ملٹری اے آئی کے استعمال میں انسانی فیصلہ سازی اور کنٹرول یقینی بنایا جائے: شرمیلا فاروقی
اروشا: (دنیا نیوز) پاکستان کی رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر شرمیلا فاروقی نے تنزانیہ کے شہر اروشا میں منعقدہ انٹر پارلیمنٹری یونین (آئی پی یو) کی 153ویں اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کی۔
ڈاکٹر شرمیلا فاروقی نے بین الاقوامی امن اور سلامتی سے متعلق قائمہ کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ملٹری اے آئی کے ذمہ دارانہ ضابطہ کار سے متعلق پاکستان کے دیرینہ مؤقف کو اجاگر کیا۔
ڈاکٹر شرمیلا فاروقی نے کہا کہ پاکستان مسلسل اس بات کی وکالت کرتا رہا ہے کہ ملٹری اے آئی کے استعمال میں بامعنی انسانی فیصلہ سازی اور انسانی کنٹرول کو یقینی بنایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ ملٹری اے آئی کیلئے بین الاقوامی ضابطے وضع کیے جائیں، اعتماد سازی اور خطرات میں کمی کے اقدامات کیے جائیں اور مکمل طور پر خودکار ہتھیاروں سے متعلق قانونی طور پر پابند بین الاقوامی قواعد تشکیل دیے جائیں۔
ڈاکٹر شرمیلا فاروقی نے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ اور بعض روایتی ہتھیاروں سے متعلق کنونشن (سی سی ڈبلیو) کے تحت اس مؤقف کو فعال طور پر آگے بڑھاتا رہا ہے، جس میں مہلک خودکار ہتھیاروں کے نظام (ایل اے ڈبلیو ایس) سے متعلق ایک بین الاقوامی قانونی معاہدے کی تجاویز بھی شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے فوجی شعبے میں مصنوعی ذہانت کے ذمہ دارانہ استعمال کے حوالے سے علاقائی مشاورت کے اجلاس بھی اسلام آباد میں منعقد کیے ہیں۔
ڈاکٹر شرمیلا فاروقی کا کہنا تھا کہ جوابدہی کسی الگورتھم کے سپرد نہیں کی جا سکتی، طاقت کے استعمال سے متعلق فیصلوں میں بامعنی انسانی فیصلہ سازی کو مرکزی حیثیت حاصل رہنی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ملٹری اے آئی کی رفتار فیصلہ سازی کیلئے دستیاب وقت کو محدود کر سکتی ہے، جس سے غلط اندازوں اور غیر ارادی کشیدگی میں اضافے کے خطرات بڑھ سکتے ہیں، بالخصوص جنوبی ایشیا جیسے جوہری خطے میں۔
رکن قومی اسمبلی نے کہا کہ ملٹری اے آئی سے متعلق عالمی قواعد جامع کثیرالجہتی عمل کے ذریعے تشکیل دیے جانے چاہئیں، جس کی بنیاد اقوام متحدہ میں ہو اور جس میں ترقی پذیر ممالک کو بھی مساوی آواز حاصل ہو۔
ڈاکٹر شرمیلا فاروقی نے کہا کہ مصنوعی ذہانت جنگ کو تیز کر سکتی ہے، ہماری ذمہ داری یہ یقینی بنانا ہے کہ یہ دنیا کو تنازع کی جانب جانے کے عمل کو تیز نہ کرے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments