چیئرمین سندھ مینٹل ہیلتھ اتھارٹی۔ ڈاکٹر حیدر علی نقوی،چیئرمین شعبہ نفسیات ڈائو یونیورسٹی اسپتال ۔ڈاکٹر قلب حیدر، ماہر نفسیات سرکائوس جی اسپتال حیدرآباد گدوبندر۔ڈاکٹر عظمیٰ علی ،ڈائریکٹر انسٹیٹیوٹ آف کلینکل سائیکالوجی جامعہ کراچی۔ مریم حنیف غازی،چیئرپرسن شعبہ نفسیات محمد علی جناح یونیورسٹی۔بینش ضیاء،منیجر چارٹر فارکمپیشن پاکستان ،روح برو۔ڈاکٹر ثنا ء سعدیہ،ایسوسی ایٹ پروفیسر کلینکل سائیکالوجسٹ سی بی ایم۔ ڈاکٹر محمد ادریس ،ماہر نفسیات سول اسپتال۔

پاکستان :خلائی ٹیکنالوجی میں بھی کامیاب،تحقیق جاری

شرکاء:(بذریعہ وڈیولنک) ڈاکٹر نجم عباس نقوی ،چیئرمین سینٹرل پراجیکٹ ڈائریکٹر نیشنل سینٹر فار جی آئی ایس اینڈ اسپیس ایپلی کیشن اسلام آباد ڈاکٹر محمد شفیق، ایسوسی ایٹ پروفیسر نیشنل سینٹر آف ایکسی لینس ان جیالوجی پشاور یونیورسٹی ڈاکٹربختیار خان کاسی ،ڈین فیکلٹی آف انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجی بلوچستان یونیورسٹی آف آئی ٹی انجینئرنگ اینڈ مینجمنٹ سائنسز کوئٹہ ڈاکٹر عدنان ،ایسوسی ایٹ پروفیسر شعبہ ایری گیشن اورڈرینج زرعی یونیورسٹی فیصل آباد ڈاکٹرسمیع اللہ ، نیشنل سینٹر آف جی آئی ایس اینڈ اسپیش ایپلی کیشن اسلام آباد دنیا فورم کراچی سے پروفیسر ڈاکٹر سروش حشمت لودھی ،وائس چانسلر این ای ڈی