لاہور ہائیکورٹ: اغوا کے مقدمے میں کم عمر ملزم کی درخواست ضمانت منظور
لاہور: ( دنیا نیوز) لاہور ہائیکورٹ نے لڑکی کے اغوا کے مقدمے میں کم عمر ملزم محمد نوید کی درخواست ضمانت منظور کر لی۔
عدالت نے فرسٹ ائیر کے طالب علم ملزم کی ضمانت منظوری کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا، عدالت نے ملزم کی ضمانت کم عمر ہونے کی بنیاد پر منظور کی۔
جسٹس طارق سلیم شیخ نے ملزم نوید کی ضمانت پر سولہ صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کیا۔
تحریری فیصلے میں بتایا گیا کہ عدالت نے ملزم محمد نوید کی ضمانت دو لاکھ روپے مچلکوں کے عوض منظور کی۔
فیصلہ میں لکھا گیا کہ قانون کے مطابق سولہ سال سے کم عمر ملزم سے جووینائل جسٹس سسٹم ایکٹ کے تحت ٹریٹ کیا جاتا ہے، نادرا کے برتھ سرٹیفکیٹ کے مطابق ملزم کی عمر سولہ سال سے کم ہے جبکہ ملزم کا کیس جووینائل جسٹس سسٹم کے دائرہِ اختیار میں آتا ہے۔
فیصلہ میں مزید بتایا گیا کہ کم سن عمر کے ملزمان کا کیس بالغ ملزمان سے مختلف ہوتا ہے، کم سن ملزمان کی بحالی انکے ذہین کو دوبارہ جرائم میں واپسی سے روکنا ہوتا ہے، ملزم کے خلاف ملتان پولیس نے 2025 میں اغوا کا مقدمہ درج کیا جبکہ فرسٹ ائیر جماعت کے طالب علم ملزم پر بارہ ،تیرہ سال کی بچی کو اغوا میں معاونت کرنے کا الزام عائد ہوا تھا۔
عدالت نے تحریری فیصلے میں لکھا کہ ملزم نے پولیس کو بیان دیا کہ رات کی تاریکی میں لڑکی نے میرے گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا جس کے بعد ملزم کے مطابق میں نے پوچھا کون ہو آپ ؟؟ ملزم کے مطابق لڑکی نے بتایا کہ مجھے نامعلوم افراد ادھر چھوڑ گے ہیں مجھے اس علاقے میں کوئی نہیں جانتا۔
مزید براں لڑکی نے بتایا کہ میں نے رات گزارنی ہے میں رانا الطاف کی کزن ہوں، ملزم کے مطابق اس نے اسکو اپنی نانی سے ملوایا اور اگلی صبح الطاف کو کال کی، ملزم نے بتایا کہ رانا الطاف اور اسکے ساتھ خاتون ہمارے گھر آئے اور لڑکی کو لیکر چلے گئے۔