خیبرپختونخوا کے وسائل پر صوبے کا حق، بقایاجات کیلئے عدالت جائینگے: سہیل آفریدی
پشاور: (دنیا نیوز) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے وسائل پر صوبے کا حق ہے، وفاق سے بقایاجات کی ادائیگی کیلئے عدالت جائیں گے۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی زیر صدارت محکمہ توانائی و برقیات کے جاری منصوبوں اور اہم امور سے متعلق اجلاس ہوا، جس میں صوبے کے ہائیڈل بجلی، تیل، گیس اور ایل پی جی کے وسائل، وفاق کے ذمے بقایاجات اور صوبائی ٹرانسمیشن و گرڈ نظام کے قیام پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبرپختونخوا کی ہائیڈل بجلی، تیل، گیس اور ایل پی جی کے وسائل ملکی ضروریات کا اہم حصہ پورا کر رہے ہیں، خیبرپختونخوا ملک کی مجموعی ہائیڈل بجلی پیداوار کا 70 فیصد سے زائد نیشنل گرڈ کو فراہم کر رہا ہے۔
صوبائی ٹرانسمیشن لائن نہ ہونے کے باعث خیبرپختونخوا اپنی پیدا کردہ بجلی وفاق کو فروخت کرنے پر مجبور ہے، دوسری طرف اے جی این کازی فارمولے کے تحت وفاق کے ذمے این ایچ پی کے بقایاجات 2300 ارب سے تجاوز کر چکے ہیں۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ پہلے عبوری انتظام کے تحت باقاعدہ این ایچ پی کی مد میں بھی وفاق کے ذمے 78 ارب روپے سے زائد بقایاجات ہیں۔ ملک کی 70 فیصد سے زائد ہائیڈل بجلی پیدا کرنے کے باوجود این ایچ پی کی مد میں پنجاب کو خیبرپختونخوا سے زیادہ رقوم مل رہی ہیں۔
بریفنگ کے مطابق گزشتہ تین سال میں خیبرپختونخوا کو این ایچ پی کی مد میں 87.7 ارب روپے ملے جبکہ پنجاب کو 160.8 ارب روپے ملے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ این ایچ پی کی ادائیگی میں تاخیر اور عدم تناسب سے خیبرپختونخوا کی مالی صورتحال متاثر ہو رہی ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ خیبرپختونخوا بجلی کی قابل اعتماد ترسیل اور صنعتی ضروریات کے لیے صوبائی ٹرانسمیشن و گرڈ نظام قائم کر رہا ہے، انہوں نے صوبائی ٹرانسمیشن لائن کا منصوبہ سرمایہ کار کانفرنس میں پیش کرنے کی ہدایت کی۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ صوبائی ٹرانسمیشن لائن کا منصوبہ انتہائی منافع بخش ہے، متعدد ممالک اس میں سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں، وزیراعلیٰ نے کہا کہ قدرتی وسائل اور توانائی کی پیداوار کے باوجود خیبرپختونخوا کے عوام کو ان کے وسائل کا فائدہ نہ ملنا آئین کی خلاف ورزی ہے۔
بریفنگ کے مطابق خیبرپختونخوا یومیہ 530 ایم ایم سی ایف ڈی قدرتی گیس پیدا کر رہا ہے جبکہ صوبے کی کھپت 200 ایم ایم سی ایف ڈی ہے، وزیراعلیٰ نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 158 کے تحت گیس پیدا کرنے والے صوبے کو اپنی ضروریات پوری کرنے میں ترجیح حاصل ہے۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ خیبرپختونخوا یومیہ 850 ٹن ایل پی جی پیدا کر رہا ہے جبکہ صوبے کی یومیہ کھپت 600 ٹن ہے، خیبرپختونخوا ملکی خام تیل کا 48 فیصد اور ایل پی جی کا 38 فیصد فراہم کرتا ہے۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ اپنے وسائل کے باوجود خیبرپختونخوا کے عوام کو جائز فائدہ نہ ملنا آئینی حقوق کی خلاف ورزی ہے، صوبے کے حقوق کے تحفظ کے لیے وفاقی حکومت کے ساتھ مضبوط اور باضابطہ طور پر معاملہ اٹھایا جائے۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے وفاقی حکومت سے ریلیف نہ ملنے کی صورت میں خیبرپختونخوا کے حقوق کے لیے عدالتوں سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments