سیٹلائٹس کی دنیا!
لاہور: (وقاص ریاض) سیٹلائٹ ایک ایسی مشین ہے جو کسی سیارے یا ستارے کے گرد گردش کرتی ہے، زمین ایک قدرتی سیٹلائٹ ہے جو سورج کے گرد گردش کرتی ہے جبکہ دوسری جانب مصنوعی سیٹلائٹس جو انسان نے اپنی سہولت کیلئے بنائے ہیں زمین کے گرد ایک مخصوص مدار میں گردش کرتے ہیں۔
1957ء میں سویت یونین نے سپٹنک (Sputnik) کے نام سے پہلا مصنوعی سیٹلائٹ خلا میں بھیجا، یہ سیٹلائٹ ایک تجرباتی سیٹلائٹ تھا جس کا مقصد سیٹلائٹ ٹیکنالوجی کا ٹیسٹ اور زمین تک سیٹلائٹ کے ریڈیو کمیونی کیشن کا مشاہدہ کرنا تھا، اس تجربے کی کامیابی کے بعد خلا میں سیٹلائٹ ٹیکنالوجی نے مزید پیشرفت کی، اس دوڑ میں امریکہ سمیت دنیا کے دیگر ترقی یافتہ ممالک بھی شامل ہوگئے، سیٹلائٹ ٹیکنالوجی کو موجودہ ترقی یافتہ دور میں کمیونیکیشن، خلا سے زمین کے جائزے، موسموں کے بدلاؤ، زمین کے جغرافیے میں تبدیلی، جی پی ایس جو گوکل میپ کو آپریٹ کر رہا ہے میں استعمال کیا جاتا ہے۔
محتاط اندازے کے مطابق اس وقت خلا میں 6 ہزار کے قریب سیٹلائٹس زمین کے گرد گھوم رہے ہیں جبکہ 2040ء تک ان کی تعداد 60 ہزار سے تجاوز کر جائے گی، ان میں دفاعی اور سویلین مقاصد کیلئے استعمال ہونے والے سیٹلائٹ شامل ہیں، سیٹلائٹس خلا میں مختلف طرح کے مداروں میں زمین کے گرد چکر لگاتے ہیں۔
مثال کے طور پر کمیونیکیشن سیٹلائٹس جن سے ٹیلی ویژن، انٹرنیٹ یا ریڈیو کمیونیکیشن کی جاتی ہے’’ جیوسٹیشنری مدار‘‘ میں ہوتے ہیں، یعنی یہ زمین کے خطِ استوا کے اوپر خلا میں زمین کی محوری گردش کے ساتھ ساتھ گھومتے ہیں، یوں یہ ہر وقت زمین پر ایک ہی علاقے میں مسلسل رہ کر کوریج کر سکتے ہیں، اس کا فائدہ یہ ہے کہ زمین پر لگے رسیورز کو بار بار انہیں ٹریک نہیں کرنا پڑتا۔
یوں آپ کے گھروں میں موجود ڈش انٹینا ایک ہی رخ میں مختلف سیٹلائٹس کے سگنل پکڑ سکتے ہیں، یہ سیٹلائٹس زمین کی سطح سے تقریباً 35 ہزار کلومیٹر اوپر تک ہوتے ہیں، ان سے اوپر کے مدار میں موجود سیٹلائٹس کو ہائی آربٹ (High Orbit) سیٹلائٹ کہا جاتا ہے، اس مدار میں کم ہی سیٹلائٹ یا خلائی دوربینیں ہوتی ہیں۔
ایسے ہی کچھ سیٹلائٹ ’’لو آربٹ‘‘ میں گھومتے ہیں یعنی وہ سیٹلائٹ جو زمین کے کافی قریب ہوتے ہیں، کم سے کم زمین کی سطح سے 160 کلومیٹر اوپر اور زیادہ سے زیادہ ایک ہزار کلومیٹر تک۔
ان میں ناسا کی ہبل ٹیلی سکوپ بھی شامل ہے، یہ جیو سٹیشنری سیٹلائٹ نہیں ہوتے یعنی یہ زمین کی محوری گردش سے نہیں جڑے ہوتے اس لیے یہ آپ کو ایک وقت میں ایک جگہ اور دوسرے وقت میں آسمان میں دوسری جگہ نظر آئیں گے، جی پی ایس سیٹلائیٹ جو’’ میڈیم ارتھ آربٹ‘‘ (Medium Earth Orbit) میں ہوتے ہیں، یہ زمین کی سطح سے 20 ہزار کلومیٹر سے اوپر مختلف مداروں میں گھومتے ہیں تاکہ ہر وقت چار سے پانچ سیٹلائٹس کے سگنل ایک جگہ پر آ سکیں جس سے آپ کے سمارٹ فون میں لگے جی پی ایس انٹینا ان کے سگنل کو پکڑ کر ان سے ریاضی کے چند سادہ اصولوں کے تحت زمین پر آپ کی پوزیشن بتا سکیں اور یوں آپ گوگل میپ کے ذریعے راستے تلاش کر سکیں۔
اسی طرح کے کچھ سیٹلائٹس پولر مدار میں گھومتے ہیں یعنی زمین کے خطِ استوا کے اوپر گھومنے کے بجائے قطبین کے قریب سے شمال سے جنوب کی طرف زمین کا چکر لگاتے ہیں، اس طرح کے سیٹلائٹس زمین کی محوری گردش کے باعث اس کے ہر حصے کو کوور کر سکتے ہیں، گویا یہ ہر روز ایک خاص وقت پر زمین کے ایک خاص حصے کے اوپر ہوں گے، اس طرح کے سیٹلائٹس سے آپ زمین کی مختلف جگہوں کی تصاویر مختلف اوقات میں بآسانی لے سکتے ہیں، یہ سیٹلائٹس زیادہ تر موسموں کی پیش گوئی، طوفان اور زمین پر دیگر آفات کی مانیٹرنگ کیلئے استعمال ہوتے ہیں، ان کا مدار زمین کی سطح کے اوپر 200 سے ایک ہزار کلومیٹر تک ہوتا ہے۔
پاکستانی خلائی ایجنسی ’’سپارکو‘‘ کا چین کے تعاون سے تیار کردہ سیٹلائٹ جسے 2018ء میں بھیجا گیا تھا وہ بھی اسی مدار میں گھوم رہا ہے، اس وقت پوری دنیا میں خلائی تسخیر میں امریکہ کی اجارہ داری قائم ہے جس کا اندازہ صرف اس حقیقت سے لگایا جا سکتا ہے کہ دنیا میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والے پروگرام جی پی ایس سسٹم کا کنٹرول امریکی ایئر فورس کے پاس ہے۔
امریکہ کے بعد بالترتیب روس، چین، برطانیہ ، جاپان ، فرانس ، بھارت ، جرمنی اور کینیڈا خلائی نظام کی کھوج کیلئے کافی انقلابی اقدامات اٹھا رہے ہیں اور اس کیلئے خطیر رقم ہر سال خرچ کرتے ہیں، امریکی خلائی تحقیقی ادارے ناسا نے گزشتہ برس دنیا کے سب سے طاقتور سیٹلائٹ جیمز ویب کو خلا میں چھوڑا ہے جو بگ بینگ کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کی معلومات فراہم کرے گا۔
وقاص ریاض سرکاری یونیورسٹی کے شعبہ فزکس میں ریسرچر ہیں، ان کے تحقیقی مضامین ملک کے موخر جرائد میں شائع ہوتے رہتے ہیں۔