براہوی شاعر اور لیڈی کانسٹیبل کا قتل کھلی بربریت ہے: بلوچستان حکومت

کوئٹہ: (دنیا نیوز) وزیراعلیٰ بلوچستان کے معاون شاہد رند اور بابر یوسفزئی نے براہوی زبان کے شاعر پروفیسر محمد خان غمخوار اور لیڈی کانسٹیبل کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانا کھلی بربریت ہے۔

معاون وزیراعلیٰ بلوچستان شاہد رند نے کہا کہ تربت میں لیڈی کانسٹیبل شکیلہ اور نوشکی میں براہوئی ادیب پروفیسر غمخوار حیات کے قتل کی شدید مذمت کرتے ہیں، دہشت گردوں کی فائرنگ سے لیڈی پولیس اہلکار کے شوہر اور بیٹے کا زخمی ہونا افسوسناک ہے۔

شاہد رند نے کہا کہ خواتین اور بچوں کو نشانہ بنانے والے عناصر کسی رعایت کے مستحق نہیں، پروفیسر غمخوار حیات پر حملہ بلوچستان کی علمی، ادبی اور فکری اقدار پر حملہ ہے، علم و قلم کے دشمن عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گرد اساتذہ، خواتین اور بچوں کو نشانہ بنا کر خوف و ہراس پھیلانا چاہتے ہیں، حکومت اور سکیورٹی ادارے دہشت گردی کے خاتمے کے لئے پرعزم ہیں

معاون برائے محکمہ داخلہ بابر یوسفزئی نے کہا کہ فتنہ الہندستان نے اب خواتین، اساتذہ اور بلوچستان کے معصوم لوگوں کو نشانہ بنانا شروع کردیا ہے ،لیڈی کانسٹیبل شکیلہ کو بچوں کے سامنے شہید کرنا کھلی دہشتگردی ہے۔

بابر یوسفزئی نے کہا کہ فتنہ الہندستان کو نہ خواتین کے احترام کا خیال ہے نہ بچوں کی معصومیت کا، بلوچستان کے عوام اور سیکورٹی فورسز دہشتگردی کے خلاف متحد ہیں، دہشتگرد عناصر اپنے منطقی انجام کے قریب پہنچ چکے ہیں۔

بابریوسفزئی نے کہا کہ معصوم خاندان پر 31 گولیاں چلانا دہشت گردوں کی سفاکیت کی انتہا ہے، خواتین اہلکاروں کے حوصلے بلند، دہشتگردی کے خلاف جنگ جاری رہے گی، خدشہ ہے گوادر یونیورسٹی کے پرو وائس چانسلر ڈاکٹر رزاق صابر اور ڈاکٹر منظور کو بھی فتنہ الہندوستان نے اغوا کیا، دہشتگرد بلوچستان میں تعلیم کے دروازے بند کرنا چاہتے ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں