ایرانی صدر نے کشیدگی کم کرنے کیلئے سفارتی کوششوں کی حمایت کردی

تہران: (دنیا نیوز) ایرانی صدر مسعود پزشکیان نےکشیدگی کم کرنےکیلئےسفارتی کوششوں کی حمایت کردی۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نےایرانی میڈیا سےگفتگو میں کہا کہ جنگ کسی کے مفاد میں نہیں ہے، دشمن پر عدم اعتماد اور تعلقات میں ہوشیاری سے انکار نہیں کیا جاسکتا، کشیدگی کو کم کرنے کیلئے ہرعقلی اور سفارتی راستہ اپنانا چاہئے۔

ادھر روس میں ایرانی سفر نے روسی میڈیا کو انٹرویو میں کہا امریکا اوراسرائیل کے ایران پر کیے گئے حملے ناکام رہے،ہم پہلے سے زیادہ متحد اورپرعزم ہیں،ایران قانونی نظام کے تحت آبنائے ہرمز میں آمد و رفت کو یقینی بناتا ہے،روس کی جانب سے ایران کو خفیہ معلومات فراہم کرنے کی خبریں درست نہیں۔

دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی کا کہنا ہے کہ ہم موجودہ مذاکرات کو میدانِ جنگ کا تسلسل سمجھتے ہیں، ایران نے امریکا کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ مذاکرات کا یہ مطلب نہیں کہ کسی بھی قیمت پر بات چیت کی جائے، مذاکرات کا یہ مطلب نہیں کہ دوسرے فریق کے ہر طریقہ کار کو قبول کر لیا جائے۔

ابراہیم عزیزی کا کہنا ہے کہ ایران نے واضح ریڈ لائنز مقرر کر رکھی ہیں جن کا احترام ضروری ہے، ایران کی مذاکراتی حکمتِ عملی مکمل قومی مفادات اور سیکیورٹی تقاضوں کے تحت ہوتی ہے۔

ایرانی نائب صدر رضا عارف نے کہا ہے کہ تیل کی آزاد مارکیٹ سب کے لیے ہو گی یا کسی کے لیے نہیں، ایرانی تیل کی برآمدات پر عائد پابندیوں کے نتائج پوری دنیا کو بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔

ایکس پر اپنے پیغام میں ان کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی مفت دستیاب نہیں، ایرانی تیل کی برآمدات روکتے ہوئے دوسروں کے لیے سیکیورٹی کی توقع نہیں کی جا سکتی، انتخاب واضح ہے یا تو سب کے لیے تیل کی آزاد منڈی ہو، یا پھر سب کو بھاری قیمت کے خطرے کا سامنا کرنا پڑے۔

ان کا کہنا ہے کہ عالمی ایندھن کی قیمتوں میں استحکام اس بات پر منحصر ہے کہ ایران اور اس کے اتحادیوں کے خلاف اقتصادی اور فوجی دباؤ کا مستقل اور یقینی خاتمہ ہو۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں