جو باری کا انتظار کرتے ہیں ان کی باری نہیں آتی، خالد مقبول صدیقی
کراچی: (دنیا نیوز) وفاقی وزیر تعلیم و متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے چیئرمین ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ جو باری کا انتظار کرتے ہیں ان کی باری نہیں آتی۔
نذیر حسین یونیورسٹی کے سالانہ کانووکیشن تقریب سے خطاب میں خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ ہمارے اجداد کہتے تھے کہ طوفان کو کشتی سے بچا کر لائے ہیں، ہم جبر اور ناانصافی کا مقابلہ کرکے یہاں تک پہنچے ہیں، امید ہے طلبہ نے صرف ڈگری نہیں علم حاصل کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آئندہ 25 سال میں دنیا بہت تیزی سے تبدیل ہوجائے گی، 1 ارب افراد غیر متعلقہ ہو جائیں گے، پڑوسی ممالک نے ثابت کر دیا کہ آبادی لائبلیٹی نہیں ہوتی اثاثہ ہوتی ہے۔
وزیر تعلیم کا کہنا تھا کہ طلبہ کی کامیابی ان کے والدین کی کامیابی بھی ہے، ارتقا کے سفر میں جہاں آج انسان کھڑا ہے اس کے پیچھے جدوجہد ہے، پاکستان مقصد نہیں تھا بلکہ پاکستان بنانے کا ایک مقصد تھا، 23 مارچ 1940ء کو پاکستان بنانے کا ارادہ کیا گیا، 7 سال میں وطن بنایا اور 70 سال بعد مقصد بھول گئے۔
انہوں نے کہا کہ جن کے ہاتھ میں صنعت ہے ان کے ہاتھ میں ہنر بھی ہونا چاہیے، اے آئی کی وجہ سے غلامی کے امکانات بھی ہیں، 27 سال جیل میں رہنے کے باوجود نیلسن مینڈیلا کا ذہن آزاد رہا، نوجوانوں کو دنیا بھر میں پاکستان کی نمائندگی کرنی ہے، علم مومن کی کھوئی ہوئی میراث ہے۔
خالد مقبول صدیقی کا مزید کہنا تھا کہ آئندہ 10 سے 20 سال پاکستان کیلئے اہم ہیں، ایک خواب ہے جس کی تعبیر دیکھی ہے، ہم وہ لوگ نہیں جو خواب دیکھتے ہیں، خواب دیکھا تو سرسید نے یونیورسٹی بنائی اور پھر ان کے طلبہ نے پاکستان بنایا، طلبہ سے گزارش ہے پاکستان کی حفاظت کریں۔