توانائی کامسئلہ حل ہوسکتاہے،دنیافورم میں ماہرین کی تجاویز

دنیا فورم

تحریر : میزبان : مصطفیٰ حبیب صدیقی ایڈیٹرفورم رو زنامہ دنیا کراچی رپورٹ:اعجازالحسن۔ عکاسی :عمران علی لے آئوٹ :توقیر عباس


شرکاء: پاکستانی سفیر آفتاب کھوکھر آسٹریا سے بذریعہ وڈیولنک ۔یوسف صدیقی،سی ای او اینگروانرجی ۔عاصم مرتضیٰ خان، سابق سی ای او پاکستان پٹرولیم لمیٹڈ اور پی آئی پی ۔سید سعودالظفر،منیجر ریزروائرانجینئرنگ یونائیٹڈ انرجی ۔ڈاکٹرجاویدحنیف ،چیئرمین شعبہ پٹرولیم انجینئرنگ اور شریک چیئرمین شعبہ الیکٹریکل این ای ڈی ۔ڈاکٹر محسن امان ، ڈائریکٹر سینٹر فار ایڈوانسڈ اسٹڈیز ان رینیویل انرجی اور شریک چیئرمین شعبہ الیکٹریکل انرجی این ای ڈی ۔

 ریکوڈ ک پر مثبت پیش رفت ہوئی ، بلوچستان میں بہت مواقع پیدا ہوںگے،سفیر پاکستان ،حکومت مضبوط پالیسی اور تحفظ دے ،پرائیویٹ سکیٹر ملکرکام کریں،سی ای او اینگرو انرجی

دنیا بھرکی طرح مائیکرو گرڈ اسٹیشن پرکام کرکے توانائی بحران سے نکلاجائے،سابق سی ای او پی پی ایل،ہائیڈرو پاور اور کوئلے سے بجلی سستی ملتی ہے ،منیجر ریزر وائر انجینئرنگ یونائیٹڈ انرجی

تعلیمی ادارے اور انڈسٹری مل گئے تو پاکستان بھی آگے جاسکتا ہے،چیئرمین شعبہ پٹرولیم انجینئرنگ این ای ڈی،آئی پی پیز سے معاہدے بحران کی وجہ ، ڈائریکٹر رینیویل انرجی

 

موضوع: ’’پاکستان میں توانائی کا بحران،مستقبل کیسے محفوظ ہوگا؟‘‘

 

 

پاکستان میں توانائی کا بحران سنگین ہوتا جارہا ہے،گیس کے ذخائر مسلسل کم ہورہے ہیں،معاشی صورتحال دگرگوں ہیں ،تیل خریدنے کے پیسے نہیں پھر کیا کریں کہ قوم کو اس بدترین اندھیروں سے نکالاجاسکے؟میں یہ سوال لے کر دنیا فورم کیلئے این ای ڈی پہنچ گیا،ہمیشہ کی طرح وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹرسروش حشمت لودھی نے بھرپور تعاون اور شفقت کا مظاہرہ کیا اور شعبہ پٹرولیم کے آڈیو کانفرسنگ ہال میں دنیا فورم کا انعقاد کرایا۔کیونکہ آسٹریا اور ڈنمارک نے متبادل توانائی پر بہت کام کیا ہے اس لئے میں نے آسٹریا میں پاکستانی سفیر آفتاب کھوکھر صاحب سے رابطہ کیا اور درخواست کی کہ وہ دنیا فورم کیلئے بذریعہ وڈیو لنک کچھ وقت نکالیں۔سفیر پاکستان نے ہمیشہ پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کیلئے کسی بھی تعمیری کام میں بھرپور تعاون کیا ہے یہی وجہ ہے کہ باوجود اس کے کہ آفتاب کھوکھر صاحب اقوام متحدہ کے اجلاس میں شریک تھے کچھ دیر کیلئے باہر آکر بذریعہ ویڈیو لنک دنیا فورم میں شریک ہوئے۔

ڈاکٹر جاوید حنیف اور ڈاکٹر محسن امان کے تعاون سے ہونے والے دنیا فورم میں سفیر پاکستان نے برملا کہا کہ آسٹریا میں انڈسٹری اور اکیڈمیوں کے درمیان تعاون اور ربط کی وجہ سے تحقیق کے میدان میں بہت کام ہورہا ہے یہی وجہ ہے کہ یہاں مسائل کم ہیں پاکستان کو بھی اپنی توانائی ضرورت پوری کرنے کیلئے اکیڈمیوں اور انڈسٹری میں ربط کو مضبوط کرنا ہوگا،تحقیق کے میدان میں کام کرکے بہت سے مسائل سے نکلا جاسکتا ہے جبکہ بیرون ملک موجود پاکستانی سفیر ملک وقوم کیلئے ہر ممکن مدد کیلئے تیار ہیں،دیگر ماہرین نے تجاویز دیں کہ پاکستان آئی پی پیز سے کئے گئے معاہدے پر نظر ثانی کرے،سولر کمپنیوں کو سہولتیں دی جائیں،ونڈ پاور اور کوئلے پر انصار بڑھایاجائے،تھرکول میں موجود ذخائر پر کام کیاجائے،بجلی کی بچت کیلئے مارکیٹیں اور ریسٹورنٹس جلد بند کئے جائیں،حکومت مضبوط پالیسی اور تحفظ دے اور پرائیویٹ سیکٹر کو کام کرنے دے۔امید ہے کہ اس دنیا فورم سے بھی ملک وقوم کو فائدہ ہوگا ۔ہمیشہ کی طرح آپ کی رائے کا انتظار رہے گا ۔شکریہ

مصطفیٰ حبیب صدیقی (ایڈیٹر فورم ،روزنامہ دنیا کراچی)

برائے رابطہ:     0092-3212699629 

0092-3444473215

دنیا فورم کا شکریہ اداکروں گا جو سفارت خانے کو یونیورسٹی سے جوڑنے اور طلباء کو اعلیٰ تعلیم کے مواقع فراہم کرنے میں اہم کردار اد ا کررہا ہے۔پاکستانی طلباء کی ہرممکن مدد کیلئے تیار ہیں،آفتاب کھوکھر

سندھ کے ضلع تھرمیں 175بلین ٹن کوئلے کے بڑے ذخائر ہیں،ہم استعمال نہیں کرپارہے کیونکہ اسکے لئے بڑی رقم درکار ہوگی ، لیکن اس میں انرجی بحران کا حل موجود ہے،یوسف صدیقی

 پاکستان کی موجود ہ صورت حال میں آئل اینڈ گیس کو مختصر مدت کیلئے استعما ل کیا جاسکتاہے،نیوکلیئر پاور سے بجلی بہت مہنگی پڑتی ہے،ہمیں سستے اور آسان طریقے استعمال کرنے ہوں گے،سید سعود الظفر

 نیشنل گرڈ اسٹیشن اور ڈسٹری  بیوشن نظام میں بہت مسائل ہیں وہ اضافی بجلی برداشت نہیں کرسکتے ۔سولر اور ونڈپاور سے بجلی حاصل کرنے کے ساتھ ہمیں گرڈ اسٹیشن کو بھی جدید کرنا ہوگا،عاصم مرتضیٰ خان

 این ای ڈی یونیورسٹی انڈسٹری کے ساتھ مل کر کام کررہی ہے،پیٹرولیم کے میدان میں ہم نے پی پی ایل کیلئے ریسرچ کر کے دیں ۔ اس کام کو مزید بڑھانے کی ضرورت ہے،ڈاکٹر جاوید حنیف

 اینگرو نے 1380 میگاواٹ کا پلانٹ لگایا ہے  سرمایہ دارآگے بڑھیں اور یونیورسٹی کے ساتھ مل کر اسی منصوبے کو کاپی پیسٹ کرتے ہوئے  دوبارہ بنا لیں تو ایسے کئی پلانٹ بن سکتے ہیں،ڈاکٹر محسن امان

 دنیا: پاکستان میں بجلی بحران حل کرنے میں آسٹریا کیا کردار ادا کرسکتاہے؟

 آفتاب کھوکھرپاکستانی سفیر برائے آسٹریا :دنیا فورم کا شکریہ اداکروں گا جو سفارت خانے کو یونیورسٹی سے جوڑنے اور طلباء کو اعلیٰ تعلیم کے مواقع فراہم کرنے میں اہم کردار اد ا کررہا ہے۔پاکستان میں انرجی بحران کو حل کرنے پر کام ہورہاہے،سولر اور ونڈپاور سیکٹرمیں کام کی بہت گنجائش ہے لیکن اس میں سرمایہ بہت زیادہ لگتاہے،پاکستان کو پہلے اپنے وسائل اور ترجیحات پر غورکرنا ہوگا،آسٹریا میں یونیورسٹیاں ا ور انڈسٹریاں مل کر اہم کردار اداکرتی ہیں ہمیں بھی اس طرف جانا ہوگا۔پاکستان میں یونیورسٹیوں اور انڈسٹریوں کے درمیان بہت فاصلے ہیں۔ ہماری یونیورسٹیاں انڈسٹری کی ضرورت فراہم نہیں کررہیں۔

دنیا:انرجی سیکٹرمیں آسٹریا اور یورپ میں کیاکام ہورہا ہے؟

آفتاب کھوکھر:آسٹریا کی ایک یونیورسٹی میں آٹو انجینئرنگ کو بہت ترجیح دی جاتی ہے کیوںکہ اس خطے میں آٹو انڈسٹریز قائم ہیں۔مرسڈیز کے اہم پارٹس بھی آسٹریا میں بنتے ہیں ،یہاں ہنرمند کارکنوں کی کمی ہے ہمیں اس سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔پاکستانی یونیوسٹیوں میں تحقیقی کام کی بہت گنجائش ہے، طلباء کی حوصلہ افزائی کی جائے اور ضرورت کے مطابق کم خرچ والی ایجادات اور ٹیکنالوجی استعمال کی جائے ۔ باہر سے ٹیکنالوجی بہت مہنگی ہوتی ہے۔ یونیورسٹیاں طلباء کی حوصلہ افزائی کریں تو آسٹریا سے فائدہ اٹھاسکتی ہیں ۔ پاکستانی سفارت خانہ دنیا فورم اور یونیو یونیورسٹی سمیت ہر جگہ اپنے طلباء اور ملک کی خدمت کیلئے تیار ہے۔ پاکستانی یونیورسٹیاں آسٹریا کی یونیورسٹیوں کے ساتھ کام کرنا چا ہیں تو تعاون کیلئے تیار ہیں ۔یورپی یونین بھی اپنے پلیٹ فارم سے طلباء کو اعلیٰ تعلیم کے مواقع فراہم کرتی ہیں۔نیوکلیئر ٹیکنالوجی میں اعلیٰ تعلیم کیلئے جو پاکستانی طلباء باہر کی یونیورسٹیوں میں پڑھنا چاہتے ہیں ،تھیسز لکھتے ہیں یا اسکالر شپ چاہتے ہیں تویورپی یونین کاا یک پلیٹ فارم ہے اس سے بھی فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔

دنیا: بجلی کی پیداوار ہورہی ہے پھربھی انرجی بحران کا سامنا ہے کیا وجہ ہے؟

 یوسف صدیقی : پاکستان گیس پیداکرنے والا ملک ہے ۔ہرجگہ پائپ لائن بچھی ہیں ،گھروں میںگیس آتی ہے، زیادہ ترانڈسٹریز بھی گیس پر ہیں۔ہالینڈمیں گیس کی بہت بڑی دریافت ہوئی تھی وہاں گیس بہت ہے لیکن اس کو نکالنے پر انہیں زلزلے کے خدشات پیداہورہے تھے جس کی وجہ سے انہوں نے گیس نکالنا بند کردی ۔ اب دیگر ذرائع استعمال کررہے ہیں۔ ان چیزوں کو بہتر کر نے میں وقت لگے گا لیکن کرنا ہوگا۔ ہمیں بھی گیس سے بجلی کی طرف جانا ہوگا۔ وقت لگے گا لیکن عمل کرنے کیلئے منصوبہ بندی کرنی ہوگی۔پاکستان کو ہمیشہ گیس اور پیٹرول کی ضرورت رہی ہے اگر ہم اسی پر انحصار کرتے رہے تو اس کیلئے بڑی رقم درکا ر ہوگی جس کیلئے مضبوط معیشت ہونا ضروری ہے۔ دنیا میں ٹرانسپورٹ سیکٹر میں گاڑیاں بجلی پرمنتقل ہورہی ہیں ،ہم پیٹرول اور گیس کی درآمد برداشت نہیں کرسکتے ۔ جغرافیائی لحاظ سے ہم دنیا بھر میں اہم ہیں۔بلوچستان اور سندھ میں ہوا سے بجلی پیدا کرنے کے زبردست ذرائع ہیںجہاں دھوپ بہت ہوتی ہے اسے استعمال کرسکتے ہیں۔تھرمل پاور کی نسبت رینو ایبل پاور سے انرجی سستی پڑے گی ۔تھرمل پاور سے50 سے 55روپے فی یونٹ جبکہ رینوایبل پاور سے12سے 15روپے فی یونٹ بجلی پڑے گی۔نیوکلیئر انرجی سے بھی بجلی مل سکتی ہے لیکن اس میں بھی کچھ مسائل ہوتے ہیں لیکن اس کے ساتھ Small Medium Reactors (SMRs)۔ سے بھی بجلی حاصل کی جاسکتی ہے جو نیوکلیئر سے سستی حاصل ہوتی ہے اور معیشت پر زیادہ بوجھ نہیں ہوگی ۔امریکا میں بھی اس سے بجلی پیدا ہورہی ہے۔ہم اس پر بھی کام سکتے ہیں، پاکستان کی آبادی تقریبا 222ملین ہے اور 2050تک 300ملین تک ہوسکتی ہے۔ملک کی 65فیصد آبادی میں30 سال سے یااس سے کم عمر کے لوگ ہیں۔اس دباؤ کو برداشت اور ملک کو ترقی کی راہ پر لگانے کیلئے طویل مدتی پالیسیاں بنانی ہوںگی ۔یہ حقیقت ہے کہ انرجی کے بغیر ملک ترقی نہیں کرسکتا۔کتنے بھی نوٹ چھا پ لیں ترقی نہیں،ترقی انرجی سے ہوتی ہے۔ صنعت وزراعت ہر چیز کو انرجی کی ضرورت ہوتی 

ہے۔انرجی بحران کو حل کرنے کیلئے مختصر،درمیانی اور طویل مدتی پالیسیوں کو اپنا ہوگا۔انرجی بحران کو حل کرنے میں موسمیاتی تبدیلی بھی مسئلہ بنتی جارہی ہے۔سائنس بھی کہتی ہی موسمیاتی تبدیلی ایک حقیقت ہے جس کی وجہ سے مسا ئل کا سامناہے۔ہمیں ان چیزوں کو دیکھتے ہوئے مستقبل میں منصبوبہ بندی کرنی ہوںگی ۔انرجی کا تحفظ اور موسمیاتی تبدیلی دونوں ایک دوسرے کے مخالف چل رہے ہیں ۔موسمیاتی تبدیلی کو مدنظررکھتے ہوئے پاکستا ن کو مختصر اور درمیانی پالیسیاں بنانی ہوںگی جس سے ہم انرجی کو محفوظ کرسکیں گے۔ سندھ کے ضلع تھرمیں 175بلین ٹن کا کوئلہ موجود ہے جو بہت بڑا ذخیرہ ہے اس کو استعمال نہیں کرپارہے کیونکہ اسکے لئے بڑی رقم درکار ہوگی ۔ لیکن اس میں انرجی بحران کا حل موجود ہے۔انرجی کا بحران حل کرنے کیلئے حکومت کے پاس ’’ نیشنل ا نرجی ایفی شنسی اینڈکنزرویشن اتھارٹی National Energy Efficiency and Conservation Authority (NEECA) کاادارہ موجود ہے انہوں نے رپورٹ بھی بنائی ہے لیکن عملدرآمد نہیں ہوتا۔انرجی محفوظ کرنے کیلئے ان چیزوں کا صحیح استعمال اوربہترکرناہوگا۔ اپنے وسائل استعمال کرنے ہوں گے اس سے ڈالربھی بچاپائیں گے۔ہمیں بجلی کا کم استعمال اور مارکیٹیںجلد بند کرنی ہوں گی اس سے بحران پرجلد قابوپاسکتے ہیں۔ 

دنیا:پاکستان میں رنیول ایبل توانائی پروہ کام نہیں ہورہا جو ہونا چاہیے کیا وجہ ہے؟

عاصم مرتضیٰ خان : ملک میں ہمیشہ گورنیس اور عمل نہ ہونے کے مسائل رہے ہیں،یہاں پالیسیاں تو بنتی ہیں لیکن عمل نہیں ہوتا۔ہماری منصوبہ بندی دیرپا نہیں ہوتی ۔انرجی بحران حل کرنے اور ترقی کیلئے پالیسیوں کا استحکام ہونا ضروری ہے،حکومت پالیسی بناتی ہے ،سرمایہ دار آتے ہیں ،فیصلہ کرتے ہیں،انڈسٹری معاہدے بھی کرتی ہیں لیکن حکومت معاہدے پورے کرنے میں سالوں لگادیتی ہے جس کی وجہ سے معاہدے چل نہیں پاتے اس سے صنعتکاروںاور انڈسٹری کا اعتمادخراب ہوتاہے،ہمیں ان چیزوں کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔ہمیں تیز ی سے بڑھتی ہوئی ٹیکنالوجی کے ساتھ چلناہوگا۔ہمارے نیشنل گرڈ اسٹیشن اور ڈسٹری بیوشن نظام میں بہت مسائل ہیں وہ اضافی بجلی برداشت نہیں کرسکتے ۔سولر اور ونڈپاور سے بجلی حاصل کرنے کے ساتھ ہمیں گرڈ اسٹیشن کو بھی جدید کرنا ہوگا تاکہ ان میں اضافی بجلی برداشت کرنے کی صلاحیت ہو۔یا پھر جس طرح دنیا بھرمیں مائیکرو گرڈ اسٹیشن بھی ہیں جو نیشنل گرڈ کے ساتھ نہیں ہوتے بلکہ علاقوں میںہوتے ہیں جو اضافی بجلی لیتے ہیں اور سپلائی کرتے ہیں ا س نظام پر بھی کام ہوسکتاہے۔حکومت ان مسائل کو حل کرنے میں مدد کرے ۔ یونیورسٹی اور دیگر تعلیمی اداروں کو انرجی بحران کو حل کرنے میں کام کرناچاہیے،دنیا کی بڑی یونیورسٹیاں انرجی ذرائع پرکام کررہی ہیں ہمیں بھی انرجی کے ذرائع پیدا کرنے ہوں گے ۔صرف بجلی تیارکرکے نیشنل گرڈ اسٹیشن میں دے دینا مسائل کا حل نہیں ،جن علاقوںمیں دھوپ نہیں ہے وہاں سولر نظام کامیاب نہیں ان علاقوں میں انڈسٹری کو بھی بجلی چاہیے اس کے نعمل بدل پر بھی کام کرنا ہوگا۔سولر نظام کو اپنی ضرورت کے مطابق لگانا ہوگا مستقبل حل نہیں ہے،گاڑیاں بجلی پر منتقل ہونی چاہیے ،حکومت پاکستان کی پالیسی بھی موجود ہے کہ 2030تک 30فیصد گاڑیاں بجلی پر منتقل کرنی ہیں۔

گاڑیوں کو بجلی میںمنتقل کرنے کیلئے کیا ہمارے گرڈ اسٹیشن میں اتنی گنجائش ہے وہ ا ن کو چارج کرسکیں،الیکٹرک بائیک بن رہی ہیں ،لیکن کار نہیں بن رہیں،شہر میںگنجان علاقے ہیں،لوگ فلیٹس میں بھی رہتے ہیں انکے لیے چارجر کیسے اور کہاں لگیں گے ابھی کوئی پالیسی نہیں آئی اور نہ سوچا جارہا ہے،آئے دن بجلی کے یونٹ کی قیمت تبدیل ہوتی رہتی ہیں ،صارف کیسے فیصلہ کرے کہ اس کے لئے الیکٹرک گاڑی کی چارجنگ بہتر ہے یا نہیں۔حکومت کی اس حوالے سے کوئی پالیسی سامنے نہیں آرہی ہے،حکومت ان مسائل کا حل نکالے، این ای ڈی یونیورسٹی کا الیکٹریکل کا شعبہ اس پر کام کررہا ہے،حکومت ان کو سپورٹ کرے اورپالیسی دے،حل سامنے آئے تو سرمایہ آجاتا ہے،حکومت سنجیدگی سے عملدرآمدکرے ۔

دنیا:ہائیڈرو پاور سے بجلی سستی بنتی ہے اس پرکام کیوں نہیں ہورہا؟

سیدسعود الظفر :پاکستان میں ہائیڈرو پاور سے بجلی پیدا کرنے کاعمل کافی عرصے سے سست روی کا شکار ہے ،سیاسی ایشوز کی وجہ سے ڈیم نہ بننے سے بھی مسائل حل نہیں ہورہے۔دیگر ذرائع کی نسبت ہائیڈرل پاور سے بجلی سستی پڑتی ہے،کوئلے سے بھی بجلی بن سکتی ہے۔رینو ایبل انرجی ذر ائع میں ہمیں پرائمری سطح پر انرجی بحران کو حل کرنے کی ضرورت ہے،پاکستان کی موجودہ صورت حال میں آئل اینڈ گیس کو مختصر مدت کیلئے استعما ل کیا جاسکتاہے،نیوکلیئر پاور سے بجلی بہت مہنگی پڑتی ہے،ہمیں سستے اور آسان طریقے استعمال کرنے ہوں گے ۔ سولر یا ونڈپاور سے بجلی حاصل کی جاسکتی ہے ،یونائیٹڈ انرجی پاکستان لمیٹڈنے 100میگاواٹ کا ونڈسسٹم لگایا ۔اس نظام میں مختصر مدت کے حل ہوتے ہیں،نیو کلیئر پاور Clean Source of Energy  ہے لیکن اس سے بجلی بہت زیادہ مہنگی بنتی ہے۔ا س کی ٹیکنالوجی ،سامان اور مینٹی نینس مہنگی ہوتی ہے اس میں حفاظت کے ضروری اقدامات اعلیٰ معیار کے ہوتے ہیں ۔

دنیا: انرجی بحران کنٹرول کرنے میں این ای ڈی یونیورسٹی کیا کام کررہی ہے؟

 ڈاکٹر جاوید حنیف : انڈسٹری کا یونیورسٹیوں پر اعتماد ہوجائے کہ یونیورسٹی ہمارے ساتھ ریسرچ کے کاموں میں ساتھ دے سکتی ہے تو اشتراک بڑھ سکتاہے۔اعتماد کی فضاء دونوں طرف سے ہوگی تو بہت کام ہوسکتاہے۔این ای ڈی یونیورسٹی انڈسٹری کے ساتھ مل کر کام کررہی ہے،پیٹرولیم کے میدان میں ہم نے پی پی ایل کیلئے ریسرچ کر کے دیں ۔ اس کام کو مزید بڑھانے کی ضرورت ہے ، این ای ڈی کا یونائیٹڈ انرجی پاکستان لمیٹڈ کے ساتھ پروجیکٹ چل رہا ہے جس میں انرجی کے حصول کو بڑھانے پر کام کررہے ہیں ۔یہ پاکستان پیٹرولیم انڈسٹری کا بہت نظرانداز کیئے جانے والا شعبہ ہے جس پر کام کررہے ہیں ۔اس پر آج تک واضح پالیسی نہیں بن سکی اگر ہے تو عملدرآمد نہیں ہوسکا۔ توانائی کی پیداوار بڑھانے کیلئے اضافی رقم ادا کرنی ہوتی ہے۔تعلیمی ادارے اور انڈسٹری ایک پلیٹ فارم پر آگئے توترقی یافتہ ممالک کی طرح پاکستان بھی آگے جاسکتا ہے۔باہر یونیورسٹیوں میں جو ٹیچر ریسرچ کرتے وہ زیادہ وقت ریسرچ ہی پر لگاتے ہیں ،پڑھانااور انتظامی کام نہیں کرتے جبکہ ہمارے اساتذہ ریسرچ کے ساتھ پڑھاتے اور منیجمنٹ کے کام بھی کرتے ہیں جس سے ریسرچ کے وہ نتائج نہیں ملتے جو ملنے چاہییں،ہمیں ان چیزوں کوسمجھنے اور بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔

دنیا: یونیورسٹی اور انڈسٹری میں اعتماد کا فقدان کیو ں ہے؟

 ڈاکٹر جاوید حنیف: یونیورسٹی کے انفرااسٹرکچر میں ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ علیحدہ نہیں ہے۔ ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ اکیڈمیوں کا حصہ ہے۔ہمارے اساتذہ کو پڑھانا بھی ہے اور ریسرچ بھی کرنی ہے،جب یہ ساری چیزیں ایک ساتھ چلتی ہیں تو ہم اس سطح پرنہیں آتے جو انڈسٹری کی ڈیمانڈ ہوتی ہے جس کی وجہ سے بروقت اور صحیح کام نہ کرنے سے اعتماد خراب ہوتاہے۔ تاخیرہونے کی وجہ سے پراجیکٹس ختم ہوجاتے ہیں،یورپی یونیورسٹیوں میں ریسرچ اینڈڈیولپمنٹ کے شعبے الگ ہوتے ہیں ،جو پروفیسر ریسرچ کرتے ہیں ان کی انتظامی اور تدریس کے کام نہ ہونے کے برابر ہوتے ہیں۔پروفیسر ہفتے یا مہینے میں ایک یا دو لیکچر دے دیں تو ان کی مہربانی لیکن وہ لیکچر دینے کے پابند نہیں ہیں جبکہ ہمارے یہاں معاملات الٹ ہیں تو ہم کیسے انڈسٹری سے اعتماد کو بڑھائیں؟ ۔ ہماری یونیورسٹی میں آراینڈ ڈی شعبہ الگ نہیں بلکہ یہ ٹیچنگ کا حصہ ہے ہمیںاسکو الگ کرنا ہوگا۔جب تک اس پر عمل نہیں ہوگا یونیورسٹی اور انڈسٹری متوازی لائن کی طرح چلتے رہیں گے۔

 ڈاکٹر محمد محسن امان :ایسانہیں کہ انڈسٹری مکمل طور پر یونیورسٹی پر اعتماد نہیں کرتی ۔ بہاولپورمیں پی وی ٹیسٹنگ لیبارٹری بنائی گئی جو جو مکمل طورپر انڈسٹری نے فنڈنگ کی ، لیب پورے پاکستان میںایک ہی تھی وہ بھی غیر فعال تھی ،جس کی ایک وجہ یہ تھی کہ لیب 20کلومیٹر ریگستان میں بنائی گئی تھی جہاں مختلف اداروں کے دفاتر تھے جہاں ایک عام آدمی جو ریسرچ اور ٹیسٹنگ کے لئے جاتا ہے اسے آسانی سے رسائی نہیں ہوتی ۔15دن میںسیکیورٹی کلیئرنس ملتی ہے تو وہاں کیسے کام ہوسکتا تھا،جس کی وجہ سے بند تھی ،این ای ڈی یونیورسٹی نے ان سے رابطہ کیا کہ ہم لیب بنانا چاہتے ہیں،6ماہ بعد انہوں نے پیشکش کی کہ لیب نہ بنائیں اسی لیب کو لے لیں، این ای ڈی کے وائس چانسلر ڈاکٹرسروش حشمت لودھی نے بہت تعاون کیا ،ہم سے کہا فوری جاؤ اور لیب کو یہاں منتقل کرو۔اس کولائے اور ایک ایک چیزکو دیکھ کر یہاں لگایا ۔اسی طرح دیگرکمپنیوں کے سولر اور دیگر پروجیکٹ کو ٹیسٹنگ کے لیے سائڈ پر جاکر چلاتے ہیں۔

دنیا:انرجی بحران کی وجہ آئی پی پیز سے معاہدے ہیں یااوروجوہات ہیں؟

ڈاکٹر محمد محسن امان :آئی پی پیز سے معاہدے اپنی جگہ ہیں جن حالات میں کئے گئے ان کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔گزشتہ حکومت نے جائزہ لے کر کچھ چیزوں میں تبدیلی کی ہے۔بجلی بحران کی ایک وجہ آئی پی پیز سے معاہدہ ہے ہم بجلی نہ لیں تب بھی مکمل ادائیگی کرنی ہوتی ہے۔معاہدے پر نظرثانی کی ضرورت ہے،کہنے کو سولر سسٹم بہت اچھا ہے لیکن ان میں مسائل بھی ہیں،اچھا سولر سسٹم مکمل طورپر باہر سے آتاہے۔مقامی طورپرتیار ہونے والے سولر سسٹم بن اور لگ رہے ہیں ان میں سیل معیاری نہیں ہوتے جس کی وجہ سے زیادہ عرصے نہیں چلتے۔لوگ اچھے اور معیاری سولرسسٹم لگانے کیلئے باہر سے منگوانے کوترجیح دیتے ہیں جو مہنگے پڑتے ہیں،اس کی نسبت گیس ،ہائیڈرل اور کوئلے سے بجلی کے بل کم ہوتے ہیں،اس صورت حال میں عام آدمی کا فائدہ نہیں ہو رہا ہے پریشان ہے۔سولر ایسوسی ایشن کے نمائندوں سے بات ہوئی ان کاکہنا ہے جب سے درآمدی اشیاء پر پابندی لگی ہے ہم لوگ بھی مسائل کا شکار ہیں، ہم شمسی توانائی کے لئے صنعت لگاکربجلی بنائیں تو کیا حکومت یہ ضمانت دے گی کہ وہ ہم سے بجلی خریدے گی ؟۔دنیا بھرمیں شمسی نظام میں تحقیق اور کام ہورہا ہے۔پاکستان میں ایساکچھ نہیں، روس نے بھارت میں ایک اسٹیل مل لگائی تھی انہوں سے اس کو کاپی کرتے ہوئے لاتعداد ملیں لگالیں اوراپنی معیشت کو مضبوط بنایا ہم ایک پر ہی رہے اور فائدہ بھی نہیں اٹھایا۔ہم بھی اگر کاپی پیسٹ ہی کرلیتے تو ملک میں کئی اسٹیل ملز لگی ہوتیں۔ہمارے پاس نیوکلیئر پلانٹ لگے ہوئے ہیں لیکن جب دوبارہ لگانے کی بات کی جاتی ہے ہم دوبارہ ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کی طرف دیکھنے پر مجبور ہیں۔ ہم اپنی رقم سے کاپی پیسٹ بھی نہیں کرتے جس طرح بھارت نے کیا۔اینگرو نے 1380 میگاواٹ کا پلانٹ لگایا ہوا ہے ،سرمایہ دارآگے بڑھیں اور یونیورسٹی کے ساتھ مل کر اسی منصوبے کو کاپی پیسٹ کرتے ہوئے دوبارہ بنالیں تو ایسے کئی پلانٹ بن سکتے ہیں ۔چین بھی کئی مرتبہ اسی طرح ڈیزائن کاپی پیسٹ کرتے ہوئے منصوبہ بنا رہا ہوتا ہے ،ہم یہ کام یعنی ریورس انجینئرنگ کیوں نہیں کرسکتے ۔ ایسا کرنے سے ہمار ا پیسہ باہر بھی نہیں جائے گا اور انرجی بحران پر پاقابو بھی پایا جاسکتاہے۔

