دعوت و تبلیغ کی اہمیت

تحریر : مولانا سید ابوالحسن علی ندوی


ضرورت اس امر کی ہے کہ مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ سے تعلق پیدا کرنے اور اس تعلق کو بڑھانے کی طرف متوجہ کیا جائے اور اللہ کو زیادہ یاد کرنے کی ترغیب دی جائے

 اس وقت سب سے مقدم اور ضروری کام تبلیغ اور مسلمانوں میں مسلمان ہونے کا احساس پیدا کرنا ہے اور یہ کہ دین سیکھے بغیر نہیں آتا اور دنیاوی ہنروں سے زیادہ اس کے سیکھنے کی ضرورت ہے۔ یہ احساس اور طلب اگر پیدا ہوگئی تو باقی مراحل و منازل خود بخودطے ہو جائیں گے، اس وقت کے مسلمانوں کا عمومی مرض بے حسی اور بے طلبی ہے، لوگوں نے غلط فہمی سے سمجھ لیا ہے کہ ایمان تو موجود ہی ہے، اس لئے ایمان کے بعد جن چیزوں کا درجہ ہے ، ان میں مشغول ہوگئے، حالانکہ سرے سے ایمان پیدا کرنے ہی کی ضرورت باقی ہے۔ 

قرون اولیٰ کے مقابلے میں تعلیم و تبلیغ ، ارشاد و اصلاح میں ایک عظیم تغیّر یہ ہوا کہ ان کا دائرہ طالبین کے لئے محدود ہو کر رہ گیا ، اہل طلب کے لئے تعلیم و اصلاح اور ہدایت و ارشاد کا پورا نظام اور اہتمام تھا ، لیکن جن کو اپنے مرض کا احساس ہی سرے سے نہیں اور جو طلب سے خالی ہیں، ان کی طرف سے توجہ بالکل ہٹ گئی ، حالانکہ ان میں طلب کی تبلیغ کی ضرورت تھی، انبیاء علیہم السلام کی بعثت کے وقت سارا عالم مستغنی اور سود و زیاں سے بے پروا ہ ہوتا ہے۔ یہ حضرات انہی میں طلب علم پیدا کرتے ہیں اور کام کے آدمی حاصل کر لیتے ہیں، بے طلبوں اور بے حسّوں میں طلب و احساس پیدا کرنا ہی اصل تبلیغ ہے۔ 

اس احساس و طلب دین اور اسلام کے اصول و مبادی کی تلقین کا ذریعہ کیا ہے؟ اسلام کا کلمہ طیبہ ہی اللہ تعالیٰ کی رسی کا وہ سرا ہے جو ہر مسلمان کے ہاتھ میں ہے، اسی سرے کو پکڑ کر آپ اسے پورے دین کی طرف کھینچ سکتے ہیں، وہ کشمکش نہیں کر سکتا ، مسلمان جب تک اس کلمہ کا اقرار کرتا ہے، اس کو دین کی طرف لے آنے کا موقع باقی ہے۔ اس موقع کے (خدانخواستہ) نکل جانے سے پہلے اس سے فائدہ اٹھالینا چاہیے۔ 

اب مسلمانوں کی اس وسیع اور منتشر آبادی میں دین کا احساس و طلب پیدا کرنے کا ذریعہ یہی ہے کہ ان سے اس کلمہ ہی کے ذریعے تقریب پیدا کی جائے اور اسی کے ذریعے خطاب کیا جائے، کلمہ یاد نہ ہو تو کلمہ یاد کرایا جائے ، غلط ہو تو اس کی تصیح کی جائے ، کلمہ کے معنی و مفہوم بتائے جائیں اور سمجھایا جائے کہ خدا کی بندگی و غلامی اور رسول اکرم ﷺ کی تابعداری کا اقرار ان سے کیا مطالبہ کرتا ہے ، اس طرح ان کو اللہ اور رسول ﷺ کے احکام کی پابندی پر لایا جائے، جن میں سے سب سے عمومی ، سب سے مقدّم اور سب سے اہم نماز ہے، جس میں اللہ تعالیٰ نے یہ قابلیت رکھی ہے کہ وہ سارے دین کی استعداد و قوت پیدا کر دیتی ہے، جس بندگی کا کلمہ میں اقرار تھا ، اس کا یہ پہلا اور سب سے کھلا ثبوت ہے۔پھر اس شخص کی مزید ترقی اور استحکام کے لئے اس کو اللہ تعالیٰ سے تعلق پیدا کرنے اور اس تعلق کو بڑھانے کی طرف متوجہ کیا جائے اور اللہ تعالیٰ کو زیادہ یاد کرنے کی ترغیب دی جائے، نیز یہ بات اس کے ذہن نشین کی جائے کہ زندگی گزارنے کیلئے اللہ تعالیٰ کی مرضی و منشا ء اور اس کے احکام و فرائض معلوم کرنے کی ضرورت ہے۔ دنیا کا کوئی ہنر اور کوئی فن بے سیکھے اور کچھ وقت صرف کئے بغیر نہیں آتا  دین بھی بے طلب کے نہیں آتا اور اس کو آیا ہوا سمجھنا غلطی ہے، اس کیلئے اپنے مشاغل سے وقت نکالنا ضروری ہے۔ یہ کام اتنا بڑا اور اتنا پھیلا ہوا ہے کہ اس کے لئے چند افراد اور چند جماعتیں کافی نہیں ، اس کیلئے عام مسلمانوں کی مسلمانو ں میں کوشش کرنے کی ضرورت ہے ۔ اس لئے کہ بقول مولانا محمد الیاس صاحب ؒ اگر کروڑوں کے واسطے لاکھوں نہیں اٹھیں گے تو کس طرح کام ہوگا، نہ جاننے والے جتنے کروڑ ہیں، جاننے والے اتنے لاکھ نہیں‘‘۔ اس کام کیلئے عالمِ اسلام میں ایک عمومی اور دائمی حرکت و جنبش کی ضرورت ہے اور یہ حرکت اور جنبش مسلمانوں کی زندگی میں اصل اور مستقل ہے۔ سکون و وقوف اور دنیا کا اشتغال عارضی ہے، دین کے لئے اس حرکت و جنبش پر مسلمانوں کی جماعت کی بنیاد رکھی گئی اور یہی ان کے ظہور کی غرض و غایت ہے۔ ورنہ دنیا کے سکون و دنیاوی انہماک ، کاروبار کی مصروفیت اور شہری زندگی کے کسی ضروری شعبہ میں کوئی ایسی کمی نہ تھی، جس کی تکمیل کے لئے ایک نئی امت کی ضرورت ہو۔ 

مسلمانوں نے جب سے جماعتی زندگی اور اصلی کام کو چھوڑ دیا یا ثانوی درجہ دے دیا، اس وقت سے ان کا انحطاط شروع ہوگیا اور جب سے ان کی زندگی میں سکون و استقرار اور پرسکون و مصروف شہری زندگی کی کیفیات و خصوصیات پیدا ہوگئیں، ان کا روحانی زوال اور اندرونی ضعف شروع ہوگیا۔ہم نے جماعتیں بنا کر دین کی باتوں کے لئے نکلنا چھوڑ دیا ، حالانکہ یہی بنیادی اصل تھی۔ حضور اکرم ﷺ خود پھرا کرتے تھے اور جس نے ہاتھ میں ہاتھ دیا، وہ بھی مجنونانہ پھرا کرتا تھا۔ مکہ کے زمانے میں مسلمین کی مقدار افراد کے درجہ میں تھی تو ہر فرد مسلم ہونے کے بعد بطور فردیت و شخصیت کے منفرد اً دوسروں پر حق پیش کرنے کیلئے کوشش کرتا رہا۔۔۔۔

1۔تبلیغ کانظام کار: اس کام کیلئے جب مسلمانوں کی جماعتیں نقل و حرکت میں آجائیں تو ان کے کام کا نظام کیا ہوگا اور ترتیب کیا ہوگی ؟ کس چیز کی اور کتنی چیزوں کی دعوت دی جائے گی؟ اس کا جواب مولانا الیاس صاحبؒ ہی کے الفاظ میں سنئے: 

’’اصل تبلیغ صرف دو امر کی ہے، باقی اس کی صورت گری اور تشکیل ہے، ان دو چیزوں میں ایک مادی ہے اور ایک روحانی ۔ مادی سے مراد جوارح سے تعلق رکھنے والی۔ سو وہ تو یہ ہے کہ حضور اکرم ﷺ کی لائی ہوئی باتوں کو پھیلانے کیلئے ملک بہ ملک اور جماعتیں بنا کر پھرنے کی سنت کو زندہ کر کے فروغ دینا اور پائیدار کرنا ہے۔ روحانی سے مراد ۔۔۔حق تعالیٰ کے حکم پر جان دینے کا رواج ڈالنا ، جس کو اس آیت میں ارشاد فرمایا: ترجمہ : ’’قسم ہے آپ کے رب کی یہ لوگ ایمان دار نہ ہوں گے، جب تک یہ بات نہ ہو کہ ان کے آپس میں جو جھگڑا واقع ہو اس میں آپ سے یہ لوگ تصفیہ کرادیں ، پھر آپ کے تصفیہ سے اپنے دلوں میں تنگی نہ پاویں اور پورا پورا تسلیم کر لیں ‘‘ (النساء)  اور میں نے جِن و انس کو اسی واسطے پیدا کیا ہے کہ میری عبادت کریں۔

