حافظ نعیم الرحمان کا دھرنا کو طول دینے کا اعلان، حکومت کو لیوی ختم کرنے کا الٹی میٹم

لاہور:(دنیا نیوز) امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ جماعت اسلامی کا دھرنا مزید طول دیا جائے گا۔

دھرنے کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ حیدرآباد سمیت دیگر علاقوں میں بھی دھرنے شروع ہو چکے ہیں، بلوچستان میں 22 اگست کو احتجاجی مظاہرے کیے گئے اور 29 اگست سے وہاں دھرنا شروع کیا جائے گا۔

 حکمرانوں پر عوام کی جیبوں پر ڈاکا ڈالنے کا الزام عائد کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نے حکمرانوں کی لوٹ مار عوام کے سامنے بے نقاب کی ہے۔

امیر جماعت اسلامی نے عوام سے اپیل کی کہ مارکیٹوں میں جائیں، مہنگائی کی تصاویر اور ویڈیوز بنائیں اور لوگوں کو تحریک میں شامل ہونے کا پیغام دیں، سوشل میڈیا کا طوفان حکمرانوں کی نیندیں حرام کر دے گا۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ  کروڑوں عوام کے دستخطوں اور ناموں پر مشتمل فہرست بنا کر پوری دنیا کے سامنے پیش کی جائے گی، لیوی ختم کی جائے، بصورت دیگر حکومت ختم ہو جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ حکمران غریب عوام سے لیوی سمیت بھاری ٹیکس وصول کر رہے ہیں اور لیوی کی مد میں 8 ہزار ارب روپے سے زائد جمع کیے جا چکے ہیں۔

امیر جماعت اسلامی  نے بجلی کے شعبے میں آئی پی پیز اور کیپسٹی پیمنٹس کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ حکومت کی جانب سے آئی پی پیز کے ساتھ ناجائز معاہدے کیے گئے۔

حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ بجلی پیدا نہ ہونے کے باوجود اربوں روپے ادا کیے جاتے ہیں اور بجلی کے پلانٹس کی صلاحیت میں بھی مبینہ طور پر دو نمبری کی گئی، جماعت اسلامی کے 14 روزہ دھرنے کے نتیجے میں عوام کو بجلی کے بلوں میں ریلیف ملا تھا۔

انہوں نے کہا کہ عوام کے حق پر ڈاکا ڈالا جا رہا ہے اور قوم کی خاموشی سے مزید لوٹ مار کی جاتی ہے، اب شاخیں اور پتے جھاڑنے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا بلکہ ظالم نظام کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہوگا، سندھ کے وڈیرے، خیبرپختونخوا کے خان اور بلوچستان کے سردار غریب عوام کے مسائل میں اضافے کا باعث بن رہے ہیں۔

تعلیم کے معاملے پر امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ پنجاب میں سرکاری سکولوں کے نظام کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے اور ہزاروں سکول آؤٹ سورس کیے گئے ہیں۔

حافظ نعیم الرحمان  نے دعویٰ کیا کہ پنجاب میں ایک کروڑ 18 لاکھ بچے سکولوں سے باہر ہیں، چند نمائشی سکول بنا کر کروڑوں روپے خرچ کیے جا رہے ہیں جبکہ غریب کے بچوں کو بنیادی تعلیمی سہولیات میسر نہیں۔

اُنہوں نے کسانوں کی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کپاس اور گندم کے کاشتکار پریشان ہیں اور انہیں فصلوں کی مناسب قیمت نہیں مل رہی۔

امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ اشیائے ضروریہ، بجلی اور گیس مہنگی ہو چکی ہیں، عوام شدید پریشانی کا شکار ہیں جبکہ حکمران طبقہ عیاشیوں میں مصروف ہے۔

انہوں نے عوام پر زور دیا کہ وہ اپنی نسلوں کے بہتر مستقبل کے لیے جماعت اسلامی کی تحریک کا حصہ بنیں۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...