یوسف صدیقی : ہمار ابنیادی مسئلہ ہے ہم ہر چیز حکومت پر ڈال دیتے ہیں،زیادہ تر ایجادات اورکمرشلائزیشن پرائیویٹ سیکٹر سے آئی ہیں۔ ہمارہی کمپنی اینگرو کا نقطہ نظر ہے حکومت پیچھے رہ کر صرف مضبوط پالیسی بنائے اور تحفظ دے ،باقی سارے کام پرائیویٹ سکیٹر آپس میں مل کر کریں۔ 4سال اردن میںرہا ،بہت چھوٹاملک ہے جس کی آبادی مشکل سے 10 ملین ہوگی،کراچی کی آدھی آبادی بھی نہیںہوگی،وہاں سولر پینل بن رہے ہیں، ہمیںہر چیز حکومت پر نہیں ڈالنی چاہیے ، اینگر و انرجی جھمپیر میں 400میگاواٹ کا سولر اینڈ ونڈکمبائن پروجیکٹ بنارہاہے ہیں۔حکومت سے درخواست کی ہے جس کو بھی بجلی کی ضرورت ہوگی ہم براہ راست دیںگے،جب تک اپنے ذہنوں سے حکومت کا دباؤ نہیں نکالیں گے چیزیں آگے نہیں بڑھیں گی۔

عاصم مرتضیٰ خان : ملک میں عام تاثرہے کہ پاکستان کی مقامی ایکسپلوریشن اینڈ پروڈکشن انڈسٹری اب ختم ہوگئی ہے جو غلط ہے،جو گیس آسانی سے نکل سکتی تھی وہ نکال لی گئی ہے،دنیا بھر میںجدید ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہوئے گیس نکالتے ہیںاگر ان کو استعمال کیا جائے تو گیس اب بھی نکل سکتی ہے۔یہاں بہت کچھ ہے ،پائلیٹ پروجیکٹ ہونے چا ہئیں ،اس کیلئے پالیسی ہونا ضروری ہے۔

ڈاکٹر جاوید حنیف: ہمارے پاس ریسرچ اور پروجیکٹ تیار کرنے کیلئے وہ سہولتیں ہوں جو انڈسٹری کی ضرورت ہے تو یونیورسٹی اپنے دستیاب فنڈا ور مہارت کے ساتھ کام کرسکتی ہے، ریسرچ کیلئے آسانی مل جائے تو انڈسٹری اور دیگر تعلیمی اداروں سے تعلق مضبوط ہوسکتا ہے اورریسرچ میں بھی مستند ڈیٹا مل جائے تو یونیورسٹی اور انڈسٹری کا اشتراک بہتر ہوسکتا ہے۔

سفیرپاکستان آفتاب کھوکھر : انڈسٹری اور اکیڈمیوں میں اشتراک بہت ضروری ہے ،یونیورسٹی قابل طلباء کو انڈسٹری بھیجیں ،کمرشل کیلئے ریسرچ گرانٹ ملنی چاہیے اس سے یونیورسٹی کی حوصلہ افز ائی ہوگی اور طلباء کو آگے نکلنے کے مواقع بھی ملیں گے۔ یونیورسٹیاں پروجیکٹ بنائیں اور رابطہ کریں سفارت خانہ سپورٹ کرنے کیلئے تیار ہے۔ایشیاء نیٹ ورک میں ایک پاکستانی یونیورسٹی شامل ہے جس نے ایم او یو بھی سائن کیاہے،لیکن وہ کام نہیں کیاجو کرنا چاہیے تھا،ایم او یو تو بن جاتے ہیں لیکن ایم او یو کیلئے پہلے کام کیاجائے تو کام ہوتے ہیں۔

دنیا فورم میں این ای ڈی کے طالب علم کی تجویز،سفیر پاکستان کی حوصلہ افزائی

دنیافورم میں این ای ڈی یونیورسٹی کے شعبہ پیٹرولیم انجینئرنگ کے آخر ی سمسٹر کے طالب علم عبدالرحمان نے تجویز دی کہ بلوچستان او رکے پی کے کی زمین ونڈ ٹربائن کیلئے بہت سود مند ہے، پاکستان ،افغانستان اور ایران مل کرکام سکتے ہیں یہ خطہ ان کاموں کیلئے بہترین ہے ،بلوچستان میں شمسی توانائی کیلئے بہت بہترین مواقع ہیں ۔پاکستان بلوچستان میں شمسی نظام کے ذریعے توانائی کی مکمل طلب پورا کرسکتا ہے،سوال ہے کہ پاکستا ن ایسا کیو ں نہیں کررہا؟۔اگر بلوچستان میں کام کیاجائے تو انرجی بحران پر پا قابو پایا جاسکتا ہے۔آسٹریامیں پاکستان سفیر آفتاب کھوکھر نے کہا کہ آئیڈیا بہت اچھا ہے لیکن ا س پر عمل کرنا دشوار ہے۔پاکستان کے ا ن ممالک سے کچھ ایشوز ہیں ،لیکن پاکستان ا س پر خود بھی کام کرسکتاہے،بلوچستا ن میں بہت وسائل ہیں ان کواستعمال کرنے اور آگے لے کرچلنے کی ضرورت ہے ،اس وقت ریکوڈ ک پر مثبت پیش رفت ہوئی ہے منصوبہ کامیاب ہوجاتا ہے تو بلوچستان میں کام کے بہت مواقع پیدا ہوں گے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement

