موسم گرما کے سٹائلز

تحریر : شبانہ سلمان


ہمارا ملک دنیا کے اس خطے میں واقع ہے جہاں ہر چند مہینے بعد موسم بدل جاتا ہے،ہر موسم میں کچھ رنگ آنکھوں کو ٹھنڈے اور کچھ گرم لگتے ہیں۔ان سب باتوں کا تعلق رنگوں کی خصوصیات سے ہے۔ہلکے رنگ حرارت کوجذب کرنے کی بجائے منعکس کر کے واپس بھیجتے ہیں جس سے جسم کو گرمی نہیں لگتی ۔چنانچہ سردیوں میں گہرے رنگوں میں آپ خود کو بہتر محسوس کرتی ہوں گی یہی رنگ گرمیوں بوجھل اور طبیعت پر گراں لگتے ہیں۔ لباس کا انتخاب کرتے وقت موسم کا خیال رکھنے سے ہم نہ صرف اچھا محسوس کریں گے بلکہ صحت پر بھی بہتر اثرات مرتب ہوں گے کیونکہ گہرے رنگ طبیعت کو بوجھل کر دیں گے اور ان میں گرمی بھی زیادہ لگے گی۔اسی لئے گرمیوں میں ہلکے اور سردیوں میں گہرے رنگوں کا نتخاب کیا جاتا ہے ۔

میں کہہ سکتی ہوں کہ رنگوں کا ایک سیزن ختم اور دوسراسیزن شروع ہو رہا ہے اس لئے گہرے رنگوں کی جگہ ہلکے رنگ لے رہے ہیں ۔اس موسم میں ہلکے رنگوں والے کپڑوں میں آپ خود کو ہلکا پھلکا محسوس کریں گی ، ہر موسم کاہماری جلد پر الگ اثر ہوتا ہے لہٰذا اس کے مطابق پہناوا بھی الگ ہی ہونا چاہئے۔ اگر آپ نے نئے موسم کی تیاری نہیں کی توآج ہی سردیوں کے کپڑے پیک کر کے گرم موسم کی تیاری کیجئے مگر رنگوں سے بھی زیادہ ضروری بات یہ ہے کہ دھوپ سے جلد کی رنگت خراب ہو جاتی ہے اس لئے قمیض کی آستینیں پوری ہوں تو اچھا ہے۔

 خوبصورت لباس انسان کی شخصیت نکھارنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔خواتین لباس کے حوالے سے مردوں کی بہ نسبت زیادہ حساس ہوتی ہیں لیکن بعض خواتین اپنے قد اورجلد کی رنگت کا خیال نہیں کرتیں۔ ان دو باتوں کو نظر انداز کرنے سے کپڑے نہیں جچتے۔یہ کوئی مشکل کام نہیں اور تھوڑی سی سمجھ بوجھ سے کام لے کر بہتر لباس کا انتخاب کیاجا سکتا ہے۔اچھے لباس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ قیمتی ہو ، بلا وجہ پیسے ضائع کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔سادہ اور اچھے رنگ کا کپڑا ہر آنکھ کو بھلا لگتا ہے۔باوقار لباس دوسروں کو ہی نہیں خود کو بھی بھلا لگتا ہے۔ 

ہمیشہ اپنی شخصیت کو باوقار بنانے والے لباس کا کیجئے،  سفید رنگ کوموسم بہار کا سب سے پیارا رنگ کہا جاتا ہے ۔بہار اگرچہ ختم ہو چکی ہے لیکن گرمیوں میں بھی سفید رنگ کی اہمیت کم نہیں ہوئی۔اس مرتبہ موسم گرما میں ڈیزائنرز ہلکے  گلابی ،ہلکے  سبز ،ہلکے آسمانی ،ہلکے بنفشی اور ہلکے نیلے رنگوں کے انتخاب کا مشورہ دے رہی ہیں۔ہلکے رنگ کے ساتھ ہلکی سی کڑھائی ہو جائے تو جوڑا تقریبات میں بھی پہنا جا سکتا ہے۔

اچھا نظر آنے کا تعلق رنگ، عمر اور قد سے بھی ہے ۔اس لئے اپنے قد کے مطابق لباس کاانتخاب کیجئے۔لمبے قدوالی خواتین کی ڈریسنگ کوئی مسئلہ نہیں ہوتی، مناسب سائز کی شلوارقمیض ان پر زیادہ جچے گی۔ چھوٹے قد والی خواتین کو چاہئے کہ وہ ٹرائوزر کے ساتھ لمبی قمیض اور بین والے گلے کا انتخاب کریں۔ چھوٹی شرٹ پہننے سے قد مزید چھوٹا نظر آئے گا۔لکیروں یا چھوٹے ڈیزائن بھی پسند کئے جا سکتے ہیں۔میچور ڈریسنگ پسند کرنے والی خواتین پلین شرٹس کا انتخاب کرسکتی ہیں ،اچھی لگے گی۔ عمر کے مطابق شرٹس کا انتخاب بھی ضروری ہے۔ پلین شرٹس کے ساتھ قمیض یا کرتے گلے پر ہلکی سی کڑھائی بھی کروائی جا سکتی ہے۔ خوبصورتی میں اضافہ ہوگا۔دونوں کا گلا سٹائلش ہونا چاہئے۔ کرتا جینز کے ساتھ اچھا لگتا ہے۔ 

بھاری یا موٹی خواتین کو ’’بھیڑ چال ‘‘سے بچتے ہوئے ایسا لباس پسند کرنا چاہئے جو ان پر اچھا لگے۔سب سے پہلے تو اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ انہوں نے وزن کو کم کرنا ہے ، صرف خوبصورت نظر آنے کے لئے ہی نہیں بلکہ موٹاپا کئی بیماریوں کا سبب بن سکتا ہے اسے کم کرنا ہی بہتر ہے۔اس کے بعد ملبوسات پر دھیان دیں۔ایسی خواتین فٹ کپڑے پہننے سے گریز کریں۔ ایسے کپڑے ان پر بھدے لگیں گے ۔ ان پر شرٹ اور بین والا گلا زیادہ اچھا لگے گا، بہت ڈھیلی ڈھالی شرٹ بھی نہیں جچے گی۔کمزوریا پتلی جسامت کے حامل خواتین کھلے اور بڑے پرنٹ پہن سکتی ہیں۔ کپڑے ڈھیلے ڈھالے ہوں تو بہتر ہو گا جیسا کہ کھلی فراک ۔ اس سے پرکشش نظر آئیں گی ۔سانولی رنگت والی خواتین کو چاہئے کہ وہ بہت گہرے رنگ نہ پہنیں۔  ان پر درمیانے رنگ اچھے لگیں گے۔

سردیوں میں ہیوی ڈیزائننگ ہو سکتی ہے ،  لیکن اس موسم میں ہمیشہ ہلکے پھلکے ڈیزائن اور ہلکے پرنٹ کا انتخاب کریں ، آپ چاہیں تو پھول دار کپڑے کا انتخاب کریں یا پھر سادہ شرٹ پر ڈیزائن کروائیں ، موٹاپے کو کم ظاہر کرنے اور چھوٹے قد کو بڑا ظاہر کرنے کیلئے سیدھی لائنوں والے ملبوسات موزوں رہتے ہیں اور دبلے پتلے لمبے قد کیلئے ٹیڑھی لائنز اور ڈاٹس والے ڈیزائن بہتر ہیں ۔اس مرتبہ مختلف برانڈزکے کپڑوں میں قمیض اور شفون کے دوپٹے زیادہ نظر آئے ہیں۔برقعے پہننے والی خواتین کے لئے کپڑوں ،رنگوں اور ڈیزائنز میں بھی تبدیلی آجاتی ہے۔جبکہ برقعے کے لئے شفون اورعریبک لائن زیادہ پسند کئے جاتے ہیں۔ کالے رنگ کی بجائے سبز،سکن کلر، نیلے اور ہلکے رنگوں کے برقعوں کو بھی ٹرائی کیجئے ۔منفرد نظرآئیں گی۔بیرونی دنیا میں بھی یہی رنگ زیادہ مقبول ہو رہے ہیں۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

مؤثر سفارتکاری اور پاکستان کا عالمی وقار

عالمی سیاست کے موجودہ تناظر میں پاکستان نے ایک ایسا کردار ادا کرنا شروع کر دیا ہے جس کی نہ صرف خطے بلکہ دنیا بھر میں توقع کم ہی کی جا رہی تھی۔

قومی سیاست پر خلیجی جنگ کے اثرات معاشی اور سیاسی چیلنجز

خلیج فارس کے علاقے میں قریب ایک ماہ سے جنگ جاری ہے اور ملکی سیاست پر بھی اس صورتحال کا غلبہ ہے اورہر سطح پر مذکورہ جنگ اور اس کے اثرات زیر بحث ہیں۔

بحران سنگین،رویے غیر سنجیدہ

ایران امریکہ جنگ کے اثرات سے پاکستان بھی نہ بچ سکا۔ حکومت نے معاشی اثرات سے عوام کو بچانے کے لیے متعدد اقدامات کا فیصلہ کیا، تعلیمی اداروں اوردفاتر وغیرہ کے لیے نئے اوقات کار متعین کیے گئے، گھر سے کام کرنے کی حوصلہ افزائی کی گئی، بازاروں کو جلد بند کرنے اور بجلی کی بچت کی منصوبہ بندی بھی کی گئی۔

کابینہ میں توسیع،ضروری یا مجبوری؟

خیبرپختونخوا کابینہ میں توسیع کا معاملہ اب پیچیدہ ہوتا جارہا ہے۔ بظاہر یہ ایک سادہ سا معاملہ نظرآتا ہے جس میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کابینہ میں توسیع کرنی ہے، لیکن یہ اتنا بھی سادہ نہیں۔

بلوچستان،بدامنی کے سائے اور حکومتی دعوے

بلوچستان میں حالیہ دنوں پنجگور، کوئٹہ، مستونگ، نوشکی اور دیگر علاقوں میں خونریز واقعات نے نہ صرف عوامی زندگی کو مفلوج کر دیا بلکہ حکومتی عملداری پر بھی سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔

آزاد کشمیر انتخابی تیاریاں اور حکومتی ترجیحات

آزاد جموں و کشمیر میں جہاں الیکشن کمیشن نے انتخابات کی تیاریوں کے حوالے سے سرگرمیاں تیز کر دی ہیں وہاں حکومت اپنے وزرا ، معاونین اور مشیروں کو سرکاری خزانے سے نوازنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دے رہی۔