اسی کی حیثیت سے کوشش کرنا ، اس وقت بدقسمتی سے ہم کلمہ تک سے نا آشنا ہو رہے ہیں، اس لئے سب سے پہلے اسی کلمہ طیبہ کی تبلیغ ہے ، جو کہ خدا کی خدائی کا اقرار نامہ ہے، یعنی اللہ تعالیٰ کے حکم پر جان دینے کے علاوہ درحقیقت ہمارا کوئی بھی مشغلہ نہیں ہوگا۔ 

2۔ کلمہ کے لفظوں کی تصیح کرنے کے بعد نماز کے اندر کی چیزوں کی تصیح کرنے اور نمازوں کو حضور اکرم ﷺ کی نماز جیسی نماز بنانے کی کوشش میں لگے رہنا ۔ 

3۔ تین وقتوں کو (صبح و شام اور کچھ حصہ شب کا ) اپنی حیثیت کے مناسب تحصیل علم و ذکر میں مشغول رکھنا۔ 

4۔ ان چیزوں کو پھیلانے کے لئے اصل فریضہ سمجھ کر وقت نکالنا، یعنی ملک بہ ملک رواج دینا۔ 

5۔ اس پھرنے میں خلق کی مشق کرنے کی نیت رکھنا، اپنے فرائص (خواہ خالق سے متعلق ہوں یا مخلوق کے ساتھ) کی ادائیگی کی سرگرمی ، کیونکہ ہر شخص سے اپنے ہی متعلق سوال ہوگا۔ 

6۔ تصیح نیت ، یعنی عمل کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے جو وعدے وعید فرمائے ہیں ، ان کے موافق اس امر کی تعمیل کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی رضا اور موت کے بعد والی زندگی کی درستی کی کوشش کرنا۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

بانو قدسیہ اور ہماری اقدار

ان کے خیال میں تہذیبی ، اخلاقی اورمذہبی اقدار ہی کسی شخص، قوم اور معاشرے کی شناخت ہوا کرتی ہیں:بانو قدسیہ کہتی ہیں کہ ہر معاشرتی گروہ اور تہذیب کا اپنا تشخص ہوتا ہے‘ اگر وہ اپنی اقدار کوچھوڑ کردوسرے نظام اقدار کو اپناتا ہے تو وہ اپنی شناخت کھو دیتا ہے جو متعدد مسائل کا باعث بنتا ہےوہ روحانی ، اخلاقی اور مادی اقدار کا موازنہ کرکے انسانی شخصیت اور اس کی ذہنی وجذباتی زندگی پر ان کے اثرات کا جائزہ لیتی ہیں‘ ان کے نزدیک انسان مادی اقدارکے حوالے سے احساسِ کمتری کا شکار ہو رہا ہے

سعادت حسن منٹو:سماجی حقیقت نگاری کا اوجِ کمال

سعادت حسن منٹو نے افسانہ نگاری کا آغاز سیاسی موضوعات سے کیا۔ ان کا اولین مجموعہ ’’آتش پارے‘‘(1934ء) مکمل سیاسی رحجان کی غمازی کرتا ہے۔ ایک مبتدی کی اس اولین کاوش میں واضح سیاسی اور سماجی شعور جھلکتاہے۔

پاکستان سپرلیگ سیزن11کرکٹ سٹارز کی نیلامی کامرحلہ

آکشن سے قبل ہر فرنچائز کو 5 کھلاڑیوں کو ری ٹین کرنے کی اجازت ہو گی:پلیئرز آکشن 11 فروری کو ہو گی،پی ایس ایل کا گیارہواں سیزن 26 مارچ سے 3 مئی تک چلے گا، 8 فرنچائزز حصہ لیں گی،ٹاپ کیٹیگری میں بیس پرائس 4 کروڑ 20 لاکھ روپے رکھی گئی ہے، دیگر میں 2 کروڑ 20 لاکھ، 1 کروڑ 10 لاکھ اور 60 لاکھ روپے ہے

کھیلتا پنجاب پنک گیمز2026ء

خواتین کھیلوں کاسب سے بڑا مقابلہ:پنجاب کے ہر ڈویژن سے 21سال سے کم عمرخواتین کھلاڑی 16مختلف کھیلوں میں11تا 15فروری لاہور میں شرکت کریں گی

جنت کا متلاشی (دوسری قسط )

یہ جلیل القدر صحابی عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ تھے۔ آپؓ کا تعلق قبیلہ بنوسہم سے تھا۔ اس کا شمار مکہ کے معزز ترین خاندانوں میں ہوتا تھا۔

ہوشیار مرغی

کسی جنگل کے کنارے لکڑی کے چھوٹے سے دڑبے میں ایک مرغی اکیلی رہتی تھی۔ وہ بہت ہنس مکھ تھی۔ ہر ایک کے کام آتی اور اپنے کام خود کرتی تھی۔