معاشی بہتری کیلئے بڑے فیصلے کئے جائیں،ماہرین کا مشورہ

شرکاء:مسعود نقی ، سابق چیئرمین کاٹی ۔دانش خان، سابق چیئرمین پاکستان لیدر گارمنٹس مینوفیکچر زاینڈ ایکسپورٹ ایسوسی ایشن۔ماہین سلمان، سابق سینئر نائب صدر کاٹی ۔ستائش عاصم ، جوائنٹ ڈائریکٹر پلیسمنٹ اینڈ انڈسٹریل لنکیج آئی سی ایم اے ، پاکستان ۔علی ارش خان ،جنرل سیکریٹری پاکستان بزنس گروپ ۔ سمیر یعقوب عباسی ،سی ای اودی ریسورسز ایکسپرٹ اور چیئرمین ایچ آر کمیٹی پاکستان بزنس گروپ ۔ طلبہ وطالبات کی بڑی تعداد شریک تھی ۔

فٹ بال صحت مند اور سستا کھیل،حکومتی توجہ کا منتظر

شرکاء: گلفراز احمد خان صدر کالونی اسپورٹس یوتھ کلب۔ضمیر الاسلام،سابق فیفا ریفری۔سید احمد علی واسطی،سابق بین الاقوامی فٹ بال کھلاڑی اور سابق کپتان قومی فٹ بال ٹیم۔ایم اے خالد،سابق کھلاڑی نیشنل بینک پاکستان۔ ریحان علی خان،قومی فٹ بالر۔نسیم اختر،قومی فٹ بالر۔فرقان احمد خان،قومی فٹ بالر۔ پرویز ،کوچ فٹ بال ٹیم ۔زاہد رحیم سماجی کارکن

ڈرامے معاشرے کے عکاس یا بگاڑ کا باعث…فیصلہ کون کرے گا؟

شرکاء:انجینئر ایاز خان معروف مزاحیہ فنکاروڈرامہ رائٹر۔ پروفیسرڈاکٹر فرحانہ سرفرازانچارج شعبہ سوشل ورک جامعہ کراچی ۔ڈاکٹر سکینہ ریاض ،اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ سوشل ورک جامعہ کراچی ۔محمد نعمان شیخ ،اسسٹنٹ سوشل ورک جامعہ کراچی ۔

ٹریفک حادثات:نوجوان ہی نہیں بڑے بھی متاثر،حل قانون کی عملداری

شرکاء: احمد نواز ،ڈی آئی جی ٹریفک کراچی۔پروفیسر ڈاکٹر ولی الدین وائس چانسلر سرسید یونیورسٹی ۔ڈاکٹر سیمی جمالی سابق ایگزیکٹو ڈائریکٹر جناح اسپتال ۔پروفیسر ڈاکٹر میرشبرعلی ڈین سول انجینئرنگ سرسید یونیورسٹی ۔پروفیسر ڈاکٹر عدنان قادر ،چیئرمین شعبہ اربن اینڈ انفرااسٹرکچر این ای ڈی یونیورسٹی۔ڈاکٹر افضل احمد ،شریک چیئرمین اینڈ ایسوسی ایٹ پروفیسر شعبہ اربن اینڈ انفرااسٹرکچر این ای ڈی۔ سراج خلجی مشیر برائے چانسلر سرسید یونیورسٹی ۔

دماغ ٹھنڈا رکھیں،جسم توانا رہے گا…ماہرین کا مشورہ

شرکاء:سینیٹر ڈاکٹر کریم احمد خواجہ چیئرمین سندھ مینٹل ہیلتھ اتھارٹی۔ ڈاکٹر حیدر علی نقوی،چیئرمین شعبہ نفسیات ڈائو یونیورسٹی اسپتال ۔ڈاکٹر قلب حیدر، ماہر نفسیات سرکائوس جی اسپتال حیدرآباد گدوبندر۔ڈاکٹر عظمیٰ علی ،ڈائریکٹر انسٹیٹیوٹ آف کلینکل سائیکالوجی جامعہ کراچی۔ مریم حنیف غازی،چیئرپرسن شعبہ نفسیات محمد علی جناح یونیورسٹی۔بینش ضیاء،منیجر چارٹر فارکمپیشن پاکستان ،روح برو۔ڈاکٹر ثنا ء سعدیہ،ایسوسی ایٹ پروفیسر کلینکل سائیکالوجسٹ سی بی ایم۔ ڈاکٹر محمد ادریس ،ماہر نفسیات سول اسپتال۔

پاکستان :خلائی ٹیکنالوجی میں بھی کامیاب،تحقیق جاری

شرکاء:(بذریعہ وڈیولنک) ڈاکٹر نجم عباس نقوی ،چیئرمین سینٹرل پراجیکٹ ڈائریکٹر نیشنل سینٹر فار جی آئی ایس اینڈ اسپیس ایپلی کیشن اسلام آباد ڈاکٹر محمد شفیق، ایسوسی ایٹ پروفیسر نیشنل سینٹر آف ایکسی لینس ان جیالوجی پشاور یونیورسٹی ڈاکٹربختیار خان کاسی ،ڈین فیکلٹی آف انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجی بلوچستان یونیورسٹی آف آئی ٹی انجینئرنگ اینڈ مینجمنٹ سائنسز کوئٹہ ڈاکٹر عدنان ،ایسوسی ایٹ پروفیسر شعبہ ایری گیشن اورڈرینج زرعی یونیورسٹی فیصل آباد ڈاکٹرسمیع اللہ ، نیشنل سینٹر آف جی آئی ایس اینڈ اسپیش ایپلی کیشن اسلام آباد دنیا فورم کراچی سے پروفیسر ڈاکٹر سروش حشمت لودھی ،وائس چانسلر این ای ڈی