امریکا ایران جنگ سے عراق کو 60 ارب ڈالر کا نقصان ہوا

بغداد: (ویب ڈیسک) مشرقِ وسطیٰ میں امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے باعث عراق کو تقریباً 60 ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہے، جبکہ تیل کی برآمدات میں کمی، زرمبادلہ کے ذخائر میں گراوٹ اور مہنگائی نے ملکی معیشت کو شدید دباؤ سے دوچار کردیا ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق عراقی وزیر خارجہ فواد حسین نے روم میں اپنے اطالوی ہم منصب سے ملاقات کے دوران خطے میں جاری کشیدگی کے ملکی معیشت پر پڑنے والے اثرات سے آگاہ کیا۔

عراقی وزارتِ تیل کے اعداد و شمار کے مطابق یکم سے 21 ستمبر کے دوران ملک کی تیل کی برآمدات یومیہ 26 لاکھ بیرل رہیں۔ عراق کی معیشت کا زیادہ تر انحصار تیل پر ہے، جو حکومتی آمدنی کا تقریباً 90 فیصد فراہم کرتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق معاشی مشکلات کے باعث عراق کے زرمبادلہ کے ذخائر میں 20 ارب ڈالر کی کمی ہوئی، جبکہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں بھی تیزی سے اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

معاشی دباؤ کم کرنے کے لیے عراقی مرکزی بینک نے گزشتہ ہفتے تین سال سے زائد عرصے میں پہلی بار امریکی ڈالر کے مقابلے میں عراقی دینار کی قدر میں کمی کی۔

عراق تیل کی فروخت سے حاصل ہونے والے ڈالر درآمدات کی ادائیگی، ملکی کرنسی کو مستحکم رکھنے اور سرکاری ملازمین و پنشنرز کی تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے استعمال کرتا ہے۔ تیل کی برآمدات متاثر ہونے سے ان مالی ذمہ داریوں کو پورا کرنا مزید مشکل ہوگیا ہے۔

حکام کے مطابق عراق نے 2037 تک غیر تیل ذرائع سے حاصل ہونے والی آمدنی کا حصہ موجودہ 10 فیصد سے بڑھا کر 45 فیصد کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے، تاکہ معیشت کا تیل پر انحصار کم کیا جاسکے۔

واضح رہے کہ جنگ کے دوران تیل کی پیداوار میں نمایاں کمی کے بعد گزشتہ ماہ عراق کی برآمدات میں معمولی بہتری آئی، تاہم ملک کو اب بھی شدید معاشی مشکلات کا سامنا ہے۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...