بلوچستان:ریاست مخالفت پرملازمین کیخلاف کارروائی کا فیصلہ

کوئٹہ(مانیٹرنگ ڈیسک )بلوچستان حکومت نے ریاست مخالف بیانیہ میں ملوث سرکاری افسروں اور ملازمین کیخلاف کارروائی کا فیصلہ کیا ہے۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کی زیر صدارت انتظامی افسروں کا اعلیٰ سطح اجلاس ہوا، چیف سیکرٹری بلوچستان، آئی جی پولیس متعلقہ محکموں سیکرٹریز نے شرکت کی۔ بلوچستان کے تمام ڈویژنز کے کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز ، ڈی آئی جیز اورڈی پی اوز نے ویڈیو لنک پرشرکت کی۔ اجلاس میں شہدا کیلئے فاتحہ خوانی کی گئی۔ حکام نے بلوچستان میں امن و امان پر بریفنگ دی۔اجلاس میں تمام کمشنرز اور ضلعی افسروں کو ریاست مخالف پروپیگنڈے اور سرگرمیوں میں ملوث ملازمین کیخلاف کارروائی کا حکم دیا گیا۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ضلعی سطح پر ریاست مخالف عناصر کو فورتھ شیڈول میں شامل کرکے منفی سرگرمیوں پر نظر رکھی جائے گی۔ وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ بلوچستان کے ہر تعلیمی ادارے میں قومی ترانہ پڑھا اور قومی جھنڈا لہرایا جائے گا، جن اداروں کے سربراہ ان احکامات کی پابندی نہیں کروا سکتے ، مستعفی ہو جائیں، ہر سرکاری افسر اور اہلکار کو عمل کرنا ہوگا۔ امن و امان کی بحالی اولین ترجیح ہے ۔ اب صوبے میں کوئی شاہراہ بند نہیں ہوگی۔ ہر ضلعی افسر اپنے علاقے میں ریاستی رٹ قائم کرنے کا ذمہ دار ہوگا۔ دہشتگردی کیخلاف جنگ ریاست کے ہر ادارے اور ہر فرد کی جنگ ہے ہمیں ملکر لڑنا ہے ۔کسی چیک پوسٹ پر بھتہ خوری نہیں چلے گی، مصدقہ شکایت ملی تو متعلقہ ایس ایچ او یا رسالدار لیویز نہیں رہے گا۔وزیر اعلٰی نے یوتھ پالیسی منظور ہوچکی ہے ، ضلعی افسرمقامی سطح پر نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں کی جانب راغب کریں۔